کیا ٹائیگر فورس پیٹرول کی دستیابی یقینی بنا سکتی ہے؟
کپتان کی پیار سے بنائی گئی ٹائیگر فورس کو مخالفین نے دوران کورونا رلیف کا کام کرنے نہیں دیا، یہاں تک کے ٹائیگر کا نام سنتے ہی صف دشمناں کا ہر دستہ ان کے خلاف متحرک ہوگیا۔ کپتان اپنی فورس کی ٹویٹر پر کارکردگی اور کام دیکھ کر روزانہ متاثر ہوتا رہتا ہے۔ جنہیں ٹائیگر فورس کے کورونا میں سونپے گئے کام اور اس کے نام پر اختلافات ہیں وہ کچھ بھی کہیں کپتان نے اپنی اس افسانوی سیاسی فورس سے اب کوئی کام تو لینا ہی ہے۔
وہ کام ٹڈیاں پکڑنے کا بھی ہو سکتا ہے، پیٹرول کی عوام کے لیے سرکاری داموں پر دستیابی یقینی بنانے کا بھی ہو سکتا ہے تو جو اشرافیہ سخت لاک ڈاؤن چاہتی ہے اس کو سمارٹ لاک ڈاؤن کے فوائد سمجھانے کا بھی ہو سکتا ہے۔ کپتان کو کام سے اور اس کے چیتوں کو کپتان کے دعوت کام سے پیار ہے۔ اب کوئی چاہے تو صف دشمناں کو اطلاع کر سکتا ہے۔ جلد ٹائیگر فورس پیٹرول کی دستیابی کے لیے ”ٹویٹر ہینڈلوں“ کو چھوڑ کر میدان میں ہوگی، مطلب پیٹرول پمپس پر ہوگی۔ انتظار صرف کپتان کے ایک حکم کا ہے۔
کپتان اکیلا تو چینی چوروں، آٹا چوروں اور پیٹرول گم کرنے والی وباؤں سے نہیں لڑ سکتا۔ اس ملک کی اشرافیہ پہلے دن سے کپتان کے خلاف ہے۔ کورونا کے بعد اشرافیہ سخت لاک ڈاؤن کے حق میں رہی ہے اور کپتان اس کی مخالفت کرتا رہا ہے، اس ہی وجہ سے اشرافیہ اور مزید کپتان کے خلاف ہو گئی ہے۔ کپتان نے سمارٹ لاک ڈاؤن کا حل متعارف کرایا ہے جو دنیا میں بڑا مقبول ہوا ہے۔ مقبولیت کی ایک خبر کپتان کو شود کو ہے اور باقی اس بارے میں سب کچھ مراد سعید جانتی ہیں۔ یہ فقیر صرف اتنا جانتا ہے سمارٹ لاک ڈاؤن کا بانی مذکورہ چیتوں کا کپتان ہے، جن کی مافیائیں مخالفت کر رہی ہیں۔
ریڑھے والے اور چھابڑی والے کے لیے کپتان فکرمند ہے، ان کے لیے پیٹرول سستا کیا ہے، سخت لاک ڈاؤن سمارٹ لاک ڈاؤن میں تبدیل کیا ہے مگر جو مافیائیں ہیں وہ نہیں چاہتی کے کپتان کے فیصلوں سے غریبوں کی زندگی آسان ہو۔ آٹا گم کرنے والوں میں سے ہی پیٹرول گم کرنے والے ہوں گے۔ کپتان بارہا ایسی مافیاؤں کی نشاندہی کر چکے ہیں۔ اب کورونا اور ٹڈی دل کے ساتھ، ساتھ ٹائیگر فورس کے لیے کرنے کا ایک اور بھی کام نکل آیا ہے وہ ہے پیٹرول چھپانے والے ڈھونڈنا اور پیٹرول پمپس پر عوام کے لیے پیٹرول کی سرکاری قیمت پر دستیابی ممکن بنانا۔
ان مشکل دنوں میں یہ بھی ہماری خوش نصیبی ہے کے ملکی سلامتی کے خلاف کام کرنے والی قوتوں پر پاکستان میں مقیم امریکی خاتون سنتھیا رچی کی آنکھیں مرکوز ہیں، مشکلات میں اپنوں کی مدد اس طرح بھی کی جا سکتی ہی۔ سنتھیا رچی، پیٹرول چھپانے، آٹا چھپانے والوں اور ٹڈی دل پکڑنے میں ہماری کوئی مدد نہ کر سکی تو کیا ہوا، کم سے کم اس نے پشتون تحفظ موومنٹ اور پیپلز پارٹی کے درمیان جو تعلق ہیں ان پر سراغ لگانے کا کام تو کیا۔ فلاحی ریاست کا جو تصور ہے، اس کی عملی شکل رضاکاروں کا یہ کام ہے۔ وہ رضاکار ٹائیگر فورس کی صورت میں بھی ہو سکتے ہیں اور سنتھیا رچی کی شکل میں بھی۔ تو آؤ سب مل کر کہیں، مجھے بھی نئی ریاست مدینہ سے پیار ہے۔
لکھاری، میڈیا سائنسز کا طالب علم ہے۔ پڑھنا، سیاحت کرنا اور لکھنا اس کے محبوب کاموں میں شامل ہے۔


