بکھری ہوئی بک بک برکھا․․

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہماری اماں (دادی) کہا کرتی تھیں کہ اس کی زبان کے آگے تو ایک نہیں دو، دو خندقیں ہیں۔ اگر کوئی ایک میں گرنے سے بچ جائے تو دوسری میں تو ضرور گر جائے گا۔ وہ اکثر حیران ہو کر امی سے پوچھا کرتی تھیں۔ دلہن! کیا تم نے اسے کوے کی زبان بھون کر کھلائی ہے جو یہ اتنا بولتی ہے؟ سنا ہے کہ ہمارے عرفان بھائی جان بہت کمزور سے پیدا ہوئے تھے۔ دو سال کی عمر تک وہ بالکل نہیں بولے، امی پریشان تھیں کہ پہلوٹی کا بچہ وہ بھی گونگا تو کسی نے انہیں یہ ٹوٹکا بتایا کہ اسے چڑیوں کا جھوٹا پانی پلاؤ تو یہ بولے گا۔ مگر ہم تو جیسے اللہ میاں کے ہاں چڑیوں کا جھوٹا پانی پیٹ بھر کر پی کر آئے تھے، شاید ہمارے پیٹ میں اونٹ کی دوہری کوہان چھپی تھی جس میں ہم بہت سارا جھوٹا پانی بھر کر لائے تھے اسی وجہ سے ہماری زبان شتر بے مہار کی طرح کبھی بھی، کسی بھی مقام پر رکی نہیں۔ بس چلتی رہی۔ اور بس چلتی ہی رہی۔

ماموں میاں، ایک دن بڑے موڈ میں تھے، ہمیں دیکھ کر مسکرائے اور پھر ہمارے پچپن کے چلمن میں جھانک کر، ہمیں ہمارے بارے میں بتانے لگے۔ (ہم لوگ، ہر سال ڈھاکہ سے مغربی پاکستان آیا کرتے تھے )، ایک شریر مسکراہٹ ان کے لبوں پر تیر رہی تھی۔ وہ بولے جس کا خلاصہ یہ تھا کہ۔ ۔ جب ہم نے پاؤں پاؤں چلنا شروع کیا تو تھوڑی تھوڑی زبان بھی چلنے لگی۔ ایک دن امی، پاپا، احتشام نانا (امی کے چچا، مولانا احتشام الحق تھانوی) کے ہاں جیکب لائن گئے۔

وہاں آپا حسنہ (احتشام نانا کی بیگم) نے بڑی محبت اور محنت سے ہمیں اللہ ہو کہنا سکھایا۔ توتلی زبان میں مزے سے تالیاں بجاتے ہوئے۔ اللہ ہو، اللہ ہو کرتے ہوئے جمشید روڈ آئے، امی کی گود میں تھے۔ وہ خوشی سے ہمارا منہ چوم رہی تھیں کہ سامنے سے ایک کتا آ گیا۔ زبان پھر چل پڑی۔ کتا ہو۔ کتا ہو۔ امی نے بوکھلا کر فوراً ہمارا منہ دبا دیا۔ پاپا، رکشے والے کو کرایہ دے کر فارغ ہوئے تو دیکھا امی نے ہمارا منا سا منہ بری طرح دبوچا ہوا تھا، تو وہ حیران اور پھر پریشان ہو گئے، بولے بیگم! بچی کا دم گھٹ جائے گا۔ چھوڑو۔ امی نے جھٹ ہاتھ ہٹایا تو پھر کتا ہو۔ کتا ہو، کا ورد شروع ہو گیا، پاپا کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔ اب پتہ نہیں امی نے ان کا منہ بند کیا یا خود انہوں نے۔ خیر بڑی مشکلوں سے ہمیں اللہ ہو کا ورد دوبارہ رٹایا گیا۔

ایک دن ہم رو رہے تھے، پاپا ہمیں چپ کرانے میں ناکام ہو گئے۔ بڑے چچا جان نے بھی بہلایا مگر ہم چپ ہو کر ہی نہیں دیے۔ اسی پر شور ہنگامے کے دوران پاپا کے دوست ابراہیم جلیس تشریف لے آئے (اوپر شیروانی، اندر پریشانی کے خالق۔ غالباً یہ کتاب پاپا پر ہی لکھی تھی)، انہوں نے پاپا کی گود سے ہمیں لے لیا اور اپنے زانو پر بٹھا کر ہمیں اپنا منہ بند کر کے اپنے کان ہلا کر دکھانے لگے۔ ہم اس کھیل میں اتنے مگن ہوئے کہ رونا بھول کر ان کے کانوں کا مٹکنا دیکھتے رہے۔

ابراہیم جلیس

کچھ دنوں کے بعد انشا انکل (ابن انشا) ہمارے گھر آئے (پاپا کا آفس گھر پر ہی ان کی بڑی سی لائبریری میں ہی تھا)۔ پاپا نے بچوں کو بلانے کے لیے مخصوص انداز میں بیل بجائی، وہ اس بات کا خاص خیال رکھتے تھے کہ ہم ان کے دوستوں سے ضرور ملیں۔ گھنٹی کی آوازسن کر ہماری ماما (ہاجرہ ماں ) نے جلدی جلدی ہماری فراک بدلی، ہمیں پاؤڈر میں تقریباً نہلا دیا۔ بال جھاڑے اور اوپر روانہ کر دیا۔ ہمارے مقابلے میں ننھی بیگم (ثروت)، گڑیا جیسی تھیں۔ گلابی گلابی سی رنگت۔ سرخ و سفید۔ اس کے بال ہمیشہ تمیز سے جھڑے ہوتے تھے۔ خوبصورت پھولی ہوئی فراکوں پر ایک داغ یا دھبہ نہیں ہوتا تھا، اس پر سے جگر جگر کرتی کالی چمکدار آنکھیں (اکثرجب کوئی بڑی شخصیت پاکستان کا دورہ کرتی تو ثروت انہیں بوکے پیش کرتے ہوئے جب شرما کر اپنے دانتوں تلے ہونٹ دبا کر مسکراتی تو اس کے گالوں پر پڑنے والے ڈمپلز پر وہ قربان سا ہونے لگتا تھا، وہ تو بے بی یعنی فرحت نے آ کر اس کے نمبر گھٹا دیے، خوبصورتی میں وہ ننھی سے بھی دس قدم آگے تھی)۔ اور اس کے مقابلے میں ہم؟

۔ پورے خاندان میں شاید ہی کوئی دوسرا بچہ ہو گا جو اتنا گندا سندا رہتا ہوگا۔ ایک تو رنگت آبنوسی مائل، اس پر سے۔ ہمیشہ دھول مٹی میں اٹا اجاڑ حلیہ۔ ہماری ماما (حاجرہ ماں ) کی ڈیوٹی لگائی گئی تھی کہ جہاں ہم مٹی، دھول گرد میں اٹیں وہیں ہمیں صفائی کا جونا لگا دے۔ ناخن نہ بڑھنے پائیں ورنہ یہ ہر وقت انہیں چباتی رہے گی، پیروں میں جوتے ہوں (حاجرہ ماں کا بس چلتا تو وہ کیلوں سے ہمارے جوتے ہمارے پیروں میں ٹھوک دیتی)۔ اور فراکیں سلامت رہیں کیونکہ فراک میں ایک سوراخ نظر آیا نہیں کہ اپنی انگلی گھسا کر ہم اسے پھاڑ دیتے تھے، جیسے محلے کے بچوں کا سر پھاڑتے آئے تھے کیونکہ کوئی بھی چیز اپنی سلامت حالت میں ہمیں کبھی نہیں بھاتی، ریشمی فراک پہن لی تو دانتوں سے چوہے کی طرح کتر دیتے تھے، اسی طرح زبان بھی کترنی سی چلتی تھی کسی بھی اسٹیشن پر رکے بغیر۔ سننے والے ک کان چٹخ جاتے تھے، دماغ سن ہو جاتا تھا بلکہ سانس پھول جاتا تھا مگر نہ تو کبھی ہمارا سانس پھولا۔ نہ ہی کان چٹخے۔

خیر، پاپا کی بیل کے ساتھ ہی تیار کر کے ہم سب اوپر روانہ کر دیے گئے۔ ننھی بیگم آگے آگے، پیچھے پیچھے ہم۔ ننھی کو دیکھتے ہی انشا انکل نہال سے ہو گئے اور بے اختیار اسے گود میں اٹھا لیا۔ یہ ہمارے لیے معمول کی بات تھی۔ ہم نے بالکل بھی برا نہیں منایا مگر پاپا نے بڑے غیر محسوس سے انداز میں ہمیں اپنی گود میں بٹھا لیا اور جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا آیا تھا۔ ننھی ایک گپ چپ، غنچہ جو اپنی پنکھڑیاں بڑی مشکل سے کھولتا ہے۔

شاید اسی لیے تھوڑی ہی دیر میں منظر بدل جاتا تھا۔ چھوٹے چھوٹے بے تکے جملے۔ بے اختیار، بلاوجہ کھلکھلانا۔ قہقہے لگانا۔ ۔ پتہ نہیں وہ کون سی ادا تھی جو سامنے والے کو بھا جاتی تھی کہ تھوڑی ہی دیر میں ننھی بیگم گود سے اتار دی جاتیں اور ہم ان کی جگہ بیٹھے چخر چخر اپنا چرخہ چلانے لگتے۔ اس دن بھی ننھی انشا انکل کی گود سے اتری اور ہم چڑھے۔ مگر جو غور سے ان کی صورت دیکھی تو پلٹ کر پاپا سے بڑی معصومیت سے کہا، پاپا! یہ تو ان سے بھی کالے ہیں جو اس دن آئے تھے۔ پاپا بے چارے مارے شرمندگی کہ بغلیں جھانکنے لگے۔ بے ساختہ قہقہے لگاتے ہوئے، آنکھوں میں ڈھیروں آنسو بھرے انشا انکل نے ہمیں سینے سے لگا کر یوں دبوچ لیا جیسے چڑیا کا گمشدہ بچہ، ماں کو بہت ڈھونڈنے کے بعد ملا ہو۔

ابن انشا

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *