ادھورے خواب اور مطالعے سے عشق کی تلخ یادیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ روز قبل میری ایک دوست نے اپنے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اس کی بیٹی جسے وہ دوران ملازمت اپنے قریبی رشتے داروں کے گھر چھوڑ جاتی ہیں انھوں نے اس بچی کے ساتھ برا رویہ اختیار کیا۔ ان دنوں اسکول کی تعطیلات ہیں اور بچی کو اکیلے گھر چھوڑنا نا ممکن تھا تو اسے با حالت مجبوری بیٹی کو وہاں بھیجنا پڑا۔ بچی کو کھانسی تھی تو ان عزیزوں نے یہ سمجھتے ہوئے کہ شاید بچی کرونا کا شکار ہے اسے شدید گرمی میں گھر کے اندرونی حصے میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی۔

بچی کو اس سلوک سے شدید صدمہ پہنچا اور وہ شام میں اپنی ماں سے ملنے کے بعد بہت دیر تک بے آواز روتی رہی۔ جس لمحے وہ مجھے یہ بتا رہی تھی اس کے لہجے کا کرب واضح تھا کیونکہ ایسا کرنے والے کوئی دور کے نہیں اس کے اپنے قریبی رشتے تھے۔ میں نے تسلی کے دو بول بولے اور کہا کہ بچی کو بار بار یہ یاد نہ کروانا نہ ہی ان لوگوں کا ذکر اس کے سامنے کرنا کچھ دنوں میں سب ٹھیک ہو جائے گا لیکن یہ یاد رکھنا یہ واقعہ تمہاری بیٹی کو شاید عمر بھر یاد رہے۔

گزشتہ دس دنوں سے میں بخار سے لڑ رہی ہوں وہ ساری علامات مجھ پر طاری ہوئیں جس پر مجھے یہ یقین ہو چلا تھا کہ میں بھی کرونا میں مبتلا ہوں۔ میں نے اس صورتحال کا ذکر اپنی ایک ڈاکٹر دوست سے کیا اور اس کے مشورے پر ایک نجی اسپتال سے ٹیسٹ کروایا۔ ٹیسٹ رپورٹ کے آنے میں چوبیس سے اڑتالیس گھنٹے کا وقت دیا گیا۔ وہ شام بہت اذیت ناک تھی، جیسے جیسے رات ہوتی گئی وسوسوں اور اندیشوں نے مجھے ایسے آ گھیرا جیسے کسی لاش کو گدھ آ گھیرتے ہیں۔

میں نے اپنا دھیان ہٹانے کی کوششیں بہت کیں لیکن ناکامی رہی پھر سوچا کہ کوئی کتاب پڑھی جائے تو میں اسٹڈی میں آ گئی جہاں کچھ کتابوں کی تلاش میں مجھے ایک ایسا میگزین ملا جس میں، میں نے پہلی بار کوئی آرٹیکل تحریر کیا تھا جو بچوں میں مطالعے کی عادت کو اجاگر کرنے سے متعلق تھا۔ میں چاہ کر بھی کچھ پڑھ نہ پائی اور آکر بستر پر لیٹ گئی کئی روز کے بخار میں شدید گرمی کے باوجود کمبل اوڑھنا اب معمول تھا لیکن آج کی رات تکلیف اور انجانے خوف کے باوجود نا جانے کس پہر میری آنکھ لگ گئی۔

خواب میں اپنے والد مرحوم کو دیکھا وہ ایک بڑے سے ہرے بھرے لان میں کھڑے ہیں اور میں چھ سات کی عمر کی بچی ان کی ٹانگوں سے لپٹی سسک سسک کر ایک جملہ دہرائے جا رہی ہوں ابو مجھے ساتھ لے جائیں مجھے گھر جانا ہے۔ ابو کی چہرے پر پریشانی ہے اور ایک سوال کہ کیا تم یہاں خوش نہیں ہو؟ دیکھو کتنا بڑا لان ہے جھولا بھی لگا ہے تمہیں تو ہریالی، جھولے پسند ہیں تو پھر کیوں رو رہی ہو؟ لیکن میری فریاد جاری رہی کہ مجھے لے جائیں مجھے گھر جانا ہے آپ کے ساتھ جانا ہے لیکن تھوڑی دیر بعد ابو کہیں نہیں تھے۔ رات کا اندھیرا بڑھ گیا جھینگروں کی آوازوں سے لان کا ماحول مزید خوفناک معلوم ہونے لگا اور میں ڈری سہمی اس جھولے پر بیٹھ گئی اور سسک سسک کر رونے لگی۔

خواب ٹوٹا تو محسوس ہوا کہ میں شاید رو رہی تھی بخار اور تیز ہوچکا تھا لیکن میں اٹھ کر بیٹھ گئی ہمت کر کے کمرے سے باہر نکلی ایک سانس میں پانی پیا۔ سامنے کی دیوار پر لگی بہت سی تصویروں میں دو تصویروں پر نظر جم گئی ایک جس میں، میں کچھ ماہ کی ہوں اور ابو نے گود میں اٹھایا ہوا ہے، دوسری جس روز میرا کانووکیشن تھا اور ابو ساتھ کھڑے ہیں۔ تصویروں کو دیکھتے ہوئے خیال آیا کہ یہ تو ہر جگہ ساتھ ہی کھڑے رہے چاہے مشکل ہو یا آسانی تو خواب میں ایسا کیوں نظر آیا کہ چھوڑ کر چلے گئے یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں ڈر رہی ہوں ساتھ جانا چاہتی ہوں۔ رات کے ساڑھے تین بجے نیند اڑ چکی تھی اور سوائے خود سے جنگ کرنے کے اور کوئی کام نہ بچا تھا۔ آنکھیں بخار سے جل رہی تھیں تو انھیں آرام دینے کے لئے ذرا ذرا سی دیر کو بند کرنا ہی سکون دے رہا تھا۔ آنکھیں بند کرتے ہی اس ادھورے خواب کا مقصد نظروں کے سامنے آنے لگا۔

ستائیس سال قبل جون ہی کے مہینے میں اسکول کی تعطیلات کے دوران میں نے اور میرے بھائی نے گھر میں ہنگامہ اٹھا رکھا تھا۔ میری چھوٹی بہن کی پیدائش مئی کی ہے وہ کچھ دنوں کی تھی اور امی بھی بیمار تھیں اس دوران گھر کے کام کاج اور ہم بچوں کی دیکھ بھال بھی انھیں تھکا رہی تھی۔ اس دوران میرے والد کے بہت ہی قریبی رشتے داروں کی آمد ہوئی جو میرے والد کو بہت عزیز تھے۔ انھوں نے جب یہ صورتحال دیکھی تو اگلی ملاقات پر والد کو یہ پیشکش کی کہ دونوں بچوں کو ہمارے گھر بھیج دیا جائے تاکہ آپ کی بیوی اور چھوٹی بچی کی دیکھ بھال ٹھیک طرح ہو سکے۔

یہ بچے ایک ہفتہ ہماری طرف رہیں اور پھر ویک اینڈ پر آپ لوگ آ جائے گا۔ رشتہ قریبی تھا والد انکار نہ کرسکے یوں ہمیں کچھ نصیحتوں کے ساتھ ان کے گھر رخصت کر دیا گیا۔ میں اپنا اسکول بیگ لے کر ساتھ گئی کہ ہوم ورک بھی ساتھ ہوتا رہے گا وہ گھر شہر کے سب سے مہنگے علاقوں میں تھا جس کا رقبہ ہی ہزار گز پر محیط تھا لان اور کار پارکنگ وسیع تھی اور لان میں لگے خوب سارے درخت اور پھول پودوں نے مجھے وہ سب پارک بھلا دیے جہاں میں شام کو ابو کے ساتھ جا نے کی ضد کرتی تھی۔

میں نے پہلی بار کوئی اتنا بڑا گھر دیکھا تھا جہاں خاموشی زیادہ اور لوگ صرف تین تھے۔ پہلے روز کھلانے پلانے کے بعد بتایا گیا کہ کس کمرے میں سونا ہے اور کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔ رات ہوتے ہی کہیں سے خونخوار کتوں کے بھونکنے کی آواز نے ڈرایا تو بتایا گیا کہ یہ کتے ساتھ والے گھر کے لان میں ہیں اور اگر کوئی بچہ شرارت کرے تو یہ دیوار کود کر بھی آ جاتے ہیں۔ یوں دل میں ایک انجانا سا خوف بیٹھ گیا۔ دوسرے دن کی صبح انکل آفس چلے گئے، آنٹی اور ان کی بیٹی جن کی عمر اس وقت تیس برس سے زیادہ کی ہو گی انھوں نے ناشتے کے بعد مجھ سے سوال کیا کہ میں گھر میں اپنی امی کا ہاتھ بٹانے کے لئے کیا کرتی ہوں؟

میرا جواب نفی میں تھا جس پر کہا گیا کہ ٹھیک ہے پھر ہمیں ہی تمہیں سکھانا پڑے گا کہ کام کیسے ہوتے ہیں۔ مجھے دو کپڑے تھمائے گئے اور حکم صادر ہوا کہ پورے گھر کی ڈسٹنگ تم کرو گی اور اگر صفائی کے دوران کوئی شو پیس ٹوٹا یا اس پر گرد رہ گئی تو اس کی سزا ملے گی۔ یوں میں نے ایک خوف کے ساتھ صفائی کا کام شروع کر دیا۔ جس میں مجھے کئی گھنٹے لگے۔ دوپہر کے کھانے کے بعد مجھے ایک نیا کام دیا گیا، دوپہر دو بجے کہا گیا کہ باہر پورچ میں بہت مٹی ہے وہاں کی صفائی کرو اور لان میں گرے سوکھے پتے بھی اٹھا کر کوڑے دان میں ڈالو۔

جون کی سخت گرمی میں، میں نے یہ کام کیا تو سمجھ آیا کہ کھیلتے وقت جو پسینہ کپڑوں کو تر کرتا ہے وہ کیوں برا نہیں لگتا کیونکہ وہ خوشی اور توانائی ہوتی ہے جو کچھ سوچنے پر مجبور نہیں کرتی۔ اس کام کو کرنے میں مجھے دو گھنٹے لگے جب کام ختم ہوا تو میں نے ان کے گھر کا اندرونی دروازہ جو بند تھا اس پر دستک دینا شروع کی لیکن آواز اندر نہ گئی مجھے لگا کہ میرے ہاتھ مضبوط نہیں اور ان میں اتنی طاقت نہیں میں آوازیں دیتی رہی لیکن دروازہ نہ کھلا۔

میں تھک کر ایک درخت کے سائے میں بیٹھ گئی پیاس سے حلق خشک ہوچکا تھا اتنے میں سرونٹ کوارٹر سے ڈرائیور نکلا اس نے مجھے یوں بیٹھا دیکھ کر وجہ پوچھی اور پھر دروازہ زور زور سے کھٹکھٹایا اندر سے ملازمہ نے دروازہ کھولا تو میں فوراً اندر بھاگی۔ اندر کمروں میں اے سی آن تھے اور ٹی وی پر کارٹون لگا تھا جو میرا چھوٹا بھائی دیکھ رہا تھا میں نے پانی پیا اور بتایا کہ کام ہوگیا ہے۔ لیکن اس کے جواب میں مجھ پر ہنسا گیا اور کہا گیا کہ تم اتنی گندی لگ رہی ہو پسینے اور مٹی سے جاؤ جاکر نہاؤ۔ اگلے روز ناشتے کے بعد پھر سے ڈسٹنگ اور پھر باہر کی صفائی کا کام سونپا گیا جس پر ان کی ملازمہ نے کہا کہ آپ بچی سے مت کروائیں یہ تو مہمان ہے میں کردوں گی۔ لیکن اسے کہا گیا کہ اسے یہاں بھیجا ہی اس لئے گیا ہے کہ یہ شرارتی ہے اور اسے کام کاج سکھانا ہے۔

آج دوپہر کے بارہ بجے مجھے باہر نکالا گیا آج میں نے صفائی میں تیزی دکھائی اور جلدی ہی دروازے پر دستک دے ڈالی لیکن دروازہ نہیں کھلا۔ ڈرائیور بھی کوشش کر چکا لیکن ناکام رہا۔ تین گھنٹے گزرے تو گرمی میں بھوک اور پیاس سے میں رو پڑی اس روز ڈرائیور اپنے کمرے سے میرے لئے پانی لایا اور اس نے کھانا بھی پیش کیا جو وہ گھر سے لایا تھا لیکن امی ابو کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے میں نے منع کر دیا۔ میں کبھی جھولے پر بیٹھتی، کبھی چھاؤں کی تلاش میں درخت کا سہارا ملتا اسی میں شام ہو گئی دروازہ نہ کھلا شام سات بجے دروازہ کھلا ڈرائیور کو آواز دی گئی کہ مارکیٹ جانا ہے میں دوڑ کر گئی تو مجھے کہا گیا کہ جاؤ نہاؤ پھر ساتھ چلنا ہمارے۔

میں نہانے چلی گئی جب باہر آئی تو گھر میں سناٹا تھا کوئی نہ تھا وہ مجھے گھر میں بند کر کے جا چکے تھے یوں ایک نئے خوف کا سامنا ہوا۔ جب گھنٹے بعد وہ آئے تو میرے بھائی کے پاس بہت سی چاکلیٹس اور ٹافیاں تھی کچھ کھلونے بھی۔ اس نے وہ چاکلیٹس مجھے دینا چاہیں لیکن اسے روک دیا گیا۔ مجھے محسوس ہوا کہ میں اکیلی ہوں میرا بھائی مجھ سے چھین لیا گیا ہے اور میرے امی ابو اب کبھی نہیں آئیں گے۔ اگلے روز پھر وہی کام ملا جو میں نے قبول کر لیا کہ اب یہی کرنا ہے۔

آج میں نے کام ختم ہونے کے بعد دروازہ نہیں کھٹکھٹایا۔ ڈرائیور انکل نے مجھے پانی دیا میں نے خاموشی سے پی لیا اور پھر ان کے گھر سے آیا پراٹھا اور دال بھی کھا لی۔ اس رات میری گھر کے اندر واپسی رات نو بجے ہوئی جب انکل کی گاڑی پورچ میں داخل ہوئی اور انھوں نے مجھے جھولے پر بیٹھا دیکھا۔ انھوں نے گھر والوں سے پوچھا کہ اتنی چھوٹی بچی باہر کیا کر رہی ہے تو انھیں جواب دیا گیا کہ لان میں کھیلنے کا شوق ہے خود جاتی ہے۔

چوتھے روز دوپہر میں، میرا وقت کٹ جائے ڈرائیور کچھ میگزین اسٹور سے لایا جو کرکٹ اور فلم انڈسٹری سے متعلق تھے اس نے مجھے کہا کہ میں یہ پڑھ سکتی ہوں تاکہ وقت گزر جائے۔ یہ وہ پہلا وقت تھا جب میں نے کوئی میگزین پڑھا۔ اس میں لکھی اردو مجھے مشکل لگتی تو ڈرائیور رہنمائی کرتا اگلے روز وہ اپنے پیسوں سے میرے لئے ایک کلر بک اور چھ کلرز کا ڈبہ لایا میں نے ایک ہی دن میں وہ کلرنگ بک ختم کردی اور میگزین پڑھنے کو مانگے تو ڈرائیور نے کہا کہ بیٹا مجھے اندازہ ہوا ہے کہ وہ آپ کی عمر کے لئے موزوں نہیں۔

میں آج بیگم صاحبہ کے ساتھ مارکیٹ جاؤں گا تو کوئی بچوں کی کہانی کی کتاب لے آؤں گا۔ وعدہ پورا ہوا اور مجھے دو میگزین لا دیے گئے ایک نونہال تھا اور دوسرا پھول میگزین۔ وہ ڈرائیور ہی میرا وہاں واحد ہمدرد تھا ایک ہفتے میں مجھے یہ عادت ہو گئی کہ مجھے بارہ بجے کی سخت دھوپ میں باہر نکلنا ہے اور رات نو بجے گھر میں داخل ہونا ہے۔ اس گھر میں چلنے والے کارٹون ہوں یا کھلونے وہ میرے لئے نہیں۔ یہاں مجھے کوئی پسند نہیں کرتا کیوں نہیں کرتا اس کا جواب جاننے کی میری عمر نہیں تھی۔

میں کون کون سے پارک جاتی ہوں؟ کیا کھاتی ہوں؟ ابو سے کیا منگواتی ہوں؟ اسکول میں کتنے دوست ہیں؟ مجھے کتنی قرآنی سورتیں یاد ہیں یہ سب ڈرائیور کو بتایا کرتی تھی۔ مجھے اس ایک ہفتے میں معلوم ہو چلا تھا کہ کس وقت دھوپ کہاں تیز ہوتی ہے اور سایہ کہاں؟ کون سا پیڑ کس پھل کا ہے، کس گلاب کی کلی آ چکی ہے جو اب کھلنے میں کچھ ہی وقت ہے، کس کیاری میں زیادہ چیونٹیاں ہیں یہ بھی جان چکی تھی کہ برابر کے گھر میں پلے کتے کبھی دیوار پلانگ کر مجھ پر حملہ آور نہیں ہوسکتے۔

لیکن ایک بات کا ادراک ہوچکا تھا کہ اب مجھے پارک، لان، جھولے پسند نہیں۔ ہم ہفتے کو آئے تھے آج ہفتے کا دن تھا ابو آفس سے سیدھے یہاں آ گئے جب ابو شام کو چھ بجے اندر پورچ میں اپنی بائیک کے ساتھ داخل ہوئے تو میں جھولے پر بیٹھی تھی۔ میں دوڑ کر گئی اور ان کی ٹانگوں سے لپٹ گئی اور روتے ہوئے کہنے لگی کہ مجھے گھر لے جائیں مجھے یہاں نہیں رکنا میں جس طرح رو رہی تھی ابو پریشان ہو گئے۔ ابو نے کہا کہ میں پہلے اندر جاؤں ان سے ملوں پھر جاتے ہوئے آپ کو لے کر جاؤں گا کیوں ایسے رو رہی ہو دیکھو یہاں تو جھولا بھی ہے دیکھو کتنا بڑا لان ہے یہ سب تو تمہیں پسند ہے ناں پر میں روتی رہی۔ جب ابو اندر گئے تو خوف سے اندر بھی نہ گئی کہ کہیں مجھے روک نہ لیا جائے۔ ابو آدھے گھنٹے بعد باہر آئے تو میرا اسکول بیگ اور کپڑے ان کے ساتھ تھے ان کا چہرے کا رنگ اور اضطراب مجھے آج تک نہیں بھولا۔ مجھے دیکھتے ہی کہا کہ آپ میرے ساتھ جا رہی ہیں بھائی نہیں جا رہا وہ یہی رکے گا شاید اس کا دل لگ گیا ہے۔

اتنا یاد ہے کہ رخصت ہوتے وقت ابو کے سامنے ڈرائیور جنھیں میں ماموں کہتی تھی انھوں نے مجھے وہ دو میگزین تھمائے اور ابو سے کہا آپ کی بیٹی بہت بہادر بچی ہے اسے ڈانٹیے گا نہیں اس نے کچھ نہیں کیا۔ گھر واپسی کا سفر جب شروع ہوا تو میں نے ابو کو اور مضبوطی سے پکڑ لیا اور سر ان کی کمر سے لگا کر بے آواز روتی رہی۔ گھر داخل ہوئی تو آنسو خشک ہوچکے تھے سب برا لگ رہا تھا میں منہ پر تکیہ رکھ کر لیٹ گئی۔ تھوڑی دیر بعد امی سے بات کرتے ہوئے ابو کی آواز آئی کہ مجھ سے غلطی ہوئی جو میں نے اپنی بیٹی کو وہاں بھیجا آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔ یوں وہ میرا پارک اور جھولوں سے محبت کا آخری دن اور مطالعے سے عشق کا پہلا سال تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سدرہ ڈار

سدرہ ڈارنجی نیوز چینل میں بطور رپورٹر کام کر رہی ہیں، بلاگر اور کالم نگار ہیں ۔ ماحولیات، سماجی اور خواتین کے مسائل انکی رپورٹنگ کے اہم موضوعات ہیں۔ سیاسیات کی طالبہ ہیں جبکہ صحافت کے شعبے سے 2010 سے وابستہ ہیں۔ انھیں ٹوئیٹڑ پر فولو کریں @SidrahDar

sidra-dar has 76 posts and counting.See all posts by sidra-dar

Leave a Reply