پلیز! سبسکرائب کریں۔ لائیک کریں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مشاہدے میں آیا ہے کہ فی زمانہ دانشوری نسبتاً آسان اور بہتر شغل ہے۔ باقی تقریباً ہر کام کے لیے بہر طور کسی نہ کسی حد تک عقل و فہم کی ضرورت پڑتی ہے۔ ذاتی طور پر ہمیں دانشوری کا شوق ہے اور نہ اس کی اہلیت۔ چنانچہ اس میدان کی طرف کبھی جھانکنے کی کوشش بھی نہیں کی۔ بلکہ کبھی کوئی ایسا جملہ سرزد ہو بھی جائے جس پر دانشوری کا گماں گزرتا ہو تو جھٹ بقول شخصے کہہ کر اسے کسی نامعلوم کے سر تھوپ دیتے ہیں کہ مبادا اس کا ’الزام‘ ہمارے سر نہ لگ جائے۔

لیکن اب ایسی ہوا چلی ہے کہ ہر دوسرا شخص بزرجمہر ( اس لفظ کے معانی آپ کو آتے ہوں تو براہ کرم مجھے بھی بتائیے گا ) بنا دانشوری کے پھول نچھاور کر رہا ہے۔ اور ایسے میں ہم نے کئی ایسے احباب کو بھی اس میدان میں معرکہ آرائی کرتے دیکھا جن کے بارے میں ہمیں قوی یقین ہے کہ وہ دنیا کا کوئی کام بھی کر سکتے ہیں سوائے دانشوری کے۔ چنانچہ جب ہم نے ان لوگوں کو دانشوری فرماتے سنا تو ہمیں شدید حیرت کے ساتھ تھوڑا حوصلہ بھی ہوا اور ہم نے سوچا کہ اگر یہ لوگ دانشوری کر رہے تو پھر ہم تو یہ کام ان سے کہیں بہتر کر سکتے ہیں۔ لیکن اس حوصلہ افزاء حقیقت کے باوجود بھی ہم اس طرف جانے کے لیے اپنے آپ کو بوجوہ تیار نہیں کر پائے۔

علامہ اقبال کہا کرتے تھے ہمارے ہاں المیہ ہے کہ جن لوگوں کو بولنا چاہیے وہ چپ ہیں اور جنہیں خاموش رہنا چاہیے انہوں نے منہ کے ساتھ سپیکر باندھا ہوا ہے۔ آج کل ہمارے ہاں چلنے والے یو ٹیوب چینلز میں سے ایک قابل ذکر تعداد ایسے چینلز کی ہے جو اقبال کے اس سنہری ارشاد کو درست ثابت کر رہی ہے۔ یقین جانیے حیرت ہوتی ہے کہ آج کل کئی احباب دھڑا دھڑ یو ٹیوب چینلز بنا کر لوگوں کو زندگی گزارنے کے طریقے سکھا رہے ہیں حالانکہ کچھ عرصہ پہلے تک یہ بالکل نارمل تھے۔

یو ٹیوب چینلز کی ہر طرف بھرمار ہے اور لگتا ہے کہ جیسے ہر آدمی اس طرف چل نکلا ہے۔ کیا سیٹھ اور کیا سیٹھی۔ کیا خان اور کیا چوہدری ہر کوئی اسی طرف جاتا دکھائی دیتا ہے۔ اور پھر ہر کوئی یہ خاص جملہ لازمی بولتا ہے کہ آپ میرے چینل کو سبسکرائب کریں اور لائیک کریں۔ اس بات کی ویسے بالکل سمجھ نہیں آتی کہ آپ کسی کو اپنی کوئی چیز پسند کرنے کا کیسے کہہ سکتے ہیں۔ کم از کم یہ ”آپشن“ تو آپ اسی پہ رہنے دیں۔ ہم جب بڑے بڑوں کو اپنا چینل لائیک کرنے کی التجائیں کرتے سنتے ہیں تو یقین جانیے حیرت ہوتی ہے۔

ا س پہ مجھے ایک ادبی واقعہ یاد آ گیا ایک دفعہ معروف انگریزی ڈرامہ نگار جارج برنارڈ شا سے ایک دفعہ ایک آدمی نے درخواست کی کہ اس کا ڈرامہ تھیٹر میں چل رہا ہے اور وہ براہ کرم آ کر دیکھیں اور اس کی راہنمائی کے لیے تبصرہ فرمائیں۔ برنارڈ شا اس کے اصرار پر چلا گیا اور وہاں جا کر پورے ڈرامے کے دوران وہ سویا رہا۔ ڈرامے کے اختتام پر اس بیچارے رائٹر نے برنارڈ شا سے کہا کہ آپ میرے ڈرامے پر کیا تبصرہ فرمائیں گے آپ تو مسلسل سوئے رہے تو اس پر برنارڈ شا نے کہا کہ میری طرف سے یہ بھی ایک تبصرہ ہی ہے۔

یو ٹیوب چینل کے نیچے اسے پسند کرنے اور سبسکرائب کرنے کی آپشن آ رہی ہوتی ہے۔ لیکن اکثر چینلز والے تقریباً ہر ویڈیو کے شروع میں ہی یہ درخواست کر رہے ہوتے ہیں کہ سب سے پہلے اسے لائیک وغیرہ کریں۔ ان کی بات سن کر ایسا لگتا ہے کہ انہیں اس بات سے غرض نہیں کہ آپ یہ ویڈیو دیکھیں یانہ دیکھیں ان کا مطمح نظر محض یہ ہے کہ آپ اسے جیسے تیسے پسند ضرور کریں اور اس کے ساتھ چینل کو سبسکرائب بھی کرتے جائیں۔

کسی بھی قابل تحسین کام کی مناسب تشہیر معیوب نہیں ہوتی اور اس کی ضرورت ہمیشہ سے محسوس کی جا تی رہی ہے شنید ہے کہ غالبؔ جیسے بے مثال اور باکمال شاعر نے بھی اپنا پہلا دیوان خود سے چھپوا کر تقسیم کروایا۔ سو! کوئی بھی مستحسن کام جس میں عوامی فائدہ اور فلاح کا پہلو موجود ہو، کی مناسب تشہیر قابل اعتراض نہیں ہے۔ لہذا یو ٹیوب چینلز بنانے اور چلانے پر ہر گز کوئی اعتراض نہیں لیکن دیکھنا چاہیے کہ آپ کی اس کاوش کا کسی کو تھوڑا بہت فائدہ بھی ہو رہا ہے یا نہیں۔

اور اس سے بھی پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آپ اس کاوش کے کسی حد تک اہل بھی ہیں یا نہیں۔ یعنی آپ جس موضوع پر لب کشائی فرما رہے ہیں اس کے لیے مناسب اور مصدقہ معلومات آپ کے پاس ہیں۔ ؟ میرے خیال میں اس امر کا بالکل خیال نہیں رکھا جا رہا۔ کئی یوٹیوب چینلز کے پروگرامز میں زیر بحث لائے گئے موضوعات اور ان کی نوعیت دیکھ کر بندے کا اپنا سر وغیرہ پیٹنے کو دل کرتا ہے۔ اور اس پہ مستزاد یہ کہ جو صاحب اس موضوع پر بطور ماہر گفتگو فرما رہے ہوتے ہیں انہیں دیکھ کر تو بندہ واقعی سر پیٹنا شروع کر دیتا ہے۔

ان کے اپنے شعبے اور اس موضوع کا آپس میں دور دور تک کوئی واسطہ نظر نہیں آتا۔ مثلاً ہمیں شدید حیرت ہوتی ہے جب ہمیں پتہ چلتا ہے کہ جو صاحب اپنے چینل پر سہاگ رات کے لیے ترجیحات پر ماہرانہ گفتگو فرما رہے ہیں ان موصوف کا اپنا تعلق سڑکوں کی ٹھیکیداری وغیرہ سے ہے۔ یقین جانئیے کئی دفعہ ایسا لگتا ہے جیسے کسی سبزی فروش کو کسی بڑی لائبریری کا انچارج لگا دیا گیا ہو۔ چنانچہ ایسے احباب کو یوں سر گرم عمل دیکھ کر حیرت ہوتی ہے لیکن اصل دھچکا تب لگتا ہے جب پتہ چلتا ہے کہ ان کے سبسکرائبرز کی تعداد ہزاروں میں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *