’ میں مرنے کے سخت خلاف ہوں‘ ۔ ۔ ۔ فلم 102 ناٹ آؤٹ
زندگی اور موت میں فرق تو صرف اس دل کا ہے جو زندہ ہے تو زندگی دھڑکتی محسوس ہوتی ہے اور مر جائے تو چلتے پھرتے انسان کا ناتا ہر شے سے کٹ جاتا ہے۔ آدمی مر جاتا ہے۔ ایسا انسان زندگی کی رسم بھی بے دلی سے نبھایا کرتا ہے۔ اسی موضوع پہ بنی ہندی فلم 102 ناٹ آؤٹ نے ذہن کو سوچ کے کئی نئے رستوں پہ ڈال دیا۔ امیش شکلا کی فلم 2018 میں کب آئی اور نکل گئی، ہمیں پتہ ہی نہ چلا۔ فلم کا باکس آفس پہ ہٹ جانا اس کے ایک اچھا فلم ہونے کی سند نہیں۔ بلکہ ہم نے تو اپنی فرصت کے لمحات میں تفریح طبع کے لئے یہ کلیہ بنا رکھا ہے کہ جس فلم کو اکثر لوگ بور کہتے ہوں اسی کا انتخاب کیا جائے۔ اور اس میں ہمیں کم ہی کبھی مایوسی ہوئی۔
وکھاریہ خاندان کے دو بوڑھے کرداروں کے گرد گھومتی یہ فلم کئی احساسات کی پرتیں کھولتی ہے۔ ایک کردار بیٹا ہے ’بابو‘ جس کی عمر 75 برس ہے تو دوسرا کردار باپ، دھتاتریہ وکھاریہ عمر 102 سال۔ امیتابھ بچن اور رشی کپور کا سویٹ اینڈ سافٹ کامبینیشن۔ جہاں پردۂ سیمیں کی سیما سے پرے ان اداکاروں سے اہم ان کے کردار ہیں اور کرداروں سے اہم ان سے جھلکنے والے زندگی کے رنگ۔
75 سالہ بابو (رشی کپور) کے کردار کے ذریعے ہماری ملاقات اپنے کئی ایسے رشتوں سے ہو جاتی ہے جو ہر کام وقت پہ کرنے، ہر شے کو اس کی جگہ پہ رکھنے اور ہر معاملے کو انتہائی ذمہ داری اور پابندی سے ادا کرنے کے لئے خبطی ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنی زندگی میں بہت کچھ گنوا چکے ہوتے ہیں۔ اچکے کاندھوں والا، سٹریسڈ اور ہائپر ٹنسیو کردار بابو۔ ایسے کتنے ہی کرداروں کی تصویر ہے جو یہاں وہاں ہمارے آس پاس بکھرے پڑے ہیں جو چند گولیوں کی شکل میں صبح شام زندگی کو بے زاری سے نگلا کرتے ہیں۔ جو صرف موت سے ہی نہیں زندگی سے بھی ڈرنے لگتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنے بڑے بڑے غم۔ گھر کی بتیاں بند کرنے، ٹنکی سے گرتے پانی پہ چلانے اور وقت پہ کاموں کو انجام دینے جیسی چھوٹی چھوٹی ذمہ داریوں کے پیچھے چھپانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔
دھتاتریہ ( امیتابھ) دنیا کے ہر باپ کی طرح اپنے بیٹے بابو کو اداسی اور چڑچڑے پن سے نکل کر ہنستا کھلکھلاتا دیکھنا چاہتا ہے۔ وہ خود کو دلی طور پہ جوان اور توانا محسوس کرتا ہے اور 102 سال کی عمر میں بھی لائف سے ناٹ آؤٹ رہ کر 118 سالہ چینی شخص کا ریکارڈ توڑنے کا خواہاں ہے۔ ’زندگی زندہ دلی کا نام ہے‘ ۔ اس کلیے کو رد کرنا ہمارے یہاں دانائی سمجھی جاتی ہے۔ ایسا خیال کیا جاتا ہے کہ ہر گزرتے برس کے ساتھ انسان کو تھوڑا تھوڑا مرتے جانا چاہیے۔ غیر محسوس طریقے سے ہم بوڑھے آدمی کے لئے دنیا میں جگہ کم کرتے چلے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس بڑھتی عمر کے ساتھ رشتوں سے جو لگاؤ بڑھنا چاہیے، دھتاتریہ کا کردار اس کی تعلیم دیتا نظر آتا ہے۔
بابو جو اپنے بیٹے کی بے رخی کی وجہ سے اداس، بیمار اور چڑچڑا ہو چکا ہے۔ دھتاتریہ اس کے لئے کچھ شرائط پوری کرنے کا چیلنج دیتا ہے ورنہ اسے اولڈ ایج ہاؤس بھیج دیا جائے گا۔ ایک باپ کا اپنے بیٹے کو اولڈ ایج ہاؤس بھرتی کروانے کا اچھوتا خیال، ایک نئے انداز سے ناظر کو اس مسئلے کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ فلم پہلی بار ایک بیٹے کے ذہن کو اس تکلیف کا احساس دلاتی ہے کہ وہ اپنے گھر کے درودیوار، اپنا بستر، اپنی چادر اور ہر وہ شے جس سے اسے انسیت ہے، جہاں اسے آرام میسر ہے بھلا کیسے چھوڑ کے جا سکتا ہے۔ اور یوں یہ فلم ہمارے معاشرے کی نبض پہ ہاتھ رکھ کے اس عارضہ کی نشاندہی کرتی ہے۔ بس آپ آنکھوں میں تجسس اور ایک مستقل مسکان بھرے فلم کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ بہتے چلے جاتے ہیں۔
بڈھا باپ بیٹے سے اس کی بیوی کے نام لو لیٹر لکھواتا ہے کہ وہ ایک بار پھر اپنے دل کی بات کہنے کی طرف لوٹ آئے۔ وہ اسے اپنے ڈاکٹر سے تعلق توڑنے کی شرط رکھتا ہے تا کہ اس کا دوائیوں پہ انحصار کم ہو سکے۔ وہ اسے پرانی یادوں سے رہا کرانا چاہتا ہے۔ پرانی یادیں جو چیزوں کی شکل میں ہمارے گرد بکھری رہتی ہیں۔ اور وقت کی گرد ہمیں بھی ان چیزوں کے ساتھ ایک جالے میں باندھ دیتی ہے۔ ہمیں کھنڈر بنا دیتی ہیں۔
’میں پچھتر سال کا بڈھا ہوں میں نے اپنا بڑھاپا سوئیکار کیا ہے۔‘
بابو کے منہ سے کہلوایا یہ عام تصور وہ کڑوی دوا ہے جسے پینا ہم ہر عمر رسیدہ شخص پہ لازم قرار دے دیتے ہیں۔ اس دوا میں موت کا علاج تو یقیناً نہیں، زندگی تلخ بنا کر موت کی آرزو پیدا کرنے کی حکمت ضرور پوشیدہ ہے۔
بڑھاپے کو بیماری بننا چاہیے نہ بیزاری، اسی پیغام کو لے کر فلم آگے بڑھتی ہے۔ 102 سالہ دھتاتریہ اپنی بذلہ سنجی سے اس طرح کے کئی کلیشے توڑتا ہے۔ اس کے نزدیک ہر بات پہ اکتاہٹ سے ’چھوڑو چھوڑو‘ کرتے ہم آخرکار جینا ہی چھوڑ دیتے ہیں۔
فلم کی منظر کشی کے لئے ایک خوبصورت سجا سجایا گھر ہے جس کو دیکھتے ہوئے ناظرین کا ذہن و دل سکون محسوس کرتے ہیں۔ مگر یہ وہی گھر ہے جو بابو کے بیٹے کے لئے محض ایک جائیداد ہے۔ اکیس سال سے وہ کبھی امریکہ سے پلٹا نہیں۔ ماں کی موت پہ بھی نہیں۔ اور اب بھی جب لمبے لمبے عرصے بعد اس کی کال آتی ہے تو بابو خوش ہو جاتا ہے مگر اسی خوشی کا غم اس کی بیماری بن چکا ہے۔
’میں زندگی کا ساتھ نبھاتا چلا گیا۔ ہر فکر کو دھوئیں میں اڑاتا چلا گیا‘ ۔ ریڈیو پہ گونجتے ایسے کئی گیت فلم کی معنویت اور دھتاتریہ کے کردار کو خوب ابھارتے نظر آتے ہیں۔ 102 سالہ جواں دل باپ ریڈیو پہ چلتے نغمے سنا کر 75 سالہ بڈھے بیٹے کو ریلیکس کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ’میرے گھر آنا زندگی۔‘ بھوپندر سنگھ کے اس خوبصورت گیت پر امیتابھ کی ایک سادہ لوح آدمی کی طرح بازو لہرا لہرا کر اپنے بوڑھے بچے کا دل بہلانے کی کوشش دیکھ کر دل ایک انوکھے دکھ سے آشنا ہوتا ہے۔ امیتابھ کتنے بڑے اداکار ہیں وہ اس منظر میں کھلتا ہے جب وہ اپنی بہو کی موت اور بابو کے بیٹے کی بے رخی دھیرو (ملازم لڑکے ) کے سامنے بیان کرتا ہے۔ آپ کو تب احساس ہوتا ہے جب آنسو گال سے ڈھلک کر آپ کی قمیض پہ جا گرتے ہیں۔ ایک بڑے اداکار کے لئے ایسا ایک سین چھکا لگانے کے لئے بہت کافی ہوتا ہے۔
فلم کا کلائمکس وہ آخری شرط ہے کہ جائیداد کی لالچ میں واپس آنے والے بیٹے کو بابو بے دخل کر دے گا۔ جسے بابو ماننے کو ہر گز راضی نہیں۔ یہاں فلم کے لکھاری سے لے کر فلم کے تینوں کرداروں کے ساتھ ساتھ ناظرین میں بھی تقسیم در آتی ہے۔ مگر کمال سہولت سے اس نقطے پہ فلم ایک نیا زاویہ دے جاتی ہے۔ وہ یقیناً یہاں بیان کرنا مناسب نہیں۔ اس کے لئے فلم دیکھنا ضروری ہے۔
فلم میں اریجیت سنگھ اور سونو نگم کے علاوہ امیتابھ اور رشی کپور کی آواز میں گانے ہیں مگر کمال یہ ہے کہ ناظر کی توجہ نہ ان گانوں پر جاتی ہے نہ ہی ناظر ان دو کرداروں کے علاوہ کسی اور کردار کی کمی محسوس کرتا ہے حتیٰ کہ دھیرو کا کردار بھی موجود ہوتے ہوئے غائب محسوس ہوتا ہے اور ناظر اس بات کو قبول کرتا ہے۔ فلم امیتابھ بچن اور رشی کپور کا فن پارہ محسوس ہوتی ہے یہاں تک کے ناظر کو فلم ختم ہونے پہ احساس ہوتا ہے کہ ہندی فلم کی روایت کے بر خلاف اس فلم میں کسی عورت کی جھلک تک نہیں دکھائی جاتی۔ 102 ناٹ آؤٹ ایک غیر روایتی فلم ہے جو زندگی کو بھرپور انداز سے جینے کا پیغام کمال خوبصورتی سے بیان کر جاتی ہے۔ موت سے پہلے انسان کو مرنا نہیں چاہیے۔ جیتے رہنا چاہیے۔ دھتاتریہ وکھاریہ ایسی موت کے سخت خلاف ہے اور اپنے ناظر کو اس بات پہ قائل کر جاتا ہے۔




