اختر رضا سلیمی کی ناول نگاری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ناول نگاری ادبی اصناف میں ایک ایسی صنف ہے جو مصنف کے خیال کے اظہار کے لیے اپنا دامن اتنا وسیع کر دیتی ہے کہ جس کی وسعت کو سمندری وسعت سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔ یہ نہیں کہ ناول بے شتر مہاڑ گھوڑا ہے جس کی کوئی روک ٹوک نہیں بل کہ جتنا وسیع خیال کا دامن ہوتا ہے اتنی ہی زیادہ محنت اور جتن ناول نگار کو لکھنے کے دوران میں کرنے پڑتے ہیں۔ وہ تب جاکر اس سمندر جیسی وسعت میں اپنا جزیرہ بنانے میں کامیاب ہوپاتا ہے یعنی یوں وہ ایک شاہکار ناول تخلیق کر لیتا ہے۔

باقی تمام اصناف کی اپنی تحریری بندشیں ہیں جن سے تجاوز ان کی صحت کے لیے خطرہ ہو سکتاہے۔ اس لیے کوئی صنف اس کی جتنی وسعت کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ ہر صنف کی اپنی خصوصیات اور معیارات ہیں۔ جن کی بنیاد پر وہ اپنے قارئین پیدا کر تیں ہیں۔ مگر کسی بھی صنف میں شاہکار فن پارہ صرف ایک محنتی، اچھا اور سچا تخلیق کار ہی تخلیق کر سکتا ہے۔ جس نے روح سے اپنی تخلیق اور اس کے عمل کو محسوس کیا ہو اور لکھنے کے لیے وہ ہی ماحول اور فضا خود پر طاری کی ہو جو اس تخلیق کے لیے درکار ہو تو پھر جو تخلیق سامنے آئے گی اس کے وجود سے کسی حقیقی صاحب علم کا انکار ممکن نہ ہو گا۔

اختر رضا سلیمی بھی ایک ایسا ناول نگار ہے جو مذکورہ تمہید پر پورا اترتا ہے۔ اس کے ابھی تک دو ناول چھپ کر سامنے آئے ہیں یعنی جاگے ہیں خواب میں ( 2015 ) اور جندر ( 2017 ) ۔ سلیمی ذات کے اندر رہنے والا مادی دنیا سے کوسوں دور ایک ایسا تخلیق کار ہے جو اپنی تخلیق کے وجود کو خود پر یوں طاری کرتا ہے کہ دونوں کا فرق مٹ جاتا ہے اور یوں دونوں کے ملاپ سے جو چیز سامنے آتی ہے اس کی ملکیت کے تمام حقوق سلیمی کو مل جاتے ہیں اگر کوئی ان کو چھیننا یا نقل کرنا چاہے بھی تو ایسا کر نہیں پائے گا کیوں کہ تخلیق کے وجود کو اپنے وجود میں بھسم کرلینا کسی چور کے بس کی بات نہیں۔ اس تناظر میں ہم سلیمی صاحب کے اس عمل کو حسین منصور الحاج (وفات: 922 ) کے نعرے انا الحق (میں سچ ہوں ) سے تشبیہ دے سکتے ہیں اور کہہ سکتے ہیں انا التحریر:میں تحریر ہوں۔

”جاگے ہیں خواب میں“ جب میں نے پڑھا تو عجیب کیفیت طاری ہوئی کیوں کہ جس ماحول اور فضا کا اوپر ذکر ہوا وہ پڑھتے ہوئے یہ ناول قاری پر بھی طاری کرتا ہے اور مجھ پر بھی ہوئی۔ قاری سلیمی کے ناول کی دنیا میں یوں کھو جاتا ہے جسے کوئی وجد کی حالت میں رقص شروع کردے تو اس حالت سے واپسی پھر تب ہی ہو پاتی ہے جب وجد طاری کرنے والی شے ختم ہو جائے یا بندہ بے ہوش ہو جائے۔ ختم ہونے کے بعد والی حالت اور بے ہوشی بالکل دو مختلف کیفیات ہیں اور ان کے اصل معنی عشق والے ہی جان سکتے ہیں۔

اگر اسی عشق کے ساتھ آپ سلیمی کے ناول کو پڑھنا شروع کریں تو آپ یقیناً بے ہوش ہوئے بغیر نہیں رہ پائیں گے۔ یہ بے ہوشی سلیمی کی عقل و فہم میں غرق ہونے کا نام ہے جو پھر آپ کی ذات سے متعلقہ ان رازوں اور سوالوں کے جوابات دیتی ہے ( بل کہ مستقبل سے بھی آگاہی کرواتی نظر آتی ہے ) جن سے آپ کا سامنا اکثر ہوتا ہے مگر حل نہ ہونے کی وجہ سے انسان بے بس نظر آتا ہے اور یہ کام کسی صاحب نظر مصنف کا ہی ہو سکتا ہے۔ مگر اس عقل و فہم تک پہنچنے کے لیے قاری کا خود صاحب علم ہونا بہت ضروری ہے۔

اس ناول کا نام جو غالب کے ایک مصرعہ سے مستعار لیا گیا ہے۔ اس سے ہی اس تخلیق کار اور ناول کی گہرائی کا اندازہ آسانی سے لگایا جا سکتا ہے۔ جس نے غالب کی شاعری کو سمجھ لیا۔ وہ زندگی کے رازوں اور چیلنجز سے یقیناً باخبر اور ان سے نپٹنے کے لیے بنیادی آ گاہی کا حامل ہو گیا۔ آگاہی، محنت، قسمت اور شوق کسی بھی میدان میں کامیابی کے بنیادی اصول سمجھے جاتے ہیں۔ جن کے سہارے انسان اپنے خوابوں کی منزل کا سفر آسانی سے طے کر لیتا ہے پھر وہ انسان مادی دنیا کے عام انسانوں کی بھیڑ میں بالکل علیحدہ کھڑا نظر آتا ہے۔

اس لیے اسے ان کے گروہ میں شمار کرنا زیادتی کے مترادف ہوگا۔ سلیمی خود بھی شاعر ہیں جس نے اسے غالب شناسی کا موقع دیا۔ ”جاگے ہیں خواب میں“ کتنا گہرا، زندہ، اور مکمل یہ چار الفاظ کا مصرعہ ہی اس ناول کا عنوان ہو سکتا تھا کیوں کہ اس میں ناول نگار اپنے قاری کو ماضی، حال اور مستقبل سے ہم کلام کرواتا ہے۔ اس ہم کلامی میں جو جہاں آباد ہوتا ہے اس میں بظاہر تینوں زمانے ایک دوسرے میں یوں اٹوٹ انگ نظر آتے ہیں کہ فرق کرنا مشکل ہو مگر قارئین اگر اس تخلیق کار کی روح اور تکنیک کو پکڑ گئے تو پھر ہر زمانہ ان پر کھلتا جائے گا۔

ماضی بیان کرتے ہوئے سانحہ بالا کوٹ جس انداز میں یہ ناول سامنے لاتا ہے وہ سلیمی کے فن کا اوج کمال ہے۔ ناول میں کسی بھی اقتباس کا اصل مزہ تو سیاق و سباق کے ساتھ پڑھنے میں ہے مگر پھر بھی جب ناول نگار نے ماضی کو اپنے بیانیے کا حصہ بنایا ہے تو ایسی باتیں سامنے آتی ہیں کہ جب ان کی گہرائی میں جھانکا جائے تو یہ معلوم کرنا کوئی مشکل نہ ہوگا کہ اخلاقی سطح پر آج کا انسان گھاٹے میں ہی جا رہا ہے۔ ماضی کا بزدل انسان ایک مردہ لاش نہیں تھا، آج کے بزدل کی طرح۔

ماضی کے بزدل میں کسی مقام پر بہادری کے جراثیم نمودار ہو سکتے تھے۔ ایسی بہت سی باتیں ناول پڑھتے ہوئے ہمیں گاہے بگاہے نظر آتیں ہیں ”محاذ جنگ بھی عجیب شے ہے۔ جہاں کسی کو مارنا یا مرجانا کوئی معنی ہی نہیں رکھتا۔ بزدل سے بزدل آدمی بھی جنگ کا طبل بجتے ہی بہادر ہو جاتا ہے اور موت سے آنکھیں چار کرلیتا ہے“ ۔ اگلے اقتباس میں جو چیز سامنے آتی ہے وہ اس معاشرے میں پائے جانے والے سماجی و ثقافتی رویے تھے جن کی بنیادیں اتنی مضبوط دکھائی دیتی ہیں کہ جن کو مذہب بھی نہ ہلا سکا۔

وہ یہ کہ لوگ ذات پر اجتماعی مسئلے کو قربان نہیں کرتے تھے۔ مٹی یا قبیلے اور اس کی ثقافت کی آن پر کسی مصلحت سے کام نہیں لیا جاتا تھا۔ مثلاً واپسی پر جب اس نے اپنا فیصلہ قبیلے کے سامنے رکھا تو کسی نے بھی اس سے بغاوت نہیں کی۔ جن لوگوں کو اس سے اختلاف تھا، انھوں نے بھی یہ کہہ کر کہ اب یہ قبیلے کی غیرت کا مسئلہ ہے ساتھ دینے کی حامی بھر لی۔ یہاں تک کہ ان کے آباواجداد صدیوں سے جس طریقے سے نماز ادا کرتے چلے آ رہے تھے اس میں بھی تبدیلی لا کر، انھوں نے اپنے آپ کو سید احمد بریلوی کے مسلک سے ہم آہنگ کر لیا البتہ شادی بیاہ اور مرگ و موت کی رسومات، جنھیں سید احمد بریلوی غیر اسلامی قرار دیتے تھے، انھیں نے برقرار رکھیں ”۔

اسی طرح سلیمی مستقبل کے متعلق ایسے انکشافات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ناول نگار کا کہا معلوم نہیں سچ ہو گا یا نہیں پر اس کی سوچ کا معیار اور وسعت یہ بتا دیتی ہے کہ یہ کسی عام دماغ کا کام نہیں۔ یہ کسی بھی طرح سے عالمی سوچ سے کمتر نہیں۔ آج کل ایک اسرائیلی تاریخ دان Yuval Noah Harari کا بہت چرچہ ہے مجھے اس کا ایک آرٹیکل پڑھنے کا اتفاق ہوا جس میں وہ 2050 میں دنیا کیسی ہوگی پر بات کرتا ہے۔ جس کا ہر طرف چرچا ہو رہا ہے۔

اس کی کتابیں پاکستان میں status کے طور پر خریدی اور پڑھی جا رہی ہیں۔ مجھے اس بات پر کوئی اعتراض نہیں۔ اچھی اور دل چسپ چیز جہاں سے بھی پڑھنے کو ملے اسے حاصل کرنے میں دیر مت کریں مگر ہماری بد قسمتی اس سے زیادہ اور کیا ہونی ہے کہ اختر رضا سلیمی بھی اسی تناظر کی باتیں اور خیالات اپنے ناول میں جگہ جگہ بیان کرتے نظر آتے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس کے ناول کو ہمارے pseudo intellectuals status سمبل کیوں نہیں بناتے؟

مثلاً یہ اقتباس پڑھیں : ”کیا کائنات میں کوئی ایسی جگہ بھی ہے جہاں دیکھنے والا ماضی کے ساتھ ساتھ مستقبل میں بھی جھانک سکے؟“ کیا میں کسی ایسے ستارے کو بھی دیکھ سکتا ہوں جو ہزار سال بعد وجود میں آئے گا؟ تو کیوں؟ ”“ اگراربوں سال پہلے بننے والے ستاروں کو اس طرح آسانی سے دیکھ سکتا ہوں جیسے وہ ہزاروں سال پہلے تھے تو ایسا کیوں ممکن نہیں؟ ”

حال کے حوالے سے یہ اقتباس ملاحظہ کریں : ”آبشار پر حسین لڑکی والا واقعہ اور غار سے وابستہ یادیں تو ضرور اس کے لا شعور میں ہونی چاہییں۔ یہ سوچتے ہوئے ڈاکٹر فاروقی نے اپنا لیپ ٹاپ نکالا، اسے انٹر نیٹ سے منسلک کیا اور اجتماعی لا شعور کے حوالے سے ژونگ اور دوسرے نفسیاتی سائنس دانوں کا نیٹ پر موجود مواد ڈاؤن لوڈ کیا اور صبح چار بجے تک اس کا مطالعہ کرتے رہے“ ۔ یہ ہمیں موجودہ ٹیکنا لوجی، عالمی علم و ادب سے شناسائی، عورت اور سخت محنت کا درس دیتا نظر آتا ہے کہ ایک انسان کو سچ میں اگر ترقی کرنی ہے تو اسے محنت کے ساتھ ساتھ مختلف علوم میں مہارت اور آگاہی حاصل کرنا ہو گی۔ جیسا کہ ماضی میں صاحب علم لوگوں کا شیوہ ہوا کرتا تھا مثلاً البیرونی وغیرہ۔

سلیمی اصل میں ناول کے ذریعے یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اپنے ماضی اور تاریخ کو پہچانو تاکہ تمھیں اپنے وجود کی اصلیت کا علم ہو سکے تاکہ تم اپنے حال کو بہتر بنا سکو۔ سائنس کی ترقی کو قبول کرو اور مستقبل کے لیے ایسا سوچ سکو جو بہت سی نئی ایجادات کا موجب بن سکے۔ یہ ناول اپنے کرداروں، پلاٹ اور تکنیک کے لحاظ بظاہر پڑھتے ہوئے مبہم نظر آتا ہے جو اس کی سب سے خوب صورت چیز ہے۔ اس پلاٹ کا مبہم نظر آنا ضروری تھا ورنہ یہ اپنی افادیت کھو دیتا۔

سادہ الفاظ میں سلیمی نے کمال فن کے ساتھ شاعری طبیعات، مابعدالطبیعات، نفسیات، مذہب، تاریخ، فلسفہ اور سائنس جیسے علوم کو جس طرح اپنے ناول کا حصہ بنایا ہے یہ بس ان ہی کا خاصہ ہے۔ یہ ناول سچ میں قاری پر تینوں زمانوں کے حساب سے نئے اور اچھوتے خیالات کے در کھولتا ہے جس میں قاری داخل ہو کر وہ ہی سکون حاصل کر سکتا ہے جو ایک گھر سے ملتا ہے۔

اب دوسرے ناول جندر پر آتے ہیں۔ جندر پہاڑی علاقوں میں گندم سے آٹا پسینے کے لیے پانی کی مدد سے چلتا تھا۔ جیسے میدانی علاقوں میں ”کھراس“ اسی مقصد کے لیے استعمال ہوتے تھے۔ جس کو عموماً بیلوں کی مدد سے چلایا جاتا تھا۔ جندر کو پڑھنے کے بعد جو چیز فوراً میرے ذہن میں گھومنے لگی وہ یہ تھی کہ ایسا ناول لکھنے کے لیے وہ کون سا دکھ، روگ، ظلم تھا جو اندر ہی اندر سلیمی کو کھائے جا رہا تھا کہ اچانک جندر جیسا شاہکار ناول لکھا گیا۔ جب کافی دیر سوچ بیچار کی مگر ناکام ٹھہرا تو اس سوچ میں کھو گیا کہ دنیاوی دکھ کی شدت ایسی نہیں جو اس ناول میں موجود درد سے مطابقت رکھتی ہو جب کئی دن گزر گئے تو رائے محمد خاں ناصر کا یہ شعر میری نظروں سے گزرا۔

پڑ دانے نوں پیہندا راہندا اے
دانا مڑ وی جیندا راہندا اے

میں نے تھوڑا غور کیا تو سلیمی کے مذکورہ راز سے پردہ اٹھ گیا۔ سلیمی نے یقیناً جندر کے پڑوں میں پسنے والے گندم کے دانوں کے درد اور ان سے نکلنے والی کوک کو اپنی ذات کا حصہ بنایا۔ اسے اپنے الفاظ کا لباس پہنایا تو تب جا کر وہ ناول میں پائے جانے والے درد، موت کی کیفیت اور حقیقت کی شدت کو یوں بیان کرنے میں کامیاب ہوا۔ یعنی اربوں کھربوں بلکہ لا تعداد گندم کے دانوں کی موت ہی سلیمی کے جندر کی وجہ بن کر سامنے آئی۔

اس کے علاوہ یہ ناول عورت کی نفسیات کو اتنے اچھوتے انداز میں سامنے لاتا ہے کہ پڑھنے والا ناول نگار کی عقل و فہم سے دنگ رہ جاتا ہے۔ یہ اقتباس پڑھیں ”میں نے ایک آزاد مرد سے شادی کی تھی مجھے کیا پتا کہ وہ جندر کی گونج کا قیدی ہے۔ میں ایک معذور مرد کے ساتھ تو زندگی گزار سکتی ہوں لیکن ایک مجبور مرد کے ساتھ نہیں۔ تمھیں اس مجبوری سے آزاد ہونا پڑے گا“ ۔ سلیمی نے جیسے موت سے پہلے والی زندگی کے دنوں کو بیان کیا ہے وہاں ناول نگار کی سوچ اپنی پوری بلندی کو چھوتی نظر آتی ہے۔

مثال کے طور پر یہ اقتباس پڑھیے : ”زندگی کے ہزار رنگ ہیں مگر موت کا ایک ہی رنگ ہے ؛سیاہ رنگ، جو زندگی کے تمام رنگوں کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے۔ مجھے زندگی کے رنگوں کا شعور بعد میں ہوا۔ میں نے موت کے سیاہ رنگ کا شعور پہلے حاصل کیا“ ۔ ”خدا اور موت کے بارے میں آج بھی اتنا ہی متجسس ہوں جتنا کہ پانچ سال کی عمر میں تھا۔ یہ بات اسی دن سے میرے لاشعور میں کہیں بیٹھ گئی کہ خدا اور موت کے درمیان کوئی گہرا رشتہ ہے لیکن میں اس گتھی کو آج تک نہیں سلجھا سکا کہ خدا نے موت کو خلق کیا یا موت نے خدا کو“ ۔

”خدا کے وجود سے انکار کرنے والے تو آج بھی دنیا میں بے شمار موجود ہیں مگر شاید ہی دنیا میں کوئی ایسا باشعور انسان ہو جو موت کے وجود سے انکاری ہو۔ موت پر سب کا ایمان ہے“ ۔ مذکورہ اقتباسات میں ذرا سلیمی کی سوچ کے معیار کا اندازہ لگائیں کہ یہ کیسے کسی عالمی سوچ سے کمتر ہو سکتی ہے؟ موت کو شاید ہی اردو ناول نگاری میں ایسے پہلے کبھی دیکھا گیا ہو۔ یہ ناول انسانی زندگی کے کھوکھلے پن، موت، ظلم، مادیت، خوف، انسانی رشتے، عورت کی نفسیات اور جندرائی تہذ یب کے خاتمے کی ایک ایسی داستاں ہے۔ جو ہر پڑھنے والے کو کہیں نہ کہیں اپنی خود کی آپ بیتی محسوس ہوتی ہے۔ جس کا بیانیہ کائناتی مسائل پر روشنی ڈالتا ہے۔ جس سے ناول کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔

اگر دونوں ناولوں کا تقابلی جائزہ لیں تو ”جاگے ہیں خواب میں“ کا بنیادی کردار چوٹ لگنے کے بعد کومے کی حالت میں خواب دیکھتا ہے۔ پھر کہانی کا سفر شروع ہوتا ہے جب کہ جندر میں موت سے پہلے کے دنوں میں جو ایک انسان سوچ سکتا ہے اس سوچ پہ کہانی بنی گئی ہے۔ دونوں کہانیوں کو کہنے کے انداز میں کہیں نہ کہیں مجھے مماثلت نظر آئی۔ اس کے علاوہ دونوں ناول ہر لحاظ سے ایک دوسرے سے جدا مضبوط علیحدہ شناخت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اختر رضا سلیمی کی ناول نگاری پر اردو زبان فخر کرے گی اور کر بھی رہی ہے۔ میرا یہ مضمون لکھنے کا واحد مقصد یہ ہے کہ خواص میں تو سلیمی صاحب کی ناول نگاری اپنا مقام بنا چکی ہے مگر اس سطح کی سوچ کو عام قاری سے بھی متعارف کروانا زیادہ ضروری ہے تاکہ وہ بھی اس سوچ سے اپنی سوچ کے معیار میں بہتری لا سکیں۔

میری رائے کہ مطابق پچھلے بیس سالوں میں اردو ناول نگاری میں جن دو ناول نگاروں میری مراد مرزا اطہر بیگ اور اختر رضا سلیمی کے ناولوں نے جو بڑا کام کیا وہ یہ ہے کہ انہوں اردو ناول نگاری پر بعض بڑے ناولوں مثلاً آگ کا دریا، اداس نسلیں وغیرہ کا جمود جو طاری تھا اور ہے اسے پہلی دفعہ پگھلانے کی کوشش کی ہے دوسرے الفاظ میں یہ اردو ناول نگاری میں ایک paradigm shift کی بنیاد رکھتے نظر آرہے ہیں جو اردو ناول نگاری کی بقا اور ترقی کے لیے بہت بہت ضروری عمل ہے۔

ہم نے اگر سچ میں عالم اقوام میں کوئی مقام حاصل کرنا ہے تو سلیمی صاحب جیسے لکھاریوں کی سوچ کو مان دینا ہو گا۔ بڑی سوچ کی حامل کتابوں کو خریدنا ہو گا ان کو تحائف کی صورت میں اپنے پیاروں تک پہنچانا ہو گا تاکہ ان کی کتابوں میں شامل فکر معاشرے میں رائج مادی فکر کو کم کر سکے۔ حقیقی تبدیلی تب ہی ممکن ہے جب انفرادی طور پر سوچ بدلے گی یہ فیصلہ قاری نے کرنا ہے کہ وہ موجودہ رائج سوچ جس نے ملک کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے یا اس کی جگہ سلیمی صاحب جیسے عالمی سطح کی عقل و فہم رکھنے والے کی سوچ سے استفادہ اٹھانا ہے۔

بور نوں آکھ ہنیریے اج اپنا آپ سنبھال
مڑ چنگے بھا جا تلسیں جے راہسیں ٹاہنی نال
(شاعر:رائے محمد خاں ناصر)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *