عمران خان: حکومت بھی ہیں اور حزب اختلاف بھی


وزیر اعظم عمران خان متعدد بار اپنی گفتگو میں یہ فرما چکے ہیں کہ 22 برس اپوزیشن کرتے کرتے انھیں یہ دھیان ہی نہیں رہتا کہ اب وہ خود حکومت کر رہے ہیں لہٰذا ان کو ان کی اہلیہ اکثر یہ یاد دھیانی کراتی ہیں کہ آپ اس ملک کے وزیر اعظم ہیں۔

عمران خان یہ بات کچھ غلط بھی نہیں کہتے۔ جب وہ اخباری نمائندوں کے ساتھ کوئی رسمی و غیر رسمی بات چیت کر رہے ہوتے ہیں یا قوم سے مخاطب ہوتے ہیں تو اکثر اوقات یہ بات سمجھ میں نہیں آ رہی ہوتی کہ وہ حزب اختلاف کے رویوں اور ان کی سیاسی چشمکوں کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہوتے ہیں یا وہ صوبوں اور مرکز پر حکومت کرنے والوں کو ہدف تنقید بنا رہے ہوتے ہیں۔ وہ حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے کسی بھی قسم کے مثبت اقدامات کو سراہ رہے ہوتے ہیں یا ان اقدامات کے راستے میں کانٹے بچھانے والوں کی نشاندہی کر رہے ہوتے ہیں۔

وہ بیک وقت قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کا کردار ادا کرتے ہوئے نظر آ رہے ہوتے ہیں اور ایسے مواقع پر اس بات کی شدت سے ضرورت محسوس ہو رہی ہوتی ہے کہ ان کے آس پاس خاتون اول ضرور موجود ہوں تاکہ جب جب بھی وہ چینل بدلتے محسوس ہوں، کھنکھار کر، چوڑیاں بجا کر یا تالیاں پیٹ کر ان کو اس بات کا احساس دلا سکیں کہ وہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیر اعظ، اور ”مرد اول“ ہیں۔

ان کی کل کی گفتگو، جس میں وہ قوم کو کورونا کے ساتھ ”بقیہ“ زندگی گزارنے کی باتیں کر رہے تھے اور سمجھا رہے تھے کہ اب کورونا کے ساتھ ہی جینا ہے اور کورونا کے ساتھ ہی مرجانا ہے، اسی قسم کو تاثر دے رہے تھے کہ وہ بیک وقت ملک کے قائد ایوان بھی ہیں اور قائد حزب اختلاف بھی۔ وہ اپنی پوری تقریر میں سخت کنفیوز نظر آئے کہ 26 فروری سے لے کر 31 مئی 2020 تک اٹھائے گئے اقدامات درست تھے یا غلط۔ اگر انھوں نے یہ کہا کہ جب صرف 26 کیس پاکستان میں ظاہر ہوئے تو ”ہم“ لاک ڈاؤن کی جانب چلے گئے جس کا مقصد یہ تھا کہ ملک میں کورونا کا پھیلاؤ بہت تیز رفتاری سے نہ پھیلے لیکن کیونکہ اس سے بے روزگاری کے بڑھ جانے کا خدشہ تھا اس لئے لاک ڈاؤن میں نرمی کا فیصلہ کرنا پڑا۔

ان کا یہ بھی فرمانا تھا کہ میں لاک ڈاؤن نہ کرنے میں بہت کلیر تھا کہ یہ کورونا سے بچے رہنے کا کوئی مستقل حل نہیں ہے اس لئے کہ اس میں سب سے زیادہ نقصان دیہاڑی دار طبقے کو ہو گا اور ان کے گھر فاقوں کی نوبت آ جائے گی۔ جس قسم کا لاک ڈاؤن ملک بھر میں لگایا گیا تھا، اس کا نہ تو میں قائل تھا اور نہ ہی اس میں میری مرضی شامل تھی۔

جب وہ اپنی گفتگو میں اس بات کا اظہار کر رہے تھے کہ کہ ملک میں ایک ڈیڑھ ہفتے قبل تک جو کچھ ہوتا رہا وہ ان کی سوچ کے بالکل بر عکس تھا تو اس بات کا گمان گزر رہا تھا کہ ان کے اندر یا شہباز شریف صاحب بول رہے ہیں یا خورشید شاہ صاحب کی روح حلول کر گئی ہے۔

پاکستان کے چار صوبوں میں سے ایک صوبہ سندھ ضرور ایسا ہے جو انتظامی لحاظ سے ان کے کنٹرول میں نہیں لیکن پاکستان کے دو صوبوں، پنجاب اور کے پی کے میں ان ہی کی پارٹی کی حکومت ہے جبکہ بلوچستان میں اتحادیوں کے ساتھ حکومت قائم کی گئی ہے۔ اگر تھوڑی دیر کے لئے یہ بات مان بھی لی جائے کہ لاک ڈاؤن میں ان کی مرضی شامل نہیں تھی تو قصوروار پھر بھی ان ہی کی صوبائی حکومتیں تھیں جو ان کی مرضی کے خلاف پورے پاکستان کو بند کر کے بیٹھی رہیں۔

یہاں یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ پاکستان ہی کیا، دنیا کے ہر آئین و قانون میں ”ایمرجنسی“ بھی ایک مستند قانون ہوا کرتی ہے۔ ہنگامی صورت حال میں سارے آئین و قانون معطل ہوجایا کرتے ہیں۔ کورونا بھی پوری دنیا میں ایمرجنسی سے کم نہیں۔ اگر صوبے بے لگام ہوجائیں اور مرکز کی مرضی کے خلاف کمر بستہ ہوجائیں تو کیا ”ایمر جنسی“ بھی بے بس ہو جایا کرتی ہے؟

کل کی ساری گفتگو کے بعد بھی آخر میں صوبوں کی خود مختاری کا ذکر کیا گیا اور کہا گیا کہ اٹھارہویں ترمیں کے بعد یہ صوبوں کا اختیار ہے کہ وہ حالات کے مطابق فیصلہ کریں، یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی کی تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملانے کے بعد ”لیکن“ کہہ دیا جائے۔

اس میں کوئی شک نہیں کاروبار کو کسی حد تک کھلے رہنا چاہیے لیکن اس میں کسی قسم کی تخصیص بیشمار تلخیوں کو جنم دے سکتی ہے لہٰذا یا تو سب کو یکساں مواقع دیے جانے چاہئیں یا پھر جن جن کو مواقع نہیں دیے جائیں ان سب کی مالی مدد کی جائے۔ اگر مل مالکان اور بڑے بڑے کارخانے داروں کو ”سبسڈی“ کے نام پر کھربوں روپے دیے جا سکتے ہیں تو جن جن کے کاروبار کھولنے پر پابندیاں عائد کی جارہی ہیں، ان کی امداد کیوں نہیں کی جا سکتی؟ امید ہے پابندیوں کے اس پہلو پر بھی سنجیدگی کے ساتھ ضرور غور کیا جائے گا۔

Facebook Comments HS