کمزور کا کیا زور، بھاگ جائے یا آنسو بہا لے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ دیر کے لیے عظمیٰ خان اور ہما خان نامی دونوں بہنوں کو بھول جائیں اور کچھ دیر کے لیے اپنے ذوق چسکا بازی کو بھی اٹھا رکھیں۔ آئیں، اک ذرا ٹہلتے ہوئے غلامانہ سماج تک ہو آئیں۔

بہت دور کی بات نہیں، ابھی ڈیڑھ صدی پہلے تک ہاتھی، گھوڑے اور مویشیوں کی طرح غلام رکھنا بھی فیشن میں شامل تھا۔ جس کے پاس جتنے جانور اور جتنے غلام وہ اتنا ہی معزز اور صاحب ثروت۔ غلامی کا ادارہ اتنا ہی قدیم ہے جتنی قدیم طاقت ور اور کمزور کی جدلیاتی تقسیم ہے۔ وقت کے اس تمام تر پھیلاؤ کے درمیان کیسے کیسے انقلاب آئے۔ کیسے کیسے سرکشیدہ شاہان والا شان خاک برسر ہوئے اور کیسے کیسے خاک نشین مسند نشین ہوئے۔ اس دوران دنیا کا نقشہ بن بن کر بگڑا مگر ایک غلام کی قسمت تھی جو جیسے تھی ویسی رہی۔

کہنے کو ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں دور غلامی جو ”المشہور“ بحری قزاق اور مہم جو کرسٹوفر کولمبس کی دین تھا اپنی تمام تر ہولناکی کے بعد امریکی دستور کی تیرہویں ترمیم کے ذریعے 1865 میں انجام پذیر ہوگیا تھا لیکن بارہ ہزار سال پرانی خوئے حکمرانی کے سامنے ایک آئینی ترمیم کیا بیچتی ہے؟ سو آقا اور غلام کا رشتہ اپنی بدلی ہوئی صورتوں کے ساتھ آج تک جاری ہے اور تب تک رہے گا جب تک دنیا میں ایک بھی ریاست اور ایک بھی ”ٹھیکیدار“ باقی ہے۔

غلامی اپنی تمام تر بھیانکتا کے ساتھ آج بھی جدید ریاستوں کی بنیاد ہے البتہ اس کے مکھڑے پر سنہری تاروں والا سہرا سجا دیا گیا ہے۔ جن ریاستوں میں سیاسی اور انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کی پرانی تاریخ ہے وہاں صورتحال کچھ اور ہے لیکن جہاں دن دیہاڑے ووٹ چرائے جاتے ہیں اور حقوق، انصاف اور جمہوریت کے نام پر عام آدمی کی آنکھوں میں مرچیں جھونکی جاتی ہیں وہاں صورتحال ویسی ہی ہے جو آپ بہتر سالوں سے دیکھتے چلے آرہے ہیں۔

ہمارے جیسی ریاستوں میں طاقتور طبقات ایک دوسرے کی پشت کو کھجلاتے ہوئے اپنے اقدار کو دوام بخشتے ہیں۔ اداروں کی بات تو رہی ایک طرف، یہاں بعض بعض خاندان اور افراد تک ریاست کا درجہ حاصل کرلیتے ہیں۔ رہی آبادی کے کمزور طبقات کی بات مثلاً بے وسیلہ لوگ، عورتیں، بچے اور بوڑھے، ان کے لیے ریاست ایک جلے پاؤں کی سوتیلی ماں کا روپ دھارن کر لیتی ہے۔ اب یہاں انصاف کی فراہمی کا ڈرامہ کیسے رچایا جاتا ہے۔ اسے ہم ایک تمثیل کی صورت میں دیکھتے ہیں :

فرض کیجیے دو کمزور عورتیں کسی مہربان کی مہربانی کے طفیل ایک عالیشان مکان میں رہائش پذیر ہیں۔ وہ ذاتی وسائل اور سگے رشتوں سے بھی محروم ہیں لہٰذا مہربانوں کے موڈ پر انحصار ان کی بقا کی بنیاد ہے۔ ہیں۔ فرض کیا ان کا کسی ”ریمنڈ ڈیوس“ کے ساتھ کوئی تنازعہ ہوجاتا ہے۔ جدید غلام داری کی حسابی مساوات کی رو سے وہ شخص ان کا آقا ٹھہرتا ہے اور وہ اس کی باندیاں جن کی جان، مال اور آبرو اس پر عین مباح ہے۔ سو ریمنڈ ڈیوس کو تمام تر حق پہنچتا ہے کہ وہ کسی رات درانہ وار ان کے گھر میں گھس آئے اور ان سے اپنی آقائیت کا خراج وصول کرے۔

اب ظاہر ہے گلاس تو ٹوٹے گا، پاؤں بھی زخمی ہوں گے اور حسب توفیق مار کٹائی بھی ہوگی۔ ریمنڈ ڈیوس البتہ ستم ظریفی یہ کرتا ہے کہ باندیوں کی تذلیل کو یقینی بنانے کے لیے اپنی جارحیت کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر چڑھا دیتا ہے۔ وہ اس بات سے قطعی لاپروا ہے کہ اس کے خلاف کیسا طوفان اٹھ کھڑا ہوگا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ پولیس، عدالتیں اور مین سٹریم میڈیا اس کی طاقت کو سلام کرتے ہیں اور اس کے لیے خیر ہی خیر ہے۔

وہی ہوتا ہے، سوشل میڈیا پر طوفان اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا کے انقلابی ان باندیوں کو بڑھ چڑھ کر ہلا شیری دیتے ہیں اور وہ بھی کچھ دیر کو جذبہ شہادت سے سرشار ہو کر پولیس اسٹیشن پہنچ جاتی ہیں۔ اس اثنا میں وہ اپنے دائیں بائیں ”کاریگر“ قسم کے وکیلوں کو بھی موجود پاتی ہے۔ پولیس خیر کیا کرتی لیکن چونکہ دباؤ ہے لہٰذا ان کے وکیل اور تھانیدار ایک دوسرے کو آنکھ ٹکاتے ہیں اور تین چار دن کی خواری کے بعد ایک بے ضرر سی ایف آئی آر کاٹ کر ان کے ہاتھ میں تھما دی جاتی ہے۔ ابھی جذبہ شہادت کا وفور باقی ہے لہٰذا وہ ایف آئی آر بغل میں دبائے پریس کلب کا رخ کرتی ہیں اور ایک عدد پریس کانفرنس میں وہ سرفروشی کی تمنا کا علانیہ اظہار کرتی ہیں لیکن ساتھ ہی رپورٹروں کی دانستہ ہڑبونگ دیکھ کر انہیں آنے والے حالات کا کچھ کچھ اندازہ بھی ہوجاتا ہے۔

اور پھر اچانک دو چار دن کے لیے گمبھیر خاموشی چھا جاتی ہے۔ سوشل میڈیا کے انقلابی جو تتلی کو پہاڑ سے ٹکرا جانے اور بکری کو شیر کے پرزے اڑاتے دیکھنے کے لیے مرے جا رہے ہیں، اس خاموشی پر جز بز ہوتے ہیں لیکن ذوق تماشا ان کی امید بندھائے رکھتا ہے اور پھر اچانک تتلی پہاڑ سے کترا کر گزر جاتی ہے اور بکری شیر کے پرزے اڑا دینے کے عزم کو آئندہ پر ٹال دیتی ہے۔ دونوں بہنیں عدالت میں پہنچ کر چہرے پر ایک کھسیانی مسکراہٹ لاتی ہیں اور ”غلط فہمی ہو گئی“ کہہ کر اپنا مقدمہ واپس لے لیتی ہیں۔ یہ سنتے ہی غیرت مندوں کی غیرت پر گھڑوں پانی پڑ جاتا ہے۔ اور پھر ٹویٹر کے انقلابی ان دونوں کو پھٹکارتے ہوئے کسی اور مظلوم کی تلاش میں نکل کھڑے ہوتے ہیں جوان کے لیے تن تنہا ظلم کے پہاڑ سے ٹکرا جائے۔

تمثیل تمام ہوئی گو انجام ذرا پھسپھسا تھا جس کا مجھے افسوس ہے۔ مجھے اس بات کا بھی ازحد افسوس ہے کہ ان بہنوں نے سمجھوتے کی پھٹی ہوئی چادر اوڑھ کر (اور غالباً کچھ مال متاع بھی وصول کر کے ) آپ کی سادیت پسندی کی تسکین کا سامنا نہیں کیا۔ اور اس کا بھی قلق ہے کہ انہوں نے رتبہ شہادت پر فائز ہو کر انقلاب کو آپ کی گلی کا راستہ نہیں دکھایا۔ آپ دونوں بہنوں کو جی بھر کر لعن طعن کیجیے۔ انہیں رنڈیاں کہیے، دلال کہیے، جو جی میں آتا ہے کہیے لیکن ان دونوں خواتین کی ہمت کی داد بھی دیجیے کہ انہوں نے کچھ نہ کر کے بھی کس کس شخص اور کس کس ادارے کو لباس سے محروم نہیں کر دیا۔ انہیں داد دیجیے کہ انہوں نے ایک نام نہاد سماج سیوک اور اس کے پشت پناہوں کی عزت کو دو کوڑی کا کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی آپ یہ بھی ذہن نشین کر لیجیے کہ ظلم کے مہیب نظام میں بقول میاں محمد بخش کمزور بس یہی کر سکتا ہے کہ جان بچا کر بھاگ جائے یا آنسو بہا کر دل کا بوجھ ہلکا کر لے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *