آزمائشوں کا دور اور پی ٹی آئی کی حکومت


پی ٹی آئی کی حکومت کو بھی ایسے ہی مسائل کا سامنا ہے جس طرح کے ایک قبیلہ ارطغرل ڈرامے میں سامنا کرتا ہے۔ آزمائش پہ آزمائش، پریشانی اور مشکلات کے انبار ہیں۔ جس طرح اس ڈرامے میں دکھایا جاتا ہے بالکل اسی طرح عمران کی حکومت کو ایک پریشانی کے بعد دوسری کا سامنا ہوتا ہے۔

حال ہی میں حکومت نے کچھ اچھی خبریں دینا شروع کی تھیں۔ ان خوشیوں سے عوام میں امید کی کرن جاگ اٹھی تھی۔ لیکن کورونا وبا نے سب کچھ الٹ پلٹ کررکھ دیا۔ پچھلے سال سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوسکا تھا۔ کچھ محکموں کو اٹھا کے باقی تمام محکموں میں اوپر گریڈ کے ملازمین کی تنخواہیں بھی اتنی ہیں کہ وہ مشکل سے گزارہ کر سکتے ہیں۔ نچلے طبقے کے ملازمین کی معاشی حالت انتہائی ابتر ہے۔ سال 2020۔2021 کے بجٹ پر تمام ملازمین کی نگاہیں جمی ہوئی تھیں۔ لیکن اب اطلاعات کے مطابق آئی ایم ایف کی طرف سے سفارش آئی ہے کہ تمام سرکاری ملازمین کی تنخواہیں منجمد کی جائیں۔ جواز یہ بنایا گیا کہ بجٹ خسارے کو کم کرنے کے لئے یہ اقدام ناگزیر ہے۔ یقیناً حکومت کے لئے ایسا عمل کرنا ایک بہت بڑے چلینج سے کم نہیں۔ یقیناً حکومت کو انتہائی مشکل صورتحال کا سامنا ہے۔ مگر حکومت آئی ایم ایف کی سفارش پر یہ فیصلہ لیتی ہے تو یہ حکومت کی ساکھ کے لئے انتہائی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔

معیشت کے پہیے کو چلانے کے لئے مشکل سے مشکل فیصلے لینے پڑ رہے ہیں۔ لاک ڈاؤن میں نرمی اور تجارتی مراکز کو کھولنے کے متعلق احکامات یقیناً اس مشکل صورتحال میں انتہائی سخت فیصلے ہیں۔ معیشت کے پہیے کا چلنا انتہائی ناگزیر ہے کیونکہ پاکستان میں غربت کی شرح میں پہلے ہی اچھا خاصا اضافہ ہے۔ سال 2014۔ 2015 کی اعدادشمار کے مطابق غربت کی شرح 38 فیصد ہے۔ حالیہ افراد زر اور بیروزگاری کی شرح میں اچانک اضافے کی وجہ سے غربت کی شرح کا بڑھنا عین ممکن ہے۔

ان حالات میں حکومت مزید لاک ڈاؤن کے متحمل نہیں ہوسکتی۔ مزید لاک ڈاؤن کا مطلب معیشت کو روکنا ہے۔ ایسے میں وزیر اعظم صاحب حق بجانب ہیں کہ پاکستان میں کورونا سے مرنے کا رجحان غربت سے کئی گنا کم ہے۔ یعنی کہ اگر حالات اسی طرح رہتے ہیں تو بھوک سے مرنے والوں کی تعداد کورونا کی نسبت کئی گنا زیادہ ہونے کا امکان ہے۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ خط غربت سے نکلنا کسی خاندان کے لئے ایک طویل سفر ہے۔ سال 2015 تک میلینیم ڈیولپمنٹ گولز کے اہداف کے مطابق شرح غربت کو 25 فیصد تک نیچے آنا تھا لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔ تو یقیناً اگر مزید شرح غربت میں اضافہ ہوتا ہے تو اس شرح کو کم کرنے میں خاصا وقت درکار ہوگا۔

دوسری طرح اگر لاک ڈاؤن میں نرمی جو کہ معیشت کے لئے انتہائی اہم اقدام ہے اور اس عمل سے کورونا وائرس کا خطرناک حد تک بڑھنے کا قوی امکان موجود ہے۔ ملک میں موجودہ صحت کا نظام اس قابل نہیں کہ وہ یہ بوجھ برداشت کرسکے۔ ایک ایسی صورتحال ہے کہ جس میں کس بھی قسم کا کوئی مناسب حل نظر نہیں آرہا۔ حکومت کی طرف سے (SOPs) متعارف کرائے گئے ہیں تاکہ اس وبا کے پھیلاؤ کو روکا جاسکے۔

لیکن تصویر کا دوسرا رخ جو عوام کی طرف سے انتہائی تکلیف دہ ہے۔ ایس او پیز پر عمل تو درکنار عوام یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ کورونا جیسی کوئی بیماری بھی ہے۔ ایک نجی ٹی وی چینل نے چار شہروں میں سیکنڑوں لوگوں کا انٹرویو کیا اور رپورٹ نشر کی۔ حیران کردینے والا منظر یہ تھا کہ ایک فرد بھی ایسا نہیں تھا جو کورونا کو وبا سمجھے یا پھر بتائی گئی احتیاط پر عمل کرتا ہو۔ ان حالات میں حکومت کے پاس کون سا الہ دین کا چراغ ہے کہ وہ کورونا کو جڑ سے ختم کرے۔

مصیبتوں کا یہ سلسلہ صرف کورونا یا پھر عوام کے رویئے تک محدود نہیں خان کی حکومت کے لیے ایک اور پریشانی بھی آن پڑی ہے۔ کل تک جن حشرات کو ہم ریگستانوں میں دیکھتے تھے آج کل وہ لشکر کی شکل میں سندھ، بلوچستان اور پنجاب میں تیار کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ٹڈی دل کے حملے سے پیش آنے والے نقصان کا تخمینہ اربووں میں ہے۔ ملکی بجٹ کا ایک اچھا خاصاحصہ زراعت کے شعبے سے پورا ہوتا ہے۔ اگر حالات اسی طرح رہے تو بجٹ خسارہ تو یقینی ہے۔ ڈر اس بات کا ہے کہ کہی ملک دیوالیہ نہ ہو جائے۔

ایک سادہ سا سوال ہے ”کیا حکومت اکیلے ان حالات کا مقابلہ کر سکتی ہے؟“ اور جواب بھی انتہائی سادہ ہے وہ یہ کہ حکومت کے لئے یہ ممکن نہیں کہ اکیلے اس مشکل صورتحال پر قابو نہیں پاسکتی۔ عوام کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے حصے کا کام پورا کریں۔ اس مشکل وقت میں حکومت کا ساتھ دیں۔ کورونا کے وبا سے درپیش سنگین خطرات کو حقیقت جان کر ان تمام ایس او پیز پر عمل کریں اور حکومت وقت کے ساتھ تعاون کیا جائے تاکہ اس وبا کے پھیلاؤ پر قابو پایا جاسکے۔

Facebook Comments HS