مائنڈ میک اپ، برین واشنگ۔ ۔ ۔ سے کرونا تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم اپنے ملک کی بات کرتے ہیں۔ جہاں ہمیں بتایا جا رہا ہے کہ اگلے چند دنوں میں صرف لاہور میں ہی کرونا تباہی مچانے والا ہے۔ اور ملک بھر میں جنازوں کی گنتی، اور قبرستانوں کے رقبے میں اضافے کی زیادہ فکر لاحق ہو گئی ہے۔ گویا ہم نے علاج کرنے اور علاج کے لئے اقدامات سے ہار مان لی ہے۔ جنت کے باغوں کے خوابوں کی بجائے، دوزخ کی آگ کا خوف دیا جا رہا ہے۔ خوف بذات خود موت ہے۔ اور ابھی بھی بہت سی اموات صرف خوف کی وجہ سے ہو رہی ہیں۔

یہ تو ہم نے کافی حد تک مان لیا ہے کہ کوئی پلانٹڈ وبا ہے۔ مگر ہم یہ بات کرتے ہوئے بھی خوف زدہ ہیں۔ ابھی تک کی جو صورتحال سامنے آئی ہے۔ اس کے مطابق ہر بخار کو کرونا قرار دینے والی حماقت مسلسل جاری ہے۔ یہ ملیریا اور ٹائیفائڈ کا موسم ہے۔ عید کے دوسرے دن جس شدت کی گرمی تھی۔ تیسرے دن بخار کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو نا ہی تھا۔ مگر ہوا یوں کہ ہر بخار کے لئے ہر مریض کو کرونا ٹیسٹ کے لئے بھیجا جانا معمول بن گیا ہے۔ اور ایک بار آپ نے یہ ٹیسٹ کسی بھی لیبارٹری سے کروا لیا سمجھیں۔ اس نے ایک تو مثبت آنا ہی ہے دوسرے آپ نے پولیس کو دعوت دے دی کہ صاحب آئیے اور ہمیں لے جائیے۔

اور جہاں اس مخلوق نے لے کر جانا ہے۔ وہاں خوف کی فضا کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ اور یہ خوف سب سے پہلے ہماری قوت مدافعت پہ اثر انداز ہوتا ہے۔ بس کام یہی سے بگڑ جاتا ہے۔

ہسپتال کی ایمرجنسی میں بھی ہر آنے والے مریض کی موت کو کرونا کے ڈبے میں ڈال کر ان کے لواحقین سے کاغذات پہ دستخط کروا لئے جاتے ہیں۔ معصوم و سادہ لوگ مان جاتے ہیں۔ مگر جو اپنے اعصاب پہ قابو رکھنے والے ہیں وہ اندھی تقلید کا حصہ نہیں بن رہے۔ کیونکہ جو خوف دو ماہ سے اذہان میں پیدا ہو چکا ہے۔ پیٹ کی بھوک نے اس کو جنگ میں بدل دیا ہے۔ اور اب محبت اور جنگ کی بازی شروع ہو گئی ہے۔

اب مائنڈ میکنگ یہاں تک ہو رہی ہے کہ اس کی علامات ظاہر بھی نہیں ہوتیں۔ علامت کچھ اور ہوتی ہے مگر ہوتا کرونا ہے۔ دل کا دورہ پڑے تو میت آپ کو کرونا کے مریض کی طرح دی جاتی ہے۔ جو پولیس اپنی نگرانی میں لحد میں اتارتی ہے۔ اس پلاسٹک کے لفافے کے ساتھ جو مریض کے اوپر باندھ کر رکھا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ کفن رکھ دیا جاتا ہے اور تابوت لحد میں اتار دیا جاتا ہے۔ اور امید کی جاتی ہے کہ مردہ قبر میں اپنا کفن خود پہن لے گا۔ اصولا کفن بھی بچا لینا چاہیے۔

اتنی سخت کلامی کے بعد آئیے آپ سے کچھ واقعات شیئر کرتے ہیں جو نہ تو فرضی ہیں نہ ہی سنے سنائے۔ بلکہ آنکھوں دیکھے اور شامل حال ہیں۔ کرونا ابھی چین سے امریکہ تک ہی گیا تھا۔ ابھی اٹلی میں کے درد میں ہم شریک نہیں ہو ئے تھے کہ ایک انٹرنیشنل فلائٹ سے ایک پاکستانی لڑکی امریکہ سے کچھ دن کے لئے اپنی بہن کی شادی میں شرکت کے لئے آتی ہے۔ اور چند دن بعد ہی دوسری انٹرنیشنل فلائٹ سے چلی جاتی ہے۔ جب وہ واپس پہنچتی ہے تو اس کو وہ تمام علامات ہوتی ہیں جو کرونا کے مریض کی ہیں۔

اس کو سمجھ نہیں آتا کیا ہوا۔ وہ مجھ سے فون پہ پوچھتی ہے کہ کیا یہ الرجی اس موسم میں پاکستان میں ہر سال ہوتی ہے؟ اس نے اپنی زندگی میں دھند یوں اندھا دھند ہوتے پہلی بار دیکھی تھی۔ میں نے اس کو بتایا کہ جو علامات آپ بتا رہی ہیں۔ ایسا کچھ نہیں ہوتا ۔ اس کے شوہر ڈاکٹر ہیں۔ کرونا سفر کر چکا ہے۔ مگر اس کے شوہر نے اس کا ٹیسٹ نہیں کروایا۔ بلکہ اس نے سب سے پہلے اس کی قوت مدافعت، کا ٹیسٹ کروایا کہ کتنے فی صد ہے۔ اور اس نے اس کا علاج خود گھر میں کیا۔ اور اب وہ لڑکی خود فیلڈ میں کام کر رہی ہے۔

ہم نے یہاں ابھی تک یہ ٹیسٹ کروانے کا سوچا بھی نہیں۔ اور ڈاکٹرز کے مطابق کرونا سے آپ ٹھیک ہو بھی جاتے ہیں تو ٹیسٹ مثبت آئے گا کیونکہ صحت مندی کی علامت صرف کرونا کا سیل ٹوٹ جانا ہے۔

دوسرا واقعہ لاہور کا ہے۔ ایک مریضہ کا بخار مسلسل ہے ڈاکٹر اس کے سسر سے کہتا ہے کہ آپ اس کا کرونا ٹیسٹ کروائیں۔ اگرچہ علامات نہیں ہیں۔ وہ ٹیسٹ کے لئے نہیں مانتے۔ اور اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہو ئے اس کا ملیریا اور ٹائیفائڈ کا ٹیسٹ کرواتے ہیں۔ اس کا ٹائیفائڈ مثبت آتا ہے اور وہ علاج سے ٹھیک ہو جاتی ہے۔ تیسرا کیس ایک بوڑھی خاتون کا ہے جو بخار کی تیزی سے رات کو ایمرجنسی میں لائی گئی اور اس کو کرونا سینٹر میں ڈال کر اس کے گھر والوں کو کہہ دیا گیا کہ ان کو کرونا ہے اور بچنا مشکل ہے۔

اس کے نوجوان پوتوں کو یقین تھا کہ یہ نہیں ہو سکتا اور اگر ہے بھی تو دادی گھر میں ہمارے پاس مریں گی ہم اس کو فوقیت دیتے ہیں۔ وہ کسی طرح لڑ جھگڑ کر دادی کو وہاں سے لے جانے میں کامیاب ہو گئے اور گھر بھی نہیں لائے کسی اور بیٹے کے گھر رکھا کہ پولیس کا چھاپہ پڑ جائے گا۔ اور اب ان کی دادی جان اللہ کے کرم سے اپنے خاندان کے درمیان صحت مند زندگی گزار رہی ہے۔

اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ کرونا ہے نہیں۔ ہے موجود ہے۔ کمزور قوت مدافعت والے کو اپنے ساتھ لے جاتا ہے۔ دوسری وجہ خوف ہے کہ ہم نے کرونا کے ساتھ موت کو لازم و ملزوم کر دیا ہے۔ دعا اور امید ہے حالات کسی اور رخ سفر کرنے والے ہیں۔ وبا کو دم توڑنا پڑے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *