آصف فرخی سے آخری ملاقات


کرونا کی وبا کے باعث ڈھائی تین مہنے سے سب کچھ بند تھا۔ یونیورسٹی بھی غیر معینہ مدت کے لیے بند ہوچکی تھی اس لیے میں بھی کراچی سے اپنے آبائی شہر شہدادپور چلا آیا۔ آصف فرخی سے، جنھیں میں ہمیشہ سے آصف بھائی کہا کرتا تھا، لگ بھگ روز ہی فون پر بات ہوتی تھی۔ وہ وبا سے متعلق ادبی تحریروں پر مشتمل دنیا زاد کا خصوصی شمارہ مرتب کر رہے تھے۔ میں بہت خوش تھا کہ انھوں نے دنیا زاد کا ایک اور شمارہ نکالنے کا فیصلہ کر لیا تھا، اس سے پہلے وہ مجھے بتا چکے تھے کہ انھوں نے دنیا زاد اب بند کر دیا ہے۔

آخری شمارہ جو اس سال کے شروع میں شائع ہوا اس کا عنوان بھی انھوں نے کتاب الوداع رکھا تھا۔ اب نیا پرچہ تقریباً تیارتھا، انھوں نے مجھے حکم دیا تھا کہ اس پرچے کے لیے کچھ نظموں کا اردو ترجمہ کردوں۔ ترجمے ہورہے تھے۔ کچھ میں ان کو بھیج چکا تھا کچھ ابھی میرے پاس ہی تھے کہ رمضان کا مہینہ آ گیا۔ مجھے کچھ ضروری کتابیں اور کاغذات یونیورسٹی کے اپنے دفتر سے اٹھانا تھے۔ میں دو دن کے لیے کراچی آیا۔ ان کو معلوم ہوا تو مجھے فون کیا کہ تم آئے ہوئے ہو تو آج افطار پر میرے ہاں آجاؤ۔

کئی مہینے سے تم سے ملاقات نہیں ہوئی۔ میں نے کہا کہ ضرور حاضر ہو جاؤں گا۔ پھر دن کے وقت ان کا دوبارہ فون آیا کہ بھئی وہ میرا ملازم تو آج عید کی چھٹیوں پر چلا گیا، افطار کون بنائے گا، چائے تو میں بنا سکتا ہوں سو چائے پینی ہو تو چلے آنا۔ میں نے کہا ایسا کیجیے آپ میری طرف آجائیے، میں نے نیا گھر لیا ہے ابھی اس میں سامان جما رہا ہوں لیکن ایک کمرہ تو ٹھیک ہوچکا ہے ہم وہاں بیٹھیں گے۔ افظار میرے ساتھ کیجیے، کھانا میں آپ کے لیے پکاؤں گا۔

خوش ہوگئے، بولے میں پانچ بجے پہنچ جاؤں گا۔ میں نے کاشف حسین غائر کو بھی مدعو کر لیا، کاشف نے کہا میں آصف بھائی کے ساتھ ہی آجاؤں گا، اس نے میرا نیا گھر دیکھ رکھا تھا۔ میں نے ایک اور مشترکہ دوست آصف حسین کو بھی فون کر دیا۔ یہ نوجوان دوست فوراً چلا آیا تاکہ افطار اور کھانے کی تیاری میں میری مدد کردسکے۔ ہم دونوں مل کرابھی افطار تیار ہی کر رہے تھے کہ آصف بھائی اور کاشف آگئے۔ میں سموسے تل رہا تھا اور آصف حسین پھل کاٹ رہا تھا۔

ہمیں یوں سگھڑ بی بیوں کی طرح کام کرتا دیکھ کر آصف بھائی مسکرا دیے۔ سارا گھر گھوم گھوم کر دیکھتے رہے۔ میرے پڑھنے کے کمرے میں گئے جہاں کتابیں ابھی گتے کے ڈبوں میں بند پڑی تھیں اورپرانے زمانے والا گراموفون مع بھونپو کے تپائی پر رکھا تھا۔ میں نے کہا، ”آصف بھائی ابھی سامان نہیں ہے گھر میں۔“ کتابوں اور گراموفون کی طرف اشارہ کرکے بولے، ”یہ کافی ہے نا۔ اور کسی سامان کی کیا ضرورت ہے“ ۔

افطارکا وقت ہوا تو ہم نے مل کر افطار کیا۔ میں نے رات کے کھانے میں سفید چاول کے ساتھ شملہ مرچ اور مرغ کا سالن پکایا۔ کھانا تو پتا نہیں کیسا پکا تھا لیکن آصف بھائی تعریف کرتے رہے۔ پھر ہم چاروں میرے کمرے میں بیٹھ کر باتیں کرنے لگے، مجھ سے پوچھا بتاؤ تین مہینے کیا کچھ کیا۔ میں دوسرے کمرے سے تین مسودات اٹھا لایا اور ان کے سامنے رکھ دیے۔ میں نے بتایا کہ میں نے تین کتابوں کا ترجمہ ان تین مہنیوں میں کیا ہے۔

خوش ہوگئے اور کہا تم نے دل خوش کیا۔ یونہی دل جمعی سے ترجمے کرتے رہو۔ تم اب اس میں رواں ہوگئے ہو۔ ہم لوگ چائے پیتے ہوئے پرانے گانے سننے لگے۔ آصف بھائی گانوں کی فرمائشیں کرنے لگے۔ ”انعام وہ سنواؤ، اے کاتب تقدیر مجھے اتنا بتا دے، سہگل والا۔“ ، پھر کہا، ”اچھا تمھارے پاس وہ ہے،“ بے کس پہ کرم کیجیے اے شاہ مدینہ۔ ”پھر ان کو ایک شوخ گیت یاد آیا،“ اؤ گورے گورے، بانکے چھورے، کبھی میری گلی آیا کرو۔ ”انھوں نے شرارت سے اپنے ہم نام گورے چٹے آصف حسین کی طرف دیکھا اور کہا نلنی جیونت یہ تمھیں کہہ رہی ہے۔

ہم سب قہقہہ مار کر ہنس پڑے اورشرمیلا آصف حسین بری طرح جھینپ گیا۔ وہ دیر تک گپ شپ کرتے رہے۔ یونیورسٹی کی باتیں کرتے رہے، طالب علموں کا ذکر کرتے رہے، جو نئے کورس ہم اگلے سمیسٹر میں پڑھانے والے تھے ان کی بات کرتے رہے۔ مجھے کہا نظموں کے ترجمے جلد مکمل کر کے بھیجو پرچہ بس تیار ہے۔ پھر جانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ گھر پر ایک نظر ڈالی اور کہا،“ انعام گھرتمھیں اچھا مل گیا ہے۔ خدا تمھیں اس میں رہنا اور بسنا نصیب کرے۔ ”میں انھیں دروازے تک چھوڑنے آیا۔ وہ باہر کے سییڑھیاں اترنے لگے، اچانک دوسری سیڑھی پر رک کے میری طرف پلٹے اور کہا،“ اچھا بھئی، خدا حافظ۔ ”


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments