سفرنامہ پرتھ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آسٹریلیا براعظم ہے یا ملک اس بارے میں کچھ لوگوں کی متضاد رائے ہیں، ہم اسے براعظم اور بعد میں ملک کا درجہ دیتے ہیں۔

ویسے تو اس ملک کے بہت سے شہر رہائش کے قابل ہیں اور انھیں دنیا کے چند پسندیدہ شہروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ جن میں سڈنی، میلبورن، برسبین، کینبرا اور پرتھ قابل ذکر ہیں۔

آج ہم جس شہر کی سیر کو نکلے ہیں اسے پرتھ کہتے ہیں، فہرست کے لحاظ سے اس کا 5 نمبر ہے اور یہ آسٹریلیا کی 6 ویں ریاست جسے مغربی آسٹریلیا کہتے ہیں کا درالخلافہ ہے۔ رقبے کے لحاظ سے یہ آسٹریلیا کے نصف سے زیادہ حصے پر محیط ہے۔ دوسرے الفاظ میں اسے آسٹریلیا کا بلوچستان کہا جا سکتا ہے۔ کیونکہ تیل و گیس اور معدنیات کے زیادہ ذخائر اسی حصے میں موجود ہیں۔

یہ شہر دریائے سوان کے کنارے آباد ہے جو عین شہر کے وسط کو چیرتی ہوئی گزرتی ہے، اس لحاظ سے شہر کو دو مخصوص حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، ایک حصہ دریا کے جنوب کی جانب اور دوسرا حصہ دریا کے شمال کی جانب ہے۔ جنوب کی آخری حدود مینڈرا Mandurah تک جبکہ شمال کی آخری حدود یین چپ Yanchep تک ہیں۔ اس کے بعد پرتھ کے مضافات شروع ہو جاتے ہیں اور ان کو زیر جنوب Down South یا بالا شمال UpNorth کہا جاتا ہے۔

شہر میں 5 میٹرو کی ٹرین لائنز ہیں جو شہر کے مختلف علاقوں میں سے گزرتی ہیں۔ ان کا مین سٹیشن صرف زیر زمین ہے جبکہ باقی سب شہر میں سے گزرتا ہے۔ اس تمام مواصلاتی نظام کو ٹرانس پرتھ کے نام سے ایک محکمہ چلاتا ہے۔ اس کے علاوہ شہر میں ان کی بس سروس ہے جو سارا دن فری ہے۔ یہاں شہر سے مراد اندرون شہر ہے۔ ہر ٹرین سٹیشن کے ساتھ پارکنگ اور بسوں کا سٹیشن بنایا گیا ہے جو لوگوں کو نقل و حرکت میں مدد دیتا ہے۔

شہر میں کل 5 جامعات ہیں جو کہ نیم سرکاری ہیں، اس کے علاوہ شہر میں سرکاری اور غیرسرکاری ووکیشنل ادارے ہیں جن کا کام مختلف ہنر مندوں کی تربیت ہے۔ یہ تمام لوگ کسی نا کسی طریقے سی تیل و گیس اور معدنیات کے شعبے سے منسلک ہیں۔

شہر کو مختلف علاقوں میں تقسیم کیا گیا ہے اور مختلف علاقوں پر مشتمل رقبہ کو کونسل یا سٹی کا درجہ دیا گیا ہے۔ جس کے ذمہ کام سکولوں، کالجوں، سڑکوں اور صفائی ستھرائی کے معاملات ہیں۔

یہاں وفاقی طرز حکومت ہے مگر صوبے کلی خود مختار ہیں۔ یہاں کے مقامی لوگ جن کو ایب اوریجنل Aboriginal کہا جاتا ہے نہایت بدصورت ہیں۔ لیکن رنگ کے اعتبار سے وہ برصغیر والوں جیسے ہیں۔ ان کے بعد مقامی لوگوں کی وہ نسل ہے جنہیں بوگن Bogan کہا جاتا ہے۔ یہ وہ نسل ہے جو یورپ اور ایب اوریجنل کے آپس میں ملاپ کا نتیجہ ہے۔ باقی یہاں اٹلی، برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کے لوگ بکثرت پائے جاتے ہیں۔ ان کے آباواجداد زیادہ تر وہ ہیں جن کو برطانیہ کے دور میں کالے پانی کی سزا ہوئی تھی۔

ایب اوریجنل اور بوگن لوگ قبائلیوں کی طرح زندگی گزارتے ہیں۔ ان کی اپنی مختلف قسم کی زبانیں ہیں، جو طرز تکلم میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ 300 کے قریب مختلف طرز تکلم ان کے موجود ہیں جن میں سے اب صرف نونوا نامی زبان بس بکثرت بولی جاتی ہے۔ ان سب کی اکثریت نشہ آور اشیاء اور مہ نوشی کا شکار ہے۔ تعلیم، صحت اور باقی معاملات میں بھی یہ معاشرے کے ہم قدم نہیں۔ 60000 کے قریب ایب اوریجنل اور بوگن لوگوں کی ملکہ برطانیہ کے کہنے پر نسل کشی کی گئی تھی۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہیں کہ یہ یہودیوں کی طرح ہولو کاسٹ تھا تو غلط نہیں ہو گا۔ لیکن ہٹلر کی طرح ملکہ برطانیہ بدنام نا ہوئیں۔

جو نسل ان کی بچ گئی ان لے پالکوں کو گرجا گھروں نے پالا اور پھر ایک نئی نسل تیار کی گئی۔ اس سب کے باوجود مقامی لوگ وہ زخم نہیں بھلا سکتے ہیں۔ آج بھی قومی دن پر دل کھول کر سفید لوگوں کو گالیاں دہتے ہیں اور بار بار کہتے ہیں

اس زمین پر انسان بستے تھے تم لوگ قابض ہو۔
This wasn’t a freeman land you invaders.

ہر علاقے Suburb میں پرائمری سکول اور کالج موجود ہیں، یہاں بھی ہر سکول اور کالج کی تعلیمی بنیاد پر ریٹنگ ہے۔ اس بنیاد پر بہت سے والدین اپنے بچوں کے لئے سکول کا انتخاب کرتے ہیں۔ یہاں پرائمری سکول 8 جماعت تک ہے جس کے بعد بچے ہائی سکول یا کالج چلے جاتے ہیں اور وہاں سے پاس ہونے والے 12 جماعت تعلیم یافتہ کہلاتے ہیں۔ یہاں 12 جماعتیں لازمی ہیں، اس کے بعد میرٹ کی بنیاد پر آپ اپنے پیشہ یا مضامین کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ ان تمام سرکاری سکولوں کی علاوہ نجی سکول بھی موجود ہیں جن میں زیادہ تر کسی گرجا گھر یا کسی اسلامک سینٹر کے زیرانتظام چلائے جا رہے ہیں۔ جن میں سے مشہور ترین Thornlie کے علاقے میں ہے جس کا نام kewdale اسلامک سکول و کالج ہے۔

ہر علاقے میں آپ کا مقامی ڈاکٹر طبی مرکز میں بیٹھتا ہے، جو لوگ شہری ہیں حکومت نے ان کو صحت والے کارڈ دیے ہوئے ہیں۔ جن سے وہ صحت اور دیگر سہولیات حاصل کرتے ہیں۔ اچنبھے کی بات یہ ہے کہ یہاں صحت اور کسی دوسری ایمرجنسی میں آپ کو پیسے دینے پڑتے ہیں۔ یعنی ایمبولینس کی سروس جو Saint John of God کے نام سے چلتی ہے ہر گز مفت نہیں ہے، اگر اس کو ہنگامی صورت حال میں بلایا گیا تو پیسے دینے پڑیں گے اور آگ کے عملے کو اگر کسی صورت حال میں بلاوجہ بلایا گیا تو وہ بھی آپ کو جرمانہ کریں گے۔

اسکے علاوہ یہاں 24 / 7 ایک ہیلپ لائن کی سروس موجود ہے جو ان تمام افراد کے لیے ہے جو کسی وقت ڈیپریشن کا شکار ہوں اور خودکشی کرنے کا خیال ان کے دل میں آتا ہو۔

اسکے علاوہ پورے سال میں ایک ہفتہ منایا جاتا ہے جسے R U Ok کا نام دیا گیا ہے کہ اپنے اردگرد کے لوگوں، دوستوں، کولیگ اور باقی لوگوں کا خیال رکھیں۔ انھیں پریشان دیکھیں تو بات کریں مسئلے پوچھیں ان کی مدد کریں۔

اسکے علاوہ Neighbourhood Watch بھی ایک طریقہ ہے جس میں آپ اپنے ہمسایوں اور اردگرد نظر رکھتے ہیں اور اگر کوئی مشکوک چیز یا معاملات نظر آئیں تو مقامی پولیس تھانے یا ٹول فری نمبر پر رابطہ کرتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *