اسلام آباد میں آٹھ سالہ بچی کی تشدد اور مبینہ جنسی زیادتی کے بعد ہسپتال میں موت، ملزم میاں بیوی گرفتار

سحر بلوچ - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام آباد کے علاقے بحریہ ٹاؤن میں پولیس کے مطابق بطورِ گھریلو ملازمہ کام کرنے والی ایک آٹھ سالہ بچی کی تشدد اور مبینہ جنسی زیادتی کے بعد ہسپتال میں موت واقع ہوگئی ہے۔

روات تھانے کے سب انسپکٹر محمد مختار کے مطابق 31 مئی کی رات کو پولیس کو بحریہ فیز 8 کے بیگم اختر میموریل ہسپتال کے سکیورٹی انچارج نے فون پر اطلاع دی کہ ایک آٹھ سالہ بچی نیم بیہوشی کی حالت میں ہسپتال لائی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق بچی کو ہسپتال پہنچانے والا شخص اسے چھوڑ کر فرار ہو گیا تھا۔ پولیس کے مطابق وہ ملزم ہی تھا جو بچی کو ہسپتال پہنچا کر فرار ہوا تھا اور اس کی شناخت ہسپتال کے سکیورٹی انچارج نے کی۔جب پولیس ہسپتال پہنچی تب بچی ہسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں وینٹیلیٹر پر تھی۔ جس کے بعد پولیس نے ضابطہ فوجداری کے تحت 31 مئی کی رات ایف آئی آر درج کی۔ ایف آئی آر درج ہونے کے ایک روز بعد یکم جون کی صبح بچی کا دورانِ علاج انتقال ہوگیا۔ بچی کے انتقال کے بعد پولیس نے بحریہ ٹاؤن فیز ایٹ کے رہائشی حسن صدیقی اور اُن کی بیوی کو گرفتار کرلیا ہے۔

چونیاں قتل: کیا ڈی این اے پولیس کو ملزم تک پہنچا سکتا ہے؟ابتدائی تفتیش کے مطابق بچی کے جسم پر جگہ جگہ تشدد کے نشان تھے۔ بچی کے گال، پسلیوں، رانوں اور ٹخنوں پر زخم اور رگڑ لگنے کے نشان موجود تھے۔ اس کے علاوہ بہت سارے پرانے زخم بھی ابھی بھر رہے تھے۔ پولیس نے بتایا کہ ہسپتال کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں زیرِ علاج بچی کے جسم خاص کر رانوں پر زخم تھے اور ڈاکٹر کے مطابق بچی سے مبینہ طور پر جنسی زیادتی بھی کی گئی تھی جس کی تصدیق کے لیے خون کے نمونے پنجاب فورینسیک سائنس ایجنسی بھیجے گئے ہیں۔ سب انسپکٹر مختار نے بتایا کہ بچی مظفر گڑھ کی رہائشی تھی اور اسے اس کے رشتہ دار نعیم شاہ نے ملزم حسن صدیقی کے گھر بطور ملازمہ لگوایا تھا۔

حسن صدیقی اور ان کی بیوی کا ایک پانچ ماہ کا بچہ ہے جس کے لیے آٹھ سالہ بچی کو رکھا گیا تھا۔ سب انسپکٹر مختار نے بتایا کہ ’ملزم کے مطابق بچی نے صفائی کرتے ہوئے اُن کے گھر میں موجود دو قیمتی طوطے غلطی سے پنجرے سے اڑا دیے۔ جس کے بعد حسن صدیقی اور ان کی بیوی نے طیش میں آکر بچی کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔‘

سب انسپکٹر مختار نے بتایا کہ بچی کے رشتہ دار کو کہا گیا کہ ’اُس کو پڑھا لکھا کر بڑا کریں گے جبکہ صورتحال اس کے بلکل برعکس تھی۔‘ پولیس کے مطابق ’یہ بات بھی کو غلط بتائی گئی کہ بچی کو ماہانہ تین ہزار دیے جاتے تھے۔ ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔‘ملزمان کے خلاف جنسی زیادتی اور اقدام قتل کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا جس میں قتل کی دفعات کا اضافہ کیا گیا ہے۔ایف آئی آر کے مطابق پولیس نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 324, 376 اور 34 کے تحت مقدمہ درج کیا جس میں اب دفعہ 302 شامل کردی گئی ہے۔

‏ایف آئی آر میں نامزد ملزمان حسن صدیقی اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ حسن صدیقی تھانہ روات جبکہ اُن کی اہلیہ وومن تھانے میں قید ہیں۔ دوسری جانب، ایس پی صدر ضیا الدین احمد کے مطابق میرٹ پر تفتیش کر کے ملزمان کو ٹھوس شواہد کے ساتھ ان کا چالان عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 14130 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp