زمین ساکن ہے اور جہالت ہماری گمشدہ میراث ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بچپن سے ایک حدیث سنتے آئے ہیں جس کا مفہوم کچھ اس طرح سے ہے ”حکمت اور علم مومن کی گمشدہ میراث ہے۔ جہاں سے بھی ملے اسے حاصل کر لے۔“ اس حدیث سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ علم اور حکمت کی انسان کی زندگی میں کتنی اہمیت ہے۔ بعض علماء اس حدیث کو ضعیف گردانتے ہیں۔ اگر ان کی بات مان بھی لی جائے پھر بھی ہمیں علم و حکمت اور فکر و تدبر کے کئی حوالے قرآن و حدیث سے ملتے ہیں۔ قرآن کا آغاز ہی ”اقراء“ سے ہوا۔ اور اس میں کتنی ہی آیات میں انسان کو فکر و تدبر اور تسخیر کائنات کا حکم دیا گیا۔ اس طرح ایک اور حدیث نبوی ”علم حاصل کرو، خواہ تمہیں اس کے لیے چین ہی کیوں نہ جانا پڑے۔“ بھی علم و حکمت کی اہمیت کو بیان کرنے کے لیے موجود ہے۔

مگر یہ سب جاننے کے باوجود بھی شاید ہمارا حکمت و دانائی سے دور دور تک کا واسطہ نہیں ہے۔ جس کا عملی مظاہرہ اکثر ہمارے ہاں دیکھنے کو ملتا رہتا ہے۔ اس کی ایک تازہ مثال اس وقت دیکھنے میں آئی جب کچھ دن پہلے دعوت اسلامی کے عالم مولانا عمران عطاری کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی۔ جس میں وہ بچوں کے سوالوں کے جوابات دیتے ہوئے یہ فرماتے نظر آرہے ہیں۔ کہ ”زمین بالکل بھی حرکت نہیں کرتی، بلکہ اپنی جگہ پر ساکن ہے“ ۔ جس پر وہاں پر موجود ایک طالب علم جب ان کو یہ بتاتا ہے کہ ”ہم نے تو سکول میں اپنی کتابوں میں یہی پڑھا ہے کہ زمین حرکت کررہی ہے مگر آپ کہہ رہے کہ ساکن ہے“ ۔

تو اس پر عالم صاحب تھوڑا جھلا کر جواب دیتے ہیں کہ ”قرآن میں لکھا ہے کہ زمین ساکن ہے اور سورج اور چاند حرکت میں ہیں، اس لیے سائنس کی بجائے وہ صرف قرآن کی بات کو سچ مانیں اور اس کو ہی درست سمجھیں۔“ اس پر مزید وہ بعد میں بات کریں گے۔ جس کے بعد وہاں پر موجود طلبہ مولانا صاحب کی ہاں میں ہاں تو ملا دیتے ہیں۔ مگر ان کے چہروں کے تاثرات سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے استاد کے جواب سے بالکل بھی مطمئن نہیں ہوئے۔

دعوت اسلامی کے علماء کی طرف سے اس طرح کی حکمت اور دانائی کی بات پہلی دفعہ نہیں کی گئی۔ کیونکہ اس سے پہلے بھی وہ ”کیلے کو درست طریقے سے رکھنے کا طریقہ“ ، ”کھیرا کاٹنے کا درست طریقہ“ ، ”باجماعت نماز میں شامل ہونے کا درست طریقہ“ بتانے کے ساتھ ساتھ اپنے مدنی بھائیوں کو، موٹرسائیکل پر سفر کرتے ہوئے شہوت سے بچنے کے لیے بیچ میں ”مدنی تکیہ“ رکھنے اور اپنی نظر کو بے حیائی سے بچانے کے لیے ”مدنی قفل عینک“ کا تحفہ بھی دے چکے ہیں۔

لیکن اب اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ حکمت اور دانائی کا ایسا مظاہرہ صرف ہمارے دعوت اسلامی کے علماء کی طرف سے ہی کیا جاتا ہے۔ باقی مکتبہ فکر کے علماء بھی کسی طرح اس میں پیچھے نہیں ہیں۔ مثلاً مولانا طارق جمیل کے طیارہ حادثہ کے بعد کے بیان کو ہی دیکھ لیجئیے جس میں وہ حادثہ میں اپنی جانیں گنوانے والوں کو خوش قسمت قرار دے کر جنت کی بشارت بھی دے رہے ہیں۔ یا اس سے پہلے جب ایک لائیو ٹرانسمیشن میں انھوں نے عورتوں کی بے حیائی کو کورونا کی وجہ قرار دے دیا تھا۔ اسی طرح عید کے چاند کے حوالے سے جب مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمان جب پریس کانفرنس کر رہے تھے تو انھوں نے فواد چودھری سے ان کی نمازوں اور روزوں کا حساب مانگ لیا تھا۔

کورونا کے ہمارے ہاں آنے پر تو خیر جو جہالت کا مظاہرہ ہر مکتبہ فکر کے لوگوں کی طرف سے کیا گیا۔ اس کی مثال نہیں ملتی۔ کبھی سرکاری حکام کے روکے جانے کے باوجود تبلیغی اجتماع منعقد کیا گیا۔ جس سے بہت سے لوگوں کو کورونا ہوگیا۔ کبھی لاک ڈاؤن ہونے کے باوجود مسجدوں میں باجماعت نماز پڑھانے کا اصرار کیا گیا۔ اور کبھی یوم علی کے موقع پر روکنے کے باوجود جلوس نکالے گئے۔ عام لوگوں کا رویہ بھی انتہائی غیر ذمہ دارانہ رہا۔ جو کہ لاک ڈاؤن ہونے کے باوجود بھی اس کی خلاف ورزی کرتے نظر آتے رہے۔

رہی سہی کسر وزیراعظم کے کنفیوژن سے بھرے بیانات، حکومت کا عید سے پہلے لاک ڈاؤن کھول دینے کے فیصلے اور عید کی شاپنگ کرتے ہوئے عوام کے غیر ذمہ دارانہ رویے نے نکال دی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 20 مئی کو یہاں کورونا کے مریضوں کی جو تعداد 45000 تھی وہ صرف دس دنوں میں ہی 70000 سے تجاوز کر گئی یعنی ان دس دنوں میں 25000 سے زائد کیسز کا اضافہ ہوا۔ یکم مئی کو ان کیسز کی تعداد 19000 تھی۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ مئی کے پہلے بیس دنوں میں جتنے مریضوں میں اضافہ ہوا، تقریباً اتنا ہی مئی کے آخری دس دنوں میں اضافہ ہوا۔

اس کے ساتھ ساتھ کورونا سے اموات میں بھی روز بروز اضافہ ہی ہو رہا ہے۔ جن میں کئی ڈاکٹرز بھی شامل ہیں۔ مگر کیا کہنے ہمارے لوگوں کی عظیم اور حکمت سے بھری سوچ کے، کہ ان پڑھ تو کیا اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی حکومت کی طرف سے دیے گئے ان اعداد و شمار کو نا صرف جھوٹ سمجھتے ہیں۔ بلکہ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ لوگوں کو جان بوجھ کر کورونا کا مریض بتایا جا رہا اور انجکشن دے کر لوگوں کو مار کر نام کورونا کا لگایا جا رہا تاکہ قرضے معاف کروائے جاسکیں اور امداد لی جاسکے۔

تو گویا ان کے نزدیک یہ کورونا محض فراڈ اور سازش سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔ دنیا میں اس سے جو لاکھوں لوگ متاثر ہوئے اور ہزاروں اپنی جانوں سے گئے وہ بھی سب ایک عالمی سازش کا حصہ ہے جس کے مطابق بل گیٹس نے ویکسین میں ایک نینو چپ ہمارے جسموں میں داخل کر کے ہمارے ذہنوں کا کنٹرول حاصل کرلینا ہے تاکہ دنیا کو اپنے قابو میں کرسکے۔ یہ ہمارے ایسے ہی عظیم لوگ ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ چاند پر انسان آج تک گیا ہی نہیں، وہاں انسان کے جانے کا بھی بس جھوٹا ڈرامہ رچایا گیا۔

یا امریکہ نے 9 / 11 کا واقعہ بھی جان بوجھ کر خود کروایا۔ یا ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کو مارنے والا آپریشن بھی سوائے فراڈ اور جھوٹ کے کچھ نہیں تھا۔ ان کی سوچ کے مطابق پولیو ویکسین کے قطرے بچوں کو پلانے سے مردانہ کمزوری ہوتی ہے جس سے آبادی میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔ حالانکہ ہمارے ملک میں صورتحال اس کے برعکس ہے۔ ایسے لوگوں کے نزدیک تو گرمی اور درجہ حرارت میں اضافہ سے کورونا میں کمی بھی ہوجانا تھی مگر ابھی تک تو اضافہ ہی دیکھنے میں مل رہا ہے۔

اس لیے جہاں پر لوگوں کی سوچ اس کمال درجے کی حکمت اور دانائی سے بھرپور ہو وہاں مولانا عمران عطاری کے زمین کے ساکت ہونے والے بیان کی بھلا کیا اوقات ہے۔ اس سب سے یہ بھی ثابت ہوا کہ علم اور حکمت تو ہماری قوم کی گمشدہ میراث بالکل بھی نہیں ہے۔ ہاں جہالت ضرور ہماری قوم کی گمشدہ میراث ہے جو ہمیں جہاں سے بھی ملتی ہے نا صرف ہم حاصل کرتے ہیں بلکہ اس کا پرچار بھی بہت اچھی طرح سے کرتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *