ٹائیگر فورس کے ذریعے انتظامیہ کو دباؤ میں مت لایا جائے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مارچ کے وسط سے شروع ہونے والے لاک ڈاؤن کو عوامی سطح پر زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ اگرچہ شروع کے کچھ دنوں میں پبلک ڈری ہوئی تھی اور پولیس کی طرف سے بھی کچھ سختی دکھائی گئی خاص کر سندھ نے لاک ڈاؤن کو پوری طرح نافذ کرنے کی کوشش کی۔ تاہم کیسز کی تعداد سستی سے بڑھنے اور وفاقی حکومت کی طرف سے لاک ڈاؤن کو بے دلی سے لینے پر عوام کے اندر کرونا کے متعلق ابہام پیدا ہونے لگا اور آہستہ آہستہ لوگوں نے گھروں سے نکلنا شروع کر دیا پھر پاکستانی لوگوں کے بہتر مدافعتی نظام کے چرچے ہونے لگے۔

سوشل میڈیا پر میمز اور لطائف کے ساتھ ساتھ کرونا کے متعلق سازشی نظریات کی بھرمار ہوتی گئی اور پھر کرونا کے وجود سے ہی انکار ہونے لگا۔ سوشل میڈیا پر اس طرح کے سوالات پوچھے گئے کہ آپ کے کسی جاننے والے کو کرونا ہوا ہے یا کسی کی وفات ہوئی ہے؟ کچھ نام نہاد دانشوروں نے ایک پلڑے میں کرونا کے نتیجے میں ہونے والی چند اموات رکھیں اور دوسرے میں غربت اور بھوک سے مرنے والے لاکھوں خیالی لوگوں کو رکھا اور لاک ڈاؤن مکمل طور پر کھول دینے کے بارے وکالت شروع کر دی۔ رہی سہی کسر رمضان کے آخر میں شاپنگ کے شوق نے پوری کی۔ تاجر جو تیل سستا ہونے کے باوجود مہنگائی کم کرنے کے لئے تیار نہیں کاروبار بند ہونے سے ملکی زبوں حالی کا راگ الاپتے رہے۔ تاجروں کی نظریں ان اربوں روپوں پر تھیں جو احساس کفالت پروگرام کے تحت کم آمدنی کے افراد میں تقسیم کیے گئے تھے۔

تاہم جب عید کے قریب بازاروں کو کھولا گیا تو کسی ایس او پی کا خیال نہیں رکھا گیا اور بازاروں میں لوگ امنڈ آئے۔ اس طرح ٹرانسپورٹ کو کھولا گیا جس کے بعد کرونا کے خاص پاکٹس میں محدود رہنے کے امکانات بھی ختم ہو گئے۔ اور وبا تیزی سے پورے ملک میں پھیلنا شروع ہو گئی۔ اس دوران ڈاکٹر بتاتے رہے کہ اگر لاک ڈاؤن پر عملدرآمد نہ ہوا یا لاک ڈاؤن ختم کیا گیا تو ہمارا ہیلتھ کیئر سسٹم مریضوں کی بڑھتی تعداد کا بوجھ نہیں برداشت کر سکے گا۔

تاہم میڈیکل پروفیشن سے وابستہ ماہرین کی رائے کہیں پر اہمیت اختیار نہیں کر سکی اور جیسے ہی لاک ڈاؤن ختم کیا گیا مریضوں کی تعداد بڑھتی گئی اور پھر ڈاکٹرز اس سے متاثر ہونا شروع ہوئے۔ ڈاکٹر، ہیلتھ سٹاف اور ان کے خاندان اس وقت کرونا سے بری طرح شکار نظر آتے ہیں۔ چشم فلک نے یہ بھی دیکھا کہ ہمارے لوگ جو ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی وضاحت کے باوجود اپنے عزیزوں کو غسل دینے اور دفنانے پر تیار نہیں وہ بھی کرونا کے وجود کو ماننے کے لئے تیار نہیں اور اسے سازش قرار دیتے ہیں۔

سارا بوجھ ڈاکٹروں پر ڈالا جا رہا ہے لگتا یہی ہے ڈاکٹر بہت جلد احتجاج پر مجبور ہوں گے یا بے دلی سے کام شروع کر دیں گے اس کا حل یہی ہے کہ گورنمنٹ فیصلہ سازی میں میڈیکل پیشہ سے وابستہ ماہرین کو شامل کرے۔ ابھی مئی کے درمیان میں ہی سیکریٹری ہیلتھ کی طرف سے سمارٹ سمپلنگ کے بعد لاہور میں مبینہ طور پر لاکھوں مریضوں کے موجود ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا اور لاہور کی حد تک سخت لاک ڈاؤن کی سفارش کی گئی تاہم ماہرین کی پیش کی گئی اس آفیشل تجویز کو بھی قابل غور نہیں سمجھا گیا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کرونا سے لڑائی میں فیصلہ سازی کس طرح ہو رہی ہے۔

اب جب کہ گورنمنٹ نے واضح کر دیا ہے کہ لاک ڈاؤن نہیں کیا جا رہا۔ معیشت کا پہیہ چلانے کی کوشش میں وبا کو نظرانداز کیا جا رہا ہے تو اب یہ عوام کی ذمہ داری ہے کہ وہ سماجی فاصلے کو اپنا کے رکھیں۔ گورنمنٹ نے اگرچہ فیس ماسک پہننا لازمی قرار دیا ہے تاہم اس پر عمل در آمد کے لئے حکومت کو پوری سنجیدگی دکھانا ہو گی۔ اب لوگوں کو خود بیماری کے خلاف متحرک ہونا ہو گا، محلہ لیول پر کمیٹیاں بنا کر اپنے علاقے / محلے کو لاک ڈاؤن کرنا ہوگا۔ کام کرتے وقت ماہرین کی بتائی گئی باتوں پر عمل کرنا ہو گا۔

ڈاکٹروں اور ان کی فیملیز میں ہونے والی اموات کے بعد چاہیے تو یہ تھا کہ کچھ سیکٹرز کو بند کیا جاتا تاکہ کیسز اور اموات کی تعداد کم کر کے ڈاکٹروں پر بوجھ کم کیا جائے لیکن اس کی بجائے مزید شعبوں کو کھول دیا گیا۔ اس وقت حالات بہت دگرگوں ہیں یورپ میں لگتا ہے وبا پر قابو پایا جانے لگا ہے چین میں بھی وبا ختم ہو چکی ہے امریکہ میں بھی اس کا زور ٹوٹ چکا ہے تاہم برصغیر میں اس کا زور بڑھتا جا رہا ہے پاکستان میں نئے کیسز کے حساب سے دنیا میں تیسرے یا چوتھے نمبر پر آ چکا ہے اموات بھی بڑھتی جا رہی ہیں اب یہ سلسلہ کیسے رکے گا ہماری پالیسی سازوں کے پاس کوئی پلان نظر نہیں آتا۔

اب بات ہو جائے ٹائیگر فورس کے حوالے سے جس کی تشکیل کو کافی عرصہ گزر چکا ہے۔ اس وقت ٹائیگر فورس کے جوان کام کے لئے بے تاب ہیں تاہم گورنمنٹ ان سے کام ہی نہیں لے رہی۔ ویسے بھی لاک ڈاؤن کھلنے کے بعد ان کا جواز بھی ختم ہو چکا ہے۔

ٹائیگر فورس کے جوان کام کرنے یا سرکار کے کام میں مداخلت کرنے کے لئے کتنے بے تاب ہیں اس کا اندازہ سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو سے لگایا جا سکتا ہے جس میں ایک سو کے قریب ٹائیگر اسسٹنٹ کمشنر فیصل آباد کے آفس میں گھس کر احتجاج کر رہے ہیں کے انتظامیہ ان کو نظر انداز کر رہی ہے اے سی ان کو بلا کر خود غائب ہے اور وہ لگتا ہے بیوروکریسی کی خلاف سخت ایکشن چاہتے ہیں جو ان کے انقلابی جز بے کی قدر نہیں کر رہی۔

کیا بیوروکریسی پر ایک بلا مسلط کر دی گئی ہے؟ کیا بھٹو دور کا جیالا کلچر واپس لایا جا رہا ہے؟ ٹائیگر فورس کو یا تو کسانوں کی مدد کے لئے دیہاتوں میں بھیجا جائے جہاں کسان ٹڈی دل کے حملوں سے پریشان ہیں اس طرح نہروں اور کھالوں کی بھل صفائی پر بھی ان کو لگایا جا سکتا ہے۔ گھر گھر جا کر بچوں کو پڑھا سکتے ہیں تاہم خدارا ان کے ذریعہ انتظامیہ کو دباؤ میں نہ لایا جائے۔ اگر ٹائیگرز کو کھلی چھٹی دی گئی تو لگتا ہے پورا انتظامی سٹرکچر مفلوج ہو کر رہ جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *