حکومت کے اپنے چیلنج


پاکستانی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ عوام پر ہمیشہ حکومت ہی کی گئی ہے۔ ان کی خدمت کا جذبہ کہیں نظر نہیں آیا۔ قائد اعظمؒ کے بعد کوئی لیڈر ایسا نہیں آیا جو ہمارے مسائل کے بارے سنجیدہ ہو اور انہیں حل کرنا چاہتا ہو۔ پاکستان کے مسائل ابتدا میں کم تھے مگر جیسے جیسے ہمارے راج کرنے والے حکمران آتے گئے ان مسائل میں اضافہ ہی ہوتا گیا۔ قیام پاکستان کے وقت اس مملکت خداداد پر کسی بھی ادارے کا کوئی قرض نہیں تھا۔

ملک آزاد تھا اور عوام بھی آزاد ہوئے تھے۔ لیکن یہ آزادی ہمارے راج کماروں کو پسند نہ آئی اور وہ ایسے راستے سوچنے لگے کہ عوام ان کے شکنجے میں آسانی سے پھنستے رہیں۔ اس مقصد کے حصول میں بین الاقوامی اداروں اور مغربی ممالک نے ان کی مدد کی۔ امریکہ بہادر نے ہاتھ بڑھایا اور ساتھ ہی ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف سے قرضے دلوا دیے۔ وہ دن اور آج کا دن ہم قرضوں کی دلدل میں اترتے ہی گئے۔ ان قرضوں میں زیادہ تو اس مقصد کے لئے استعمال ہی نہیں ہوئے جن کے لئے حاصل کیے گئے تھے بلکہ اپنی حکومت کو بچانے یا مضبوط بنانے کے لئے استعمال ہوئے۔

آج ہم کئی سو بلین ڈالر کے مقروض ہیں ہر پاکستانی پیدائشی مقروض ہے۔ حکومت ملکی بینکوں سے ادھار لے کر بیرونی قرضے ادا کرتی ہے اور اندرونی اخراجات پورے کرتی ہے۔ جو قرض ہم نے لئے وہ کہاں استعمال کیے اس کے بارے صرف فائلیں ہی بتاتی ہیں زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ جو قرضہ سڑک بنانے کے لیا جائے اور اس سے اپنے ہی علاقے میں سڑک بنا لی جائے یا پھر اسے اپنا ڈیرہ بنانے کے لئے استعمال کر لیا جائے تو ایسی سڑک کا کیا فائدہ ہو گا؟

یہی وجہ رہی ہے کہ ہم نے جتنے بھی فنڈز اور قرضے ترقیاتی کاموں کے لئے حاصل کیے انہیں کبھی تو غیر ترقیاتی کاموں پر لگا دیا اور کبھی انہیں ذاتی خزانوں میں جمع کروا دیا۔ اس کا ثبوت ہمارے سیاست دان خود دے رہے ہیں۔ آج ہر سیاست دان دوسرے کے اثاثے بتا رہا ہے۔ ہر پارٹی کا سربراہ مخالف پارٹی پر الزام لگا رہا ہے کہ اس نے ملکی سرمایہ چرایا ہے۔ حقیقت بھی کچھ اس کے قریب قریب ہی نظر آتی ہے۔ اس کرپشن کے حمام میں تو سب ننگے اور مل کر نہاتے رہے ہیں اب پتہ نہیں کیوں ایک دوسرے کو برا بھلا کہ رہے ہیں؟

ہمارے ملک میں کس چیز کی کمی ہے؟ یہاں پہاڑ ہیں جو معدنیات سے بھرے ہیں یہاں گیس دفن ہے، سونے اور چاندی کے ذخائر ہیں نمک کی سب سے بڑی کانیں ہیں کوئلہ اتنا ہے کہ صدیوں تک ایندھن بنانے کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ موسم سارے ہیں جو زراعت کے لئے نعمت ہیں۔ فصلیں ہیں کہ ساری دنیا کی فصلیں یہاں پکتی ہیں۔ پھل دنیا کے سب سے زیادہ ذائقے والے ہیں۔ کسی طرح کے ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے۔ طاقتور پہلوان ہیں اور زیرک پالیسی ساز۔

فوج دنیا کی بہترین فوج کہلاتی ہے اور عوام ساری دنیا سے سادہ اور بھلے ہیں جو ذرا سے بھی جھانسے میں آسانی سے آ جاتے ہیں۔ اگر کوئی مخلص رہنما اس قوم کو مل جائے جو ان پر حکومت کرنے کی بجائے ان سے پیار کرنے والا ہو اور ان کی خدمت کرنے والا ہو تو یہ ملک ایشیا ہی نہیں بلکہ دنیا کی ایک سپر طاقت بن سکتا ہے۔

اس حکومت کرنے کے شوق نے ملک کے ٹکڑے کرا دیے اس حکومت کے شوق نے قوم کو فرقوں میں بانٹ دیا اس راج شاہی کے شوق نے صوبوں کو آپس میں لڑا دیا اور علیحدگی کی تحریکیں چلوا دیں۔ آج ضرورت ہے تو ایک ایسی طلسماتی شخصیت کی ہے جو حقیقت میں روح کو گرما دے اور اس بکھری اور اپنوں اور بیگانوں کی سازشوں میں گھری ہوئی قوم کو مصائب سے نکالے۔

اگر موجودہ حکومت اپنے منشور کو یاد رکھتے ہوئے 1 کروڑ نوکریاں، 50 لاکھ مکان، کلبھوشن کی پھانسی، عافیہ کی واپسی، پٹرول و ڈالر سستا، دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر، مفت تعلیم و انصاف یونیورسٹیاں و اسپتال، حالات ایسے پیدا کرنا کہ یورپ سے نوکریاں کرنے لوگ یہاں آئیں، وی آئی پی کلچر کا خاتمہ، گورنر ہاؤس لائبریریاں اور اس جیسے دوسرے وعدے پورے کرے تو اسے ایک مرتبہ پھر بھی موقع ملے گا۔ لیکن تا حال دو سالوں میں ایسی کوئی خاص حکمت عملی سامنے نہیں آ پائی جو اس حکومت کے منشور کو سچ کر دکھائے۔ ایک بات جو شاید منشور میں نہیں تھی مگر تقریر میں تھی کہ اپوزیشن کو رلانا، اس پر بھرپور عمل جاری ہے۔

Facebook Comments HS