افریقی غلاموں کی نجات دہندہ: ہیریٹ ٹب مین

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ایک سیاہ فام لڑکی نے آزادی کا خواب دیکھا اور برسوں غلامی میں جکڑے رہنے کے بعد بھی اپنے اس خواب سے دستبردار نہ ہوئی

اس نے 28 سال کی عمر میں آزاد ہونے کے بعد اپنے جیسے غلاموں کو آزادی دلانے کا عہد کیا اور اپنے مقصد کے لیے ڈٹ گئی۔ اس کی گرفتاری پر انیسویں صدی کے وسط میں 40 ہزار ڈالر کا انعام رکھا گیا۔ 93 برس کی عمر میں بھی اپنے مقصد سے دستبردار نہ ہونے والی افریقی غلاموں کی نجات دھندہ ہیرٹ ٹب مین کی روداد جو بہت کچھ سکھاتی ہے۔

آپ کو یہ سن کر حیرت ہو گی کہ اٹھارہویں صدی میں امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی انسانوں کو غلام بنا کر رکھا جاتا تھا اور اکثر و بیشتر ان سے جانوروں سے بھی برا سلوک کیا جاتا۔ حالانکہ ان کے آبا و اجداد افریقہ میں پیدا ہوئے لیکن ان کو پانی کے جہازوں میں امریکہ لا کر ایسے ہی بولی لگا کر بیچ دیا جاتا جیسے بھیڑ بکری یا کوئی اور استعمال کی چیز۔ ہیریٹ ٹب مین بھی ایسی ہی ایک غلام سیاہ فام افریقی عورت کا نام ہے جس نے اپنی بہادری اور جرات سے نہ صرف خود کو آزاد کرایا بلکہ جان کی بازی لگا کر اپنے جیسے بہت سارے لوگوں کو بھی غلامی سے نجات دلائی۔ باوجود اس کے کہ پندرہ برس کی عمر میں سر پر شدید چوٹ لگنے کی وجہ سے وہ زندگی بھر ایک قسم کی ذہنی بیماری کا شکار رہی، اس نے دنیا کو بتا دیا کہ غلامی سے کہیں بہتر آزادی کی موت ہے۔

ہیریٹ ٹب مین 1820 میں ڈوچسٹر کاؤنٹی میری لینڈ (امریکہ) میں پیدا ہوئی۔ اس کے ابا کا نام بن روس اور امی کا ہیریٹ گرین تھا۔ ان کے مالک کا نام ایڈورڈ بروڈس تھا جس کے تمباکو کے کھیت تھے۔ ہیریٹ کا گھرانہ نہ صرف کھیتوں پر کام کرتا، لکڑیاں کاٹتا بلکہ مالک کے بڑے سے گھر کی خدمت بھی کرتا۔ اپنے گیارہ بہن بھائیوں میں ہیریٹ کا چھٹا نمبر تھا۔ وہ ایک کمرے کے چھوٹے سے گھر میں پیدا ہوئی جہاں نہ کھڑکی تھی اور نہ ہی پکا فرش۔ بچے بستروں کی بجائے زمین پر بچھی گھاس پھونس کے بستروں پر سو جاتے، ان کے پاؤں میں جوتی ہوتی اور نہ ہی پیٹ بھر کے کھانا ملتا۔ سخت سردی میں کمرے کے بیچ میں جلتے چولہے کی آگ کے قریب تمام بچے دبک کر سو جاتے۔

ہیریٹ کا نام ارمینٹا رکھا گیا لیکن سب پیار میں اسے منٹی پکارتے۔ اس کے والدین اپنے بچوں کو بہت پیار سے رکھتے تھے لیکن انہیں پتہ تھا کہ ایک دن یہ بچے ان سے دور بھیج دیے جائیں گے کیونکہ ان کے مالک کی کمائی اپنے خریدے ہوئے ملازموں کو کرایہ پر دینے یا بیچنے سے خوب ہوتی تھی۔

ابھی منٹی پانچ سال ہی کی تھی کہ اس کو مسٹر بروڈس نے اپنے گھر کے کام پر لگا دیا۔ ننھی سی بچی سے اگر کوئی غلطی ہو جاتی تو اس کو بہت مار پڑتی، ایک سال بعد منٹی کو ایک ایسے گھر کام پر بھیج دیا گیا جہاں کپڑا بننا بھی سکھاتے تھے۔ اس کا مالک چاہتا تھا کہ منٹی یہ ہنر سیکھ کر اس کے گھر بھی یہی کام کر سکے۔ مگر ہیریٹ بہت چھوٹی تھی اور وہ لوگ بہت ظالم۔ ایک دن سخت سردی اور طبیعت کی خرابی میں منٹی کو کام سے باہر بھیج دیا گیا اسے ننگے پاؤں ٹھنڈا دریا پار کرنا تھا۔

جب وہ واپس آئی تو اسے تیز بخار کے علاوہ خسرہ کا حملہ بھی ہو چکا تھا۔ اس کی طبیعت کی خرابی کی خبر جب اس کے والدین کو ہوئی تو وہ اپنے مالک کی خوشامد کر کے اپنی بیٹی کو گھر واپس لے آئے، اس کی ماں نے دن رات اس کا خیال رکھا اور یوں منٹی دوبارہ صحت یاب ہو گئی۔ اگلے برس سات سالہ منٹی کو ایک ایسے گھر بھیج دیا گیا جہاں اسے گھر کے کاموں کے علاوہ نئے پیدا ہوئے بچے کا خیال بھی رکھنا ہوتا۔ اگر بچہ رات میں کسی وقت روتا اور مالکن کی نیند خراب ہوتی تووہ منٹی کی بری طرح پٹائی کرتی۔

اس کی گردن پر گہرے زخموں کے نشان بن گئے تھے۔ ایک دن جو منٹی کی شامت آئی تو اس نے مالکن کی نظر بچا کر شکر کی ایک ڈلی منہ میں رکھ لی لیکن مالکن کی نظر پڑ چکی تھی۔ اس نے منٹی کی اتنی پٹائی کی کہ وہ گھر سے بھاگ گئی اور ایک ایسی جگہ پناہ لے لی جہاں ایک سورنی اور اس کے نو بچے رہتے تھے۔ خوفزدہ منٹی اس ”سور گھر“ میں دو تین دن رہی لیکن جب بھوک برداشت نہ ہوئی تو واپس مالکن کے گھر جانا پڑا جہاں اس کی بید سے خوب پٹائی ہوئی اور ایک بار پھر سے اسے واپس والدین کے پاس بھیج دیا گیا۔

اب کی بار اس کے مالک نے سوچ لیا تھا کہ بجائے گھر کے کاموں کے منٹی کو باہر کھیتوں کے کاموں پر لگا دیا جائے۔ یہ منٹی کے لیے بہت اچھا ہوا۔ وہ آزاد فضا میں اپنے ابا کے ساتھ کام کرتی جنہوں نے اسے کئی باتیں سکھائیں مثلاً کون سے پودے دوا کے طور پر کام آ سکتے ہیں اور کن کن کو کھایا جا سکتا ہے۔ وہ اپنی بیٹی کو بہادری سے جینا سکھا رہے تھے۔ اس کے والدین نے بچپن سے منٹی کو ایسے غلاموں کی کہانیاں سنائیں تھیں جو غلامی سے نجات حاصل کرنے کی کوشش میں مارے گئے۔

یہ وہ لوگ تھے جو انسانوں میں برابری کے قائل تھے۔ منٹی نے اپنے آپ سے وعدہ کیا کہ ”ایک دن میں آزاد ہو جاؤں گی اور جب وہ دن آئے گا تو میں دوسروں کو بھی آزاد ہونے میں مدد کروں گی۔“ ہیریٹ کو بائبل کی وہ کہانی سب سے زیادہ پسند تھی کہ جس میں پیغمبر حضرت موسیٰ نے اپنے ماننے والے اسرائیلیوں کو غلامی سے بچایا۔ اس کے خیال میں افریقی غلاموں کو بھی ایسے ہی موسیٰ کی تلاش تھی جو ان کو غلامی سے نکال سکے۔

منٹی کو گھر کے بجائے باہر کاکام زیادہ پسند تھا، سخت جسمانی محنت والے کام کرنے کے باعث وہ بہت زیادہ طاقتور بھی ہو گئی تھی۔ ایک دن کھیتوں میں کام کرتے ہوئے ایک غلام نے بھاگنے کی کوشش کی تو اس کے نگراں نے اس کو روکنے کی کوشش مین دو کلو وزنی دھات کا ٹکڑا مارا مگر غلام کو بھاگنے میں مدد دینے والی منٹی کے ماتھے پر اس زور سے لگا کہ اس کا ڈھیروں خون بہنا شروع ہو گیا اور وہ بے ہوش ہو کر زمین پر گر گئی۔ اس کے علاج کے لیے نہ کوئی ڈاکٹر بلایا گیا نہ ہی کوئی علاج ہوا۔

پندرہ سالہ منٹی مرنے کے قریب تھی۔ وہ مہینوں بے سدھ پڑی رہی۔ اس کے مالک نے اسے بیچنے کی کوششیں کیں لیکن کوئی اسے خریدنے کو تیار نہ تھا۔ آہستہ آہستہ منٹی بہتر ہونا شروع ہوئی لیکن چوٹ کی وجہ سے ہونے والی یہ معذوری زندگی بھر اس کے ساتھ رہی کہ وہ بات کرتے کرتے غافل ہو کر سو جاتی اور تھوڑی دیر بعد اٹھ جاتی۔ اپنے ماتھے پر چوٹ کا نشان چھپانے کے لئے وہ اس پر صافہ نما کپڑا باندھتی۔ ایک وقت آیا کہ وہ صحتمند ہو گئی لیکن کسی بھی کام کے بیچ میں اس پر غفلت طاری ہو جاتی تاہم وہ اپنی آزادی حاصل کرنے کے خواب سے کبھی غافل نہ ہوئی۔

اب لوگ اس کو منٹی کے بجائے ہیریٹ کے نام سے پکارتے تھے۔ یہ اس نے خود چنا تھا کیونکہ یہ اس کی ماں کا نام تھا۔ 1844 میں اس کی شادی ایک آزاد شخص سے ہوئی مگر یہ شادی کامیاب نہ ہو سکی، ہیرٹ کے شوہر ٹیک مین کا خواب آزادی نہ تھا۔ کیونکہ وہ خود آزاد شہری تھا۔ اسی زمانے میں ہیریٹ کو پتہ چلا کہ اس کا مالک غلاموں کو بیچ رہا ہے۔ یہ وہ وقت تھا کہ ہیریٹ نے آزاد شمالی ریاست کی طرف بھاگ جانے کا سوچ لیا۔ جو تقریباً سو میل کے فاصلے پر تھی۔

یہ ریاست پینسلوینیا تھی کہ جہاں کے قانون میں غلامی منع تھی۔ اپنی جان پر کھیل کر سو میل کا یہ فاصلہ ہیریٹ نے انڈر گراؤنڈ ریلوے روڈ کے بجائے نیک دل، انصاف پسند اور آزادی پر یقین رکھنے والے لوگوں کے گھر تھے جو آزادی کے لئے بھاگنے والوں کو پناہ دیتے تھے۔ ہیریٹ رات کوشمالی ستارہ کی سمت میں سفر کرتی تھی اور دن میں مہربان ہمدرد لوگوں کے گھر چھپ جاتی۔ آخر کار ایک دن وہ آزاد ریاست پینسلوینیا کے شہر فلڈیلفیا پہنچ گئی۔ یہ سال تھا 1849 ء کا اور ہیریٹ کی عمر تقریباً اٹائیس سال کی تھی۔ جب پہلی بار اس نے آزاد فضا میں سانس لی تو اس کا کہنا تھا کہ ہر طرف سورج کی روشنی زمین پر سونے کی طرح چمک رہی تھی اور مجھے لگا کہ میں جنت میں ہوں۔ مجھے یقین آ گیا ”میں آزاد ہوں، آخر کار میں آزاد ہوں۔“

لیکن ہیریٹ کو صرف اپنی آزادی ہی پیاری نہ تھی اس کا مشن تو اپنے جیسے بہت سے لوگوں کو آزاد کرانا تھا۔ اس نے دن رات ایک ہوٹل میں کھانا پکا کر اور صفائی کر کے پیسے جمع کیے تاکہ وہ اور لوگوں کی مدد کر سکے۔ 1850 ء سے 1860 ء تک دس برسوں میں ہیریٹ نے ملک کے جنوب کے انیس چکر لگائے اور تین سو سے زیادہ لوگوں کو آزادی کی راہ دکھائی۔ اس زمانے میں بھاگ جانے والے غلاموں کے خلاف قانون تھا کہ انہیں واپس ملکوں کے پاس بھیجا جائے گا اور جو بھی ان کی مدد کرے گا اس پر 1000 ڈالرز کا جرمانہ ہو گا۔

جگہ جگہ ہیریٹ کی گرفتاری کے اشتہار لگے ہوئے تھے۔ اس کو پکڑنے کا انعام چالیس ہزار ڈالرز کی رقم تھی لیکن ہیریٹ کے نزدیک آزادی زیادہ قیمتی تھی۔ وہ کسی سے نہیں ڈرتی تھی۔ اس کے پاس ہمیشہ ایک بندوق رہتی تھی اور وہ راستے میں ڈرنے والے غلاموں کے سر پر بندوق رکھ کر کہتی ”مردہ لوگ کہانیاں نہیں سنا سکتے۔“ وہ سمجھتی تھی دو ہی راستے ہیں آزادی یا موت، بیچ کا کوئی راستہ نہیں۔ وہ کبھی بھی ایک راستہ پر دوبارہ نہیں گئی۔ مشکل سے مشکل سفر بھی اس نے کامیابی سے طے کیے اور کبھی بھی کسی حادثے کا شکار نہیں ہوئی۔ ہیریٹ خود روپ دھارنے میں ماہر تھی۔ کبھی بوڑھی، کبھی پڑھی لکھی عورت تو کبھی مرد۔ بھاگنے والوں کو بھی عورت سے مرد اور مرد سے عورت بنا دیتی تھی۔

اس کی کہانیاں عام ہونے لگیں تھیں اور وہ لوگوں میں موسس یا موسیٰ کے نام سے مشہور تھی۔ نہ صرف ہیریٹ نے غلام لوگوں کو آزاد ہونے میں مدد دی بلکہ 1861 ء میں شمالی اور جنوبی حصوں کے درمیان ہونے والی سول وار ( خانہ جنگی ) میں بھی حصہ لیا جو امریکی ریاستوں کے درمیان لڑی گئی۔ یہ جنگ غلامی کے خلاف لڑی گئی تھی۔ کچھ ریاستیں غلامی کو غیر قانونی اور کچھ ضروری جانتی تھیں۔ ہیریٹ نے اس جنگ میں یونین یعنی غلامی کے خلاف لڑنے والی ریاستوں کا ساتھ دیا اور کبھی نرس اور کبھی جاسوس بن کر کام کیا۔ نہ صرف یہ بلکہ اس نے عورتوں کے ووٹ دینے کی جدوجہد میں بھی حصہ لیا۔

ہیریٹ ٹب مین نے اپنا گھر ایبرن (نیو یارک ) میں بنایا تھا جس میں اس نے نہ صرف والدین بلکہ اور بھی ضرورت مند نو آزاد لوگوں کو رکھا اور ان کی ہر ضرورت پورا کرنے کی کوشش کی۔

ہیریٹ کی زندگی کی کہانی انتہائی دلچسپ اور یاداشت بہترین تھی۔ 1869 ء میں سارہ بریڈ نامی خاتون نے اس کی سوانح عمری لکھی۔ اسی سال نیلسن ڈیوس نے ہیریٹ سے شادی کی جو اس سے بیس سال چھوٹا تھا۔ 1886 ء میں سارہ بریڈ فورڈ نے اس کی دوسری سوانح ”دی موسس آف ہر پیپل“ لکھی۔

سال 1913 ء میں اس عظیم عورت کا ترانوے سال کی عمر میں نمونیا سے انتقال ہوا۔ اس وقت وہ نیو یارک میں تھی۔

ہیریٹ کا نام انسانی تاریخ میں اس لیے اہم ہے کہ اس نے بہادری اور حوصلہ مندی سے تین سو سے زیادہ غلام لوگوں کو آزادی کا سورج دکھایا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *