فوکر جہاز میں دو قیدی اور موہنجوداڑو ائرپورٹ پر گلاب کے اداس پھول

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اکتالیس سال قبل کی ایک سہ پہر کراچی سے ملتان براستہ موہنجو داڑو جانے والی پرواز میں مسافر بیٹھ چکے تھے۔ مجھے بائیں کھڑکی کے ساتھ والی نشست ملی تھی۔ میری پچھلی چند نشستیں خالی تھیں۔ مقررہ وقت سے نصف گھنٹہ زائد گزرنے کے باوجود دروازے بند ہوئے نہ سیڑھی ہٹی تھی۔ میں پی آئی اے کا ”ہمسفر“ رسالہ دیکھنے لگ گیا۔ اچانک پچھلی طرف ہلچل شروع ہوئی کچھ مسافروں کی آمد لگی ساتھ ہی بہت غصہ بھری تیز۔ اونچی۔ شستہ انگریزی میں ایک خاتون کی بولنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔

میں اپنی نشست سے کھڑا ہو کر مڑ کے دیکھنے لگا۔ ۔ ۔ خدایا کیا دیکھ رہا ہوں۔ راہداری میں دو پولیس افسر ان کے پیچھے ایک خاتون پولیس والی۔ اس کے پیچھے بی بی بے نظیر اور ابھی دروازہ کے پاس ہی کھڑی غصہ سے سرخ محترمہ نصرت بھٹو کو پہچاننا میرے لئے مشکل نہ تھا۔ دستی سامان رکھنے کے بعد مسافروں کو میزبان لڑکی نشستوں پر بٹھا رہی تھی۔ ۔ ۔ ممتاز بھٹو بھی آئے اور میرے بالکل عقبی نشست پر براجمان ہوئے۔ ان کے ساتھ ایک پولیس افسر بیٹھے ان کے برابر والی دونوں دائیں جانب کی نشستوں پر کھڑکی ساتھ پورے کالی شلوار قمیض دوپٹہ والی نصرت بھٹو تشریف فرما ہوئیں اور اندر والی نشست پر سرخ و سفید پھولوں والی کالی قمیض اور کالی شلوار سفید دوپٹہ میں غم کی تصویر بے نظیر بیٹھ گئیں۔

باقی خالی نشستوں پر اس قافلہ کے باقی ارکان بیٹھ گئے۔ یا خدا تو نے مجھے کیا دکھا دیا۔ ۔ ۔ میں نے محترمہ کی گفتگو پر غور شروع کیا۔ یاد آیا صبح اخبار میں ان کی سندھ ہائیکورٹ پیشی کی خبر پڑھی تھی۔ وہ ان دنوں گھر پر قید تھیں۔ اور معاملہ یوں تھا کہ پیشی کے بعد جب وہ کمرۂ عدالت سے باہر نکلیں۔ تو اچانک ایک طرف سے دوڑتا سویلین لباس میں ایک جوان آیا اور ان کے ہاتھ سے ہینڈ بیگ چھین کر بھاگ گیا۔ ۔ ۔ وہ یہی واقعہ دوہراتے ہوئے جنرل ضیا کو بے نقط سناتے اس گھٹیا پن پر لال پیلی فرما رہی تھیں کہ ”وہ سمجھتا ہے میں کوئی اہم کاغذ ہینڈ بیگ میں رکھوں گی۔ میں اتنی پاگل ہوں کہ ہینڈ بیگ میں اس کے لئے کاغذ رکھوں۔ کیا میں نادان ہوں کہ چھیننے والے کو لٹیرا سمجھوں۔ اس کا ہیئر کٹ نہیں بتا رہا تھا کہ کوئی فوجی ہے“

جہاز اڑان بھرنے کو تھا۔ میزبان لڑکی سیٹ بیلٹ چیک کرنے کے بہانے آئی اور جھکتے ہوئے دونوں کو اس طرح سلام کیا۔ کہ کوئی پولیس والا دیکھ نہ سکے۔ ۔ ۔ میں روہانسا سا ہوتا جا رہا تھا اور بار بار کنگھیوں سے ادھر ہی دیکھ رہا تھا۔ میرے ساتھ والے مسافر کو کچھ سمجھ نہ آیا تھا۔ میں نے بتایا۔ تو وہ جیسے سہم گیا اور تمام راہ دائیں بائیں نظر نہ کی۔ ۔ ۔ میزبان چائے سرو کرنا شروع کر چکی تھی۔ ٹرے میں چائے کا کپ اور ساتھ شاید دو تین بسکٹ تھے۔

ہر مسافر کو یہی دیا گیا تھا۔ ۔ ۔ سب مسافر اس میں مصروف تھے۔ ۔ ۔ میں نے دیکھا بیگم صاحبہ نے نشست کے نیچے سے ایک کین کی خوبصورت چھوٹی سی ٹوکری نکال کر کھولی۔ ایک چھوٹی سی بہت پیاری بلی نکالی۔ ایک دوبار پیار سے ہاتھ پھیرا۔ ہر بسکٹ سے تھوڑا تھوڑا ٹکرا توڑا۔ اسے کھلایا۔ ۔ ۔ پھر پرچ میں پہلے اپنی پیالی سے اور پھر بے نظیر کی پیالی سے چائے کا ایک ایک گھونٹ نکال کے پلایا۔ ۔ ۔ چند منٹ انتظار کے بعد۔ بلی کو ٹوکری میں ڈال کر واپس نیچے رکھا اور تب تک لازما انتہائی ٹھنڈی چائے اور بسکٹ نوش فرمائے۔ ۔ ۔ میرا ضبط جواب دے رہا تھا۔ ۔ ۔ یا خدا یہ کیا ہے۔ ۔ ۔ پرانے بادشاہوں کی کہانیاں۔ کہ کھانا پہلے حبشی غلام کھاتا تھا۔ ۔ ۔ یا خدا۔ ۔ ۔ آج ان پہ وہی دن تھے جب سایہ جدا ہو جاتا ہے۔ ۔ ۔ شاید میں زیادہ حساس ہو رہا تھا۔ کہ ایسے ہی ایام چند سال قبل گزار آیا تھا۔ ۔ ۔

تلک الایام نداولھا بین الناس۔ اور فاعتبروا یا اولی الالباب۔ کا ورد اور اے خدا ان مع العسر یسرا کا نظارہ انہیں بھی نصیب فرما۔ ۔ ۔ دعا ہی دعا میرے لبوں پر تھی۔ ۔ ۔

جہاز موہنجو داڑو ائر پورٹ پر لینڈ کر چکا۔ یہ قافلہ اتر رہا تھا۔ ۔ ۔ غم کی تصویر ماں بیٹی آگے پیچھے پولیس اتر چکی تھیں۔ آخر میں ممتاز بھٹو نکلے۔ سارے رستے ان کا خواتین سے ایک لفظ کا تبادلہ نہ ہوا تھا۔ ۔ ۔ پائلٹ کی آواز آئی جو مسافر چند منٹ کے لئے باہر جانا چاہے جا سکتا ہے۔ مگر رن وے پر رہے۔ بلڈنگ میں نہیں جانا۔ ۔ ۔ تمام سہمے مسافروں میں سے شاید ایک یا دو میرے علاوہ اترے۔ میں نے دیکھا ایک بڑی بند جیپ دو تین اور مسلح پولیس والی گاڑیوں کی نگرانی میں رن وے سے نکل رہی تھی۔

سامنے دیکھا تو ممتاز بھٹو اکیلے ( اوہ تو یہ آزاد ہیں ) محراب دار ستونوں والے ائر پورٹ لاؤنج میں داخل ہو کر باہر کو جا رہے تھے۔ اچانک ایک ستون کے پیچھے سے ایک خاکی وردی میں ملبوس کوئی ائرپورٹ ملازم نکلا۔ ممتاز بھٹو سے جھک کے مصافحہ کیا اور فوراً اسی ستون کے پیچھے غائب ہوگیا۔ ۔ ۔ میری افسردگی اور بڑھ گئی۔

لاؤنج اور جہاز کے درمیان ایک وسیع قطعہ گلاب کے پھولوں سے بھرا پڑا تھا۔ بالشت بالشت جتنے بڑے بڑے گلاب۔ ہر رنگ کے۔ سیاہ گلاب میں پہلی مرتبہ دیکھ رہا تھا۔ ۔ ۔ کیاری کے دوسری جانب ایک بوڑھا شخص کانٹ چھانٹ کر رہا تھا۔ میری توجہ طلب نظریں بھانپ میری طرف آ گیا۔ ۔ ۔ میں نے پوچھا اتنے بڑے اور اتنی قسم کا گلاب خصوصاً کالا گلاب میں نے پہلی مرتبہ دیکھے ہیں۔ کہیں سے خاص منگوائے گئے لگتے ہیں۔

اس کی بھرائی آواز سے ایک فقرہ ادا ہوا۔ ۔ ۔ بھٹو سائیں نے خصوصاً اس ائر پورٹ کے لئے فرانس سے منگوائے تھے اور مجھے دیکھ بھال کی۔ ۔ ۔ وہ فقرہ مکمل نہ کر سکا اور چیخیں ضبط کرتا جا چکا تھا۔

چالیس سال سے زائد گزر گئے۔ ۔ ۔ زمانہ عجیب عجیب رنگ بدل چکا۔ ۔ ۔ عروج و زوال کی ہزاروں داستانیں بنی بگڑ گئیں۔ مگر پینتیس چالیس منٹ کے اس سفر کے نقوش اب بھی کبھی بستر پر لیٹے اپنا لمحہ لمحہ میرے سامنے لے آتے ہیں۔ ۔ ۔

ہاں ان چالیس سالوں میں آج تک شاید پیپلز پارٹی کے کسی جانباز، جاں نثار وفادار لیڈر یا بابے یا نو وارد کی تحریر یا بیان میری نظر سے نہیں گزرا جس میں پتہ چلے ہائی کورٹ پیشی سے نکلتے وقت نصرت بھٹو کے ساتھ کیا گزری تھی۔ مجھے شاید خدا تعالی نے یہ دکھانا تھا کہ جب برا زمانہ آتا ہے تو سایہ بھی جدا ہو جاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *