ڈپٹی کمشنر اسلام آباد: حمزہ شفقات کے بیان ’میرے پاس سرکاری گھر نہیں‘ پر سوشل میڈیا پر بحث
اگر آپ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر کا باقاعدگی سے استعمال کرتے ہیں تو آپ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات کے نام سے واقف ہوں گے اور اگر پہلے نہیں تھے تو کورونا وائرس کی وبا کے دوران تو آپ نے یہ نام لازمی سُنا ہو گا۔
وفاقی دارالحکومت میں کیا چل رہا ہے، کورونا متاثرین کی تعداد کتنی ہے، کون سے علاقے زیادہ متاثر ہیں، احتیاطی تدابیر نہ کرنے والوں کے خلاف کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں، حمزہ شفقات عموماً اپنی ٹویٹس کی مدد سے عوام کو ان سب باتوں سے باقاعدگی سے آگاہ رکھتے ہیں۔
گذشتہ روز اپنے ذاتی ٹوئٹر اکاؤنٹ سے حمزہ شفقات نے ’پاکستان پولیس‘ نامی ٹوئٹر ہینڈل سے کی جانے والی ایک ٹویٹ کا جواب دیا۔ اس ٹویٹ میں ڈپٹی سپرینٹینڈنٹ آف پولیس (ڈی ایس پی) اور پاکستان ایڈمنسٹریٹیو سروس کے افسران کی تنخواہوں کا تقابلی جائزہ لیا گیا تھا۔
اس ٹویٹ میں کہا گیا تھا کہ پاکستان ایڈمنسٹریٹیو سروس کے 17ویں گریڈ کے ایک افسر کی ماہانہ تنخواہ اور الاؤنس ایک لاکھ 80 ہزار کے لگ بھگ جبکہ اسی گریڈ کے پولیس افسر (ڈی ایس پی) کی تنخواہ اور مراعات ایک لاکھ چار ہزار کے لگ بھگ ہوتی ہے۔
اس ٹویٹ کے جواب میں حمزہ شفقات نے لکھا ’میں 19ویں گریڈ میں ہوں، میری سروس کا دورانیہ 14 برس ہو چکا ہے اور میں ڈپٹی کمشنر تعینات ہوں۔ میری تنخواہ ڈی ایس پی صاحب کی تنخواہ بھی کم ہے اور مجھے سرکاری رہائش گاہ کی سہولت بھی میسر نہیں۔‘
I am in Grade 19 with 14 years of service posted as DC and my salary is even less than DSP sab and provided with no Govt accommodation ✅ https://t.co/FDXUfsdRdb
— Muhammed Hamza Shafqaat (@hamzashafqaat) June 13, 2020
انھوں نے اگلی ٹویٹ میں لکھا کہ نہ صرف میں بلکہ کمشنر اسلام آباد، جو کہ چیئرمین کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) بھی ہیں، کے پاس بھی سرکاری رہائش گاہ کی سہولت نہیں ہے۔
ڈپٹی کمشنر کی جانب سے اس ٹویٹ کے جواب میں سوالات اور جوابات کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ردعمل میں کی جانے والی ٹویٹس میں چند صارفین نے اس امر پر تعجب کا اظہار کیا کہ ڈپٹی کمشنر کے پاس سرکاری رہائش گاہ تک نہیں۔
زین قاسمانی نامی صارف نے لکھا: ’ڈی سی اسلام آباد کے لیے کوئی سرکاری رہائش گاہ نہیں، نہ کریں سر!‘
نعمت خان نامی صارف نے لکھا ’یہ مجھے بھی تھوڑا زیادہ لگا۔ یہ عجیب بات ہے کہ ڈی سی اسلام آباد کے پاس کوئی سرکاری رہائش گاہ نہیں ہے۔‘
Yeh mujhay bhi thora ziada laga. It’s strange if DC Islamabad has no official accommodation
— Naimat Khan (@NKMalazai) June 13, 2020
کیا اسلام آباد میں کمشنر، ڈپٹی کمشنر کی سرکاری رہائش گاہیں نہیں ہیں؟
پاکستان کا پہلا دارالحکومت کراچی تھا تاہم 1960 کی دہائی میں اسلام آباد کو ملک کا نیا دارالحکومت بنانے کا اعلان کیا گیا اور اس شہر کی باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت تعمیر شروع ہوئی۔
بہت عرصے تک یہاں کا انتظام و انتصرام پڑوسی شہر راولپنڈی سے چلتا رہا تاہم بعد ازاں اسے ضلع کا درجہ دے دیا گیا۔ اس سے قبل چونکہ یہاں کے انتظامی افسران راولپنڈی میں بیٹھتے تھے اسی لیے کمشنر ہاؤس اور ڈپٹی کمشنر ہاؤس کی رہائش گاہیں راولپنڈی میں ہی تھیں اور اسلام آباد میں اس نوعیت کی کوئی رہائش گاہ تعمیر نہ ہوئی۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے حمزہ شفقات کا کہنا تھا کہ اگرچہ اسلام آباد میں بہت سے افسران کے لیے سرکاری رہائش گاہیں مختص ہیں تاہم کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کے لیے کوئی ایسی سہولت مختص نہیں۔
’میں نے نو سال قبل اسلام آباد میں سرکاری رہائش گاہ کے حصول کے لیے درخواست منسٹری آف ہاؤسنگ میں دی تھی تاہم ابھی تک سرکاری رہائش گاہ الاٹ نہیں ہوئی ہے۔ میں کرائے کے گھر میں رہ رہا ہوں جس کا کرایہ حکومت ادا کرتی ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ ان کی ٹویٹ کا ہرگز یہ مقصد نہیں تھا کہ یہ بتایا جائے کہ ان کے پاس سرکاری رہائش گاہ نہیں بلکہ وہ اس ٹویٹ کا جواب دینا چاہتے تھے جس میں پولیس سروس اور پاکستان ایڈمنسٹریٹیو سروس کے افسران کی تنخواہ اور مراعات کا غلط انداز میں تقابلی جائزہ لیا گیا تھا۔
’میں نے وہ ٹویٹ صرف ریکارڈ کی درستگی کے لیے کی نہ کہ یہ بتانے کے لیے میرے پاس سرکاری گھر نہیں۔‘
ٹویٹ پر صارفین کا ردعمل
اس ٹویٹ پر چند صارفین نے تو حیرت کا اظہار کیا جبکہ چند نے تنقید بھی کی۔ جب کہ چند صارفین ایسے بھی تھے جنھوں نے سرکاری افسران کو ملنے والی تھوڑی تنخواہ کے مسئلے کی جانب توجہ دلانے کی کوشش کی۔
وحید علی نامی صارف نے لکھا کہ ان کے خیال میں سرکاری سطح پر ہونے والی بدعنوانی کی بڑی وجہ سرکاری افسران کی معمولی تنخواہیں ہی ہیں۔
’اگر ایک شخص، جو سی ایس ایس/پی ایم ایس افسر بننے کے لیے اپنی تمام توانائیاں اور سرمایہ صرف کرتا ہے اور اسے (افسر بننے کے بعد) معمولی تنخواہ ملے اور سرکاری رہائش گاہ بھی نہ ہو تو یقینی طور پر بدعنوانی کی طرف جائے گا۔ سی ایس پیز پرکشش تنخواہ اور معاوضوں کے مستحق ہیں۔‘
I think meagre salaries are the biggest cause for bureaucratic corruption. If a person who invests everything to become a CSS/PMS officer and gets meagre salary without government accommodation. Definitely s/he would go for corruption. CSPs deserve attractive salary and perks.
— Waheed Ali (@Waheeedali) June 13, 2020
چند صارفین ایسے تھے جنھوں نے ڈپٹی کمشنر صاحب کی تعریف کر کے ڈھارس بندھائی۔
سلمان احمد خان نامی صارف نے لکھا کہ جس طرح کا احترام اور پیار آپ کو (عوام سے) ملتا ہے ویسا تو ہمارے وزیر اعظم کو بھی نہیں ملتا۔ پیسے بھی بالآخر مل ہی جائیں گے۔ جو دعائیں آپ کو ملتی ہیں وہ بہت آگے کی چیز ہیں۔
https://twitter.com/Salman_A_K/status/1271670059174367233
حمزہ شفقات ٹوئٹر پر جانے پہچانے
حمزہ شفقات شاید اس وجہ سے بھی زیادہ مشہور ہیں کیونکہ وہ نہ صرف عوام کو آگاہ رکھتے ہیں بلکہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس استعمال کرنے والے دیگر افسران کے برعکس عوامی سوالات کے جواب دیتے بھی نظر آتے ہیں اور ان کی ٹویٹس کو ری ٹویٹ کرتے بھی، اگرچہ یہ ری ٹویٹس زیادہ تر ان کی اپنی اور اسلام آباد انتظامیہ کی تعریف پر مبنی ہوتی ہیں۔
وہ ٹوئٹر کے ذریعے کی جانے والی عوامی شکایات کا نہ صرف نوٹس لیتے ہیں بلکہ اس بابت ٹوئٹر کے ذریعے آگاہ کرتے بھی نظر آتے ہیں۔
اگرچہ ترقی یافتہ ممالک میں کسی شہری انتظامیہ کے بڑے افسر کی جانب سے ایسا کرنا کوئی اچھنبے کی بات نہ ہو مگر پاکستان میں کسی ڈپٹی کمشنر کا سماجی رابطے کے ذریعے عوامی دسترس میں ہونا یقیناً بڑی بات ہے۔


