پی ٹی آئی نے منصوبے چھینے ہیں، الیکشن بھی چھین لے گی
حق چھین لیا جاتا ہے مانگا نہیں جاتا، یہ تو سب کہتے ہیں لیکن آج تک ہم نے اس پہ غور نہیں کیا کہ ہمارے درمیان حقوق کو چھین کے لانے والا کوئی ہے بھی کیا؟
قومی ترقیاتی بجٹ المعروف پی ایس ڈی پی میں اس سال گلگت بلتستان کے لئے کوئی نئی اسکیم نہیں رکھی گئی۔ وفاق پاکستان اور گلگت بلتستان کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے والی وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان کو ایک بھی نیا منصوبہ نہیں دیا گیا۔ کوئی یونیورسٹی نہیں دی گئی، کوئی نیا کالج، ٹیکنیکل ادارہ نہیں، ڈیم نہیں، بجلی کا منصوبہ نہیں الغرض کچھ بھی نہیں۔ بلکہ ن لیگ کے دور میں منظور 60 میگاواٹ کے 2 پاور پلانٹ واپس لئے گئے، غواڑی اور عطا آباد۔
سالانہ پی ایس ڈی پی ایک دن میں نہیں بنتا، متعلقہ ادارے پورا سال اس پہ ورک کرتے ہیں۔ تجاویز مانگی جاتی ہیں۔ سیاسی اثر رسوخ بھی چلتا ہے لیکن تف ہے پی ٹی آئی گلگت بلتستان والوں پر! وفاقی وزارت ”منصوبہ بندی ترقیات و خصوصی اقدامات“ بجٹ تجاویز مانگتی اور پی ایس ڈی پی بناتی رہی، ادھر پی ٹی آئی گلگت بلتستان والے اپنی وفاقی حکومت پر نئی اسکیموں کے لئے پریشر ڈالنے کی بجائے آپس میں خود ہی لڑتے رہے۔ جعفر شاہ گروپ اور راجہ جلال گروپ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں لگے رہے، باقی لوگ حلقے کے ٹکٹ کی لابنگ کرتے رہے اور انصاف کرونا ٹائیگرز سوشل میڈیا پہ مخالفین کو گالیاں دیتے رہے۔
بدقسمتی سے سوائے ایک آدھ کے پی ٹی آئی گلگت بلتستان میں ترقیات کو سمجھنے اور پی ایس ڈی پی جیسی ٹیکنیکلٹیز پہ تجاویز دینے کے قابل لوگ ہی نہیں ہیں۔ ان کو علاقے اور عوام سے کوئی غرض نہیں، بس ٹکٹ لینا ہے اور اسمبلی جا کے کچھ ٹھیکے ہتھیانے ہیں، اول تا آخر ہدف یہی ہے۔
یہ الیکشن کا سال ہے، وفاقی حکومت انتخابی فائدے کو مدنظر رکھ کر ہی کچھ نئے منصوبے دے سکتی تھی مگر اس کو اپنی زیادتیوں اور گلگت بلتستان کے عوام کے ذہنی لیول پہ اتنا اعتماد ہے کہ منصوبے بھی چھینے گی اور الیکشن بھی۔ اب سوچ لیں کہ جب گلگت بلتستان میں بھی پی ٹی آئی حکومت بنے گی تو کیا کیا گل کھلائے گی۔ امور سیاست و حکومت معاشرے کے زیرک ترین لوگوں کا کام تھا مگر پاکستان میں یہ لونڈے لپاڑوں کے ہاتھ لگ گئے ہیں۔ انا للہ و انا الیہ راجعون


