’گیارہ میں سے نو چینی ٹیسٹنگ کٹس بالکل کچرا تھیں‘ : برازیلی ماہر



کیٹی واٹسن، نامہ نگار، بی بی سی جنوبی امریکہ۔

لاطینی امریکہ کے سب سے بڑے ملک برازیل میں کورونا وائرس کے متاثرین کے حوالے سے سرکاری اعداد و شمار کا تنازع شروع ہونے سے قبل ہی کئی ماہرین کو اندازہ تھا کہ یہ درست نہیں ہیں، کیونکہ وہاں بہت کم تعداد میں ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔

برازیل کو کئی دشواریوں کا سامنا ہے اور ان میں سے ایک بڑا مسئلہ ٹیسٹنگ کٹس درآمد کرنے کا ہے، اور وہ بھی ایک ایسے وقت جب دنیا بھر میں ان کی طلب میں اضافہ ہے۔

لیکن اس سے بھی اہم مسئلہ حکومت کی خراب منصوبہ بندی ہے۔

ساؤ پاؤلو شہر میں فلیوری لیبارٹری کے کلینکل ڈائریکٹر ڈاکٹر کیلسو گراناٹو نے کہا کہ ’فروری اور مارچ میں بڑی تعداد میں چینی ٹیسٹ کٹس برازیل آنا شروع ہوئیں جن میں سے ہم نے تیز رفتار ٹیسٹنگ والی 11 کٹس کو استعمال کیا مگر ان میں سے نو بالکل کچرا تھیں۔‘

لیکن انھوں نے کہا کہ حکومت نے پھر بھی وہ خرید لیں۔ ’انھیں لگا کہ بہتر ہے کہ ان خراب کٹس سے ٹیسٹ کر لیے جائیں۔‘

حکومتی فیصلوں کے علاوہ ملک کا رقبہ بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ برازیل میں موجود زیادہ تر لیبارٹریاں جہاں پی سی آر ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت ہے وہ ملک کے جنوبی حصے میں ہیں۔

لیکن ملک کے دور دراز کے علاقے جیسے ایمازون کے جنگلات وغیرہ، جہاں بڑی تعداد میں متاثرین ہیں، وہاں سے ٹیسٹ کے نمونے صحیح حالت میں لانا بہت دشوار ہے اور کئی نمونے اسی وجہ سے ضائع ہو جاتے ہیں۔

’ایمازون کا ساؤ پاؤلو سے فاصلہ تقریباً پانچ ہزار کلومیٹر ہے اور آپ کو نمونہ حاصل کرنے کے بعد لیب تک جمع کرانے تک اسے ایک یکساں درجہ حرارت پر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔‘

اس صورتحال کے پیش نظر برازیل نے اپنے ملک میں خود کووڈ کی جانچ کے لیے نیا ٹیسٹ تیار کرنا شروع کیا ہے جو پروٹین کی مدد سے ہوتا ہے اور وہ پی سی آر ٹیسٹ کے مقابلے میں زیادہ دیرپا ہے۔ یہ ابتدائی دن ہیں لیکن درست سمت میں ہیں۔


بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp