کیا مقبول پاکستانی دانشور ارطغرل کے نمونے پر طالبان کے بارے میں ڈرامہ بنائیں گے؟


ترک ڈرامہ سیریل ”ارطغرل غازی“ کی پاکستان، بالخصوص ملک کے دائیں بازو کے اور ”جہادی حلقوں“ میں مقبولیت کے پیش نظر اس کے مقابلے میں افغان طالبان کی جدوجہد کو ڈرامہ سیریل کے قالب میں ڈھالنے کا سوچا جا رہا ہے جس میں طالبان رہنما ملا عمر کی شخصیت کو اسلامی جہادی ہیرو کے طور پر مرکزی کردار کی حیثیت سے پیش کیا جائے گا۔ ایک ریٹائرڈ اعلیٰ بیوروکریٹ، دائیں بازو کے ”مقبول“ دانشور، کالم نگار، شاعر اور ٹی وی تجزیہ کار یہ ڈرامہ سیریل تحریر کریں گے جو نیٹ فلکس سے آن ائر ہوگی۔ ۔

ذرائع کے مطابق متذکرہ دانشور و مقبول کالم نگار سے اس ضمن میں پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم ایسے پاکستانیوں نے رابطے کیے ہیں جو خلافت اسلامیہ کے حامی ہیں اور ذہنی طور پر Islamist یعنی مذہبی رجحان کے حامل ہیں جبکہ بعض اسلامی شدت پسندوں نے انہیں ہانگ کانگ یا سنگاپور میں ”مسلم پروڈکشن ہاؤس“ قائم کرکے اس نوع کے ڈرامہ سیریل تیار کرنے کی پیشکش بھی کی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ دبئی سمیت مڈل ایسٹ کے کسی بھی ملک، پاکستان حتیٰ کہ کسی یورپی ملک میں بھی مجوزہ پروڈکشن ہاؤس کے تیار کردہ ڈرامے کسی بھی ٹی وی چینل سے ٹیلی کاسٹ کرنے کی اجازت ملنے کا امکان نہیں لہٰذا صرف سنگاپور اور ہانگ کانگ ہی میں تیار کر کے ایسی کوئی پروڈکشن دنیا بھر میں Netflix اور یوٹیوب چینل کے ذریعے دکھائی جائیں گی۔

واضح رہے کہ دائیں بازو کے متذکرہ مقبول دانشور بطور بیورو کریٹ سروس کے دوران پی ٹی وی کے لئے بھی ڈرامہ سیریل لکھ کر بیسٹ playwright کا ایوارڈ جیت چکے ہیں جبکہ اپنے اخباری کالموں پر بھی مسلسل 3 سال تک بہترین کالم کا ای پی این ایس ایوارڈ حاصل کرتے رہے ہیں۔ قابل ذکر امر یہ ہے کہ موصوف طالبان لیڈر اور افغانستان میں طالبان دور حکومت کے ”امیر المومنین“ ملا عمر سے کئی بار ملاقات کر چکے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ افغان طالبان کی ابتدائی 3 سال کی جدوجہد خالصتاً ان کے اپنے بل بوتے پر کی گئی مثالی جدوجہد تھی جس میں انہیں کسی بھی بیرونی“ سپانسر ”کی مدد حاصل نہیں رہی، وہ ان تین“ سنہری ”سالوں کو glorify کرنے سمیت طالبان کی مجموعی جدوجہد کو ویتنام کی امریکی یلغار کے خلاف دس سالہ مزاحمت سے کہیں بڑی تحریک گردانتے ہیں، اور اب اسے دنیا بھر کو آہنگ و صوت کے میڈیم کے ذریعے دکھانے کے خواہاں ہیں۔

Facebook Comments HS