میرے گاؤں میں ایسی عورتوں کو عزت دار شوہر مار دیا کرتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سنبل، شادی شدہ، چار بچوں کی ماں اور ایک مزدور کی بیوی تھی۔ سنہ 2017 اگست میں دن دہاڑے لاپتہ ہونے والی سنبل کا کہیں کوئی سراغ نہیں مل رہا تھا۔ جب ہی اس کے شوہر نے تھانے میں شکایت درج کرانے کی جسارت کر ڈالی۔ سنبل کے شوہر کو اس بات پر یقین تھا کہ اس کی بیوی کے ساتھ ضرور کچھ برا ہوا ہے جس نے انصاف کی حسرت لئے تھانے کی راہ لی تھی۔ تھانے میں کام پر مامور افراد بھی تو ہم جیسے ہی لوگ ہوا کرتے ہیں۔ جیسے معاشرے میں موجود انسان گم ہو جانے والی عورت کو اپنی تنگ نظری سے جانچتے پھرتے ہیں، وہی ستم ظریفی سنبل کی گمشدگی کے بعد اس کے گھر والوں کے ساتھ روا رکھی گئی۔

”تمھاری بیوی اپنے آشنا کے ساتھ بھاگ گئی ہوگی“ کا روایتی چورن سنبل کے شوہر کے حضور بھی بیچ دیا گیا۔ سنبل کا شوہر غریب ضرور تھا مگر بے حس نہیں تھا۔ اس کو ایمان کی حد تک یقین تھا کہ اس کی بیوی بے وفا نہیں تھی، اس کو اور گودوں میں کھیلتے بچوں کو چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتی تھی۔ یہی یقیں دلانے کی امید لئے تھانے کا رخ کر بیٹھتا تھا۔ بچوں کی ماں کو بازیاب کرانے کے اخراجات بھی ریاست کی بجائے اسی کو اٹھانا پڑے، آخر کو قانون اور انصاف سے نا آشنا نظام میں تھانے والوں کی روٹی ٹکر بھی تو ان کا بنیادی حق ٹھہرا جس کا بوجھ غریب کی پھٹی ہوئی جیب پر ہی گرتا ہے۔

اپنا ٹوٹا پھوٹا، چھتوں سے ٹپکتا، پیوند زدہ دیواروں کا گھر پچھتر ہزار کے اونے پونے داموں بیچ کر تھانے والوں کی شرائط بھی تسلیم کی اور خرچہ بھی پورا کیا۔ وہ کہتا ہے کہ اسے گھنٹوں تھانے میں بٹھا کر انتظار کرایا جاتا، گالم گلوچ سننے کو ملتی، زباں بند رکھنے کی دھمکیاں دی جاتی۔ اٹھائیس ہزار کے تو کھانے اور ٹیکسی کے خرچے اس نے بکے مکان کے پیسوں سے ادا کیے۔

بد زبانی، لعن طعن، بکا ہوا گھر گھاٹے کا سودا ثابت نہیں ہوا تھا، سنبل کو اغوا کاروں کے چنگل سے پولیس نے بچا ہی لیا کیونکہ ملزم جان پہچان کے ہی برآمد ہوئے تھے۔ سنبل کے شوہر کے مطابق پولیس نے زیادتی اور اغوا کرنے والوں کے ساتھ بہت نرمی کا برتاؤ رکھا۔ اس کے سامنے بیٹھ کر مقدمے میں ملوث اصل ملزم کو فون پر مطمئن کیا جاتا تھا کہ وہ کسی بابت فکر مند نہ ہو، وکیل بھی پولیس کر کے دے گی اور تین چار روز میں معاملے سے جان خلاصی بھی ہو جائے گی۔

سنبل جو مسلسل ایک ہفتے تک علاقے کے با اثر آدمی لال دین اور عبد الوحید کے ہاتھوں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنائی گئی کہ بیان کے مطابق وہ لوگ دن کو آتے اور رات کو غائب ہوجاتا کرتے تھے۔ ان دو اغوا کاروں اور زیادتی کرنے والوں نے صرف یہیں اکتفا نہیں کیا بلکہ ایک روز سنبل کو تیسرے شخص کے آگے بیچنے کے لئے بھی پیش کیا گیا۔

سنبل کو بازیاب کرانے کے بعد پولیس نے اسے ویمن پولیس اسٹیشن کی جیل میں بند کر دیا جبکہ اس کو مسلسل سات روز تک ریپ کرنے والے ملزم آزاد گھومتے رہے، ساتھ ہی میں تھانے کی سرپرستی تک ان کو حاصل رہی۔ خاتون تفتیشی افسر نے سنبل کو پولیس کی منشا کے عین مطابق بیان دینے کی بھی تنبیہ کر ڈالی تھی۔ ایف آئی آر میں اہم ملزم کا نام تک حذف کرا دیا گیا جب کہ سنبل کے بیان کے مطابق دونوں افراد جرم کے برابر مرتکب ہوئے تھے۔

اس کیس کا سب سے اہم نقطہ تھانے کے اے ایس پی کے رویے کے گرد گھومتا ہے جو اپنی اور تھانے کی نا اہلی پر پردہ ڈالنے کے لئے سنبل کے شوہر کو یہ کہتے باز نہیں آیا کہ اس کے گاؤں میں ”ایسی“ عورتوں کو ان کے عزت دار شوہر قتل کر دیا کرتے ہیں۔ پڑھا لکھا، سول سروسز کے امتحان میں سرخرو ہوا نوجوان جو خود کو روشن خیال کہہ رہا تھا، کے ایسے ہوش ربا بیان کی ریکارڈنگ بھی موجود ہے اور اس کے لہجے کا غرور بھی جو سنبل اور اس کے شوہر سے حقارت کا اظہار کرتا نظر آ رہا تھا۔

سنبل کے مجرم جن کو اسی تھانے کے روشن خیال اے یس پی نے ناصرف اجتماعی زیادتی اور اغواء جیسے سنگین جرائم سے فرار عطا کی وہیں مظلوم کو اذیت اور تحقیر کا نشانہ بھی خوب بنایا۔ یعنی ایک جرم ہونے کے بعد نظام انصاف کا پہلا نمائندہ دوسرے جرم کے ہونے کو تقویت بخش رہا تھا۔ زنا، زیادتی، نام نہاد غیرت کے نام پر قتل و غارت تو ویسے بھی بڑے عام ہیں۔ پولیس، ریاست اور عوام کے بیچ عدل کا پہلا در ہوا کرتی ہے۔ عدل کے محافظ مظلوم اور جرم کا شکار خاندانوں کو ایسی گھناؤنی تجاویز دیں گے تو عام انساں کا تو حال مت پوچھئے گا۔ اس بات سے بھی منکر نہیں ہوا جاسکتا جہاں پولیس کے افسران دل جمعی سے فرائض سر انجام دینا بھی چاہیں، وہیں پر اوپر سے ان کی باگیں کھینچ دی جاتی ہیں۔

اے ایس پی واشگاف الفاظ میں کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ پولیس معاشرے کا عکس ہوا کرتی ہے۔ سوال تو یہ ہے کہ پھر پولیس یا ریاست کے ہونے کا جواز کیا رہ جاتا ہے جب اس نے معاشرے کی ہی عکاسی کرنا ہے؟ وہ معاشرہ جس کی نگہداشت کے لئے ریاست اور پولیس جیسے ریاستی ادارے وجود میں آتے ہیں کہ انسانی زندگی کو بہتر سے بہتر بنایا جاسکے نہ کہ معاشرے کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے، جہاں ہر قماش کے انسان بستے ہیں۔ ریاست کوئی اینٹوں سے بنی عمارت کا نام نہیں، بلکہ ریاست ان ہی اداروں کا ملاپ ہے جو ایک ایسی عمارت قائم کرتی دکھائی دیتی ہے جہاں سماج میں موجود اکائیوں کے اصولوں اور انداز سے ہٹ کر آئین، قوانین، تنظیم، غیر جانبداری اور معقولیت کے اصولوں پر کار فرما ہو کر اپنے فرائض کو بنا کسی کوتاہی اور جذباتیت کے انجام دیا جائے۔ ریاست اور سماج ایک نہیں دو منفرد عناصر کا نام ہیں جن کا مقصد انسانی فلاح ہے۔ ریاست اگر سماج ہے تو مجرموں اور انصاف فراہم کرنے والوں میں فرق کیا رہ جائے گا؟

دکھ اس بات کا ہے کہ شہر بانو سید کی بنائی غریب پر ظلم و بربریت کی نہ فلم بندی وائرل ہوتی ہے نہ اس پر ملک کا تمام پڑھا لکھا متوسط طبقہ ہفتوں بحث کرتا نظر آتا ہے۔ بحیثیت سماج ہم آج تک نہ تو جنسی زیادتی کی ہولناکی کو محسوس کر سکے ہیں کہ بنا کسی بھی تعصب کے تکلیف اٹھانے والی کے ساتھ کھڑے ہوں اور کڑوے الفاظ سے رستے زخموں پر نمک پاشی سے باز آ سکیں۔ ہمارے نزدیک مصائب بھی منتخب اور گنے چنے ہوتے جا رہے ہیں۔ جس کی تشہیر کی جائے وہی دکھ دکھ دیتا ہے، جو نظروں سے اوجھل کر دیا جائے وہ رنج رنج ہونے کی اہمیت ہی کھو دیتا ہے۔

سنبل کے شوہر نے بیوی کے ساتھ ہونے والے اس سانحے کے بعد بھی اپنا رویہ بدلا نہ ہی ناپاکی کا طوق اس کے گلے ڈالا۔ بلکہ انصاف کی خاطر اپنی بساط میں جو ہوا کرنے سے باز نہ آیا۔ اپنے میل جول کے لوگوں میں اپنے آدمی ہونے کی وقعت ضرور کھو بیٹھا، ایسے باشعور مردوں کی غیرت اور مردانگی سب ہی معاشرے کے مہلک سوالوں کی چھری تلے آجاتی ہیں جس کا خمیازہ اس غریب کو بھگتنا پڑا چاہے تھانے میں یا تھانے سے باہر معاشرے میں۔ سنبل اور اس کے بچوں کی جان بھی ان سوالوں سے نہ بچ سکی تھی۔ سنبل کے بڑے بیٹے کو اسکول میں بچے بھی اس کی ماں کے طعنے دیتے رہے۔ جس کے باعث یہ غریب خاندان جس کے سر سے چھت تو پہلے سے ہی چھن چکی تھی، علاقہ بدر بھی ہو گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *