ارطغرل اور مقامی مواد کا مسئلہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

’ارطغرل غازی‘ نے ہمارے سماج کے تمام ہی طبقات کو بڑی شدت سے متاثر کیا ہے۔ عوام کی اکثریت کو یہ ڈرامہ پسند ہے۔ پھر ایک طبقہ ہے جو کہ اس کے حق میں اور اس کے خلاف فتوے دے رہا ہے۔ بہت عرصے بعد ان میں سے کئی کو تصویر اور ٹی وی دیکھنے پر شریعت کا حکم یاد آ گیا ہے۔ کچھ کو تصوف کے خلاف بڑی شدت سے مروڑ اٹھ رہا ہے۔ پھر ایک طبقہ ہے جن کو لبرل، سیکولر، سرخا وغیرہ کہا جاتا ہے۔ اس طبقے کو مذکورہ ڈرامے سے ’پولیٹیکل‘ اور ’ریڈیکل‘ اسلام برامد ہوتا ہوا نظرآتا ہے۔

یہ طبقہ بڑی گرمی سے اپنے بیانات میں عوام کو سمجھا رہا ہے کہ اس ڈرامے کو صرف تفریح سمجھ کر دیکھئے اس سے ’جہاد‘ کی تعلیم مت لیجیے، اور یہ تعلیم مت لیجیے کہ اولیاء اللہ بھی جہاد کے حامی تھے۔ پھر کبھی ہمارے لبرل ہماری عوام کو یہ بتانے لگتے ہیں کہ ’ترک تو خود بڑی شدت سے سیکولر اور لبرل ہیں، تم کہاں ان سے اسلام سیکھنے بیٹھ گئے؟‘ اس دعوے کے حق میں لبرلوں کے پاس بھی ہماری عوام کے ایک رومان پسند معصوم طبقے کی طرح ہی اس ڈرامے کے اداکاروں کی تصویریں ہوتی ہیں کہ ’دیکھو یہ لوگ تو خود اسلام پر نہیں چلتے تم ان سے اسلام سیکھو گے؟‘ پھر کچھ لبرلوں کو ترک سلاطین کے یہاں کی اندرونی چپقلش اور برادرکشی کا درد صدیوں بعد اچانک اٹھ گیا ہے۔

خیر مجھے ان میں سے کسی اعتراض میں کوئی دلچسپی نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ چڑھتے ہوئے سورج کو کون سی طاقت روک سکی ہے؟ عوام کو جو پسند ہوتا ہے وہ کر کے رہتے ہیں۔ عوام نہ فتوؤں سے رک سکتے ہیں نہ لبرلوں اور سیکولروں کی ڈانٹ سے۔ سیکھنے اور سوچنے کی بات اس پورے واقعے میں یہ ہے کہ ’کہانی‘ میں بہت قوت ہوتی ہے۔ ’ادب‘ آج بھی اتنا قوی ہے کہ سارے سماج کو اپنی گرفت میں لے سکتا ہے۔ کہاں ہیں ادب کو از کار رفتہ کہنے والے؟

یہ بات کوئی مذاق نہیں کہ ہزاروں لیکچر عوام میں وہ کیفیت پیدا نہیں کر پائے جو کہ ایک ڈرامے نے کر دی۔ کوئی بھی مواد جو کہ دلچسپ ہوگا وہ اسی طرح عوام کو اپنے سحر میں لے لے گا۔ مگر آج کا ہمارا موضوع ایک اور قسم کا اعتراض ہے جو کہ ہمارے معاشرے کے ایک اور چھوٹے سے طبقے کو بڑی شدت سے تڑپا رہا ہے۔ اس طبقے کو اپنی روزی روٹی کے لالے پڑتے نظر آرہے ہیں۔ یہ اعتراض ہے مقامی مواد یعنی Local content کا۔ یہ اعتراض کرنے والے ہمارے ملک کے ڈرامہ اور فلم کی صنعت سے منسلک لوگ ہیں۔

ہمیں یاد ہے کہ جب ہمارے ملک میں بھارتی فلموں کی سینما میں نمائش شروع ہوئی تھی تب بھی یہ بحث اخبارات اور ٹی وی پر ہوئی تھی کہ بھارتی فلموں کے آنے سے ہمارے ملک کی فلمی صنعت کا بھٹہ بیٹھ جائے گا۔ جب ترکی کے اولین ڈرامے ترجمہ ہو کر پاکستانی چینلوں پر چلے تھے تب بھی ہماری ڈرامے کی صنعت سے منسلک افراد نے کافی واویلا کیا تھا۔ یہ خاص اعتراض جو کہ اب ارطغرل پر ہورہا ہے اوپر مذکور تمام ہی اعتراضات سے تھوڑا مختلف ہے کیونکہ یہ ایسے افراد کا اعتراض ہے جو خود ڈراموں اور فلموں کی ہی دنیا سے منسلک ہیں۔ مگر اس اعتراض کی وجہ کیا ہے اور یہ کتنا درست ہے؟

دراصل اس اعتراض کی بنیاد یہ ہے کہ اگر بیرونی مواد ہمارے ملک میں نشر ہوگا تو ہمارے ملک کا مواد کون دیکھے گا؟ یعنی اس اعتراض میں ہی یہ خیال پوشیدہ ہے کہ ہمارے ملک کے ڈرامے اور فلمیں دیکھنے کے لائق نہیں۔ عوام ان کو صرف اس صورت میں دیکھ سکتے ہیں کہ ان کے پاس کچھ اور دیکھنے کے لئے نہ ہو۔ یعنی ہمارے وطن میں بننے والے ڈرامے اور فلمیں دراصل معیار میں کم ہیں اور کسی کھلے مقابلے اور مسابقت کے اہل ہی نہیں۔ اس اعتراض میں ایک اور خیال بھی پوشیدہ ہے کہ دراصل ہماری حکومت کو بھی چین یا سابق سویت یونین کی طرح بہت سختی سے اس بات پر کنٹرول قائم کرنا چاہیے کہ ہمارے عوام کیا دیکھتے ہیں۔

یعنی ہمارے عوام کو اپنے لئے ڈرامے یا فلمیں پسند کرنے کا کوئی اختیار نہیں بلکہ یہ کام کسی مقتدر کا ہے۔ کوئی مقتدر ان کے لئے فیصلہ کرے گا کہ ان کے لئے کیا چیز موزوں ہے اور کیا غیر موزوں۔ عوام کو ’میرا ریموٹ میری مرضی‘ کا اختیار نہیں دیا جائے گا۔ اس اعتراض میں ایک اور بات بھی پوشیدہ ہے کہ ہم دراصل اکیلے دوڑ کر ریس میں اول آنا چاہتے ہیں۔

آج سے چند سال قبل جب پاک بھارت معاملات بہت بگڑے تو بھارتی فلموں کی پاکستانی سینما گھروں میں نمائش پر پابندی لگا دی گئی اور پاکستانی چینلوں پر بھی بھارتی مواد بند کر دیا گیا۔ تب بدقسمتی سے کئی پاکستانی فلمیں اور ڈرامے دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ معلوم ہوا کہ پرانی پاکستانی فلمی صنعت (جس کی سوغات ’بڈھا گجر‘ نما فلمیں تھیں ) تو تھی ہی ناقابل برداشت مگر نئی پاکستانی فلمی صنعت ( ’بول‘ ، ’خدا کے لئے‘ ، ’ورنہ‘ والی) تو دراصل فلمیں بناتی ہی نہیں۔

یا تو اس صنعت سے پروپیگنڈا پوسٹر جاری ہوتے ہیں یا پھر بھارتی فلم ’ہیرا پھری‘ کی دوسرے اور تیسرے درجے کی نقل۔ پاکستانی ڈراموں کا اب موضوع صرف ایک ہے، ’شادی‘ ۔ شادی نہ ہونا ایک مسئلہ ہے اور شادی ہوbجانا اس سے بڑا مسئلہ۔ دوسری شادی ایک مسئلہ ہے اور اس سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ شادی شدہ عورتوں کو اڑا لے جانے کے لئے بہت سے مرد بیتاب بیٹھے ہیں۔

پھر جبر یہ ہے کہ ’یہی فلمیں اور ڈرامے دیکھتے رہو اس لیے کہ تم پاکستانی ہو، اس لیے کہ تم اس مواد کی طرح مقامی ہو اور اس لیے کہ تم دیکھو گے نہیں تو یہ صنعت چلے گی کیسے؟‘ بہت سے گھروں میں بہت بدمزہ کھانا بنتا ہے اور سب کو جبراً وہی کھانا پڑتا ہے۔ ایسے گھروں میں جیسے ہی بچے پر پرزے نکالتے ہیں ویسے ہی بازار کے کھانوں کے دیوانے ہو جاتے ہیں۔ بہت سے لوگ ان بیچاروں کو ’چٹورا‘ سمجھ کر تنقید کرتے ہیں کہ ’دیکھو یہ گھر کا کھانا چھوڑ کر بازار کا کھانا کھاتے ہیں حالانکہ بازار کا کھانا حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق نہیں بنا ہوتا اور مستقل بازار سے کھانا کھانا مہنگا بھی پڑتا ہے۔‘ ایسے اعتراضات پر یہ لوگ بڑے درد سے اعتراض کرنے والے کو دیکھتے ہیں۔ یہی حال ہمارے مقامی مواد کا بھی ہے۔ بس فرق یہ ہے کہ ہمارے گھر کا کھانا پکانے والے چاہتے ہیں کہ گھر کے لوگوں کے بازار سے کھانا کھانے پر بھی پابندی عائد کردی جائے۔

ہمارے ملک میں جو نام نہاد ’مقامی مواد‘ بنتا ہے وہ ہمارے ہی ملک کے سینما اور چینلوں کے لئے اس قدر ناکافی ہے کہ لامحالہ ترجمہ ہوئی غیر ملکی فلموں اور ڈراموں سے ہی یہ خلا پر ہوتا ہے۔ جب بھارتی فلمیں بند ہوئیں تو عملاً ہمارے ملک کے سینما گھروں کا بھٹہ بیٹھ گیا۔ ویسے سچ یہ ہے کہ ہمارے ملک کے ٹیوی ڈراموں کا حال ہمارے ملک کی فلموں سے تو بہتر ہی ہے۔ کئی لوگوں کا خیال ہے کہ اسی وجہ سے ہمارے ملک کی فلمیں بھی ٹیوی ڈرامہ ہی بن کر رہ گئی ہیں۔

ہمارے فلمی ہدایتکار ساری فلم ہی کلوز اپ میں بنادیتے ہیں۔ کوئی بدقسمتی سے اگر پاکستانی فلمیں دیکھنے سینما چلا جائے تو اسے اتنی بڑی اسکرین پر اداکاروں کے چہرے تین گھنٹے تک دیکھنے پڑتے ہیں کہ وہ ان اداکاروں کے چہرے کے ایک ایک مسام اور پیلے دانتوں کے پورے جغرافیے سے اپنے ہاتھ کی ہتھیلی کی طرح واقف ہو جاتے ہیں۔ خیر بات صرف ارطغرل ڈرامے کی نہیں، بات بھارتی فلموں اور ڈراموں کی بھی ہے بات صرف اتنی سی ہے جو کہ محشر بدایونی نے بڑی خوبصورتی سے کہہ دی تھی،

اب ہوائیں ہی کریں گی روشنی کا فیصلہ
جس دیے میں جان ہوگی وہ دیا رہ جائے گا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *