گھریلو ملازمین پر تشدد کی سماجی برائی


پاکستان میں تقریباً 85 لاکھ گھریلو ملازمین کام کر رہے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ 2015 میں انٹرنیشنل لیبر آرگنازیشن کی طرف سے پیش کیے جانے والے اس اعداد و شمار کے علاوہ ان کہ متعلق اور کوئی اندازہ موجود نہیں۔ میرے خیال سے اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔

تکنیکی طور پر گھروں پر کام کرنے والے یہ افراد ہماری غیر رسمی معیشت (informal economy) کا حصہ ہیں۔ غیر رسمی معیشت ان محنت کشوں پر مشتمل ہے جن پر مزدوروں کہ قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا۔ مگر خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے عالمی اداروں کہ دباؤ کے تحت وفاقی حکومت نے 2013 میں گھریلو ملازمین پر قانون سازی کی اور 2019 میں پنجاب حکومت نے ڈومیسٹک ورکرز ایکٹ نافذ کیا۔

پنجاب حکومت کا ڈومیسٹک ورکرز ایکٹ پڑھ کر یہ تاثر بالکل درست ثابت ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں قوانین صرف خانہ پری کے لیے بناے جاتے ہیں۔ غریب کے لیے قانون صرف ایک تسلی اور دلاسا ہے۔ اس ایکٹ کے سیکشن 3 کے مطابق کوئی بھی بچہ جس کی عمر 15 سال سے کم ہے اس کو گھر کہ کام کاج کے لیے نہیں رکھا جاسکتا۔ 18 سال سے کم عمر کو ہلکا کام (light work) کرنے کی اجازت ہو گی۔ ہلکا کام جز وقتی نوعیت کا ہو گا جو کارکن کی صحت، اس کے تحفظ اور تعلیم کو متاثر نا کرے۔ اب اس قانون کو ایک طرف رکھ کر اپنے اردگرد نظر دوڑایے۔ آپ کو یہ جان کر قطعی حیرت نا ہوگی کہ گھروں میں کام کاج کرنے والے افراد کی بڑی تعداد دس سال سے بھی کم ہے۔

ڈومیسٹک ورکرز ایکٹ کا سیکشن 4 گھریلو کارکن کہ حقوق کا تعین کرتا ہے۔ اس سیکشن کی کل 6 شقیں ہیں۔ اس سیکشن کی شق نمبر دو کے مطابق آپ کسی بھی گھریلو کارکن کو کام پر رکھتے ہوئے، اس کی ملازمت کی تجدید کرتے ہوئے یا اس کی اجرت کا فیصلہ کرتے ہوئے اس کے ساتھ رنگ، نسل، مذہب، ذات پات اور جنس کی بنیاد پر امتیازی سلوک نہیں برتے گے۔ شق نمبر تین کہ مطابق آپ گھر پر کام کرنے والے فرد کو نوکر کی بجائے گھریلو کارکن کہ طور پر شناخت کریں گے۔

شق نمبر چار کہ مطابق کسی بھی گھریلو کارکن کو آزادانہ راے اور اضافی معاوضے کہ بغیر طے شدہ کام سے زیادہ کام کرنے کے لیے نہیں کہا جاسکتا۔ اسی سیکشن کی شق نمبر پانچ کے مطابق یہ کام پر رکھں ے والے آجر پر لازم ہوگا کہ وہ گھریلو کارکن کو کام کرنے کے لیے ایسا ماحول میہا کرے جو اس کی پیشہ وارانہ حفاظت اور حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق ہو۔

ایکٹ میں موجود پابندی کے باجود ایک بڑی تعداد میں کم عمر بچوں کا گھروں میں کام کرنا اور ان پر تشدد ہم سب کہ لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ میرے نزدیک یہ ایک سماجی برائی ہے۔ اس سماجی برائی کی بہت ساری وجوہات ہیں۔ مگر سب سے بنیادی وجہ ہماری معاشرتی بے حسی ہے۔ اور یہ معاشرتی بے حسی اشرافیہ اور پڑھی لکھی مڈل کلاس میں بدرجہ اتم موجود ہے۔ ہمارے گھروں کا کام کرنے والے ان بچوں پر ہم جس طرح چاہے حکم چلا سکتے ہیں کیونکہ ہم ان کے ماں باپ کو چند ہزار روپے بھیج دیتے ہیں۔

یہ وہ سماجی رویہ ہے جس کا تدارک کیے بغیر اس مسئلے کا حل ممکن نہیں۔ اس دور جدید میں ان بچوں کو غلام بنا کر رکھنے پر ہم میں سے کسی کو کوئی شرمندگی نہیں۔ اور نا ہی کوئی اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہتا ہے۔ اگر ایک آدھا کیس میڈیا پر رپورٹ ہو بھی جائے تو اس شخص کو بہت برا بھلا کہا جاتا ہے مگر اپنے اعمال درست نہیں کیے جاتے۔ بچوں کو گھریلو کام پر رکھنے کی ایسی ایسی تاویلیں گھڑی جاتی ہیں کہ خدا کہ پناہ۔ میں ان تاویلوں کو یہاں لکھنا نہیں چاہتا مگر آپ سب کو ان کا بخوبی علم ہے۔ ایسے حالات میں کیا ممکن ہے کہ کسی قانون پر عملداری ممکن کروائی جاسکتی ہے۔

روالپنڈی میں زہرہ شاہ کا قتل ہوا تو مجھے اسلام آباد کی طیبہ یاد آ گئی۔ کیا آپ کو دو ہزار سولہ کا طیبہ تشدد کیس یاد ہے؟ ایک جج کہ گھر سے زخمی حالت میں ملازمہ بچی کو کو برآمد کیا گیا تھا۔ گھریلو کام کاج کہ لیے رکھئی گئی بچی کا جسم تشدد سے نیلا پڑ چکا تھا۔ بھلا ہو اس شخص کا جس نے اس کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر ڈال دی تو اس کی جان بچ گئی۔ چار دن شور و غوغا ہوا۔ جج کو کرسی سے اتار دیا گیا اور اس کی بیوی کو ایک سال قید ہوئی۔

پھر اس کیس کا کیا بنا؟ اسلام آباد ہائی کورٹ نے سزا کو تین سال کر دیا۔ یہ کیس سپریم کورٹ آف پاکستان تک گیا اور ایک سال کی سزا کو بحال کر دیا گیا۔ اسی دوران سابقہ جج صاحب کہ طیبہ کے خاندان والوں سے بھی معاملات طے پا گئے۔ آج وہ طیبہ کہاں ہے؟ مجھے معلوم نہیں اور نا ہی آپ کو ہوگا۔ طیبہ تشدد کیس سے لے کر زہرہ شاہ کہ قتل تک کتنے ہی گھریلو ملازمین پر تشدد کہ واقعات سامنے آئے اور میڈیا پر رپورٹ ہوئے۔ دو چار دن مذمتی بیانات کا سلسلہ چلا اور پھر وہی پرانی ڈگر۔

آخر کب تک ہماری اشرافیہ اور مڈل کلاس یہ منافقانہ طرز عمل برقرار رکھے گی؟ یہ سماجی برائی کب اور کیسے ختم ہوگئ؟ کیا ایک لولا لنگڑا قانون بنا دینے سے ریاست نے اپنا فرض ادا کر دیا؟ کیا آپ نے ایک آدھا مذمتی بیان داغ کر اپنی سماجی ذمہ داری ادا کردی؟ اگر آپ کو کو لگتا ہے کہ آپ کا کردار اتنا ہی ہے تو پھر آپ جارج فلائڈ کی موت پر افسوس کیجئے اور سمجھئے کہ امریکہ برباد ہوگیا ہے۔

اگر آپ کو ایسا نہیں لگ لگتا تو کب ہم مل کر اس کہ خلاف آواز اٹھائے گئے؟ آئیں ایسے لوگوں کا سماجی بائیکاٹ کریں جو بچوں کو گھریلو کام کے لیے رکھتے ہیں اور گھریلو ملازمین پر تشدد کرتے ہیں۔ جن پوش ہاؤسنگ سوسایٹیز میں آپ رہتے ہیں ان کی انتظامیہ پر دباؤ ڈالیں کہ گھریلو ملازمین کی رجسٹریشن کہ عمل کو یقینی بنایا جائے۔ اپنی کمیونٹی میں ایسی کمیٹیز کا قیام کیا جائے جو اس سماجی برائی کا ارتکاب کرنے والوں کی نشاندہی کر سکیں۔

اگر کچھ بھی نہیں کر سکتے تو کم از کم اتنا تو کیجئے کہ کسی معصوم بچے یا بچی کو اپنا غلام مت بنائیں۔ اور گھر پر کام کرنے کہ لیے ملازم درکار ہے تو بالغ افراد کا انتخاب کریں اورانکو بھی انسان ہی سمجھیں۔ اس کے ساتھ خدا کا شکر ادا کریں کہ آپ اس کی جگہ نہیں ہیں۔ اگر آپ یہ بھی نہیں کر سکتے تو پھر گھریلو کام کرنے والے افراد پر تشدد ہونے والے واقعات پر افسوس کا اظہار کرنے سے پہلے آئینہ ضرور دیکھ لیا کریں۔

Facebook Comments HS