پین اسٹیٹ یونی ورسٹی میں اولمپک کوچ چیکی نیلسن سے سیکھی پیراکی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دن اچھے تھے اور ہم جوان۔ ہمفرے فیلو شپ ایک سال کا اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کا اوپن میرٹ پر انتخاب پر مبنی پروگرام تھا۔ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے کرتا دھرتا دنیا بھر سے سول سرونٹس کو چن کر امریکہ بھیجتے تھے۔ ارادہ یہ ہوتا کہ انداز غلامی بھانپ لیں۔ دن رات کے ساتھ میں امریکہ کی آزاد فضا میں باہمی تعلقات اتنے مضبوط ہوجائیں کہ جب کسی امریکی پروگرام کو فروغ دینا ہو تو مصر والوں کے نیپال سے اور تیونس والوں کے سر ی لنکا کے تعلقات کو نیٹ ورکنگ کی صورت میں کام میں لایا جاسکے۔ ہر ترقی یافتہ ملک کو ایسے ہی کرنا چاہیے۔ یہ نفرت کا نہیں، ترقی کی شاہراہ پر گامزن ممالک کے لیے تعلیم و تربیت کا مقام ہے۔

کورس کا ڈیرائن یوں تھا کہ ہر سیمسٹر میں تین مضامین لازم تھے اور تین اختیاری۔ اداروں سے وابستگی، فیلڈ رپورٹس اور مختلف پروگراموں میں شرکت اس کے علاوہ۔

ہمارے افریقی دوست جس سول سروس کے ممبر تھے وہ زیادہ سنجیدہ اور صلاحیت آشنا تھی۔ اپنے پیشہ وارنہ مقاصد کے تعاقب میں وہ اختیاری مضمون بھی ایسے سنجیدہ لے بیٹھے کہ سن کر ابکائی آتی تھی۔ پبلک فنانس، امریکی آئین، برطانیہ اور امریکہ کے تعلقات۔ ہمیں پتہ تھا کہ ہم واپس آن کر جس نیم خواندہ افسر شاہی اور سیاسی نظام کا حصہ بنیں گے اس میں ماحولیات کے وزیر کو environment کے ہجے نہیں آتے ہوں گے اور اسمبلی میں مصنوعی عمل تولید Vitro Fertilization (IVF) In پر اٹھنے والے سوال کا جواب وزارت زراعت میں ہم سے بطور ڈائیریکٹر فرٹلائزر امپورٹ اس لیے مانگا جائے گا کہ دونوں میں fertilizer  کا لفظ آتا ہے۔

سو افریقی سول سروس کو یکسر نظر انداز کرکے طاہرہ سید کو یاد کیا اور پہاڑی گیت منے دی موج مویا ہنسنا گا کر پراسپکٹس پر نگاہ ڈالی تو پینٹگ کی چالیس، دودھ سے مختلف مصنوعات بنانے کی سو، ڈانس کی دو سو اور جانے کیا کیا اور مضامین کی کلاسیں اس جامعہ کی جانب سے بطور اختیاری مضمون موجود تھیں۔

ہم نے سوئمنگ برائے نوآموزگان۔ فگر ڈرائینگ اور ڈیپارٹمنٹ کے سامنے سے گزرتی ہمارا پرانا کرش اطالوی اداکارہ کلاڈیا کارڈینل جیسی استانی نینسی پاسکل کا حدود و اربعہ پتہ کرکے فرنچ زبان کے اختیاری مضامین کا فارم بھرلیا۔ یہ فارم جمع کرایا تو اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کو لگا کہ یا تو ہماری انگریزی کمزور ہے یا  ہم پاکستان کے لیے نہیں، ایم آئی فائیو والی بیوروکریسی کے لیے موزوں ہیں۔ اس کے بانی ڈائیریکٹر میکس ویل نائٹ کو بھی غیر معمولی جانور پالنے کا بہت شوق تھا وہ بھی اپنے فلیٹ میں۔ ان کا کہنا تھا کہ اچھے جاسوس کی تربیت میں جانوروں کا مشاہدہ اور سدھانا بہت بڑا ہنر ہے۔ جیمز بونڈ کا کردار انہیں کو سامنے رکھ کر تخلیق ہوا تھا۔

 فارم دیکھ کرپروگرام ڈائیریکٹر میکیلا تھروپ نے خود بات کی اور ہنستے ہوئے ہماری یہ دلیل سن کر اختیاری مضمون کا مطلب اختیار ہے۔ کورس کی سہولت جامعہ کے اندر موجود ہے سو ہمیں فگر ڈرائینگ، بنیادی سوئمنگ اور فرینچ کی اجازت دے دی۔ کہنے لگی تم نے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ پر رحم کیا ورنہ کوئی بعید نہ تھا کہ تم روس یا اسرائیل کے مارشل آرٹ سامبو یا کروماگا کی فرمائش کر دیتے۔ میں کوشش کرتی کہ تم مایوس نہ ہو۔ ہم نے کہا اب بدل لیتے ہیں۔ وہ کہنے لگی پھر آ جانا۔ ابھی اور بھی مرحلے ہوں گے۔

نینسی پاسکل کو بھی اچھا لگا کہ اس کی کلاس میں امریکہ میں پاکستان سے کوئی مسلمان آن کر فرینچ سیکھے۔ اس کا ڈیپارٹمنٹ گھرکے سامنے اور گھر ہمارے دوست کی دکان کے اوپر تھا سو کلاس کے بعد ایک میل ساتھ واک کرتے ہوئے گھر جانا تھا۔ شرط یہ تھی کہ راستے میں فرنچ بولیں گے۔ ہم نے کہا ایسے کیوں نہیں کہتی ہو کہ کلاس کے باہر ہم سے بات نہیں کرنی۔ بدنامی کا خوف ہے۔

فتنہ سامان پرویز ہمارے حیدرآباد کا تھا اور یونی ورسٹی کی ہر برائی سے واقف تھا کہنے لگا عالیجاہ آپ ان جھلے امریکیوں کو لمبی کہانی مت سنانا۔ یہاں پولیس اور مجسٹریٹ علیحدہ ہوتے ہیں۔ آہستہ سے کہنا کہ میں وہی کام کرتا ہوں جو آپ کا میئر کرتا ہے مگر یہاں وہ ووٹ کے ذریعے منتخب ہوکر آتا ہے اور پاکستان میں مقابلے کے امتحان کے ذریعے۔

یہ داستان سوئمنگ کی استاد ان کی اولمپک ٹیم کی کوچ چیکی نیلسن کو سنائی تو وہ نہال ہوگئی کہ اتنا بڑا آدمی میری شاگردی میں بہتے بہتے آگیا ہے۔ کہنے لگی تم مجھ سے سچ نہ بولتے تو میں داخلہ نہ دیتی۔ انٹرویو میں جب اسے لگا کہ ہم ڈوب مرنے سے بہت ڈرتے ہیں تو وہ ہمیں نکال کر وہاں سے Adaptive Swimming کی کلاس میں لے گئی۔ کہا، ساتھ والے کمرے میں Teaching Assistants بیٹھے ہیں۔ چپ چاپ جاﺅ جو لڑکی یا لڑکا تمہیں پہلی نظر میں اچھی لگے اس کا نمبر نوٹ کرلو۔ سریلی اکھیوں والی ڈیبی اچھی لگی تو ہم نے بتا دیا۔ کہنے لگی بہت عمدہ انتخاب ہے۔ مزاج دھیما اور بدن ایسے تیندوے جیسا ہے جو درختوں پر چڑھنا سیکھ گیا ہو۔ تمہارے گھر کے قریب والے ہاسٹل میں رہتی ہے۔ بتانے لگی کہ یہ سب یونی ورسٹی کے ہی طالب علم ہیں ۔ اپنی فیس کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ورک اسٹڈی پروگرام کے تحت اپنی پڑھائی کے دوران فالتو گھنٹوں میں ملازمت کرتے ہیں۔

ان کی لائف گارڈ کی ابتدائی ٹریننگ ہے اور کچھ ان میں سے یونی ورسٹی کی سوئمنگ ٹیمز کا بھی حصہ ہیں۔ ہماری جامعہ میں میں تمام کام طالب علم ہی کرتے ہیں۔ چاہے وہ ریس کے گھوڑوں کی ٹریننگ اور دیکھ بھال ہو چاہے آئس کریم بنانا، ٹوائلٹس کی صفائی یا بس سروس یا مالی کا کام ۔ ڈیبی تمہارے لیے یونی ورسٹی کی جانب سے معاون کوچ مقرر ہو جائے گی۔ پول میں داخل ہونے سے پہلے شاور لینے اور عمارت سے باہرجانے تک تمہاری حفاظت اور تربیت میں انفرادی معاونت اس کی ہی ذمہ داری ہوگی۔

سوال جواب کا سلسلہ بڑھا تو سمجھانے لگی کہ میں نے آپ کو بگ نرز کی کلاس سے Adaptive Swimming کی کلاس میں کیوں منتقل کیا ہے ۔ یہ میں آج شام پول پر بتاﺅں گی وہاں تمہارے جیسے اور بھی طالب علم ہوں گے۔

شام کو کلاس کے آغاز میں استانی جی نے اعلان کیا کہ سوئمنگ کاسٹیوم پہن کر بھی آج کوئی پانی میں نہیں جائے گا سوائے میرے۔

میری باتیں غور سے سنو، سب سے پہلے اپنے بدن کو دیکھو۔ صرف اپنے بدن کو۔ ڈورتھی، کولین، جوزف یا ٹامس کے بدن کو نہیں۔ میرے بدن کو بھی نہیں دیکھنا، ویسے میرا بدن بھی دیکھنے میں برا نہیں۔ اپنا بدن دیکھو اور پول کو دیکھو۔ پھر سچ بتاﺅ کہ دونوں میں سے کونسا بدن بڑا ہے تمہارا یا سوئمنگ پول کا۔ تو دوسرا سبق یہ ہے کہ چھوٹے بدن کو یعنی تمہارے بدن کو پانی کے بڑے بدن سے الجھنا یا لڑنا نہیں چاہیے۔ اس کے ساتھ بالکل ایسے ہی رہو جس طرح امریکہ کے ساتھ، میکسکو، پورٹوریکو اور کینیڈا رہتے ہیں۔ اس پر ایسے لیٹو جیسے واٹر بیڈ پر لیٹا جاتا ہے۔ جب پانی میں ہو تو اس میں اسی سکون سے رہو جیسے عبادت گاہ میں ہوتے ہو۔

اس پر ایک اتاﺅلی طالبہ نے اعتراض کیا کہ چیکی نے پہلا سبق تو بتایا نہیں کہنے لگی معاشقوں اور تعلیم کا لطف درمیان سے لینے لگو گی تو کچھ وقت بچ جائے گا۔

پہلا سبق یہ ہے کہ خوف بھی ایک تعلیم ہے۔ اسے ہم شعوری طور پر پروان چڑھاتے ہیں۔ پانی میں ڈوب جانے کا خوف ایک اکتسابی خوف (Acquired Fear) ہے۔ یہ ہم نے مختلف حوالوں سے خود پر بتدریج طاری کیا ہے، اسی طرح اسے بتدریج Un-learn بھی کرنا ہو گا۔

 تیسراسبق ذرا دقت طلب ہے اس لیے کہ آپ نے اپنی بنیادی جبلت جو ایک جل تھلیے (تھل بمعنی خشکی) یعنیAMPHIBIAN  کی ہے مگر ہم خشکی پر رہتے رہتے پانی میں رہنے کے طور طریقے بھلا چکے ہیں۔ سو سبق یہ ہے کہ پانی کے اندر سانس باہر نکالو (Exhale) اور پانی کے باہر سانس اندر لو (Inhale)۔ انگریزی زبان میں بہت غلطیاں ہیں ایک بڑی غلطی Death by Drowning (ڈوب کر مرنے) کی ہے ۔ پانی بہت پاکیزہ وجود ہے۔ کائنات نے اسے پاکیزگی کا سب سے بہترین ذریعہ بنایا ہے۔ وہ بھی جو روح کو پاکیزہ بناتا ہے اسے پہلے بدن کو دھو کر پانی سے پاکیزہ بنانا ہوتا ہے۔ وہ تو کسی مردہ کو اپنے اندر رکھتا ہی نہیں، مردہ ہے تو چاہے وہ وہیل مچھلی جتنا قوی ہیکل نہ ہو پانی اسے کنارے پر لا پھینکے گا۔ قدرت نے پھیپھڑوں کی صورت میں تمہارے بدن میں ایک لائف جیکٹ رکھ دی ہے جب تک اس میں آکسیجن رہے گی تم تیرتے رہوگے۔ آکسیجن کی جگہ تم نے ہنگامہ آرائی کے دوران پانی پھیپھڑوں میں بھرلیا تو سمجھ لو مرگئے۔

چیکی کے بتائے اسباق سیکھ کر تین ماہ ہوئے تو کورس ختم ہوگیا۔ اس نے کہا تم میرے ساتھ ایک سال اور رہتے تو میں تمہیں مقابلے میں فلوریڈا میں اورکا وہیلز اور شارک کے ساتھ تیراتی۔ ہم نے کہا آپ ہمارا مقابلہ اتنی بڑی مچھلیوں سے کرانا چاہتی ہیں تو کہنے لگی Size is a matter of perspective  (سائز تو نقطہ نظر کی بات ہے)۔ کچھ مرد بھی گولڈ فش کی طرح تیر سکتے ہیں۔ پاکستان جاکر تیراکی جاری رکھنا۔ تمہیں صرف تین ماہ اور تربیت کی ضرورت ہے۔

debbie and chikki nelson
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اقبال دیوان

محمد اقبال دیوان نے جوناگڑھ سے آنے والے ایک میمن گھرانے میں آنکھ کھولی۔ نام کی سخن سازی اور کار سرکار سے وابستگی کا دوگونہ بھرم رکھنے کے لیے محمد اقبال نے شہر کے سنگ و خشت سے تعلق جوڑا۔ کچھ طبیعتیں سرکاری منصب کے بوجھ سے گراں بار ہو جاتی ہیں۔ اقبال دیوان نےاس تہمت کا جشن منایا کہ ساری ملازمت رقص بسمل میں گزاری۔ اس سیاحی میں جو کنکر موتی ہاتھ آئے، انہیں چار کتابوں میں سمو دیا۔ افسانوں کا ایک مجموعہ زیر طبع ہے۔ زندگی کو گلے لگا کر جئیے اور رنگ و بو پہ ایک نگہ، جو بظاہر نگاہ سے کم ہے، رکھی۔ تحریر انگریزی اور اردو ادب کا ایک سموچا ہوا لطف دیتی ہے۔ نثر میں رچی ہوئی شوخی کی لٹک ایسی کارگر ہے کہ پڑھنے والا کشاں کشاں محمد اقبال دیوان کی دنیا میں کھنچا چلا جاتا ہے۔

iqbal-diwan has 20 posts and counting.See all posts by iqbal-diwan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *