ہیرا منڈی : ایک بلبل ہزار داستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج اس کی کالی سیاہ چمکتی جلد والی بھینس نے دودھ میلہ جیت لیا تھا۔ صبح اس نے تیرہ سیر دودھ دیا ا ور شام کو اس کے تھنوں سے رستا ہوا دودھ دیکھ کر بہت سے گوالے اپنی بھینسوں کو مقابلے میں لائے ہی نہیں تھے۔ بالٹی میں اب دس سیر سے زائد دودھ تھا۔ ایک سیر فی گھنٹہ سفید سونا اگلتی لاڈو نے میدان مار لیا تھا۔ منشی لدھا رام کے باغ میں ہونے والا یہ سالانہ میلا کالے گجر کی بھینس نے دو سال بعد جیتا تھا۔ اس سے پہلے کئی سال سے وہ ہی یہ میلا جیتا کرتا تھا۔ پھر اس کی بھینس کو کسی نے زہر دے دیا۔ اب اس کی ہی یہ کٹری جوان ہوئی تھی۔ یہ لاڈو کا پہلا سووا (حمل/ پیدائش) تھا۔

کالا گجر راوی کے بیلے کا بے تاج بادشاہ تھا۔ سینکڑوں بھینسوں کا مالک۔ آج وہ بہت خوش تھا۔ اس کی یہ خوشی لاڈو میراثن کو ملے بغیر ادھوری تھی۔ وہی لاڈو جس کی رس بھری شاداب گولائیوں دیکھ کر ہی اس نے اپنی بھینس کا نام لاڈو رکھا تھا۔ دربار پر سالانہ عرس چل رہا تھا۔ آج اس کا خاص مجرا تھا۔ اسے پتا تھا کہ نتھی بائی نے دور دراز کے بڑے بڑے رئیسوں کو دعوت دی ہوگی۔ زمیندار اور جاگیر دار بھی ہوں گے۔ وہ جانتا تھا کہ یہ مقابلہ بھی وہ ہی جیتے گا۔

”اوئے! پھیکے، او! جیرے، داتا کی سبیل کے لئے دودھ بھیج دیا تھا؟“
ہاں، چوہدری! سارا ہی بھیج دیا۔ ”

”نکالو میرا رتھ اور آج بگی گھوڑی کو اس کے آگے جوت دو۔“ اس نے للکار کر اپنے خاص نوکروں کو حکم دیا۔ ”ہم عرس پر جا رہے ہیں۔“

”چوہدری جی! وہ ایسی سرکش اور اڑیل ہے کہ کل جیرے نے اس پر سوار ہونے کی کوشش کی تو الف ہو گئی اور اسے زمین پر پٹخ دیا۔“ پھیکا ہنستے ہوئے بولا۔ ”اوئے حرامی! تو نے یہ حماقت کیوں کی؟“ اس نے اپنے ہاتھ میں پکڑا ہوا چابک زور زور سے جیرے کی کمر پر رسید کرنا شروع کر دیا۔ ”خبر دار اگر کسی نے اس پر سواری کی کوشش کی، میں اس کی جان نکال دوں گا۔ جاؤ اور اسے ادھر لے کر آؤ۔ میں خود اسے ریڑھے کے آگے جوتوں گا اور پھر دیکھنا وہ کیسے ہوا سے باتیں کرے گی۔“ رات کو کالا گجر دو گھوڑا مارکہ بوسکی کا کرتہ اور سفید لٹھے کی ڈوری دار شلوار پہنے، سنہری رتھ پر سوار، بائیں ہاتھ میں لگام اور دائیں ہاتھ سے رنگ برنگے ٹسل اور موتی جڑا سانٹا گھماتے ہوئے ٹکسالی دروازے سے بازار کے اندر داخل ہو رہا تھا۔

لاڈو میراثن کنول کا پھول تھی، مثل نکہت مستانہ۔ بیلے کی شاخوں میں ایک تازہ شگوفے کی طرح لہلہاتی۔ اس کا کالا بھجنگ باپ ایک بڑے موسیقار کے ساتھ طبلہ نواز تھا اور بھائی بھی سازندوں میں ہی شامل تھا۔ ماں بھی کالی سی تھی لیکن نین نقش تیکھے اور لمبا قد۔ وہ خاندانی مراثی تھے اور نسل در نسل اسی بازار میں رہ رہے تھے۔ بازار شیخوپوریاں میں آگے جا کر پاکستان ٹاکیز سینما تھا۔ وسیع حدود میں پھیلا ہوا یہ سینما پاکستان بننے سے پہلے انڈین ٹاکیز کہلواتا تھا اور ایک سکھ کی ملکیت تھا۔

اس کے اندر ایک کٹڑی تھی جس میں بہت سے خاندان چھوٹے چھوٹے کمروں میں رہتے تھے۔ بازار حسن کا اثر تھا یا کہ کسی شوقین کی نظر کا جادو کہ وہ بد صورتی کے کیچڑ میں کنول کے پھول کی طرح کھلی تھی۔ ماں نے اس کا نام لاڈو رکھا تھا۔ لاڈو میراثن اسی کٹڑی میں موجود گوندنی کے بڑے سے درخت کے نیچے کھیل کر جوان ہوئی۔ ان کے ساتھ ہی نذیر نڑی لانڈری والے کا کمرہ تھا۔ نذیر اس سے عمر میں پندرہ بیس سال بڑا ہو گا لیکن اس پر دل و جان سے فدا تھا۔ بازار میں نذیر نڑی کی لانڈری کے سامنے ہی نتھی بائی کا کوٹھا تھا۔

عرس کی وجہ سے بازار میں ایسی گچ پچ تھی کہ کھوے سے کھوا چھل رہا تھا۔ اس نے لانڈری کے ساتھ ہی اپنا یکہ کھڑا کیا۔ اس کو دیکھتے ہی پھول والا لونڈا بھاگ کر آ گیا۔ ”او جیرے! اس سے موتیے کی مالا اور گجرے لے لو۔ گیندے کے ہار بھی پکڑ لینا۔“ خوشبو والا بھی دوڑتا ہوا پہنچ گیا۔ دونوں ہتھیلیوں پر عطر کی شیشی الٹا کر اس کے کرتے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بلائیں لینے لگا۔ کالے نے نوٹ نکال کر پکڑا یا تو خوشبو دار روئی کی کلی بنا کراس کے صدفہ گوش میں اڑس دی۔ وہ سیڑھیاں چڑھتا ہوا کوٹھے کی طرف چل پڑا۔

لاڈو مجرے پہ بیٹھ چکی تھی۔ غضب کا روپ تھا۔ موسیقی کی تانیں گونج رہی تھیں۔ لاڈو نے فرشی سلام کیا۔ گانا شروع ہوا اور ساتھ ہی ہلکا ہلکا ٹھمکا بھی۔ جوں جوں گانے میں تیزی آ رہی تھی لاڈو کے رقص کی رفتار بھی بڑھتی جا رہی تھی۔ منہ سے پھول جھڑ رہے تھے اور گانے کے بولوں سے آتی سوگند چاروں اور پھیلی ہوئی تھی۔ ناچ کے دوران اس کا بدن پانی کی طرح غیر محسوس طریقے سے پھسل رہا تھا۔ اس نے بازار میں موجود بڑے بڑے موسیقاروں سے تربیت حاصل کی تھی۔

ہر سر تال کو سیکھا تھا۔ پاؤں ان سروں کے مطابق اچھلتے تھے۔ جسم کی بوٹی بوٹی ماہر نٹنی کی طرح تھرک رہی تھی۔ وہ نرتیہ کاری تھی اور کالے کا روپیہ پیسہ اس کے پاؤں کی ہر ہر جنبش پر قربان ہورہا تھا۔ وہ بھی ہزار جان سے فدا تھی۔ مجرا ختم ہوا تو کالے گجر نے اپنے تمام ہار اور گجرے اس کو پہنا دیے۔ وہ اس کی گود میں گر پڑی۔ یہ دیکھ کر باقی تمام تماشبین اٹھ کر چل پڑے۔ (ہیرا منڈی کے رواج کے مطابق کسی طوائف کے گلے میں بہت سے ہار اور گجرے پہنانا اس بات کی نشانی ہوتا تھا کہ اب وہ مستقل تعلقات بنانا چاہتا ہے۔ )

وہ نیچے اترا تو اس کی چال میں مستی واضح نظر آ رہی تھی۔ رات بھیگ چکی تھی۔ ”او جیرے! جا نڑی سے ایک ولائتی بوتل پکڑ کر لا۔“ جیرا بھاگ کر لانڈری کے اندر گیا اور خالی ہاتھ ہی واپس آ گیا۔ ”چوہدری صاحب، وہ کہہ رہا ہے کہ آج ختم ہو چکی ہے۔“

”وہ مادر چ! ذات دی کوڑھ کرلی چھتیراں نوں جپھے۔ لاڈو کا عاشق بنا پھرتا ہے۔ سڑ گیا ہے۔“ کالا غصے سے چلاتا ہوا اپنے یکے پر سوار ہو گیا۔ ( کوڑھ کرلی۔ چھپکلی، چھتیر۔ شہتیر، جپھے۔ معانقہ)

اس کے بعد اس کا آنا جانا جاری رہا۔ لاڈو ڈانس کی شوقین تھی۔ اسے پہلی بار ایک فلم میں ہیروئن کے ساتھ ڈانس کا بلاوا آیا تو وہ پاگل ہو گئی۔ ایک گانے کے لئے اس نے اتنی محنت کی جتنی کوئی رقاصہ عمر بھر نہیں کرتی۔ ہیرا منڈی کی راتیں جاگتی اور دن سوتے ہیں۔ وہ ان دنوں صبح سویرے اٹھ جاتی اور گھنٹہ بھر ریاضت کرتی۔ اتنی دیر مسلسل ڈانس سے ہڈیاں پسلیاں چٹخ جاتی ہیں لیکن اس کے منہ پر کبھی تھکاوٹ کے آثار نظر نہ آئے۔ ہدایتکار اس کے کام سے بہت خوش ہوا۔ اور اگلی فلم میں کام دینے کا وعدہ کر لیا۔ اب اس کو اپنا مستقبل لاہور کی سلور سکرین پر چمکتا ہوا نظر آ رہا تھا۔

کالا گجر اکثر رات کو مجرا دیکھنے آتا۔ نتھی بائی کی فرمائشیں بڑھتی جا رہی تھیں۔ ایک رات کالے نے لاڈو کو اپنے ساتھ لے جانے کا کہا۔ نتھی بولی ”یہ ناممکن ہے۔“
”اس بازار میں کچھ ناممکن نہیں ہوتا۔ قیمت بول۔“

”اوئے، خبیث روحاں دے ٹھیکیدارا!“ اس نے پیچھے کھڑے دلال کی مٹھی میں نوٹ پکڑاتے ہوئے حکم دیا۔ ”نیچے جا، پھیکے کو کہہ۔ رتھ میں پڑا تھال اٹھا کر اوپر لے آئے۔“
تھال میں موجود گہنے، زیورات اور قیمتی کپڑوں کے اوپر سے پوشاک ہٹاتے ہوئے کہنے لگا ”بول اور کتنا مال چاہیے؟“

چوہدری میری لاڈو ہیرا ہے ہیرا۔ تمہاری دعا سے وہ فلمی ہیروئن بن گئی تو اتنا مال ہمارے چنگڑ چماروں کے پاؤں کی دھول ہو گا۔ مال کا مجھے لالچ نہیں۔ طوائف کے سینے میں بھی دل ہوتا ہے جو وہ تجھے دے چکی ہے۔ میں اس کی محبت کے راستے میں دیوار نہیں بننا چاہتی۔ جا! اسے کچھ دن کے لئے لے جا۔ ”کالا گجر خوش ہو گیا“ اور کچھ مانگ لے، آج تو نے میرا دل جیت لیا ہے۔ ”

”چوہدری! میں نے سنا ہے کہ ایک لاڈو تیرے پاس بھی ہے۔ وہ میری موہنی روڈ والی حویلی میں بھیج دینا۔ سنا ہے کہ وہ اس کا دودھ بہت لذیذ ہے۔“

”یہ تو نے کیا مانگ لیا نتھی بائی؟ اس میں تو میری جان ہے۔
کھلے پانی اور تازہ ہواؤں کی عادی شہر کے حبس زدہ ماحول میں زندہ بھی نہیں رہ پائے گی۔ ”

”میری لاڈو رانی بھی عطر و صندل کی خوشبو سے معطر ماحول سے نکل کر سوکھے راوی کی گوبر زدہ پر تعفن ریت میں کیسے رہے گی؟ میں بھی تو دل پر پتھر رکھ کر اسے تیرے ساتھ بھیج رہی ہوں۔“

جب نذیر نڑی کو پتا چلا تو وہ نتھی بائی کے پاس آیا ”میں نے سنا ہے لاڈو، تم کالے گجر کے ساتھ جا رہی ہو۔“ پھر بائی کو مخاطب ہو کر بولا ”نتھی بائی تم جانتی ہو کہ راوی کی بھوکی چیلیں تو مردے کے ساتھ زندہ جانوروں کو بھی نوچ ڈالتی ہیں اور وہاں کے لوگ بھی چیلوں جیسی خصلت کے مالک ہیں۔“

کسی نے اس کی بات پر دھیان نہ دیا اور اگلے دن لاڈو میراثن کالے کے ساتھ چلی گئی۔

ہیرا منڈی، جہاں عشق ایک کاروبار ہے، وہاں لاڈو اور کالے کے چرچے عام تھے۔ ایک بلبل ہزار داستان کی اس نگری میں یہ نئی کہانی لکھی جا رہی تھی۔ لاڈو بھی کالے کو دل و جاں سے چاہتی تھی۔ وہ بھینس کی دھاریں لینے والا، کچے دودھ کی مٹھاس سے بھرا، شیں جواں مرد تھا اور لاڈو گوندنی کے نیچے پلنے والی، جس کے انگ انگ میں اسی کے پھل کی میٹھی کڑواہٹ بسی ہوئی تھی۔ وہ اس کو تپتی ریت پر بھگاتی۔ شباب کی تپش گجر کو بھون کر رکھ دیتی۔ ایسی منہ زور سانڈنی سے اس کا پہلی بار واسطہ پڑا تھا۔ اڑیل گھوڑیوں کو لگام ڈالنے والا شاہ سوار، اس میدان میں پٹ گیا۔

ہدایتکار کا پیغام آیا۔ وہ ایک فلم میں لاڈو کو سائیڈ ہیروئن کا رول دینا چاہتا تھا۔ کالا اب اس کی زلف گرہ گیر کا مکمل طور پر اسیر ہو چکا تھا۔ وہ کسی طور اسے واپس بھیجنا نہیں چاہتا تھا لیکن انسان جانور نہیں جسے باندھا جا سکے۔ وہ تو بازار کے آزاد ماحول کی پر وردہ تھی۔ فلموں میں کام کرنا اس کا شوق تھا۔ اسے اپنا مستقبل روشن نظر آ رہا تھا۔ وہ کسی کی رکھیل بن کر نہیں رہ سکتی تھی۔ اختلاف شروع ہو گیا۔

جب گجر کو احساس ہوا کہ اب بات اس کے ہاتھ سے نکل چکی ہے تو ایک دن اس نے اپنے خاص نوکروں کو بلایا۔
”جیرے، پھیکے! لاڈو کی واپسی کا انتظام کرو۔

جیرے تم موہنی روڈ والی حویلی میں جاؤ۔ ماں کی طرح بیٹی بھی بد قسمت ہے۔ دونوں ہمارے پاس نہیں رہیں۔ وہ ہم نے جوئے میں ہار دی تھی، یہ عشق میں۔ اس کو بھی تم نے ہی آخری چارہ کھلایا تھا۔ یہ لاڈو ہو یا وہ، جو ہماری نہ ہو سکی وہ کسی اور کی بھی نہیں بن سکے گی۔

ادھر سے دو موریہ پل چلے جانا اور وہاں سے تیزاب لیتے آنا۔ ”
اگلے دن صبح نذیر نڑی کی لانڈری کے سامنے سنہرا رتھ آ کر رکا۔ اس پر سوار جیرے اور پھیکے نے تڑپتی ہوئی لاڈو میراثن کو زمین پر پھینک کر واپسی کی راہ لی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *