پی کے 8303 حادثہ کی تفتیش میں کیا دیکھا جانا چاہیے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پی کے 8303 کے حادثے نے 97 جانیں لے لیں۔ نقصان اور زیادہ ہو سکتا تھا لیکن معجزانہ طور پر نا صرف دو مسافر بھی بچ گئے بلکہ نیچے آبادی میں بھی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ حادثے کی وجوہات پر حتمی بات تو تفتیشی رپورٹ آنے پر ہی واضح ہو گی لیکن اس پر قیاس آرائی پوری دنیا میں ہو رہی ہے اور ہوابازی کی حفاظت کے ماہرین اس میں بہت دلچسپی لے رہے ہیں اور اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں۔ اب تک کی تحقیقات نے یہ واضح کیا ہے کہ یہ نظام کی ناکامی ہے کیونکہ حادثات سے بچنے کے لئے تہہ در تہہ نظام بنایا جاتا ہے تاکہ اگر ایک جگہ خرابی ہو تو دوسری سطح پر اس کا سدباب ہو جائے۔ ابھی تک تو پاک فضائیہ کے ماہرین پر مشتمل ٹیم تشکیل دی گئی ہے لیکن آخر یہ حادثات اتنی تواتر سے کیوں ہو رہے ہیں؟

سنہ 1986 میں پی آئی اے کا جہاز کھٹمنڈو میں جلدی راستہ سے اتر کر کپتان کی غلطی سے تباہ ہو گیا۔ 2010 میں ائر بلیو کا جہاز بھی کپتان کی غلطی سے مارگلہ سے ٹکرا گیا۔ بھوجا ائر کا جہاز کپتان کے غلط فیصلہ کے باعث خراب موسم میں لینڈنگ کی کوشش میں گر کر تباہ ہو گیا۔ اتنے فضائی حادثات خاص طور پر ہوابازوں کی غلطیوں کی وجہ سے تو ہم سے کہیں کم ترقی یافتہ ممالک میں بھی نہیں ہوتے، ترقی یافتہ ممالک کی تو بات ہی اور ہے۔ آسٹریلیا کی قوانٹس ائرلائن میں آج تک کسی طیارے کو حادثہ پیش نہیں آیا اور امارات ائرلائن کا صرف ایک طیارہ آج تک حادثے میں تباہ ہوا لیکن اس کریش لینڈنگ میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تو کیا ہمارے ہوابازوں میں ایک اشتہار کے مصداق آئیوڈین کی کمی ہے جو پے در پے حادثات ہوتے چلے جا رہے ہیں؟

ہماری تفتیشی کمیٹیاں سطحی سی انکوائری کرتی ہیں اور ایک گردن تلاش کی جاتی ہے جس پر ذمہ داری کا سارا بوجھ ڈالا جا سکے جو کہ اکثر ہواباز کپتان کی ہوتی ہے لیکن کوئی یہ نہیں پوچھتا اور نہ ہی جاننا چاہتا ہے کہ آخر ایک تجربہ کار ہواباز کپتان نے ایسا کیوں کیا۔ کپتان کے ساتھ معاون ہواباز بھی موجود ہوتا ہے اور بین الاقوامی پریکٹس کے مطابق وہ بھی جہاز کے معاملات میں کپتان جتنا ہی اختیار رکھتا ہے اور اسے کپتان کو کسی بھی غلط حرکت سے روکنا چاہیے لیکن ہماری کمیٹیاں یہ جاننے کی کوئی کوشش نہیں کرتیں۔

انکوائری یا تفتیش کا ایک مقصد تو معاملہ کی وجہ تلاش کرنا ہوتا ہے اور دوسرا ان عوامل کی بھی تلاش ہوتی ہے جن کے باعث یہ معاملہ پیش آیا۔ اسی طرح کا حادثہ 2010 میں ائر بلیو کے ساتھ مارگلہ میں پیش آیا جس میں کپتان نے ائر ٹریفک کنٹرول سے غلط بیانی کی کہ انہیں رن وے نظر آ گیا ہے جبکہ معاون ہواباز نے انہیں کہا بھی کہ ہمیں نظر تو نہیں آیا لیکن کپتان نے سنی ان سنی کر دی اور جب وہ پریشانی میں راستہ بھول گئے تو انہوں نے ائر ٹریفک کنٹرول کی مدد حاصل نہیں کی کیونکہ وہ پہلے جھوٹ بول چکے تھے اور شاید خفگی کے باعث ہمت نہیں کر سکے اور جہاز مارگلہ سے ٹکرا گیا۔

معاون ہواباز کے آخری الفاظ بھی کچھ اس طرح کے تھے کہ یہ سر آپ نے کیا کیا؟ وہ اپنی جان کو چلا گیا لیکن اس نے نہ ہی کپتان کو روکا اور نہ ہی ائر ٹریفک کنٹرول کو اطلاع دی کہ کپتان غلط بیانی سے کام لے رہا ہے۔ اس پرواز کے آغاز میں ہی کپتان نے تھوڑا معاون ہواباز کے علم کا امتحان لیا اور اس کو کو طنزیہ طریقے سے ڈانٹا جس پر وہ خاموش ہو گیا اور وہ چونکہ ائرفورس سے نیا نیا کمرشل پائلٹ بنا تھا تو شاید یس سر کی عادت ابھی تک قائم تھی۔

اب ائر بلیو کی تفتیشی رپورٹ بالکل خاموش ہے کہ دونوں ہوابازوں نے ایسا کیوں کیوں کیا جو کہ انہوں نے کیا۔ ان کو علم تھا کہ ایسا کرنا قوانین کی خلاف ورزی بھی ہے اور ان کی اپنی جانیں بھی خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ عام افراد تو کہیں گے کہ اب ان کی روحوں سے کون پوچھے لیکن ترقی یافتہ ممالک کی انکوائری کمیٹی میں نفسیات، عمرانیات اور دوسرے ایسے شعبوں کے ماہرین بھی شامل کیے جاتے ہیں جو اس بات پر بھی تحقیق کر کے رائے دے سکیں تاکہ ایسے اقدامات بھی کیے جائیں کہ تجربہ کار ہواباز بھی ایسی یا اس سے ملتی جلتی غلطیاں نہ دہرائیں۔

برٹش ائرویز کی پرواز بی اے 5390 میں ٹیک آف کے بعد کپتان کے سامنے کی کھڑکی اڑ گئی اور وہ اڑ کر کھڑکی سے باہر نکل گئے لیکن ان کی سیٹ بیلٹ نے ان کو تھامے رکھا اور نتیجتاً ان کا آدھا جسم کھڑکی سے باہر اور آدھا اندر رہ گیا۔ معاون پائلٹ نے جہاز واپس ہوائی اڈے پر اتار لیا اور کیپٹن صرف زخمی ہوئے۔ انکوائری کمیٹی نے تحقیقات کیں تو معلوم ہوا کہ یہ کھڑکی اس فلائٹ سے پہلے تبدیل کی گئی تھی۔ مزید تحقیق میں معلوم ہوا کہ غلط سائز کے کچھ پیچ لگ گئے تھے اور ان کے باعث کھڑکی کمزور رہ گئی تھی اور وہ ہوا کا دباؤ برداشت نہ کر سکی۔

مزید تحقیق پر معلوم ہوا کہ انجینئر نے پچھلے پیچ نکالے اور صرف دیکھ کر اس جیسے دوسرے پیچ سٹور سے نکال کر تبدیل کر دیے اور جہاز کے مینوئل سے رہنمائی حاصل نہیں کی اور نہ ہی ہیچ کو سٹور سے نکالتے وقت اس کا سائز آلے سے چیک کیا۔ انکوائری کمیٹی نے یہاں پر بس نہیں کیا بلکہ پوری کمپنی کے تمام نظام کی پڑتال کی جس میں معلوم ہوا کہ انجینئر کی ترقی اور بونس اس بات پر منحصر ہے کہ وہ ایک کام کتنی جلدی کرتا ہے اور اس طرح سے کمپنی انجینئرز میں مقابلہ کروا رہی ہے کہ جو جلدی مرمت مکمل کرے گا اس کو ترقی اور بونس ملے گا کیونکہ جہاز جب تک فضا میں ہوتا ہے تو کمپنی کما رہی ہوتی ہے اور زمین پر صرف خرچ کر رہی ہوتی ہے۔ اس دباؤ میں اس انجینئر نے اپنی آنکھوں پر بھروسا کیا جو کہ شارٹ کٹ تھا اور اس غلطی کی وجہ سے حادثہ پیش آ گیا۔ تفتیشی کمیٹی کی رپورٹ کے بعد کمپنی کو اپنی پالیسیاں تبدیل کرنی پڑیں اور 30 سال کے بعد بھی ایسا حادثہ دوبارہ پیش نہیں آیا۔

اسی طرح ایشیانا ائر لائن کی پرواز 214 بھی کپتان کی غلطی کے باعث سان فرانسسکو میں تباہ ہو گئی جس میں تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ تفتیش پر معاملہ کپتان کی غلطی ثابت ہوا لیکن ماہرین نے اس پہلو پر بھی غور کیا کہ معاون ہواباز نے کپتان کو یہ غلطیاں کرنے سے نہ روکا جبکہ اس ائرپورٹ پر کپتان پہلی مرتبہ جہاز اتار رہا تھا جبکہ معاون کو کئی سو گھنٹوں کا تجربہ تھا۔

مغربی ائر لائنر میں بہت مقامات پر معاون ہواباز نے کپتان کو نہ صرف ایسی غلطیاں کرنے سے روک دیا بلکہ کپتان کے بارے میں ائر ٹریفک کنٹرول کو شکایت بھی کر دی اور اترنے کے بعد انتظامیہ کو بھی قوانین کی خلاف ورزی کے بارے میں مطلع کیا۔ پرواز 214 کے معاون ہواباز کے رویے کو دیکھتے ہوئے تحقیقاتی کمیٹی نے تکنیکی وجوہات کے علاوہ بڑے کی عزت اور اطاعت کرنے کے کورین کلچر یا رواج کو مورد الزام بھی ٹھہرایا کہ سینیئر کے سامنے جونیئر بولنے کی جسارت بھی نہیں کر سکا اور جب تک اس کو یہ احساس ہوا کہ ان غلطیوں سے اب جہاز تباہ ہونے والا ہے، وقت بچا ہی نہیں تھا۔ انکوائری کمیٹی کی سفارشات پر تمام معاون ہوابازوں کی دوبارہ تربیت کی گئی اور نئے اصول مرتب کیے گئے کہ معاون پائلٹ کو ایسا نہ کرنے پر کیا سزا دی جائے گی اور ایسا کرنے پر کیا فوائد حاصل ہوں گے۔ ان اقدامات سے کورین ائر لائنز کا ایک نیا رواج قائم ہوا اور ایسا حادثہ دوبارہ پیش نہیں آیا۔

موجودہ حادثہ میں ابھی تو بنیادی سوالات ہیں کہ کپتان اور معاون ہواباز جہاز کو اتنی تیزی سے نیچے کیوں لائے اور لینڈنگ کا راستہ سے گلائیڈ پاتھ کہتے ہیں پر جہاز کو کیوں نہیں اتارا؟ ائر ٹریفک کنٹرول نے کپتان کو مطلع تو کیا کہ جہاز مطلوبہ گلائیڈ پاتھ سے نہیں اتر رہا لیکن کپتان کہ کہنے پر کہ وہ سنبھال لے گا اسے اترنے کی اجازت کیوں دی جبکہ یہ بات سب کو معلوم تھی کہ گلائیڈ پاتھ کی خلاف ورزی پر رن وے پر جہاز زیادہ رفتار سے اترتا جس کے باعث وہ رن وے سے پھسل سکتا ہے۔ اگر جہاز کے پہیے نہیں کھل رہے تھے تو پھر ائر ٹریفک کنٹرول کو پہلے مطلع کیوں نہیں کیا اور اگر کھل گئے تھے تو پھر انجن نیچے کیسے لگ گئے؟

ائر ٹریفک کنٹرول نے بھی جہاز کو اترتے وقت مطلع کیوں نہیں کیا کہ تمہارے پہیے نیچے نہیں اور اگر کیا تو بغیر اپنی تیاری کے نیچے کیوں آنے دیا؟ اگر پہلی بار کنٹرولر نے انجن رن وے پر رگڑ کھاتے ہوئے دیکھے تو اس نے ہوائی اڈہ پر ایمرجنسی کا اعلان کیوں نہیں کیا اور اگر اس نے نہیں دیکھے تو کیوں نہیں دیکھے جبکہ ٹاور پر پوری لینڈنگ نظر آ رہی ہوتی ہے اور اس کو دیکھنا اس کا فرض ہے اور پھر اگر نہیں دیکھے تو اس نے کپتان سے یہ سوال کیسے پوچھ لیا کہ آیا وہ پیٹ کے بل لینڈنگ یعنی پہیوں کے بغیر لینڈنگ کرے گا۔

ہوابازی کے سکھلائی کے طریقے میں اگر پیٹ پر لینڈنگ ہو جاتی ہے تو جہاز کو دوبارہ پرواز نہیں کروائی جاتی لیکن ہوابازوں نے جہاز پھر ہوا میں کیوں اٹھا لیا؟ اور پھر دوبارہ بھی جہاز کے اندر اعلان نہیں کیا کہ وہ ایمرجنسی لینڈنگ کریں گے تاکہ عملہ اور مسافر اس کے لئے تیار ہو جائیں جبکہ کنٹرولر کے پوچھنے پر بتایا کہ ہاں ہم بیلی لینڈنگ کریں گے۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *