خود ہی اپنا علاج کرنا، خطرۂ جاں


ہمارے ایک ملنے والے ہیں ان کو دوائیاں کھانے کی بیماری ہے وہ کڑوی سے کڑوی گولی مزیدار ٹافی کی طرح نگل جاتے ہیں اور خوش رہتے ہیں۔ پچھلے دنوں ایک ٹی وی ڈرامے میں ایک ایسے ہی کردار کو دیکھ کر مجھے کتنے ہی لوگ یاد آ گئے جنہیں دوائیاں کھانے کا شوق ہے۔

میرے ابا بھی ’شوقین ادویات‘ میں شامل ہیں ان کے پاس دواؤں کا ایک وسیع ذخیرہ رہتا ہے جس میں سے وہ اور ہمارے بہت سے قریبی عزیز فیض یاب ہوتے رہتے ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ ہمارے ملک میں ہر دوسرا شخص گولیاں کھانے کی بیماری میں مبتلا ہے۔ ذرا سا سر درد ہوا ڈسپرین پانی کے ساتھ نگل لی، تھکن محسوس ہوئی تو دو پیناڈول کھا لی۔ پیناڈول ہماری ’قومی دوا‘ بن گئی ہے۔

خواتین کے پرس میں اب ان کی ذاتی استعمال کی اشیا کے علاوہ پیناڈول، ڈسپرین، یا پھر کسی نہ کسی پین کلر (درد کش دوا) کے ایک دو پتے ضرور موجود ہوتے ہیں۔ اپنے گھریلو بجٹ میں ہم ادویات کا بجٹ علیحدہ سے رکھنے لگے ہیں۔ ہم لوگ اینٹی بائیوٹک ایسے کھاتے ہیں جیسے ڈرائی فروٹ کھا رہے ہوں۔

ترقی یافتہ ممالک میں ڈاکٹری نسخے کے بغیر ادویات ملنا بہت مشکل ہے وہاں ڈاکٹر کی اجازت کے بغیر کوئی بھی فارماسسٹ دوا فروخت نہیں کر سکتا مگر ترقی پذیر ممالک میں ایسی کوئی پابندی نہیں ہے۔

پاکستان میں معمولی اور بعض دفعہ پیچیدہ بیماریوں کا بھی خود سے علاج کرنا عام ہے۔ یہ رویہ دنیا بھر میں پایا جاتا ہے لیکن پاکستان جیسے ممالک میں، جہاں ہر قسم کی ادویات بغیر کسی روک ٹوک اور کنٹرول کے کھلے عام دستیاب ہیں، یہ روش خطرناک ہو سکتی ہے۔

ادویات کی ایک کیٹیگری جنہیں ’اوور دی کاؤنٹر‘ ادویات کیا جاتا ہے بغیر ڈاکٹری نسخے کے لی جا سکتی ہیں۔ اس کیٹگری میں اسپرین، پیرا سیٹامول وغیرہ شامل ہیں لیکن ان ادویات کا بھی ضرورت سے زیادہ استعمال خطرناک ہو سکتا ہے۔

ہمارے ہاں ’اوور دی کاؤنٹر‘ ادویہ کی میڈیا کے ذریعے تشہیر کی اجازت ہے۔ اشتہار کے آخر میں گو تنبیہ کی جاتی ہے مگر وہ اس قدر خوشنما طریقے سے نہیں ہوتی جیسی دوا کی تشہیر ہوتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کمپنی نہیں چاہتی کہ لوگ تنبیہ پر کان دھریں اور اثر لیں۔

بات خود تک محدود ہو تو پھر بھی ٹھیک مگر ہمارے ہاں دوسروں کو مفت ’مشورہ‘ دینا اور دوائیں ’تجویز‘ کرنا عام ہے۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ ایسے مشوروں کا مان لینا، بھی اتنا ہی عام ہے۔

یہ ہرگز ضروری نہیں ہے کہ کسی شخص کو کسی خاص بیماری میں جس دوا نے فائدہ دیا ہو وہ دوسرے کو بھی وہی دوا فائدہ دے۔ اس سے بھی ضروری بات یہ ہے کہ بہت سی بیماریوں کی علامات بظاہر بالکل ایک جیسی ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں کسی اور بیماری کی دوا لینا فائدہ کی بجائے نقصان کا باعث ہوتا ہے۔

ایک اور بہت اہم اور عام مسئلہ اینٹی بائیوٹک ادویات کا بے دریغ استعمال ہے۔ لوگ نزلہ زکام کے لیے بھی انٹی بائیوٹک لے لیتے ہیں حالانکہ یہ وائرل بیماریاں ہیں اور ان پر اینٹی بائیوٹک کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ اینٹی بائیوٹک انتہائی خاص ادویات ہیں اور ان کا استعمال بھی خاص حالات میں اور مخصوص طریقے سے کیا جانا چاہیے۔ یہ ادویات بیکٹیریا کو مارنے کے لیے استعمال کی جاتی ہیں۔ مخصوص بیکٹیریا کے لیے خاص اینٹی بایوٹک ہوتی ہے۔ اس کی طاقت اور مقدار بھی بیکٹیریا کی نوعیت کے مطابق ہوتی ہے۔ کم طاقت یا مطلوبہ خوراک سے کم اینٹی بایوٹک استعمال کی جائیں تو بیکٹیریا ان کے خلاف مزاحمت پیدا کر لیتے ہیں۔ نتیجتاً یہ ان پر اثر نہیں کرتیں۔

حال ہی میں دنیا میں ایسے بیکٹیریا دریافت ہوئے ہیں جن پر کوئی اینٹی بائیوٹک اثر نہیں کرتی۔ یونہی چلتا رہا تو ہم اینٹی بائیوٹک کی دریافت سے پہلے کی صورتحال میں واپس پہنچ جائیں گے اور اس کی ذمہ داری مکمل طور پر اینٹی بائیوٹک کے غلط استعمال پر ہو گی۔

غلط دوا کے استعمال کے سنگین نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ پاکستان میں تقریباً ’50 ہزار ادویات رجسٹرڈ ہیں جن میں سے بہت سی ادویات کے نام ملتے جلتے ہیں۔ ایک چھوٹی سی غلطی کے بہت بھیانک نتائج نکل سکتے ہیں۔ میڈیکل سٹور چلانے والے حضرات بھی دوا تجویز کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے لہٰذا ان سے دوا تجویز کروانا بھی درست نہیں ہے۔

عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ جلد پر لگانے والی ادویات میں زیادہ احتیاط کی ضرورت نہیں ہوتی، جو بھی دوا مل جائے لگا لینی چاہیے۔ یہ بھی بہت غلط رویہ ہے۔ جلد پر لگائی جانے والی ادویات نہ صرف جلد کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتی ہیں بلکہ خون میں شامل ہو کر دیگر مسائل کا باعث بھی بن سکتی ہیں۔

لوگ کبھی نہ کبھی ایک دوسرے کو ’سیلف میڈیکیشن‘ کے خطرات سے ڈراتے ہیں اور تنبیہ کرتے ہیں مگر دیکھا گیا ہے کہ ناصح بھی خود سے گولیاں چبا رہے ہوتے ہیں۔ خود ساختہ علاج کی ایک بڑی وجہ ڈاکٹروں کی بڑھتی ہوئی فیس ہے۔ لوگ ڈاکٹرز کی مہنگی فیسوں سے بچنے کے لیے سستی ادویات کا سہارا لیتے ہیں۔ عام سے ڈاکٹر کی کم سے کم مشورہ فیس ایک ہزار روپے ہے جو چار ہزار روپے تک جاتی ہے۔

لوگ سوچتے ہیں کہ اگر ڈاکٹر نے بھی پینا ڈول ہی دینی ہے تو خود کھا کر کیوں نہ ٹھیک ہوجائیں، ہزار، پندرہ سو روپے بھی بچ جائیں گے۔

جن کے پاس پیسہ ہے ان کے پاس وقت نہیں ہے۔ ڈاکٹروں سے وقت لینے، کلینک جانے اور پھر انتظار کی کوفت سے بچنے کے لیے بھی سیلف میڈیکیشن ہوتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب تین، چار ٹیسٹ لکھ دیں یا پھر کسی سپیشلسٹ کے پاس بھیج دیں اور سپیشلسٹ بھی ایسے جن سے وقت ملنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ اس سارے جھنجھٹ سے بچنے کے لیے ایک دو گولیاں پھانکیں اور بس۔

’سیلف میڈیکیشن‘ کی ایک قسم تو بہت ہی خطرناک ہے۔ آپ کے کوئی عزیز کسی اچھے اور مہنگے ڈاکٹر کو دکھا کر آئے ہیں۔ آپ ان کی مزاج پرسی کو گئے تو انہوں نے اپنی بیماری کی تفصیل کے ساتھ ڈاکٹر کی تشخیص کردہ دوائیں بھی آپ کے سامنے رکھ دیں۔ اچانک آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ یہ علامات تو آپ میں بھی ہیں۔ ’باہمی مشاورت‘ سے فیصلہ ہوتا ہے کہ ڈاکٹر کو فیس دینے کی بجائے یہ دوائیں استعمال کر لی جائیں۔ اللہ شافعی، اللہ کافی۔ ۔ ۔
اس کا نتیجہ دو صورتوں میں نکلتا ہے۔ ایک یہ کہ اگلی مرتبہ وہ آپ کی عیادت کو آتے ہیں، اور اگر آپ کی قسمت اچھی نہیں نکلی تو بقول شخصے تعزیت کا بھی بہت ثواب ہے۔

Facebook Comments HS