علم تاریخ، تمثیل اور نوجوان نسل


انسانی علوم میں علم تاریخ کی اہمیت اس لئے بھی مسلمہ ہے کہ اس کے مطالعے سے نہ صرف انسان اور معاشرہ مستقبل کا لائحہ عمل طے کرتا ہے بلکہ کچھ تاریخی واقعات اقوام عالم کے لئے ایک تازیانہ کا کام کرتے ہیں اور اپنے رستے سے بھولی بھٹکی قوم کے لئے اپنی منزل کے تعین میں ممد و معاون ثابت ہوتے ہیں۔ یہ علم نہ صرف کسی قوم کے تہذیب و تمدن اور ثقافت کا امین ہے بلکہ نوجوان نسل کی نظریاتی پرورش کے لئے بھی اس علم کو اکسیر کا درجہ حاصل ہے۔

کتاب سے دوری اور نصاب میں سن اور تاریخ کی بھرمار کی وجہ سے اکثر طالب علم تاریخ کے مضمون کو ایک دقیق اور محنت طلب کام سمجھتے ہوئے اس سے کوسوں دور بھاگتے ہیں لیکن اگر یہی تاریخ اگر ایک کہانی کی شکل اختیار کر لے تو عمرانی علوم میں اس سے زیادہ دلچسپ مضمون کوئی بھی نہیں ہے۔ یہ تاریخی واقعات ہی ہیں جن کی بدولت نہ صرف ہمیں اقوام عالم کے عروج و زوال کے اسباب کا علم ہوتا ہے بلکہ ہمیں سابقہ غلطیوں سے سبق سیکھ کر نئی اور جدید راہیں متعین کرنے کا موقع بھی ملتا ہے۔

لیکن انسانی نفسیات کے مطابق اگر تاریخی واقعات کو ایک تمثیل (ڈرامہ) کی شکل میں پیش کر دیا جائے تو یہ سونے پہ سہاگا کا کام کرتا ہے، ایسا ہی کردار آج کل ترک ڈرامہ سیریل ”ارطغرل غازی:“ کا نظر آ رہا ہے جس کو کچھ طاغوتی او ر سازشی عناصر ناکام کرنے کے درپے ہیں۔ میں عرصہ دو ماہ سے اس ترک ڈرامہ سیریل کو انتہائی باریک بینی سے دیکھتا رہا اور مغربی و سیکولر اذہان کے حامل افراد کی دوربین سے باریک بینی سے اس کے ایک ایک جزو کی جانچ پڑتا ل کرتا ہوا اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ”ففتھ جنریشن وار“ کے نازک دور میں جہاں کفر و الحاد اپنی شمشیر آبدار سے ہماری نوجوان نسل کے اذہان پر مکمل طور پر قابض ہو چکا ہے، یہ ڈرامہ ہماری قوم کی نوجوان نسل کو نشاۃ ثانیہ کی طرف لانے کے لئے ایک نعمت غیرمترقبہ سے کم نہیں ہے جس میں نہ صرف اسلامی تہذیب و ثقافت کی بھر پور عکاسی کی گئی ہے بلکہ اغیار کی سازشوں اور اپنوں کی غداریوں کی ایک طویل داستاں بھی پیش کی گئی ہے۔

موجودہ دور میں نہ صرف سائنس انسانیت کی معراج پر پہنچ چکی ہے بلکہ سوشل میڈیا کو ایک ایسے ہتھیار کی طرح استعمال کیا جا رہا ہے جس کے نتائج ایک وسیع الاثر زہر کی طرح ہماری رگ رگ میں اتارے جا رہے ہیں۔ پورن موویز، غیر اخلاقی اور فحش ڈراموں کے ذریعے نہ صرف ہماری نوجوان نسل کے اذہان کو بے کار کیا جا رہا ہے بلکہ ففتھ جنریشن وار کی شکل میں اقوام عالم کے ذہن کو موجودہ دور کے سامری اپنی فسوں خیزی سے بے کار بنا رہے ہیں۔

یہود و ہنود پوری کوشش میں ہیں کہ مسلمانوں کے دماغوں کو فتح کر سکیں۔ اس مقصد کے حصول کے لئے نہ صرف ہماری قوم کے درمیان کردوغلو جیسے غدار موجود ہیں بلکہ وہ بھی سوشل میڈیا کا سہارا لے کر نہ صرف ہمارے فاتحین عالم کو متنازع بنانے کی کوشش کر نے میں مصروف عمل ہیں بلکہ ان کا تمسخر اڑا کر ان کو تضحیک کا نشانہ بنا رہے ہیں اور تاریخ کو توڑ موڑ کر محمد بن قاسم جیسے اسلامی فاتحین کو ایک غاصب کی صورت میں پیش کرنے کی بھر پور کوشش کر رہے ہیں لیکن وائے بد قسمتی ہمارے تھنک ٹینک کے کرتا دھرتا بھنگ پی کر خواب خوگوش کے مزے لے رہے ہیں۔

ہمارے ڈراموں اور ٹیلی ویژن پروگراموں میں نہ صرف اسلامی اقدار کا مذاق اڑایا جا رہا ہے بلکہ ”قومے فروختند و چہ ارزاں فروختند“ کے مصداق قوم کو جدیدیت اور بے راہروی کی طرف مائل کرنے کے لئے ہر حربہ آزمایا جا رہا ہے۔ ٹویٹر، فیس بک اور واٹس ایپ پر من گھڑت اور مخصوص سو چ کے حامل غدار روزانہ ڈھیروں ایسا مواد تیار کر کے پھیلا رہے ہیں جن کی وجہ اسلامی تشخص مجروح ہو رہا ہے اور نئی نسل دین سے دور ہو رہی ہے۔ اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں ہمارے بچے سارا دن اپنے ہاتھوں میں لیپ ٹاپ، ٹیبلٹ یا موبائل پکڑ کر کسی نہ کسی غیر ذمہ دارانہ اور بے کار سرگرمی میں مشغول نظر آئیں گے جبکہ ارطغرل میں دکھانے جانے والے ماحول کی طرح ایک ایسا دور بھی تھا جب بچے سارا دن نیزہ اور تلوار بازی، کشتی اور گھڑسواری کی مشقوں میں بھی مصروف ہوتے تھے اور تحصیل علم پر بھی اپنی توجہ مرکوز رکھتے تھے۔

اس کی بہترین مثال یہودی ہیں جہاں اسرائیلی بچوں کی سب سے زیادہ جسمانی فٹنس اور ایکسرسائز پر توجہ دی جاتی ہے، دوڑ کے مقابلے کروائے جاتے ہیں تاکہ بچہ جسمانی لحاظ سے تیز اور پھرتیلا ہو جائے اور اس کا دماغ بھی تیز ہو جائے، پھر اس سے بھی بڑھ کر بچے کو تیر اندازی اور نشانہ بازی (شوٹنگ) سکھائی جاتی ہے۔ جسمانی ایکسرسائز، دوڑ، تیر اندازی اور نشانہ بازی کی مسلسل مشق اور پریکٹس کروائی جاتی رہتی ہے۔ تیر اندازی اور شوٹنگ کے حوالے سے یہودیوں کا کہنا ہے کہ اس کی مشق کرنے سے بچے کی دماغی اور جسمانی صحت کو توانائی ملتی ہے اور ان کی سوچ کسی بھی مسئلے پر فوکس کرنے کے لئے تیار رہتی ہے اس طرح انہیں اپنی زندگی میں مشکل فیصلے کرنے میں بھی آسانی ہوتی ہے۔

ترک ڈرامہ سیریل نے مجھے اس لئے بھی متاثر کیا ہے کہ تفریح کے ساتھ ساتھ اس میں مقصدیت اور اسلامی ثقافت کو انتہائی مہارت کے ساتھ اجاگر کیا گیا ہے تاکہ موجودہ نسل نہ صرف اس سے واقف ہو سکے بلکہ وہی پرانے طور طریقے اپنا کر اپنے مثالی کرداروں کی طرح اپنی زندگی ڈھال سکے اس کی بہترین مثال کچھ یوں ہے کہ میرے بچے اب نہ صرف ارطغرل ڈرامہ بہت ذوق و شوق سے دیکھتے ہیں بلکہ ان تمام کارٹون کیریکٹرز کو بھول کر اپنے ہاتھ میں تلوار نما ڈنڈے اور گھریلو استعمال کی اشیا سنبھال کر سارا دن ایک دوسرے کے ساتھ مشق میں مصروف رہتے ہیں جس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ ہاتھ پیر چلانے سے ان کی صحت بھی بہتر ہو رہی ہے۔

کسی بھی قوم کو اوج ثریا کی بلندیوں پر پہنچانے میں نوجوان نسل کا بہت اہم کردار ہوتا ہے لیکن یہ صرف اس صورت میں ممکن ہوتا ہے کہ نوجوان نسل کی تربیت ایسے خطوط پر کی جائے کہ وہ مستقبل قریب میں ایک بہترین قائد ثابت ہو سکیں۔ دیکھا جائے تو ایسا صرف اس صورت میں ممکن ہے جب نوجوانوں کو اپنے ماضی کے ان قابل مثال فاتحین عالم کے کارنامے سنائے اور دکھائے جائیں جنہوں نے اپنی جہد مسلسل سے معاشرے کا رخ پلٹ دیا جس کے لئے مبلغین، معلمین، کتابوں، موویز اور ڈرامے کا سہارا لینا بھی ضروری ہوتا ہے۔

زندہ قومیں ہمیشہ اپنے اسلاف کے کارناموں کو نہ صرف یاد رکھتی ہیں بلکہ ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل کرنے کے لئے ہر ممکن اقدام کرتی ہیں۔ گزشتہ ایک ماہ میں ترک ڈرامہ سیریل ”ارطغرل“ کے تمام سیزن کو باریک بانی کے ساتھ دیکھنے اور مطالعہ کرنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ترک قوم نے اپنی نسل میں ایک ایسی روح پھونک دی ہے جس کی ضرورت نہ صرف ہمارے معاشرے کو بلکہ پوری امت مسلمہ کو ہے۔ اس ڈرامے میں نہ صرف اسلامی اطوار کی جھلک نظر آتی ہے بلکہ معاشرتی انصاف کے لئے ارطغرل غازی کی جدوجہد کو بہترین طریقے سے اجاگر کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ مشترکہ دستر خوان، عشق رسولﷺ اور اللہ سے محبت کے علاوہ اہل تصوف کو بھی خصوصی اہمیت دی گئی ہے تاکہ ہماری نئی نسل ایک بار پھر امانت، دیانت اور صداقت کا سبق پڑھ کر ایک بار پھر دنیا کے بہترین امام ثابت ہو سکیں۔ اس سلسلے میں میری حکومت وقت، مصنفین اور ڈرامہ پروڈکشن سے منسلک تمام افراد سے گزارش ہے کہ پاکستان میں بھی ارطغرل کی طرز کے ایسے ڈرامے بنائے جائیں جن سے نہ صرف مشرقیت جھلکتی ہو بلکہ نوجوان نسل کی ذہن سازی بھی ہو کیونکہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی نسل کو مستقبل قریب کی جنگ کا خام مال بنانے کی بجائے ان کو ایک شہید یا غازی بننے کی تربیت کاآغاز اسلامی فاتحین سے محبت سے کریں۔

Facebook Comments HS