میرے مہمان، گھر کے پچھواڑے صحن میں گھونسلے کے باسی۔ ۔ ۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دو روز قبل میری بہو کہنے لگی۔ انکل یہ ہمارے ڈیک کے بالکل نیچے سے چوں چوں کی آوازیں سنائی دے رہیں۔ پتہ نہیں کیا ہے۔ مجھے درز سے چھوٹے کان بھی نظر آئے ہیں۔ زین کو پیچھے لے جانا ہوتا ہے۔ دیکھیں کوئی اسے نقصان نہ پہنچا دے۔ کل شام اس کی یاد دہانی پر پیچھے گیا۔ تو ڈیک کے نیچے کڑی اور چھت کے درمیان ایک خوبصورت گھونسلہ تھا جس کے اندر سے چوں چوں کی آواز اور چونچ دکھائی دے رہی تھی۔ کہ اچانک لالی (گرسل) سے چھوٹا پرندہ اڑتا آیا۔

منہ میں چوگا تھا۔ گویا ماں تھی۔ گھونسلے سے کچھ فاصلے پہ بیٹھ گئی اور میری طرف دیکھنے لگی۔ اس کی جھجک محسوس کرتے میں ذرا کنارے ہوا ہی تھا کہ گھونسلے کے ساتھ آئی۔ چوگا بچے کے منہ میں ڈالا اڑ گئی۔ میں نے لی ہوئی فوٹو بہو اور پوتی کو دکھائیں۔ تو خوشی سے کھل گئیں کہ چلو تین ماہ بعد گھر میں بن بلایا سہی، مہمان تو آیا۔

آج صبح کیاری چیک کرنے گیا تو دیکھا ایک چھوٹا سا پرندہ گھاس پہ بیٹھا تھا اور لکڑی کی باڑ کے اوپر اس کی ماں بیٹھی تھی۔ میری آہٹ محسوس کرتے بچے نے اڑان بھری۔ تو ذرا اونچا ہوتے چند قدم پہ جا بیٹھا۔ اس کی ماں پاس آ گئی۔ میں سمجھا بچہ اتنا بڑا ہوگیا کہ ماں اسے اڑنے کی ٹریننگ دے رہی ہے۔ مگر یہ بھی خدشہ ہوا کہ یہ تو اتنا اونچا اڑتا محسوس نہیں ہوا کہ دوبارہ گھونسلے تک پہنچ سکے۔ بچہ دوسرے کونے تک پہنچ گیا اور ماں چوگا منہ میں ڈالنے لگی۔ میں گھاس کو پانی دینے کا ارادہ ملتوی کرتے۔ کہ یہ ڈسٹرب نہ ہوں واپس آ گیا۔

کوئی تین گھنٹے قبل میری بیوی بہو پوتے پوتی کے ساتھ بچوں کو کھلانے پچھلے صحن میں موجود تھی۔ میں نے جھانکا تو پوتی خوفزدہ آواز میں بولی دادا ابو دیکھیں وہ کونے میں پرندہ الٹا پڑا ہے۔ دادا ابو وہ زندہ لگ رہا ہے۔ ہل رہا ہے۔ پلیز فوراً آئیں۔ پلیز دادا ابا۔ وہ روہانسی ہو رہی تھی۔ اس کی ماں کا چہرہ بھی غمگین تھا۔ تب مجھے جھٹکا لگا۔ وہ بچہ تو کسی طرح گھونسلے سے نکل کر گرا تھا۔ اور واپس نہیں پہنچ سکا۔

میں بھاگتا گیا۔ وہی صبح والا بچہ الٹا پڑا تھا۔ میں نے سیدھا کیا۔ تو بیٹھ گیا۔ مگر ہلنے اڑنے کی سکت نہ تھی۔ میں نے آسانی سے اسے ہاتھ میں پکڑ لیا۔ میری دس سالہ پوتی جو پہلے ڈر رہی تھی اب ہمدردی سے بھری ہوئی تھی۔ اس نے پانی والا پائپ تھوڑا سا کھولا کہ ہلکا پانی نکلے۔ بچہ پانی پیتا چلا گیا اور جسم میں طاقت محسوس ہوتی گئی۔ اور ہم سب کے چہرے کھلتے گئے۔ میرے کہنے پر میری بہو بیسمنٹ سے سیڑھی نکال لائی تھی۔ میں سیڑھی پہ کھڑے ہوکے بچے کو گھونسلے کے قریب کیا۔ اس نے چوں چوں کیا تو اندر سے چوں کرتا دوسرا سر نکلتا دکھائی دیا۔ اوہ تو یہ دو بچے ہیں۔ میں نے آرام سے گھونسلے میں میں رکھا۔ دونوں چہچہاتے ایک دوسرے کی چونچیں دے رہے تھے۔ اور نیچے میرے بچے اس ملن پہ خوشی سے شاداں تھے۔

میں واپس اوپر آ کے دروازے میں داخل ہوتے سوچ رہا تھا کہ خدا کرے یہ ٹک جائے۔ دوبارہ نہ گرے۔ اور کہ ان کی ماں واپس آکر کتنی خوش ہوگی۔ کہ اچانک میر ے منہ سے درد سے ایک چیخ نکل گئی۔

آج صبح ہوتے ہی لاہور سے ایک ماں نے روتے ہوئے کہا تھا انکل بہت دعا کریں۔ میرا بیٹا بہت مشکل میں ہے۔ نمونیا نے کورونا میں بدلتے وینٹیلیٹر تک پہنچا دیا ہے۔ بہت دعا کریں۔ میرا جوان بچہ چھوٹے چھوٹے بچوں والا۔ مل بھی، دیکھ بھی نہیں سکتے ماں باپ۔ دوسرا بھائی سب چیخیں مار کے رو رہے تھے۔

میں سارا دن دعا تو کرتا رہا تھا۔ مگر اب میں تقریباً چیخ رہا تھا۔ اے خدا تو نے مجھے توفیق دی کہ میں ایک ماں بھائی سے بچھڑے بچے کو ان تک پہنچا سکوں۔ اے خدا میری فریاد سن اور اس تڑپتی ماں کے بچے کو اور اس جیسی دوسری ماؤں کے بچوں کو صحت کے ساتھ ماؤں کی گود میں واپس لا۔ خدا کرے میری فریاد باریاب ہو۔ آمین۔ آپ بھی دعا کریں یہ دعا قبول ہو۔

بہو اور بچے اندر آئے تو میرے لئے یہ خبر لائے کہ بچہ گھونسلے میں ہے دوبار گرا نہیں۔

کوئی ڈیڑھ گھنٹہ بعد میری بیوی لان اور کیاری کو پانی سے سیراب کر کے آئیں تو پھر میرا پہلا سوال یہی تھا۔ وہ خوشی سے پھولی بولی۔ پتہ ہے وہ ماں بھی آ گئی تھی اور چہکتی ہوئی چونچ نکالے بچوں سے چونچ ملاتی رہی۔ تین چار مرتبہ اڑ کے گئی اور اسی بچے کے منہ میں چوگا ڈالتے لگی اور آخری مرتبہ اس بچے نے پتہ کیا کیا۔ اس نے ماں لیا چوگا دوسرے کے منہ میں ڈال دیا۔
خدا تمام ماؤں کی گو دیں ہری بھری اور اولادیں سلامت رکھے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *