مقبوضہ کشمیر : بھارتی فوج کی مظاہرین پر فائرنگ‘ شیلنگ‘ایک لڑکی اور تین نوجوان شہید‘ 50 زخمی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"kashmir\"

سرینگر (نیٹ نیوز+ ایجنسیاں) مقبوضہ کشمیر میں حالات بدستورکشیدہ ہے‘ بھارتی فورسز نے مختلف علاقوں میں مظاہرین پر فائرنگ اور شیلنگ کرکے 3 نوجوانوں اور ایک لڑکی کو شہید کر دیا۔ یوم استقلال کے موقع پر کشمیریوں نے لال چوک تک آزادی مارچ کیا جبکہ کشمیریوں کو مسلسل اٹھارویں ہفتے نماز جمعہ سے محروم رکھنے کے لئے سرینگر میں کرفیو نافذ کردیا گیا۔ مقبوضہ کشمیر کی بھارت نواز کٹھ پتلی انتظامیہ نے آزادی مارچ میں شرکت پر درجنوں سرکاری ملازمین کو برطرف کردیا۔ دوسری طرف مقبوضہ وادی میں بھارتی ایجنٹوں نے سکولوں کو نذر آتش کرنے کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ تفصیلات کے مطابق یوم استقلال کے موقع پر جامع مسجد سری نگر کے باہر سینکڑوں کشمیری مارچ کرتے ہوئے جمع ہوئے تو بھارتی فورسز نے ان پر دھاوا بول دیا۔ فائرنگ‘ شیلنگ سے 50 سے زےادہ شہری زخمی جبکہ پاوا شیل لگنے سے 14 سالہ لڑکی شہید ہو گئی۔ دوسری طرف جامع مسجد نماز جمعہ کیلئے بدستور بند رہی۔ سرینگر سمیت بانڈی پورہ، بڈگام میں مظاہرین نے فوجیوں پر پتھراﺅ کیا جن پر جواباً شیلنگ کی گئی۔ دریں اثناء126ویں روز بھی مکمل ہڑتال کے دوران سری نگر مےں تمام کاروباری، عوامی اور تعلیمی سرگرمیاں مفلوج، دکانےں، کاروباری مراکز اور سکول بند رہے۔ دوسری جانب حریت رہنما اور لبریشن فرنٹ کے سربراہ یاسین ملک جنہیں گذشتہ رات گرفتار کرلیا گیا تھا، گذشتہ روز سینٹرل جیل منتقل کر دیا گیا جبکہ میر واعظ عمر فاروق بدستور گھر میں نظربند ہیں ان کے گھر کے باہر سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد بڑھا دی گئی اور کسی کو گھر کے اندر باہر آنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ کل جماعتی حریت کانفرنس(گ) کے سربراہ سید علی گیلانی نے یاسین ملک کی گرفتاری اور میر واعظ کی نظر بندی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت جان لے کہ وہ طاقت کے استعمال سے کشمیریوں کا جذبہ حریت سرد نہیں کر سکتا۔ وہ وقت دور نہیں جب بھارت کو وادی سے بے آبرو ہو کر نکلنا پڑے گا۔ دوسری جانب یاسین ملک کی گرفتاری اور میرواعظ عمر فاروق کی نظر بندی کےخلاف وادی بھر میں شدید احتجاج کیا گیا۔ لوگوں نے نماز جمعہ کے بعد مظاہرے کئے اور ریلیاں نکالیں۔ ادھر ضلع بارہ مولا میں بھارتی قابض فوج کی فائرنگ سے تین نوجوان شہید ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج نے ٹورنا رام پور اور اڑی کے علاقوں میں نوجوانوں کو اکٹھا ہونے سے روکنے کےلئے کارروائی کی۔ دوسری طرف یورپی کمشن نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی صورتحال بہتر کرے۔ ان خیالات کا اظہار کمشن کے ممبر لوگورڈرایزمینز یورپین کمشن سیکرٹریٹ میں وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر سے ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے اندر گزشتہ چار ماہ سے کرفیو نافذ ہے۔ معمولات زندگی شدید متاثر ہیں۔ یورپی کمشن، یورپی یونین سرینگر اور مظفرآباد میں اپنا خصوصی نمائندہ وفد بھیجے حکومت آزادکشمیر اسے خوش آمدکہے گی۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں