زہرہ کی معصومیت کی معراج اور ظلم کی انتہا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


زہرہ شاہ، جس کی عمر ڈاکٹر کے مطابق اٹھ نہیں چھ برس تھی شدید جسمانی تشدد کے باعث زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دنیا سے چلی گئی۔ راولپنڈی کے نہایت پوش علاقے کے ایک گھر کی ملازمہ زہرہ نے نوجوان جوڑے کے قیمتی طوطے آزاد کر دیے تھے، قید میں رہنے والا ہی آزادی کی قدر جانتا ہے۔ ہزاروں کا نقصان کرنے کی پاداش میں چھ سالہ بچی پر میاں بیوی نے تشدد کیا اور رات گئے اسپتال چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ زہرہ کو ماں باپ نے ماہانہ تین ہزار کے عوض یہاں چھوڑا ہوا تھا جو ان کے ہاں ہونے والے بچے کی دیکھ بھال کے لئے رکھی گئی تھی۔

زہرہ، پاکستان کے بارہ اشاریہ آٹھ ملین بد قسمت بچوں میں سے تھی جو کم عمری میں جبری مشقت کرنے پر بے چارگئی زیست کے ہاتھ مجبور ہو کر کام پر لگا دیے جاتے ہیں۔ ایسے معاملات میں فوراً سے پہلے ماں باپ کی انسیت پر سوال اٹھائے جاتے ہیں کہ کیسے سنگدل ماں باپ تھے جنہوں نے بچوں کو کام پر ڈالا ہوتا ہے۔ نہیں جناب! سانس لیجیے اور سماج کی غیر منصفانہ تقسیم اور رواجوں کی ظالمانہ نہج کو چانچئے۔ پاکستان میں سطح غربت میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔

پاکستان میں اب بھی اڑتیس اشاریہ آٹھ فیصد لوگ سنگین حالات مفلسی میں رہنے پر عاجز ہیں۔ اعداد و شمار تو بہت آسانی سے کہہ دیے جاتے ہیں مگر اصل تعداد ہمیشہ پنہاں رہتی ہے۔ عام آدمی کو زمینی حقائق جاننے کی فرصت میسر نہیں ہوتی نہ ہی وہ کوشش کرنے پر اکتفا کرتا ہے۔ 38.8 فیصد کا روز مرہ زبان میں ترجمہ کیا جائے تو آٹھ کروڑ ستاون لاکھ چھ ہزار دوسو بانوے بنتا ہے جبکہ پاکستان کی کل آبادی تقریبآ تیئس کروڑ ہے جس میں بھی ہر چار میں سے ایک سنگین مفلسی کی زندگی گزار رہا ہے۔

اب ہم خود اندازہ لگانے کے قابل ہو سکتے ہیں کہ سطح غربت تلے رہنے والوں کی زندگیوں کی بے کسی کا کیا عالم ہوگا۔ ایسے میں ریاست کو اپنے فرائض تنگ دہی سے انجام دینے کی ضرورت تو ہے ہی وہیں پر معاشرے میں وہ لوگ بھی بستے ہیں جو اپنی غیر ضروری اغراض کی تکمیل کے لئے گھروں میں کام کاج کے لئے بچوں کو رکھنے سے نہیں ہچکچاتے۔ سب فرائض ریاست کے پلو سے باندھنے کے علاوہ، بہت سے فرائض اور حقوق اخلاقی حیثیت بھی رکھتے ہیں آیا ہم کیا کردار ادا کر رہے ہیں۔

پچھلے کچھ سالوں سے ایسی تصاویر سماجی روابط کے مچانوں پر دیکھی جاتی رہی ہیں جہاں ریستورانوں اور ہوٹلوں میں گھر کے افراد ایک جگہ بیٹھ کر کھانوں سے لطف اندوز ہوتے دکھائی دیتے تو دوسری جانب گھروں میں کام کرتے بچے اور بچیاں خریداری کے لفافہ تھامے اکیلے بیٹھے نظر آتے۔ ہمیں اس بات کا اچھے سے ادراک ہے کہ گھریلو ملازمین کے لئے ابھی بھی مستند قانون سازی کی اشد ضرورت ہے۔ روایتی نوکر اور کمی کمین کے الفاظ تو استعمال کیے ہی جاتے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ گاؤں دیہاتوں سے ان ملازمین کو برآمد بھی کیا جاتا ہے۔

اس کو گھریلو مددگار نہیں، جدید دور کی غلامی کہا جائے تو دانستگی کے تناظر میں زیادہ مناسب رہے گا۔ ذات پات، رنگ اور نسل کی بنا پر رکھے جانے والے ملازمین مناسب تنخواہیں لیتے ہیں نہ ہی زندگی کے معیار کو بہتر کرنے والی سہولیات تک رسائی ممکن ہو پاتی ہے۔ وہ وقت ابھی بہت پرانا نہیں ہوا جب جہیز میں خدام اور خادمائیں مال مویشیوں سمیت دی جاتی تھیں۔ ہمیں ان تاریخی اطوار سے بہتر اندازہ ہوجانا چاہیے کہ گھریلو ملازمین کی صورتحال کیسی ہوتی ہے۔ جہاں دوسری تاریخی اور روایتی کوتاہیوں کی تصحیح نہیں کی گئی، وہیں محروم معاش انسانوں کے مصائب اپنی جگہ موجود ہیں۔

زہرہ ہو یا عظمیٰ، ان بچوں کے بچپن ان ہی سماجی، سیاسی، معاشی غیر منصفانہ تقسیم اور امتیاز کی ایک کڑی ہیں۔ گھروں میں کام کرنے والی خواتین بالخصوص جوان لڑکیوں اور بچوں کو جنسی تشدد کا سامنا رہتا ہے۔ معاشی اور معاشرتی طور پر کمزور عورت اپنے مالک کے خلاف اس کے بیہمانہ برتاؤ پر اف کرنے کی جرات نہیں کر سکتی۔ اف کرے گی تو عین ممکن ہے کہ چوری کے مقدمے میں اندر بھی ہوگی اور بچوں کا پیٹ بھی پالنے سے محروم رہے گی۔

دوسری جانب، بچوں کے ساتھ جبری مشقت پر سخت قانون سازی ابھی بھی ہونا باقی ہے اور اگر قوانین لاگو بھی ہو جائیں تو ن پر عمل کرانا بھی اتنا ہی کٹھن ہے۔

غریب کو اس کے بچوں کی تعداد پر تمسخر کا نشانہ بنانے والے باشعور لوگ وہی ہیں جو اسی غریب کو شعور حاصل کرنے سے باز رکھتے ہیں۔ جس کا۔ عدہ خالی ہو، ہم اس سے جدیدیت اور معقولیت کے اصولوں پر عمل پیرا ہونے کی توقع رکھتے ہیں۔ مگر سوال تو میرا ان اونچی دیواروں اور وسیع باغیچوں کے گھروندوں میں رہنے والے با علم، دانشمند اور معقول انسانوں سے ہے جو اپنے گھروں میں بچوں کو کام پر رکھتے ہیں۔ غریب سے کہا جاتا ہے کہ جب کھلا نہیں سکتے تو پیدا کیوں کرتے ہیں، میں ان سے کہتی ہوں کہ جب سہلا نہیں سکتے، بہلا نہیں سکتے، پوترے بدلا نہیں سکتے تو پیدا کیوں کرتے ہیں؟

ایک چھ یا آٹھ سال کی بچی کیسے کسی بچے کو پال پوس سکتی ہے؟ زہرہ شاہ کو کام پر رکھنے کی وجہ یہی تھی کہ وہ ان قاتل میاں بیوی کے پانچ ماہ کے نومولود کو سہلا بہلا سکے، اس کے پوترے بدل سکے، جب وہ روئے تو اس کو فیڈر سے دودہ پلا سکے۔ غصب خدا کا، ایسی کون سی فرعونیت تھی کہ پنجرے سے پرندے اڑانے پربچی کو اتنا مارا، اتنا مارا کہ مار ہی دیا؟ زہرہ کی معصومیت کی معراج دیکھئے اور ظالموں کے ظلم کی انتہا دیکھئے۔

ہر ہونے والا اندوہناک واقعہ ہمیں ہماری صفیں درست کرنے کی تنبیہ کرتا ہے، خدارا اب تو سمجھ جائیے، اپنے اطراف مظلوموں کی خاموش چیخوں کو سن لیجیے، ان کی آنکھوں کے خط پڑھئیے اور ان بے توقیر ضابطوں کو ختم کیجئے۔ بچوں کے ساتھ جنسی و گھریلو تشدد پر بات کریں، مجرموں کا نام لیں، ان کی نشاندہی کریں، ان کو انجام تک پہنچائیں۔ اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دیں۔ حرکت تو وہ مردہ بھی کر دیتا ہے جس کی نسوں کو جھنجھوڑا جائے، ہم تو پھر زندہ ہیں۔ اللٰہ زہرہ جیسے معصوموں کو جرم ضعیفی کی سزا سے اس کے ہاتھوں آزاد کیے پرندوں کی آزادی عطا کرے اور تماشے کو شوقینوں کو ذوق تقاضا دے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *