آٹومیشن کا انقلاب غریب ممالک کو تباہ کر دے گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب لوگ عالم گیر مدد کی بات کرتے ہیں (چاہے وہ آمدنی یا خدمات کی شکل میں ہوں ) تو ان کی بات کا مطلب قومی بنیادی تعاون ہوتا ہے۔ اسی لیے ابھی تک یو بی آئی کے تمام تر اقدامات قومی یا میونسپلٹی رہے ہیں۔ جنوری 2017 میں فن لینڈ نے ایک دوسالہ تجربہ شروع کیا، جس میں اس نے دو ہزار بیروزگار لوگوں کو ماہانہ پانچ سو ساٹھ یورو فراہم کیے۔ اس بات سے قطع نظر کہ وہ کام تلاش کرتے ہیں یا نہیں۔ اسی طرز کے تجربات کینیڈا کے صوبہ اونٹاریو، اطالوی شہر لیورنو اور کئی ڈچ شہروں میں کیے جار ہے ہیں۔ 2016 میں سوئٹزرلینڈ میں قومی بنیادی انکم سکیم کے قیام سے متعلق ریفرنڈم ہوا، لیکن ووٹروں نے اس خیال کو مسترد کر دیا۔

تاہم ان قومی اور میونسپل اسکیموں میں مسئلہ یہ ہے کہ آٹومیشن سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے افراد فن لینڈ، اونٹاریو، لیورنویا یا ایمسٹر ڈیم میں نہیں رہ سکتے ہیں۔ گلوبلائزیشن نے ایک ملک کے باشندوں کو مکمل طور پر دوسرے ملک کی مارکیٹوں پر انحصار کرنے والا بنا دیا ہے۔ لیکن آٹومیشن نے اسی عالمی تجارتی نیٹ ورک کے بڑے حصوں کو سب سے کمزور ترین لنکس کے تباہ کن نتائج کے سبب بے نقاب کر دیا ہے۔ بیسویں صدی میں ایسے ترقی پذیر ممالک جہاں قدرتی وسائل کی کمی ہے انہوں نے اپنے غیر ہنر مند مزدوروں کی مزدوری سستے داموں بیچ کر معاشی ترقی کی ہے۔ آج کے دور میں لاکھوں بنگلہ دیشی اپنی تیار کی گئی شرٹیں امریکی صارفین کو فروخت کرکے اپنی زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ بنگلور کے لوگ اپنی روزی روٹی امریکی گاہکوں کی شکایات کا ازالہ کرنے کے لیے کال سینٹروں میں کام کرتے ہوئے کما رہے ہیں۔

اسی لیے مصنوعی ذہانت، روبوٹ اور تھری ڈی پرنٹرز کے اضافہ کی وجہ سے سستے غیر ہنر مند مزدوروں کا وجود بالکل غیر اہم ہو جائے گا۔ ڈھاکہ میں شرٹ تیار کرنے اور اسے امریکہ بھجوانے کی بجائے، آپ ایمیزون سے شرٹ کا کوڈ خرید کر اسے نیویارک سے پرنٹ کروا سکتے ہیں۔ ففتھ ایونیو میں موجود زارا اور پراڈا سٹورز کی جگہ بروکلین میں تھری ڈی پرنٹنگ کے سنٹر کھل سکتے ہیں اور ممکن ہے کہ کچھ لوگ ایسے پرنٹرز اپنے گھروں میں رکھ لیں۔

اسی طرح اپنے پرنٹرکے بارے میں بنگلور میں کسٹمر سروسز کو اپنی شکایات درج کروانے کی بجائے آپ گوگل کلاؤڈ میں مصنوعی ذہانت سے مزین روبوٹ سے بات کر سکتے ہیں (جس کے لہجے اور آواز کو آپ کی ترجیحات کے مطابق ڈھالا گیا ہوگا) ۔ ڈھاکہ اور بنگلور میں ان نئے بیروزگاروں کے پاس فیشن ایبل شرٹس ڈیزائن کرنے یا کمپیوٹر کوڈ تحریر کرنے کی ضروری تعلیم نہیں ہے۔ اس لیے سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ لوگ کیسے زندہ رہیں گے؟

اگر مصنوعی ذہانت اور تھری ڈی پرنٹر بنگلہ دیشی اور بنگلور کے باشندوں سے روزگار چھین لیتے ہیں تو وہ تمام تر آمدنی جو پہلے جنوبی ایشیا میں آتی تھی اب کیلی فورنیا میں بیٹھے ٹیکنالوجی کے جنات کے خزانوں کو بھر دے گی۔ اس ساری دنیا میں معاشی صورتحال میں بہتری کی بجائے ہم سلی کون ویلی جیسے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مراکز میں بہت زیادہ دولت پیدا ہوتی دیکھ سکتے ہیں۔ جس کی وجہ سے بہت سارے ترقی پذیر ممالک تبا ہ ہوجائیں گے۔

یقیناً کچھ ابھرتی ہوئی معیشتیں (جن میں انڈیا اور بنگلہ دیش شامل ہیں ) فاتح ٹیم میں شامل ہونے کے لیے تیزی سے آگے بڑھ سکتی ہیں۔ ٹیکسٹائل مل مزدور اور کال سینٹر کے آپریٹر اپنے بچوں اور پوتے پوتیوں کو کافی سارا وقت دے کر انہیں انجینئر اور کاروباری افراد بناسکتے ہیں۔ جس کی بدولت وہ خود کمپیوٹر اور تھری ڈی پرنٹر بنا سکیں۔ لیکن اس بڑی تبدیلی لانے کا وقت تیزی سے ختم ہوتا جا رہا ہے۔ ماضی میں سستے غیر ہنرمند مزدوروں نے عالمی معاشی تقسیم کے فرق کو کم کرنے کے لیے ایک محفوظ پل کا کام کیا ہے، ایک ملک جو آہستہ آہستہ ترقی کی منزل کی طرف بڑھ رہا تھا، اس کے لیے بھی امید کی جاسکتی تھی کہ آخر کار بحفاظت منزل تک پہنچ جائے گا۔

تیز رفتار ترقی کی نسبت درست قدم اٹھانا زیادہ ضروری تھا۔ تاہم اب یہ پل لرز رہا ہے اورجلد ہی گر سکتاہے۔ وہ ممالک جو اسے پہلے ہی عبور کرچکے ہیں (یعنی سستی مزدوری سے اعلیٰ مہارت رکھنے والی صنعتوں کی طرف بڑھ گئے ہیں ) وہ سب ممالک اب اچھی جگہ پرہیں۔ لیکن اس دوڑ میں پیچھے رہ جانے والے اس خلیج کی غلط سمت میں پھنس گئے ہیں۔ اس وقت آپ کیا کریں گے جب کسی کو بھی آپ کے غیر ہنر مند سستے مزدوروں کی ضرورت نہیں رہے گی اور آپ کے پاس اچھا تعلیمی نظام ترتیب دینے اور نئی مہارتیں سکھانے کے لیے وسائل بھی نہیں ہوں گے۔

ان سست ممالک کا کیا ہوگا؟ امریکی ووٹراس بات پر بخوبی متفق ہوسکتے ہیں کہ ایمیزون اور گوگل کی طرف سے ٹیکس پنسلوانیا میں بیروزگار کارکنوں اور نیو یارک کے بے روزگار ٹیکسی ڈرائیوروں کو وظیفہ یا نقد خدمات سر انجام دینے کے لیے استعمال کیا جائے۔ تاہم کیا امریکی ووٹر اس بات سے بھی سے بھی اتفاق کر لیں گے کہ صدر ٹرمپ کے بیان کردہ ”شٹ ہول ممالک“ کے لوگوں کی مدد کے لیے یہ ٹیکس بھیجے جائیں؟ اس سوچ پر یقین رکھنا ایسے ہی ہوگا جیسا کہ آپ فرض کر لیں کہ سینٹا کلاز اور ایسٹر بنی آپ کے مسائل حل کردے گا۔

مترجم: زبیر لودھی

اس سیریز کے دیگر حصےروبوٹکس ٹیکنالوجی اور روز گار کا بحرانیوول نوح حراری: اکیسویں صدی کے اکیس سبق (قسط نمبر 9)۔
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *