وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے مرثیے کا ایک بند

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


میر انیس کے ایک مشہور مرثیے کا بند ہے :
نمک خوان تکلم ہے، فصاحت میری
ناطقے بند ہیں سن سن کے بلاغت میری
رنگ اڑتے ہیں وہ رنگیں ہے عبارت میری
شور جس کا ہے وہ دریا ہے طبیعت میری
عمر گزری ہے اسی دشت کی سیاحی میں
پانچویں پشت ہے شبیرؔ کی مداحی میں

ہمیں یہ بند گزشتہ دنوں اس وقت رہ رہ کے یاد آیا جب ہم نے قومی اسمبلی میں وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو بلاول اور پپلز پارٹی پربیک وقت گرجتے بھی دیکھا اور برستے بھی۔ شاہ صاحب کوہم ساری زندگی جمالی سید سمجھتے رہے اب پتہ چلا کہ وہ تو جلالی سید ہیں اور جلالی بھی نجیب الطرفین۔ یہ تو اچھا ہوا کہ وہ اپنے نام کے ساتھ شاہ لکھتے ہیں، سید نہیں لکھتے۔ ورنہ جس نام کے ساتھ لفظ ”خارجہ“ (جس کی تانیث خارجی ہے) کا سابقہ لگا ہو اس کے ساتھ ”سید“ کتنا مضحکہ خیز لگتا۔

شاہ صاحب نے اپنی سابقہ جماعت پپلز پارٹی (مرحومہ و مقتولہ) کا جو مرثیہ پڑھا اس کا ہر ہر بند، ہر ہر شعر اور ہر ہر مصرع شاہ صاحب کے ”نمک خوار تکلم“ کی گواہی دے رہا تھا۔ ان کی فصاحت، ان کی بلاغت، ان کی رنگینی عبارت نے نہ صرف بلاول بھٹو زرداری کے رنگ اڑا دیے بلکہ ہم جیسے غیر سیاسی لوگوں کو بھی ”ناطقہ سر بہ گریباں“ کر چھوڑا۔ ا س مرثیے کا ایک بند ملاحظہ ہو:

پپلز پارٹی، جو کبھی وفاق کی علامت تھی اب اس سے صوبائیت کی بو آ رہی ہے۔
پپلز پارٹی سندھ کی ٹھیکیدار نہ بنے
ہم عنقریب آرہے ہیں اور پنجاب کی طرح سندھ میں بھی لوہا منوائیں گے۔
سندھ حکومت کو کس نے اختیاردیا کہ وہ گیس کے بل معاف کرے
کورونا کے مسئلے پر حکومت میں کوئی کنفیوژن نہیں
ہندوستان میں معصوم لوگوں کو مارکر ان کی لاشیں بھی نہیں دی جاتیں۔

اب ان مصرعوں کی سیاسی تشریح و توضیح ملاحظہ ہو:

پہلے مصرعے میں شاعر موصوف قبلہ شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ پپلز پارٹی صرف اس وقت تک وفاق کی علامت تھی جب تک وہ خود پپلز پارٹی میں نفاق کی علامت بنے ہوئے تھے۔ اسی نفاق نے صوبائیت کی بو کو دبایا ہوا تھا جوں ہی وہ اس پارٹی سے خارج ہوئے پپلز پارٹی کے پائپ میں ایک سوراخ سا بن گیا اور اس سے صوبائیت کی بو خارج ہونا شروع ہو گئی۔ پھر جوں ہی وہ وزیر خارجہ کے منصب پر فائز ہوئے صوبائیت کے اس پائپ سے بو کا اخراج بہت زیادہ ہو گیا اور اب تو یہ حال ہے کہ پورا سندھ اس سرانڈ سے سے بھر گیا ہے اور عوام کا سانس لینا محال ہوگیا ہے۔

دوسرے اور تیسرے مصرعے میں شاعر فرماتے ہیں کہ سندھ حکومت اپنے پائپ کا وہ چھوٹا سا سوراخ بھی بند نہیں کر سکی جو پیپلز پارٹی سے ہمارے خارج ہونے کی وجہ سے بنا تھا لہٰذا انھیں ٹھیکیداربنے کا کوئی حق نہیں۔ سو ہم عنقریب سندھ آرہے ہیں۔ ہمارے ساتھ بڑے بڑے ویلڈر ہوں گے۔ جو اپنی صلاحیتوں کا ”لوہا“ نہ صرف ساتھ لائیں گے بلکہ پنجاب کی طرح منائیں گے بھی۔ باذوق قارئین اچھی طرح جانتے ہیں کہ ”پنجاب کی طرح لوہا منوانا“ ایک ایسا ”ٹکڑا“ ہے، جس پر بہت کچھ ”پل“ سکتا ہے۔ ایک طرف اگر یہ ایک عمدہ ”تشبیہ“ ہے تو دوسری طرف محاورے کے استعمال کی نادر مثال بھی۔ تیسری طرف اس میں ”تلمیح“ کارنگ جھلکتا ہے تو چوتھی طرف اس میں ن لیگ کے حوالے سے طنز ملیح کی ”بھنگ“ کا عکس بھی جھلکتا ہے۔

تشبیہ اور محاورے کا استعمال تو سامنے کی بات ہے۔ لیکن تلمیح اور طنز ملیح کی تھوڑی وضاحت ضروری ہے۔ اس عظیم مصرعے میں ایک طرف اس عظیم تبدیلی کی طرف اشارہ ہے جو پچھلے دو برسوں میں عثمان بزدار کی حکومت لائی ہے۔ انھوں نے جس طرح اپنی ”صلاحتیوں“ کا لوہا، چینی کی سبسڈی کی فائل پر دستخط کر کے اور اہم بیورو کریٹس کو مہنگے ترین پلاٹس الاٹ کر کے منوایا ہے اس کی مثال مشرف حکومت میں بھی ملنامشکل ہے۔ دوسری طرف ”لوہے“ کا لفظ ایک طنز ملیح بھی ہے۔ یعنی ن لیگ جس کی گردن میں سریا تھا اسے ہم نے پنجاب میں اسی لوہے کے چنے چبوائے، جس سے انھوں جنگلا بس تیار کی تھی۔ یوں یہ بظاہر سادہ سا ”ٹکڑا“ چار ابعادی ہے، جس میں زمان و مکاں ایک ہو گئے ہیں۔

چوتھا مصرع پہلے تینوں مصرعوں سے مل کر اپنا مفہوم اشکار کرتا ہے۔ یعنی ایک ایسی حکومت، جو سندھ کی ٹھیکیدار بنی ہوئی ہے اور جس کے پائپوں سے صوبائیت کی بو خارج ہو رہی ہے، اسے یہ حق کیسے دیا جا سکتا ہے کہ گیس کے بل معاف کرے کیوں کہ وہ گیس جو بغیر مرکزی حکومت کو بل دیے استعمال کی جائے گی اس کی بو، صوبائیت کی زہریلی بو سے بھی بدتر ہوگی، جس سے سندھ کے عوام کا دم گھٹ جائے گا۔

جیسا کہ آپ جانتے ہیں مرثیے میں پہلے چاروں مصرعے ہم قافیے ہوتے ہیں جب کہ پانچواں اور چھٹا مصرع ایک علاحدہ مطلع کی صورت میں ہوتا ہے۔ شاہ صاحب نے اس پابندی کو برقرار رکھا۔ سو پانچواں اور چھٹا مصرع انھوں نے ایک علاحدہ مطلع کی صورت میں پیش کیا ہے، جس میں انھوں نے کورونا کا قافیہ ہندوستانی مظالم سے ملایا ہے۔ اسے ادبی اصطلاح میں قول محال بھی قرار دیاجا سکتا ہے، جو محاسن سخن میں شمار ہوتا ہے۔

اس مطلع کے پہلے مصرعے میں وہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ حکومت کے ہاں کورونا کے مسئلے پر کوئی کنفیوژن نہیں۔ اگر ذرا سا بھی کنفیوژن ہوتا تو وزیراعظم اور وزیر صحت دونوں اس مسئلے پر ہونے والے اجلاس میں ضرور شریک ہوتے۔ ان دونوں کا قومی اسمبلی کے اس ”غیر ضرور اجلاس“ میں شرکت نہ کرنا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ کورونا کے مسئلے پر کوئی ابہام نہیں۔ یہاں تک کہ اپوزیشن کی بڑی جماعت ن لیگ بھی اس معاملے میں ہم سے متفق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قائد حزب اختلاف، جن سے ہمارے شدید اختلاف ہیں، وہ بھی کورونا کے مسئلے پر ہونے والے اس ”غیر ضروری“ اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔

پانچواں مصرعہ دراصل ان کے ”شعری“ منصب کا تقاضا تھا۔ آپ سب جانتے ہیں کہ وہ بنیادی طور پر ”خارجیت“ پسند شاعر ہیں۔ حکومت کے داخلی شاعر تو اس وقت ایک اور سید صاحب ہیں۔ سو ایک آدھ مصرعے میں خارجیت کا اظہار بھی ضروری تھا۔

خارجیت سے مالا مال اس مصرعے میں انھوں نے ہندوستان کے ایک اہم ظلم کی طرف اشارہ کیا ہے کہ وہ بے گناہ لوگوں کو مار کر ان کی لاشیں ورثا کے حوالے نہیں کرتا جب کہ ہماری تحریک انصاف کی حکومت انصاف پر پورا یقین رکھتی ہے۔ جوں ہی کوئی بے گناہ ہمارے ہاتھوں مرتا ہے تو اس کا خون خشک ہونے سے پہلے ہی ہم اس کی لاش اس کے ورثا کے حوالے کر دیتے ہیں۔ یوں انصاف کے تقاضے پورے کرنے میں ہم لمحہ بھر کی دیر بھی گوارا نہیں کرتے۔

ہمارا کہا ہوا ایک بہت پرانا فقرہ ہے کہ ”شاہ جس شاعر کے نام کا حصہ ہو وہ کبھی اچھا شاعر نہیں ہو سکتا، سوائے برنارڈ“ شاہ ”کے۔“ ہمارے ایک دوست نے ہم سے پوچھا کہ بہادر شاہ ظفر کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے۔ میں نے کہا یا تو وہ شاعر جعلی تھے یا پھر شاہ۔

برنار ڈ شا کے بعد شاہ محمود قریشی دوسرے ”شاہ“ ہیں جنھیں اچھا شاعر قرار دیے بغیر چارہ نہیں۔ کیوں کہ وہ دن لد گئے جب کہا جاتا تھا کہ ”بگڑا شاعرمرثیے گو“ ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *