اسرائیل کے ساتھ کون؟ اسرائیل کی گواہی
ہماری قومی روایات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہم بہت فراخدلی سے ایک دوسرے کو اسرائیل کا ایجنٹ قرار دیتے ہیں۔ جونہی کسی سیاسی پارٹی کا دوسری سیاسی پارٹی سے اختلاف بڑھنے لگا تو اس نے پریس کانفرنس طلب کی کہ دوسری پارٹی اصل میں صیہونی یا اسرائیل کے ایجنڈے کے مطابق کام کررہی ہے۔ پاکستانی کی پہلی کابینہ میں شامل افراد کو بھی صیہونی قرار دیا گیا، سابق وزراء اعظم بھی اسی الزام کی زد میں رہے اور مولانا فضل الرحمن صاحب نے موجودہ حکومت کو بھی یہی خلعت عطا فرمائی۔
الزامات کی اس بکرا منڈی میں ”مودی کا یار“ اور ”انگریز کا پٹھو“ ہونے کے الزامات بھی با آسانی دستیاب ہیں لیکن اس کالم میں ہم اپنی توجہ اس جنس پر مرکوز رکھیں گے جسے عرف عام میں ”اسرائیل کا ایجنٹ“ کہا جاتا ہے۔ مجھے تو یہ خوف ہے کہ اگر یہ صنعت اسی طرح آگے بڑھتی رہی تو ہو سکتا ہے پاکستان میں اسرائیل کے مبینہ ایجنٹوں کی تعداد اسرائیل کی آبادی سے بھی بڑھ جائے۔
اس شور شرابے میں ہمیں کبھی یہ خیال ہی نہیں آیا کہ یہ دیکھ لیں کہ اسرائیل والے کیا کر رہے ہیں؟ وہ فلسطینیوں کا علاقہ ہڑپ کرتے جا رہے ہیں۔ خواہ اس کے لئے نسل کشی کرنا پڑے۔ خواہ اس کے لئے دنیا کے تمام قوانین کی دھجیاں اڑانی پڑیں۔ اور امریکہ اور اکثر یوروپی ممالک ہاتھ پر ہاتھ دھر کر نہیں بیٹھے۔ وہ فلسطینیوں کو صبر اور روداری کی نصیحتیں کر رہے ہیں۔
اس وقت اسرائیل کے اکثر تجزیہ نگاروں پر ایک خاص وجد کی کیفیت طاری ہے۔ وہ جھوم جھوم کر ایک بات کا ذکر بار بار کر رہے ہیں۔ اور وہ یہ ہے کہ اب جلد سعودی عرب سمیت عرب ممالک ہمیں تسلیم کر کے ہمارے سے دوستانہ تعلقات پیدا کر لیں گے۔ اور ان علاقوں پر ہمارا اقتدار تسلیم کر لیا جائے گا جس سے ہم فلسطینیوں کو بے دخل کر رہے ہیں۔ اور اس طرح ہم فلسطینیوں کو تنہا کر دیں گے۔
اس ماہ کی یکم تاریخ کو اسرائیل مشہور روزنامہ اسرائیل یا ہوم میں سینیر صحافی ایریل کاہانہ کا ایک کالم شائع ہوا۔ اس کالم اوپر یہ نمایاں الفاظ درج تھے کہ اب معتدل عرب ممالک اس بات کو پوشیدہ نہیں رکھ رہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ اچھے تعقات کو پروان چڑھا رہے ہیں۔ اس کالم میں انہوں نے لکھا کہ کوئی کچھ بھی کہے اب اردن اور سعودی عرب سے اسرائیل کے تعلقات مضبوط ہو رہے ہیں۔ اور ان بڑھتے ہوئے تعلقات کا نقصان ترکی اور فلسطین جیسے شوریدہ سروں کو اٹھانا پڑے گا۔ انہوں نے لکھا کہ اب تک سوڈان اور چاڈ اسرائیل کے سخت مخالف تھے لیکن اب گزشتہ ہفتے ان ممالک کے لیڈروں اور وزیر اعظم نیتن یاہو کی فون پر بات ہوئی ہے۔ عرب ممالک اب فلسطینیوں کی ضد سے تھک چکے ہیں اور معتدل عرب ممالک اور اسرائیل کا تعاون دہشت گردی کی خلاف جنگ کے لئے فائدہ مند ثابت ہوگا۔
گزشتہ ماہ کی ستائیس تاریخ کو اسی اخبار میں ایک اور تجزیہ نگار اوڈڈ گرانوٹ نے لکھا کہ اگر اسرائیل فلسطینیوں کے علاقے پر اپنا تسلط قائم رکھنے کا عمل جاری بھی رکھے تو یہ عرب ممالک بظاہر اس کی مذمت کریں گے لیکن اسرائیل اور ان ممالک کے تعلقات مضبوط ہوتے جائیں گے کیونکہ ان ممالک نے ایران جیسے مشترکہ دشمن کا مقابلہ کرنا ہے۔
اسی طرح 8 جون کی اشاعت میں قانون کے ایک پروفیسر ربی ڈو فشر نے یہ تجزیہ کیا کہ اگر اسرائیل فلسطینیوں کے علاقے اپنی ریاست میں ضم کر لے تو پہلے تو دنیا میں اس قدم کو مسترد کیا جائے گا جیسا کہ پہلے کیا گیا تھا لیکن پھر ساری دنیا اسے تسلیم کر لے گی۔ جہاں تک اردن کا تعلق ہے تو وہ اس کے لئے ہمسائے کے طور پراسرائیل زیادہ قابل قبول ہو گا لیکن فلسطینیوں کے ریاست اردن کو گوارا نہیں ہو گی۔ کیونکہ آخر موجودہ بادشاہ کے دادا کو بھی تو آخر ایک عرب نے ہی قتل کیا تھا۔ سعودی عرب بھی بظاہر کچھ ناراضگی کا اظہار کرے گا لیکن آخر انہیں بھی تو زندہ رہنا ہے۔ وہ ایران سے زیادہ خطرہ محسوس کر رہے ہیں۔ اس لئے وہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرتے جائیں گے۔
اسرائیل کے ساتھ بعض عرب ممالک کے بڑھتے ہوئے تعلقات کی خبریں دو سال سے اسرائیل کے اخبارات میں شائع ہو رہی ہیں۔ پہلے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دورہ عمان پر فتح کے شادیانے بجائے گئے۔ پھر 9 دسمبر 2018 کو ٹائمز آف اسرائیل میں یہ خبر شائع ہوئی کہ سعودی عرب نے اسرائیل کی کمپنی این ایس او سے لا سلکی جاسوسی کا نظام Pegasusخریدا ہے۔ اس کے ذریعہ وہ کسی کے فون پر قابو پا کر اسے جاسوسی کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔ اور اس کمپنی پر یہ مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا کہ اس نظام کے ذریعہ جمال خاشقجی کے قتل میں مدد لی گئی تھی۔ اس اخبار کے مطابق نیتن یاہو نے اس سودے کی اجازت اس لئے دی تھی کہ اس طرح سعودی عرب سے تعلقات بہتر ہوں گے۔ اور اسی کمپنی کے روابط متحدہ عرب امارات سے بھی ہیں۔
اس سال کے آغاز میں مراکش نے اسرائیل سے تین ڈرون جہاز خریدے تھے۔ اس سال مئی کے وسط میں پہلی مرتبہ متحدہ عرب امارات کی اتحاد ائر لائن کا جہاز اسرائیل کی رن وے پر اترا تھا اور اب سے چند گھنٹے پہلے متحدہ عرب امارات کا دوسرا جہاز علانیہ طور پر اسرائیل کی زمین پر اترا ہے۔
ہم یہ خبریں بھی سن رہے ہیں کہ اسرائیل کی طرف فلسطینیوں پر مظالم اور ان کے علاقے پر قبضہ کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ اسرائیل وہاں پر مقیم مسلمانوں میں سے کچھ کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرے گا کہ نہیں۔ اسرائیل کی حکومت کی مختلف سائٹس پر یہ فخریہ اعلان آویزاں ہوتا ہے کہ اسرائیل میں اتنے لاکھ مسلمان آباد ہیں اور ان میں سنیوں کی تعداد زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ شیعہ اور دروز فرقہ کے علاوہ دوسرے فرقوں کے مسلمان بھی اسرائیل میں آباد ہیں۔ اور اسرائیل کی حکومت مختلف مساجد کے ائمہ کو تنخواہ بھی دے رہی ہے۔ اس وقت نو مسلمان اسرائیل کی پارلیمنٹ کے رکن ہیں۔
پاکستان کے حوالے سے 27 مئی کو اسرائیل کے اخبار یروشلم پوسٹ میں یہ دلچسپ تجزیہ شائع ہوا کہ مسلمان ممالک میں ملیشیا، ترکی، قطر اور پاکستان کا اتحاد بن رہا ہے۔ اس وقت تو سعودی عرب نے پاکستان پر دباؤ ڈال کر اسے علیحدہ کر لیا ہے۔ لیکن یہ ممالک اگر متحد ہو جائیں تو یہ اتحاد اسرائیل، بھارت اور امریکہ کے خلاف ہوگا۔ یہ اتحاد مسلمان ممالک کو عرب ممالک کی روایتی قیادت سے دور لے جائے گا۔ ساری تحریر یہ ظاہر کر رہی ہے کہ اسرائیل میں اس اتحاد اور ترکی کے صدر کے بڑھتے ہوئے اثر کی وجہ سے بے چینی محسوس کی جا رہی ہے۔
اس وقت اسرائیل کی پالیسی یہی نظر آتی ہے کہ وہ عرب ممالک کو ایران سے خوفزدہ کر کے اپنے قریب لانا چاہتا ہے۔ اور مسلمان ممالک کے لئے یہی بہتر ہے کہ وہ بجائے ایک دوسرے سے خوف زدہ ہونے کے مل کر مشترکہ پالیسی وضع کریں کہ مظلوم فلسطینیوں کو اسرائیل کے ظلم سے کس طرح بچانا ہے؟ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو کم از کم پاکستان کے عوام کی رائے بالکل واضح ہے اور یہ رائے اسرائیل کے شدید خلاف ہے اور اخلاقی طور پر ان کی رائے بہر حال درست ہے۔ لیکن یہ بات قابل غور ہے کہ ہم ایک دوسرے کو تو اسرائیل کا ایجنٹ قرار دیتے رہتے ہیں لیکن ہمارا میڈیا ان حقائق پر بات کرنے سے کیوں کتراتا ہے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا ان علاقوں کو غصب کرنے کے بعد اسرائیل کا پیٹ بھر جائے گا؟




