پروفیسر ڈاکٹر عطا محمد ”حامی“ ۔ شخصیت اور ادبی خدمات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

3 جون کو سندھ اور سندھی کے ممتاز شیریں بیاں شاعر، محقق، عالم، مترجم اور حضرت سچل سائیں ؒ کے شارح، پروفیسر ڈاکٹر عطا محمد ”حامی“ کو ہم سے بچھڑے 38 برس مکمل ہو رہے ہیں۔ اس دار فانی سے ہر کسی نے کوچ کر جانا ہے اور یہاں کسی نے باقی نہیں رہنا، مگر جو لوگ اپنے حصے کا کام ایمانداری اور جانفشانی سے کر گزرتے ہیں، وہ اپنی عمروں سے زیادہ جیتے ہیں۔ سندھی علم اور ادب کی دنیا میں ویسے تو کئی ستارے جگمگائے اور بظاہر چلے جانے کے باوجود بھی اپنے علمی اور قلمی کارناموں کی بدولت آج تک درخشانی سے جگمگا رہے ہیں۔

ان ستاروں میں ایک نجم روشن، پروفیسر ڈاکٹر عطا محمد ”حامی“ بھی ہیں، جن کی شعری اور تحقیقی خدمات سندھی ادب کے اوراق میں ہمیشہ ذوفشاں حوالے کے طور پر روشن اور واضح انداز میں جاوداں رہیں گی۔ ان کو قدرت کی طرف سے جس اعزاز سے نوازا گیا ہے، وہ بہت کم لوگوں کے حصے میں آتا ہے، وہ اعزاز یہ ہے کہ ان کی وفات کے فوراً بعد والے سال سے لے کر اب تک، 38 برس گزر جانے کے باوجود بھی، ضلع خیرپور میں ان کے آبائی گاؤں میں ان کی آخری آرام گاہ پر ان کی برسی کی تقریبات اس طرح سے منائی جاتی ہیں، جس طرح کسی صوفی بزرگ یا ولی اللہ کی درگاہ پر ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع ہو کر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔

بنیادی طور پر تدریس کے شعبے سے وابستہ، پروفیسر ڈاکٹر عطا محمد ”حامی“ ، یکم جنوری 1919 ء کوضلع خیرپور کے تعلقہ کوٹڈیجی کے ایک چھوٹے سے گاؤں ”سوہو قناصرا“ میں پیدا ہوئے اور 3 جون 1982 ء کو 63 برس کی عمر میں ہم سے بچھڑے۔ وہ خیرپور کے ممتاز کالج میں لیکچرر سے پروفیسر تک کی ذمہ داریوں کی انجام دہی کرتے ہوئے، تدریسی دنیا میں ہزاروں طلبہ کے استاد رہے۔ ادب کی دنیا میں شاعری ان کی پہلی پہچان رہی اور وہ اپنے ہمعصرسندھی شعراء، بشمول مخدوم محمد زمان طالب المولیٰ، اللہ بخش ”سرشار“ عقیلی، شیخ عبدالرزاق ”راز“ ، نواز علی ”نیاز“ ، عبدالکریم گدائی، زماں شاہ ”ساقی“ ، ڈاکٹر ایازحسین قادری، قاضی عبدالحئی ”قائل“ ، عبداللہ ”اثر“ ، محمد علی جوہر اور دیگر، میں اپنے بے باک لہجے اور شیریں بیانی کی وجہ سے مقبول و ممتاز رہے۔

ویسے تو انہوں نے مختلف اصناف سخن میں اپنے قلمی جوہر سے نکہتیں بکھیریں، مگر غزل اور رباعی ان کی خاص پہچان بنی۔ تنگ ذہن دشمن کو بہ بانگ دہل للکارنا اور سخت ترین الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے، وطن دشمن کو اپنی وطن دوستی کے عزائم سے آگاہ کرنا، حامی صاحب کی رباعی کا خاص موضوع تھا۔ گو کہ حامی صاحب روایتی سندھی غزل کے دور کے شاعر گزرے ہیں، مگر ان کا دور جدید سندھی ادب کے تعارف کا دور بھی تھا، یہی وجہ ہے کہ ان کا کلام پڑھ کے، بالخصوص ان کی غزل کے مطالعے سے ہمیں روایتی غزل کے انداز کی خوشبو کم آتی ہے اور ترقی پسند جدید ادب کے رنگ کا گمان زیادہ ہوتا ہے۔ اسی لئے ہم حامی صاحب کی غزل کو جدید سندھی شاعری کی مثال کے طور پر بھی پیش کر سکتے ہیں۔

تحقیق کے میدان میں پروفیسر ڈاکٹر عطا محمد ”حامی“ کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی پی ایچ ڈی کا مقالہ، خیرپور (ریاست سابقہ) کے علم، ادب اور سماجیات میں تالپوروں کی خدمات کے موضوع پر ہے، جس کو خیرپور کے ماضی قریب کے حوالے سے لکھی جانے والی مستند تاریخ کا درجہ حاصل ہے۔ اس مقالے کو انسٹٹیوٹ آف سندھ الاجی جامشورو کی جانب سے 2 بار اور محکمۂ ثقافت، حکومت سندھ کی جانب سے تیسری بار کتابی صورت میں شایع کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ”کشف المہجوب“ کا منظوم سندھی ترجمہ اور سابق والیٔ خیر پور، ہزہائنس میر علی نواز ”ناز“ (مرحوم) کے کلام کی ترتیب بھی پروفیسر ڈاکٹر عطا محمد ”حامی“ کا بہت بڑا علمی اور ادبی کارنامہ ہے۔

اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ معروف صوفی شاعر حضرت سچل سائیں ؒ کے کلام اور پیغام پر تحقیق کے حوالے سے میرزا علی قلی بیگ اور آغا صوفی، عثمان علی انصاری اور رشید احمد لاشاری کے بعد اگر کسی نے کارہائے نمایاں انجام دیا ہے، تو وہ صرف اور صرف پروفیسر ڈاکٹر عطا محمد ”حامی“ ہی ہیں۔ حامی صاحب اس غلط روایت کی نفی کرنے والے اور اس ضمن میں اپنے دلائل کو ثابت کرنے والے پہلے محقق تھے، جنہوں نے حضرت سچل سائیں ؒ کے ”ہفت زبان شاعر“ (سات زبانوں کے شاعر) ہونے والے تاثر کی نفی کی اور واضح انداز میں ثابت کیا کہ سچل سائیں ؒ صرف چار زبانوں کے شاعر تھے۔

انہوں نے واضح طور پر یہ بھی بتایا کہ کسی بھی شاعر کی جانب سے زیادہ کتابیں لکھنا، زیادہ شعر کہنا یا زیادہ زبانوں میں شاعری کرنا اس کی عظمت کا معیار ہرگز نہیں ہے، اس لئے سچل سائیں ؒ کے ساتھ غلط باتیں منسوب کر کے مستقبل کے محقق کو بھٹکانے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ سچل سائیں ؒ کے حوالے سے حامی صاحب کا تحقیقی انداز بہت ہی واضح اور جدید سائنسی طرز پر مبنی تھا، جس وجہ سے ہم یہ وسوق کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ حامی صاحب نے ہمیں دوبارہ سچل سائیں ؒ سے متعارف کروایا۔ حضرت سچل سائیں ؒ کی فارسی مثنویات کا منظوم سندھی ترجمہ بھی حامی صاحب کا ایک بہت بڑا ادبی کارنامہ تھا، جو ترجمہ ”نینہں جا نعرا“ (ترجمہ: عشق کے نعرے ) کے عنوان سے متعدد بار شایع ہو چکا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر عطا محمد ”حامی“ سے جو بھی ایک بار ملا، تو وہ ان کی شفقت، محبت، اپنائیت اور انسان دوستی کے جذبے کی وجہ سے ان کا گرویدہ ہو گیا۔ قدرت نے ان کے دل میں ہر غیر خواہ اپنے کے لیے محبتوں کے انبار بھر دیے تھے۔ جو بھی ان سے ملتا، زندگی بھر حامی صاحب کے نمکین جملوں اور قہقوں کی مہک اپنے ساتھ لے جاتا اور ہمیشہ ان کو یاد رکھتا۔ ان کے بارے میں مشہور تھا کہ جس سے بھی ملتے، اسے پیار سے ”ظالم“ کہہ کر مخاطب ہوتے اور اس قدر اپنائیت سے پیش آتے کہ ہر کوئی ان کا مطیع ہو جاتا۔

اپنے گاؤں کے لئے ترقیاتی کام کروانے کے حوالے سے انہوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی، یہی وجہ ہے کہ آج ان کا گاؤں، سندھ کے مثالی دیہاتوں میں گنا جا سکتا ہے۔ اب اس گاؤں کا نام ”عطا محمد حامی گوٹھ“ ہے، جہاں ہر سال ان کی برسی کے موقع پر ایک بہت بڑا ادبی اجتماع ہوتا ہے، اس ادبی کانفرنس میں سندھ بھر سے تشریف لانے والے عالم، ادیب اور دانشور حامی صاحب کی حیات و خدمات کو خراج پیش کرتے ہیں، کسی بزرگ کے عرس کی طرح پورے گاؤں میں مختلف چیزوں کے اسٹالز لگائے جاتے ہیں اور اس میلے نما اجتماع کو دیکھنے اور محفل موسیقی میں حامی صاحب کا کلام سننے نہ صرف پورے گاؤں کے لوگ، بلکہ گرد و نواح کے کئی علاقوں سے لوگ جمع ہوتے ہیں اور اس عظیم شاعر اور عظیم انسان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ یہ اعزاز واقعی بہت کم لوگوں کے حصے میں آتا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر عطا محمد ”حامی“ مرحوم کو چند برس قبل، حکومت پاکستان کی جانب سے تمغہ برائے حسن کارکردگی (بعد از وفات) سے بھی نوازا گیا۔ ان کے نام پر حکومت سندھ کے شعبۂ تعلیم نے خیرپور کے ایک ڈگری کالج (جس کا سابق نام ”گورنمنٹ پاکستان کالج“ خیرپور تھا۔ ) کا نام اب ڈاکٹر صاحب کے نام منسوب کیا ہے۔ اور ساتھ ساتھ شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور کے ایک ہاسٹل کا نام بھی حامی صاحب کے نام منسوب ہے۔ مگر حامی صاحب کا سب سے بڑا اعزاز سندھ کے لاکھوں دلوں (جن میں ان کے ہمعصر خواہ جونیئر شاعر، ادیب، ان کے دوست اور طالب العلم وغیرہ شامل ہیں ) میں آج تک زندہ رہنے والی وہ محبت ہے، جو حامی صاحب کو زندہ رکھے ہوئے ہے، اور ہمیشہ جاوداں رکھے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply