موت کی آہٹ اور نا اہل حکومت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب پیارے وطن میں کووڈ 19 سے متاثرین کی تعداد سینکڑوں میں تھی تو ملک عزیز میں لاک ڈاؤن بھی تھا اور سچے اور پکے مسلمان چھتوں پر چڑھ کر اذانیں بھی دیتے تھے، اب جبکہ متاثرین کی تعداد تقریباً 72000 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے اور روزانہ تقریباً سو لوگ مر رہے ہیں، ہسپتال کرونا کے مریضوں سے بھر گئے ہیں اور اب مزید مریضوں کو ٹھہرانے کی گنجائش بھی نہیں رہی تو نہ لاک ڈاؤن ہے اور نہ کوئی چھت پر چڑھ کر اذانیں دے رہا ہے۔

جب کوئی ملک یا قوم بحرانوں کا شکار ہوتی ہے تو اس امتحان میں لیڈر کی بصیرت کا پتا چلتا ہے۔ اور یہ بھی اس کو اپنے اعصاب پر کتنا قابو ہے، جب اس وبا کی ابتدا ہوئی تو اسی وقت پتا چل گیا تھا کہ اس حکومت میں اس آفت سے نبٹنے کے لیے نہ تو بصیرت ہے، نہ استطاعت اور نہ ہی عزم، پہلے حکومت اس گو مگو میں رہی کہ لاک ڈاؤن کرنا چاہیے یا نہیں، پھر ملک کے مقتدر حلقوں نے بھنویں اچکائیں تو حکومت نے بادل ناخواستہ لاک ڈاؤن کر دیا۔

اگر اس حکومت کو آنے والے حالات کی سنگینی کا اندازہ ہوتا اور اس وبا سے نبٹنے کے لئے پرعزم ہوتی تو قوم کو ساتھ لے کر چلتی، اپوزیشن کو ساتھ بٹھاتی، علماء کو آن بورڈ لیا جاتا، اپنے ایم این ایز اور ایم پی ایز کو متحرک کیا جاتا، ان کو کہا جاتا کے اپنے اپنے حلقے میں جائیں اور لوگوں کو متحرک کریں، گلی محلے کی سطح پر چھوٹی چھوٹی کمیٹیاں بنائی جاتیں، ان کے ذریعے غرباء اور سفید پوش طبقے کا خیال رکھا جاتا اور پھر پوری قوت اور عزم و استقامت کے ساتھ لاک ڈاؤن کیا جاتا، جنگی بنیادوں پر ٹیسٹنگ کی جاتی، رضا کاروں سے ہسپتال میں کرونا کے وارڈ بنائے جاتے، اسکولوں کالجوں کی عمارات میں کرونا کے مریضوں کے لیے قرنطینہ کے مراکز قائم کئیے جاتے تو کوئی وجہ نہیں تھی کہ اس وبا پر قابو نہ پایا جا سکتا۔ لیکن حکومت کی انا اتنی بلند ہے کہ اس بحران میں بھی اپوزیشن سے بات کرنا اپنی توہین خیال کیا گیا، مولویوں سے ڈھیلے ڈھالے انداز میں مذاکرات کئیے گئے۔ صاف پتا چل رہا تھا کہ حکومت اس وبا کو بالکل بھی سنجیدہ نہیں لے رہی۔

بادل ناخواستہ یا شاید دنیا کو دکھانے کے لئے کچے پکے انداز میں لاک ڈاؤن کیا گیا، جس کے پیچھے نیت اور ارادے کی کمی صاف نظر آ رہی تھی، ٹی وی پر آکر کہا گیا کہ لاک ڈاؤن نہیں ہوگا، غریب مر جائیں گے اور پھر کچھ دن بعد لاک ڈاؤن کر دیا گیا، پھر کہا گیا کہ فکر نہ کریں کوئی بڑا نقصان نہیں ہوگا، آپ نے گھبرانا نہیں، پھر کہا گیا کہ احتیاط کریں، اسی گو مگو کی کیفیت میں حکومت نے دو ماہ گزار دیے، معیشت کو بھی نقصان پہنچایا اور وبا پر بھی قابو نہ پایا جا سکا، یعنی بقول شاعر

نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم نہ ادھر کے ہوئے نہ ادھر کے ہوئے
رہے دل میں ہمارے یہ رنج و الم نہ ادھر کے ہوئے نہ ادھر کے ہوئے

مطلب معیشت بھی تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی اور وبا بھی بے قابو ہو گئی۔

حکومت کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق کرونا مریضوں کی تعداد 72460 ہے اور آج سیکرٹری محکمہ صحت نے وزیر اعلی کو جو سمری بھیجی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ صرف لاہور شہر میں اندازہً تعداد 6 لاکھ ستر ہزار کے قریب ہے، دوسرے شہروں میں نہ جانے کیا حالات ہوں گے کیونکہ ٹیسٹنگ آبادی کے تناسب سے نہ ہونے کے برابر ہے اگر ٹیسٹنگ بڑھائی جائے تو پتا چلے کہ کتنے خوفناک حالات کا سامنا ہے، میڈیا رپورٹ کے مطابق ہسپتالوں میں اب اور مریضوں کی گنجائش نہیں، اموات کی تعداد میں یک دم اضافہ ہوگیا ہے، عقل رکھنے والے دہشت زدہ ہیں کہ اگر خدانخواستہ پاکستان کا حال اٹلی جیسا ہوا تو کیا ہوگا کیونکہ ہمارے پاس نہ تو اٹلی جتنے وسائل ہیں اور نہ ہی اہلیت۔

خلیجی ممالک میں عید کی چھٹیوں کی دوران لاک ڈاؤن اور سخت کر دیا گیا تھا، عید کی نماز نہیں ہوئی، عید ملن پارٹیوں پر پابندی عائد کر دی گئی تھی، رات آٹھ بجے سے صبح چھ بجے تک باہر نکلنے پر پابندی تھی، کافی شاپس، ریسٹورنٹ بند تھے کیوں کہ حکومت کو اندازہ تھا کہ عید پر لوگ ہلا گلا کریں گے دعوتیں اڑائیں گے اس لیے ان اجتماعات کو روکنے کے لیے کرفیو میں سختی کر دی گئی لیکن اپنے وطن عزیز میں بالکل الٹ ہوا، شاپنگ سنٹر، دکانیں اور بازار کھول دیے گئے، جن میں خریداروں کا ہجوم دیکھ کر بندہ کانوں کو ہاتھ لگانے پر مجبور ہو جائے حقیقتاً بازاروں میں کھوے سے کھوا چھل رہا تھا، تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی، جمعۃ الوداع اور عید کے بڑے بڑے اجتماعات ہوئے، گھروں میں دعوتیں اڑائی گئیں، ریسٹورنٹس پر دوستوں یاروں کے ساتھ کھابے کھائے گئے، پارکوں میں بچوں کے ساتھ سیر و تفریح کی گئی، اس وقت اندازہ کیا جا سکتا تھا کہ ان سب حرکتوں کی برکات دس سے بارہ دن میں ظاہر ہو جائیں گی اور وہی ہوا، آج ٹھیک عید کے ایک ہفتے بعد ان اجتماعات کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ وبا پوری طرح پھیل کر بے قابو ہو گئی ہے اور لوگ دھڑا دھڑ مرنا شروع ہو گئے ہیں۔

ہماری قسمت میں شاید ان جیسے نابغے ہی لکھے ہیں، جن میں نہ بصیرت ہے اور نہ بصارت، جو نہ کسی کی سنتے ہیں اور نہ ہی حالات کی سنگینی کا کوئی ادراک رکھتے ہیں، بدعنوانی سے شاید اتنا نقصان ممکن نہیں جتنی تباہی نا اہلی اور نالائقی مچا سکتی ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ یہ نا اہل بھی ہیں اور بدعنوان بھی، یعنی یک نہ شد دو شد۔ اب تو بس خدا سے دعا ہے کہ اس ملک پر رحم فرمائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *