کچھ زخم ہوتے ہیں خاص!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہا جاتا ہے وقت سب سے بڑا مرہم ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سب زخم بھر جاتے ہیں لیکن آج تک ایسا ہوتے دیکھا نہیں گیا۔ پرانے زخم بھی تازہ ہی رہتے ہیں۔ جو باغ بہار میں اجڑ جائیں اس گلشن میں دوبارہ کبھی پھول کھلتے ہوئے نہیں دیکھے گئے۔ اگر کوئی کسی دائمی مرض کا شکار ہو جائے تو گزرے وقت کے ساتھ زندگی جینا تو سیکھ جاتا ہے لیکن اپنی محرومی کو بھلا نہیں سکتا۔ کیا دنیا میں سرطان کا ایسا کوئی مریض ہے جو اس موذی مرض کو شکست دے کر دوبارہ بہترین حالات میں جینے کے ساتھ ساتھ سرطان کے ناسور جیسے زخم کو بھول چکا ہو؟

اس کا جواب یقیناً نفی میں ہے کہ وہ بار بار اپنی اس جنگ کا ذکر ضرور کرتا ہے جو اس نے دوران بیماری لڑی ہوگی۔ موت نے جب اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے دیکھا ہوگا تو وہ خوف ناک لرزتے لمحے آج بھی اس کی یادوں میں محفوظ ہوں گے۔ ہاں! البتہ زندگی کو خدا کی عطا کردہ نعمت جان کر شکر ضرور ادا کرتا ہوگا کہ اللہ کو شکرانہ پسند ہے۔ غموں کے دبیز بادل جب کسی دل کے آسمان پر چھاجائیں تو نہ تو وہ چھٹتے ہیں اور نہ ہی کھل کر برستے ہیں۔

بس اندر ہی اندر ایسی گھٹن پیدا کرتے ہیں کہ سانس لینا بھی محال ہو جائے۔ ایسے میں کون کہہ سکتا ہے کہ وقت زخموں کو مندمل کر دیتا ہے۔ اس دفعہ تو رمضان المبارک بھی کرونائی ماحول میں بسر ہوا۔ اداسی کی اک ایسی چادر دنیا پر تن گئی ہے جس میں کوئی آہ، کوئی فغاں، کوئی پکار، کوئی دعا چھید ہی نہیں کر پارہی۔ عید الفطر کے انتظار میں پھیکے پھیکے خوف کی تہہ میں لپٹے ہوئے مغموم سے دن گزررہے تھے کہ مزید ایک ناگہانی حادثہ ہوگیا۔

اداسی کی اس چادر میں سوگواری کا دھواں بھی شامل ہوگیا۔ وہ چادر جو پہلے ہی مٹیالی سی تھی اب سیاہی مائل ہوگئی۔ اس روز کی ہوائیں بھی ساکت ہوگئیں۔ پھڑپھڑاتے ہوئے پرندے آسمان پہ ہی مجسموں میں تبدیل ہوگئے۔ ہماری پرانے وقتوں کی عظیم ایئر لائن پی۔ آئی۔ اے کا طیارہ لینڈنگ سے پہلے ہواؤں میں ہی بھسم کر دینے والی آگ کا شکار ہوچکا تھا۔ زہریلا سچ تو یہ ہے کہ فضائی حادثوں میں بچنے کے امکانات ہوتے ہی نہیں اوراگر آگ لگ جائے تو سمجھیں کہانی بھسم۔

طیارے میں آگ لگ جائے تو اسے قابو میں کرنے کے لیے صرف چند لمحات ہوتے ہیں اس کے بعد تباہی مقدر ٹھہرتی ہے کیوں کہ جہاز میں بہت زیادہ ایندھن ہوتا ہے۔ PK 8303 میں 100 ہنستی کھیلتی زندگیاں اپنے پیاروں سے بس ملنے ہی والی تھیں کہ اوپر والے نے نیچے والوں کی غفلت اور نا اہلی کے سبب انھیں عید منانے کو اوپر ہی بلا لیا۔ ان دنوں یوں بھی کرونا کی وجہ سے ہر محکمہ SOPs پر عمل کرتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔ اس بد قسمت طیارے کے بھی ٹیک آف سے پہلے کی ایک ویڈیو نظر سے گزری جس میں فضائی عملہ کٹس پہنے ہوئے فرنٹ لائن مجاہدوں کی طرح کھڑا مسافروں کا استقبال کر رہا تھا۔

اس طیارے میں سوار سب مسافروں کی آنکھوں میں اپنوں سے ملنے کے خواب سجے تھے۔ کتنے گھرانوں کے چراغ بجھ گئے۔ میرے وطن پہ اور کتنے ظلم کے پہاڑ ٹوٹیں گے۔ 1962ء میں سپر پاور کی سابق خاتون اول جیکولین کینیڈی نے لندن تک PIA میں سفر کیا۔ وہ جہاز کے عملے کی پیشہ وارانہ خدمات، کھانا اور اڑان سے اتنی متاثر ہوئی کہ جب پوچھا گیا سفر کیسا رہا تو بے اختیار پائلٹ کو گلے لگا کر کہا ”گریٹ پیپل ٹو فلائی ود“ اس کے بعد سے یہ پی۔آئی۔اے کا سلوگن بن گیا۔ ہمارے پاکستانی کپتانوں کی ٹیک آف اور لینڈنگ کی گونج دنیا بھر میں ہے۔ پھر پتہ نہیں کیا ہوا اس ایئر لائن کو یہ اوپر تلے حادثوں کا شکار ہونے لگی، معیار بھی گرنے لگا اس کا۔ نجانے وہ ”باکمال لوگ لاجواب پرواز“ والے لوگ کہاں چلے گئے۔ انھوں نے اپنی خوبیاں وراثت میں کیوں نہ چھوڑیں۔ ابھی تو ہم اپنے جنید جمشید کے طیارے کے حادثے کی تحقیقات کے انتظار میں تھے۔ ابھی تو مارگلہ کی پہاڑیوں میں گرنے والے طیارے جس میں 152 مسافروں کی ناگہانی اموات کا غم نہیں بھولے تھے کہ اک اور حادثہ پیش آ گیا۔

تف ہے اس اداروں کو نوچنے والوں پہ نجانے ان کی لالچ کب ختم ہوگی۔ حضرت علی کرم اللہ وجہ کا قول ہے کہ لالچی کی لالچ کو قبر کی مٹی ہی بھر سکتی ہے۔ میرے وطن کے لوگوں کی چھوٹی چھوٹی خواہشیں ہیں کہ وہ اپنی زندگی نارمل طریقوں سے گزاریں لیکن کبھی ریلوے کی ٹرینیں حادثات کا شکار ہوجاتی ہیں کبھی طیارے گر جاتے ہیں۔ تحقیقات پہ بس صرف ڈائیلاگ بازی ہوتی رہتی ہے لیکن فائلیں داب لی جاتی ہیں۔ PK 8303 پہ سوار ہونے والے سب مسافروں نے اس ادارے کے پورے عملے پہ اعتماد کیا جس میں تکنیک سے لے کرماہرین تک سب شامل ہیں۔

ادارے نے ان کے اعتماد کو تار تار کیا۔ کراچی کی معروف شاعرہ اور افسانہ نگار ہمابیگ کا اکلوتا بیٹا بھی اس تباہ کن حادثے کی نذر ہوگیا۔ درخت لگا کر لوگوں کو زندگیاں عطا کرنا ہما بیگ کا شوق ہے۔ ماں کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودا جب درخت بننے لگا تو حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کا شکار ہوکر کٹ گیا۔ میں ان کا چند دن پہلے کا پیغام امانت کی طرح اپنی قارئین کی نذر کرتی ہوں : ”میرانام ہما بیگ ہے۔ میرا اکلوتا بیٹا PIA کے حادثے میں چلا گیا۔ ہمارے حکمرانوں کی غفلت کی وجہ سے، جہاز چین کا تھا، بلیک باکس وہ لے گئے۔ جہاز میں ٹیک آف سے پہلے ہی خرابی تھی مگر ان لالچی لوگوں نے اسے اڑایا اور لینڈ نہیں کرنے دیا۔ اگر وہ رن وے پہ حادثے کا شکار ہوتا تو اتنی اموات نہ ہوتیں۔ اب میرے بیٹے کی لاش نہیں دے رہے۔“ اب میرا حالیہ ان سے رابطہ نہیں ہوا وہ فون نہیں اٹھا رہیں۔ ساری قوم مدتوں سے نالائقوں کے رحم و کرم پر جی رہی ہے۔ ہوائی اڈوں کے قرب و جوار میں خالی جگہیں دیکھ کر زمینوں کے کاروبار کرنے والے اپنی رالیں ٹپکاتے ہوئے رہائشی کالونیاں بنانے آ جاتے ہیں۔

چلو یہ بھی اچھا ہوا ان تباہ شدہ مکانوں میں مرنے والوں کو بھی شہادت کا درجہ مل گیا۔ ایک بار پھر سے لواحقین اور عوام کو شفا ف رپورٹیں سامنے لانے کی امیدیں دلائی جارہی ہیں۔ اللہ ایسی شہادت سے بچائے اور قوم پہ حکومت کرنے والے حکمرانوں کو ایمان داری اور نیک نیتی سے حکومتیں چلانے کی توفیق عطا کرے۔ آمین! میری قوم تو پہلے ہی زخموں سے چور ہے۔ ہم سب کا ان بھسم ہونے والوں سے صرف انسانیت اور وطنیت کا رشتہ تھا۔

ارباب اختیار سوچیں کہ طیارے کی ناگہانی موت میں مرجانے والوں کے لواحقین کو چین کیسے پڑے گا؟ کس طرح وہ بھول پائیں گے اپنوں کو؟ جھوٹ ہے وقت زخموں کو مندمل کرتا ہے کیوں کہ کچھ زخم ہوتے ہیں خاص۔ اب یہ حکومت وقت کی کڑی ذمہ داری اور امتحان ہے نہ صرف اس طیارے بلکہ پچھلے طیاروں کے حادثات کی شفاف تحقیقات تیز تر بنیادوں پر مکمل کروائی جائیں کہ مستقبل محفوظ رہ سکے۔ کیا اس دفعہ بھی یہ فائلیں دبا لی جائیں گی یا عوام پر حقیقت عیاں ہوگی۔ عوام منتظر ہے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *