استاد ناشناس کی افغانستان کے بارے میں ایک پیش گوئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ تب کی بات ہے جب افغانستان کے مایہ ناز گلوکار ناشناس افغانستان چھوڑ کر پاکستان کے راستے بیرون ملک روانگی کا ارادہ باندھ چکے تھے۔ پاکستان ٹیلی وژن کو جب ان کی، پاکستان میں موجودگی کا پتا چلا تو فوری طور پر ان کے ساتھ ایک ریکارڈنگ شیڈول کی گئی کہ جانے یہ موقع دوبارہ کب ملے۔ اس اہم کام کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے، اس کی انجام دہی کے لئے شعیب منصور کا انتخاب کیا گیا۔

ناشناس صاحب کا شمار ان گلوکاروں میں ہوتا ہے جن کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ موسیقی سے لگاؤ رکھنے والا ایسا شاید ہی کوئی ہو گا جو ان کو دیکھنے، ملنے اور سننے کا متمنی نہ ہو، سو یہی پذیرائی انھیں پاکستان اور پاکستان ٹیلی وژن میں بھی ملی اور پی ٹی وی اسٹوڈیوز کو یہ اعزاز حاصل ہوا کہ وہاں ناشناس، بذات خود اپنی دل موہ لینے والی آواز کا جادو جگائیں۔ اس خصوصی ریکارڈنگ کے لئے، ناشناس کی شخصیت کی مناسبت سے افغانستان کی ثقافت سے ہم آہنگ سیٹ تعمیر کیا گیا۔ وہ خود بھی افغانستان کے مخصوص روایتی کرتے میں ملبوس ہوئے۔

ٹیلی وژن کی ریکاڈنگز کی اپنی انوکھی ڈیمانڈ اور ضروریات ہوتی ہیں جن سے بسا اوقات دل چسپ صورت احوال دیکھنے کو ملتی ہے۔ کچھ ایسا ہی یہاں بھی ہوا۔

جونہی ریکارڈنگ کا آغاز ہوا، ایک کیمرا مین نے اپنے ہیڈ فون پہ شعیب منصور صاحب سے سر گوشی کی ”ان کے چشمے سے گلیئر (چمک) سی آ رہی ہے، پلیز، ان کا چشمہ اتروا دیں ورنہ لائٹنگ ایڈجسٹ کرنے میں بہت وقت لگے گا“ ۔ شعیب منصور، کیمرا مین کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے، کنٹرول پینل کے ٹاک بیک سے، ناشناس صاحب سے مخاطب ہوئے ”ناشناس صاحب کیا آپ چشمے کے بغیر گا سکتے ہیں“ ناشناس صاحب نے جواب دیا ”جی، گا سکتا ہوں“ یہ کہہ کر وہ چشمہ اتارنے لگے اور ساتھ ساتھ بڑبڑاتے جاتے ”دنیا بھر کے ٹیلی وژن میں ریکارڈنگز کی ہیں، ایسی خواہش کہیں نہ کی گئی“ شعیب منصور نے بات کو سنبھالنے اور ناشناس صاحب کی ناراضی کو رفع کرنے کے لئے وضاحت پیش کی ”قبلہ اسی لیے میں نے آپ سے پہلے پوچھ لیا تھا کہ آپ چشمے کے بغیر گا سکتے ہیں“ ناشناس صاحب نے (بغیر کسی جھنجھلاہٹ کے ) بر ملا جواب دیا ”حضور گا تو سکتا ہوں، پڑھ نہیں سکتا۔ آپ مجھ سے علامہ اقبال کا کلام ریکارڈ کروا رہے ہیں جو میں سامنے پڑھ کر ہی گا سکوں گا“ ۔

ناشناس صاحب ایسا کہنے میں بجا طور پہ حق بجانب تھے کیوں کہ انھوں نے وضاحت کی کہ انھیں اقبال کی شاعری ازبر نہیں۔ وہ در حقیقت اپنی آواز ہی کی طرح دل موہ لینے والی شخصیت دکھائی دیے۔ شستہ اردو میں ان کی دھیمی آواز ہی، ان کی پر وقار شخصیت کے تعارف کے لے کافی تھی۔ پھر بھی یہ تجسس مو جود تھا کہ یہ نام کیسے ان کی پہچان بنا! ناشناس صاحب نے اس غیر مانوس نام کے انتخاب کا بے حد دل چسپ پس منظر بیان کیا ”میرے والد موسیقی کے یکسر خلاف تھے اور مجھے اس کا جنون تھا۔ سو جب مجھے با قاعدہ گانے کا موقع ملا تو والد سے چھپنے اور چھپانے کی خاطر یہ حل نکا لا گیا“ ۔

انھوں نے مزید بتایا کہ تھوڑی سی شناخت بنی تو والد نے ایک دن مجھ سے کہا کہ ایک نیا گلوکار آیا ہے جس کی آواز بہت اچھی ہے۔ ناشناس کہنے لگے جب میں نے ان کے سامنے حقیقت کا انکشاف کیا تو اب ان کا رد عمل مختلف تھا، ”میں بھی کہوں، یہ آواز گدھے سے کتنی ملتی ہے“ ۔

ناشناس صاحب کے اس قیام کے دوران افغانستان میں مجاہدین کی جنگ جاری تھی اور نجیب بر سر اقتدار تھے۔ جب ان سے یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ وہ کس سے زیادہ قریب ہیں، مجاہدین سے یا نجیب سے۔ نا شناس کہتے ہیں ”دونوں مجھ سے ناراض ہیں۔ مجاہدین اس لئے کہ نجیب کے کہنے پہ میں نے ایک ملی نغمہ گایا تھا، مجاہدین نے اسے میری نجیب سے قربت قرار دیا۔ نجیب اس لیے نا خوش کہ میں نے ان کی ایک آفر قبول نہیں کی۔ انھوں نے مجھے ایک ملک کا سفیر بننے کو کہا، میں نے انکار کیا اور انھیں بتایا کہ میرے تو ایک دن کے سگریٹ کا خرچہ ہی ہزاروں افغانی ہے اور سفیر کی تنخواہ سے یہ پورا نہیں ہو گا۔ نجیب نے ازراہ مذاق، اس پر یہ رعایت بھی دی کہ تم اتنا ہی پروپیگنڈا کرنا، جتنا اس تنخواہ کا حق بنتا ہو۔ مگر ناشناس کہتے ہیں کہ وہ اس آفر پہ کسی صورت رضامند نہ ہوئے اور میرا یہی انکار نجیب کی ناخوشی کا باعث ہوا۔

ناشناس صاحب کے حکومتی حلقوں سے قربت اور افغانستان کی سیاست سے آگاہی کو دیکھتے ہوئے، پوچھا گیا ”وہ افغانستان کا مستقبل کیا دیکھتے ہیں“ ۔ انھوں نے کہا ”میں مایوس ہوں۔ مجھے اندیشہ ہے کہ شاید افغانستان میں کبھی امن قائم نہ ہو، وہ اس لئے کہ مجاہدین جب یہ جنگ جیت جائیں گے، تو وہ اس بات پر اصرار کریں گے کہ، چوں کہ یہ جنگ انھوں نے جیتی ہے تو حکومت بھی وہ ہی چلائیں گے اور یہاں سے خرابی جنم لے گی۔ میدان جنگ میں لڑنے والے لوگ الگ ہوتے ہیں اور کاروبار حکومت چلانے والے لوگ الگ!“
ناشناس صاحب کی فہم شناسی اور دور اندیشی کا اب بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے، جب تاریخ بہت سے کروٹ لے کے آگے بڑھ چکی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

One thought on “استاد ناشناس کی افغانستان کے بارے میں ایک پیش گوئی

  • 04/06/2020 at 12:12 pm
    Permalink

    اتنی عمدہ تحریر کہ مجھ جیسا کم علم بھی موصوف کی شخصیت کے بارے میں جان گیا یہ مختصر اور comprehensive تحریر لکھنے والے کی علم اور ادب سے لگاؤ کا پتہ دیتی ہے۔ کوئی ایسا شعبہ نہیں ہے جس میں آپ کو عبور حاصل نہ ہو ۔عام طور پر اس طرح کے مضمون خشک ہوتے ہیں لیکن آپ کی تحریر کی خوبصورتی کو پیرائے میں بیان کرنا مشکل ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *