اعلیٰ عدالتیں اور کرونا وائرس سے متعلقہ مقدمات
19 مئی 2020 بی بی سی: تمام وسائل صرف کرونا پر خرچ نہ کیے جائیں : سپریم کورٹ
سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے جو اخراجات ہوئے ہیں ان کے بارے میں جواب دینے کے لیے این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل کمرۂ عدالت میں موجود ہیں جس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ’عدالت کی تشویش اخراجات سے متعلق کم اور سروسز کے معیار پر زیادہ ہے‘ ۔
بینچ میں موجود جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’لاہور میں ایک شخص رو رہا تھا کہ اس کی بیوی کو کرونا نہیں لیکن ڈاکٹر چھوڑ نہیں رہے تھے‘ ۔
عدالت نے حکومت کو ہدایت کی کہ تمام وسائل صرف کرونا پر خرچ نہ کیے جائیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں وسائل خرچ کرنے سے متعلق اپنا موقف دیں۔
عدالت کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کرونا اتنا سنگین نہیں جتنی رقم خرچ کی جا رہی۔ کرونا سے زائد سالانہ اموات دیگر امراض سے ہوتی ہیں۔ این ڈی ایم اے اربوں روپے کرونا سے متعلق خریداری پر خرچ کر رہا۔
19 مئی اب تک: پاکستان میں کرونا وبا کی صورت میں ظاہر نہیں ہوا: سپریم کورٹ
عدالت کے مطابق پاکستان میں کورونا وبا کی صورت میں ظاہر نہیں ہوا۔ دیگر ممالک کی نسبت پاکستان کورونا سے بظاہر زیادہ متاثر نہیں ہوا۔ ملک میں وبا کی وہ صورتحال نہیں جس پر اس طرح سے پیسہ خرچ کیا جائے
19 مئی ڈان: مالز کھولنے کا الزام عدالت پر نہ لگائیں: سپریم کورٹ
عدالت عظمیٰ میں سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے آگاہ کیا کہ لاک ڈاؤن پہلے جیسا موثر نہیں رہا، بیوٹی سیلون اور نائی کی دکانیں بھی کھل رہی ہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو کہا کہ یہ ہماری وجہ سے نہیں کھل رہے بلکہ آپ کے انسپکٹر پیسے لے کر اجازت دے رہے ہیں جبکہ عدالت نے حکومت سندھ کو کچھ نہیں کہا۔
اسی دوران چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ معلوم ہوا ہے کہ بھارت سے بھی ادویات منگوائی جا رہی ہیں جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ حکومت نے بھارت سے ادویات منگوانے پر کارروائی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت سے ادویات منگوانے کی انکوائری ہو رہی ہے۔
جسٹس سردار طارق کا کہنا تھا کہ مالز محدود جگہ پر ہوتے ہیں جہاں احتیاط ممکن ہے، راجا بازار، موتی بازار، طارق روڈ پر رش بہت زیادہ ہوتا ہے اس لیے مالز کھولنے کا الزام عدالت پر نہ لگائیں۔
اس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ وفاقی حکومت طبی ماہرین کی رائے کے برخلاف جا رہی ہے، عدالت ہماری گزارشات بھی سن لے، عدالت ماہرین کی کمیٹی بنا کر رپورٹ طلب کر لے، لاک ڈاؤن ختم ہوگیا ہے، اب اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔ ہفتے میں 2 دن لوگ مارکیٹ نہیں آئیں گے تو وبا کا پھیلاؤ زیادہ نہیں ہوگا۔
8 جون انڈی پینڈنٹ اردو: لوگوں میں تاحال آگاہی نہیں آئی: سپریم کورٹ
اٹارنی جنرل نے کہا کہ عید کی وجہ سے ہفتہ اتوار کو مارکیٹس کھولی گئی تھیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے جواباً کہا کہ لوگوں میں تاحال آگاہی نہیں آئی، عید کے موقعے پر لوگوں نے ایس او پیز کو نظرانداز کر دیا، ویکسین کی دریافت سے قبل واحد راستہ احتیاطی تدابیر ہیں، کرونا وائرس بہت تیزی سے بڑھ گیا ہے۔ شہریوں کو بھی ذمہ داری دکھانا ہوگی۔
8 جون ایکسپریس: کرونا وائرس کسی صوبے میں تفریق نہیں کرتا اور لوگوں کو مار رہا ہے : سپریم کورٹ
چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت نے تاحال کرونا سے تحفظ کی قانون سازی نہیں کی، قومی سطح پر کوئی قانون سازی ہونی چاہیے جس کا اطلاق پورے ملک پر ہوگا، ملک کے تمام ادارے کام کر سکتے ہیں تو پارلیمنٹ کیوں نہیں، چین نے بھی وبا سے نمٹنے کے لیے فوری قانون بنائے۔
اٹارنی جنرل پاکستان خالد جاوید خان نے بتایا کہ وفاقی حکومت کرونا تحفظ کے اقدامات کر رہی ہے، ایس او پیز پر عمل درآمد بھی یقینی بنائے گی، صوبوں کی جانب سے قانون سازی کی گئی ہے، وفاقی حکومت کو بھی قانون سازی کی تجویز دوں گا۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ کرونا وائرس کسی صوبے میں تفریق نہیں کرتا اور لوگوں کو مار رہا ہے، وفاقی حکومت کو اس معاملے پر رہنما کردار ادا کرنا چاہیے، وہ کرونا سے بچاؤ کے لیے قانون سازی کرے، آپ کے پاس اب وقت نہیں رہا، ایک لاکھ سے زائد کرونا مثبت کیس آ گئے ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ موجودہ حالات میں لوگوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں، پریس کانفرنس کے ذریعے عوام کا تحفظ نہیں ہو گا بلکہ قانون بننے اور اس پر عمل سے ہوگا۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ہدایت کی کہ ڈاکٹرز کو حفاظتی سامان ہر حال میں دستیاب ہونا چاہیے، خدانخواستہ حفاظتی سامان نہ ہونے سے کوئی نقصان ہوا تو تلافی نہیں ہوگی، طبی ورکرز کی ہلاکت پر وزیر اعلیٰ صرف جا کر معاوضے کا اعلان کر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں میں بھی تاحال آگہی نہیں آئی، عید کے موقع پر انہوں نے ایس او پیز کو نظر انداز کر دیا۔
عدالت نے ہفتہ اور اتوار کو مارکیٹیں کھولنے کا حکم بھی واپس لے لیا۔



