ابا جی کی یاد میں
ماں باپ اللہ تعالی کی ایک بہت بڑی نعمت ہیں۔ ماں کا نعم البدل تو پوری دنیا میں کوئی نہیں ہے۔ باپ بچوں سے اظہار محبت کیے بغیر ان سے محبت کرتا ہے۔ جینے کا حوصلہ اور سلیقہ عطا کرتا ہے۔ زندگی کے نشیب و فراز میں اپنے بل بوتے پر چلنا سکھاتا ہے۔ ماں کی محبت کا اندازہ تو دنیا میں آنکھ کھولتے ہی ہو جاتا ہے جبکہ باپ کی خاموش محبت خود باپ بننے پر پتہ چلتی ہے۔ باپ ہمیشہ اپنے بیٹے کے لئے ایک رول ماڈل ہوتا ہے۔ بیٹا ساری اچھی اور بری باتیں اپنے باپ سے ہی سیکھتا ہے۔
باپ کاگھر میں بیوی اور بچوں سے برتاؤ کا ہمیشہ بچوں اور ان کی شخصیت پر گہرا اثرپڑتا ہے۔ میں نے بچپن سے ہی اپنے والد مرحوم کو ایک خود دار۔ محنتی۔ سب کا خیال رکھنے والے مہربان انسان کے روپ میں دیکھا۔ ان کی شخصیت ہمیشہ میرے لئے مشعل راہ رہی۔ کم عمری میں ہی دالدہ کے فوت ہو جانے کی وجہ سے میری ساری توجہ کا مرکز میرے ابا جی ہی رہے۔
انیسویں صدی کے آخر میں انھوں نے گاؤں کے ایک دیندار گھرانے میں آنکھ کھولی۔ سارا گاؤں ان کے گھرانے کی بہت عزت کرتا تھا۔ انہوں نے اپنی نوجوانی کے دس سال دہلی میں گزارے تھے جس کی باتیں اکثر وہ مجھے سنایا کرتے تھے۔ ۔ ابا جان کی ساری حیات اپنے علاقہ اور گاؤں کی سیاسی اور سماجی خدمت کرتے گزری۔ پاکستان بننے کی تحریکوں میں حصہ لینے سے ان کو سیاست کی کافی سمجھ بوجھ تھی اس لئے وہ 1950 میں ہی اپنے علاقہ کھڑی میں آزاد کشمیر کی بڑی سیاسی جماعت مسلم کانفرنس کے پہلے صدر مقرر ہوئے۔ اسی دہائی کے دوران انہوں نے اپنے گاؤں کے لئے سکول۔ سڑک اور ڈاکخانہ جیسی بنیادی سہولتیں منظور کرا کے ان کا قیام عمل میں لانے کے اقدام کیے۔ 1960ء کی بنیادی جمہوریت میں پہلے بی ڈی ممبر اور پھر یونین کونسل کے بلا مقابلہ چیئرمین منتخب ہوئے۔ ان دنوں دیہات سدھار پروگرام اور یونین کونسل کے نظام کی بہتری کے لئے بہت کام کیا۔ ان کی بھرپور کوششوں سے لوکل گورنمنٹ کی وساطت سے علاقے کی تعمیر وترقی کے بہت سے کام سرانجام پائے۔
ان کو مطالعے کا بہت شوق تھا۔ کتابوں سے گھر کی الماریاں بھری پڑی تھیں جن کو دیکھ کر بچپن سے ہی مجھے بھی کتب بینی کا شوق ہو گیا۔ کتابیں پڑھنے کا شوق اور لکھنے کا سلیقہ ابا جان سے ورثہ میں ملا۔ پرائمری کلاس سے ہی انھوں نے مجھے املا لکھنے کا طریقہ سکھایا۔ 1960 میں دور دیہات میں واقع گاؤں میں ہمارے گھر روزنامہ ً کوہستان ً روزانہ ڈاک سے آتا تھا۔ اس دور میں پورے علاقہ میں اخبار ناپید تھا۔ گنے چنے کچھ باشعور اشخاص ہی یہ شوق رکھتے تھے اور ابا جان ان میں سے ایک تھے۔
بچیوں کی تعلیم زبردست حامی تھے اور اس کی اہمیت سے آگاہ بھی تھے اسی لئے گاؤں میں لڑکیوں کا سکول نہ ہونے پر اپنی بیٹیوں کو لڑکوں کے سکول میں داخل کروایا۔ جس پرانھیں خاندان اور گاؤں والوں کی مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ اپنی اور خاندان کی سب بچیوں کو تعلیم دلوائی۔ اس دور میں بیٹیوں کے پڑھنے کے لئے ً حور ً اور زیب النساء جیسے معیاری خواتین کے رسالے بذریعہ ڈاک لگوا کر دیے۔ سارے قریبی دیہات سے لوگ ان سے خط لکھوانے آتے تھے۔
ان سے ہی مجھے بچپن میں ہی خط لکھنے کا شوق ہوا۔ ان کا دایاں بازو نوجوانی میں ایک حادثہ میں ضائع ہو گیا تھا۔ انہوں نے بائیں ہاتھ سے لکھنا سیکھا اور ساری عمر اپنے سارے کام بائیں ہاتھ سے ہی کرتے رہے۔ اپنی اس معذوری کو کبھی آڑے نہیں آنے دیا۔ کبھی ہمت نہیں ہاری۔ ان جیسا باہمت شخص میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا۔ غربت میں بھی صبر۔ استقامت اور خودداری کا دامن نہیں چھوڑا اور ہمیں بھی یہی سبق دیا۔ ان کی عملی زندگی ہمیشہ میرے لئے مشعل راہ رہی۔
1920 ء کی دہائی میں دہلی میں اپنے دس سالہ قیام کے دوران آپ نے طب کی تعلیم حاصل کی۔ وہاں ایک بہت بڑے دوا خانے میں کام کاکیا۔ تجربہ حاصل ہونے کے بعد گاؤں واپس آکر مقبول عام دواخانہ کے نام سے ایک بہت اچھا مطب قائم کیا۔ آس پاس کے دیہات اور اپنے گاؤں کے لوگوں کو طبی سہولیا ت فراہم کرتے رہے۔ طب سے متعلق بہت ساری کتب ہمارے گھر میں موجود تھیں۔ میں نے ان میں سے مفرادات اور مرکبات کی ساری کتب لڑکپن میں ہی پڑھ ڈالیں تھیں۔
ابا جان چھٹی جماعت سے ہی مجھے دوسرے شہروں میں اپنے ساتھ لے جانے لگے تھے۔ ایک یادگار سفر ان دنوں ہم نے لاہور کا کیا۔ انارکلی میں دہلی مسلم ہوٹل میں ہمارا قیام ہوتا تھا۔ شہر کے سارے تاریخی مقامات کی سیر کرائی۔ اندرون شہر کے سارے بازار ہم نے پیدل چل کر دیکھے۔ یہ 1972 ء کا زمانہ تھا۔ انہوں نے دواخانے کی ادویات کی خریداری کے سارے مرکز دکھائے اور سب دکانداروں سے میرا تعارف بھی کروایا۔ ان کے ساتھ ان سفروں کی وجہ سے میں اوائل عمری میں ہی کافی باشعور ہو گیا تھا اور مجھ میں خود اعتمادی آ گئی تھی۔ اسی لئے میں نے میٹرک کے دوران اکیلے لاہور جا کر دواخانے کے خریداری شروع کر دی تھی۔ جب ان کے دوست ان کو ملنے آتے تومجھے بھی ان کے ساتھ بٹھا لیتے۔ ان کی ان صحبتوں کی وجہ سے میں نے بہت کچھ سیکھا۔
اکلوتا بیٹا ہو نے کی وجہ سے میں ان کا بہت ہی لاڈلا تھا۔ لیکن پڑھائی کے معاملے میں انہوں نے کبھی رعایت نہیں کی۔ سکول اور کالج میں میرے اساتذہ سے مل کر میری تعلیمی کارکردگی دیکھتے رہتے تھے۔ ستر میں بچوں کو انگلینڈ بھیجنے کا سلسلہ شروع ہوا تو میرے کتنے قریبی رشتہ داروں نے مجھے وہاں لے جانے کی پیشکش کی لیکن انہوں نے سختی سے منع کر دیا۔ اور کہا میرا بیٹا پاکستان میں ہی رہ کر پڑھے گا اور میری آنکھوں کے سامنے رہے گا۔
امی جان کی بے وقت رحلت نے انہیں اندر سے توڑ کے رکھ دیا تھا لیکن انہوں نے کبھی اس کا احساس مجھے نہیں ہونے دیا اور نہ کبھی امی جان کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔ زندگی کے آخری دو سال انہوں نے پٹھوں کی بیماری کی وجہ سے بستر پر کافی تکلیف میں گزارے۔ اس بیماری کو بھی انہوں نے بڑے صبر سے برداشت کیا۔ نیند نہ آنے کی بیماری کی وجہ سے وہ رات رات بھرجاگتے تھے۔ اکثر بلند آواز میں قرآن مجید کی تلاوت کرتے یا پھر سیف الملوک پڑھتے رہتے۔
وہ اپنی جوانی سے ہی تہجد پڑھنے کے عادی تھے جس کو انہوں نے آخری عمر تک بیماری میں بھی ترک نہیں کیا۔ دو سال کی بیماری کے دوران انہوں نے بستر پر نماز پڑھی۔ اکلوتا بیٹا ہونے اور والدہ کی بچپن میں وفات کے بعد جو پیار محبت اور شفقت مجھے دیا اور میرا جتنا خیال رکھا اس کی نظیر ملنی بہت مشکل ہے۔ ان کی محبت اور دعاؤ ں کا کا سایہ ان کے دنیا سے چلے جانے کے چالیس سال بعد بھی میرے ساتھ رہتا ہے۔ گیارہ جون 1978ء کی ایک گرم دوپہر اللہ میاں نے ان کو اپنے پاس بلا لیا لکین ان کی دعائیں زندگی میں ہمیشہ میرے ساتھ رہی ہیں۔ انہی دعاؤں کی وجہ سے مجھے عمر بھر کبھی کسی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ جو دولت شہرت اور عزت مجھے ملی وہ ان کی ہی دعاؤں کا صدقہ ہے۔


