سشانت سنگھ راجپوت : کیوں ہم زندگی کی نعمتوں سے فرار حاصل کرتے ہیں؟
ہم ایک اندھیرے کمرے یا ڈارک روم کی گھٹن کا حصہ ہیں، اس لئے ان افسانوں کو تابوت یا بند کوٹھری سے نکالنے کا بہترین وقت ہے، جہاں تاریخ انہیں رکھنے کے بعد ہمیں مردہ انسان میں تبدیل کرنے کی خواہشمند ہے۔ وہ جو پتھروں سے ٹکراتے تھے، دریاؤں کے سینے کو چیڑ دیتے تھے، اور جو بہتر طور پر جانتے تھے کہ زندگی میں، سب سے زیادہ اہمیت زندگی کی ہے۔ زندگی، جسے ہر طور پر قائم رکھنا ہے۔ زندگی، جسے جنگ اور بیماریوں سے فتح کرنا ہے، زندگی جس کے لئے سب سے بڑی طاقت، فطرت نے ہمیں للکارا ہے۔
ہم حبس، گھٹن، قید سے گھبرا کر خود کشی کر رہے ہیں۔ خاص کر نئی نسل۔ سشانت سنگھ راجپوت نے خودکشی کر لی۔ ہندوستان میں ہر برس خودکشی کرنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ دنیا کے نوجوان اس وقت اداسی کا مرثیہ لکھ رہے ہیں اور اچانک ایک لمحۂ ان کی زندگی میں ایسا آتا ہے جب وہ خود کشی کر لیتے ہیں۔ وہ کچھ نہیں سوچتے اور مر جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ، وہ اپنے ماں باپ اور گرل فرینڈ کے بارے میں بھی نہیں سوچتے۔ کبھی کبھی وہ ایک محبت کے فنا ہونے پر موت کو گلے لگاتے ہیں۔
کبھی کچھ نہ کرنے کا احساس، یا بیروزگاری انھیں موت کی طرف لے جاتی ہے۔ وہ ہزاروں پہلوؤں اور واقعات میں ایک نہ ختم ہونے والی اداسی کو رکھ کر ، زندگی منٹوں میں ختم کرنے کا فیصلہ کر لیتے ہیں۔ اور وہ ایک لمحہ میں اس حسین دنیا سے الگ ہو جاتے ہیں، جہاں فطرت نے ہی حسین مناظر، سحر زدہ مناظر کا تحفہ انہیں عطا کیا ہوا ہوتا ہے۔
اس لیے مختصر میں ہی سہی اس بدترین صدی اور کچھ مہینوں کا تجزیہ یہاں ضروری معلوم ہوتا ہے۔ ہمیں اس بے حد ڈراونی صدی سے ایسی امید نہیں تھی۔ ساری دنیا میں بھوک مری اور غریبی لوٹ آئی۔ تیل کی قیمتیں آسمان چھو گئیں۔ شیئر بازار لڑھک کر گر پڑا۔ ہزاروں بینکوں کو دیوالیہ قرار دے دیا گیا۔ کورونا کا قہر نازل ہوا۔ جدید مراکز ہل گئے۔ امریکی گریٹ ڈپریشن کا شکار ہوئے۔ ماحولیات کے تحفظ کے لیے نئے نئے ماڈل بنائے گئے جو ناکام رہے۔
انٹارکٹیکا کے بڑے بڑے گلیشیر سمندر میں گم ہو گئے۔ سر جوڑتے ہوئے دنیا کے تمام بڑے سائنسدانوں نے فیصلہ سنایا۔ ’انسانی ترقی اور کامیابی کی کہانیاں ہی دراصل انسانی بربادی کی بھی اصل وجہ ہیں‘ ۔ ایک طرف دہشت پسندی ہے اور دوسری طرف مہاماری۔ کورونا، سوائن فلو اور سارس جیسی نئی بیماریوں سے لڑتے ہوئے لوگ۔ کامیابی کا ہر نیا قدم ہمارے لیے ایک نئی بیماری لے کر آتا ہے۔ ملیریا ہر 03 سیکنڈ میں ایک بچے کی جان لے رہا ہے۔
روزانہ 1500 سے زیادہ عورتیں بچہ پیدا کرنے کے دوران مر جاتی ہیں۔ شوگر، کینسر، ہائپر ٹینشن، بلڈ پریشر، ایڈز، ہارٹ اٹیک اور ڈپریشن۔ بین الاقوامی معاہدے، سمجھوتے، قوانین، قواعد و ضوابط سب کاغذ پر رکھے رہ جاتے ہیں اور ایک سنگین زندگی نئی بیماریوں اور نئے وائرس کے ساتھ ہمارے سامنے آجاتی ہے۔ ڈپریشن، اس صدی اور کچھ مہینوں نے انسانی اداسی کو ہزار برسوں کی اداسی میں تبدیل کر دیا ہے۔
یہ ہمارے آج کے نوجوان ہیں جو ایک لمحۂ میں فیصلہ لیتے ہیں اور زندگی کو ختم کر دیتے ہیں۔ ہم اس نئی تہذیب کا حصہ ہیں، جہاں کورونا ہے، ڈارک روم اور گھٹن۔ کیا اس تہذیب سے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں۔ ’تہذیبیں مرنے کے لیے ہوتی ہیں۔ ایک تہذیب جہاں ختم ہوتی ہے‘ دوسری تہذیب وہیں سے سانس لینا شروع کرتی ہے۔ ہر تہذیب ایک دوسرے سے مختلف۔ ہڑپہ، موہنجو داڑو سے قدیم مصر، بے بی لون، یونان، روم کی تہذیبوں کے اوراق دیکھ لیجیے۔ پہاڑوں کی بھی اپنی تہذیب ہوتی ہے۔ جو کبھی نہیں بدلتی۔ قدرت، جو اپنی گردش سے وقت اور کائنات کے سفر کو تبدیل کر دیتی ہے۔
کیا ہمارا جدید سائنس ایک چھوٹا سا سبز پتہ بنا سکتا ہے۔ ؟ نہیں بنا سکتا۔ جینوم اور ڈی ان اے کے اس عہد میں سائنس دان ان ہری بھری شاخوں اور پتوں کو مسل کر ادویات ضرور تیار کر سکتے ہیں۔ شروع سے ہی انسانوں نے اپنی ترقی کے لیے ایک ہی راستہ چنا۔ قدرت سے کھیلو۔ قدرت کے خزانے کو لوٹو۔ ترقی کا ہر راستہ اس قدرتی خزانے سے ہو کر جاتا ہے۔ پہاڑ بولتے ہیں۔ لیکن سب کے لیے نہیں۔ ان کے لیے جو سننا چاہتے ہیں۔ ان وادیوں میں سیر کرنے میں ایک عجیب سا سکون ملتا ہے۔
خاص کر رات کے اندھیرے میں، ان پہاڑوں کی دھڑکنوں کو محسوس کیجئے۔ سچ مچ یہاں انسانی تہذیبیں نہیں، صرف قدرت سانس لیتی ہے۔ ابھی بھی جیسے ہزاروں ایسی وادیاں انسانوں کے بے رحم ہاتھوں سے بچی ہوئی ہیں۔ ارتقا اور سائنسی ایجادات کی ریس میں دوڑتے انسانوں نے ایسی ہزاروں ورجن ویلی کی عصمت لوٹنے کی ناپاک کوشش ابھی نہیں کی ہے۔ تہذیبیں مرنے کے لیے ہوتی ہیں۔ کوئی کوئی تہذیب بہت جلد مر جاتی ہے۔ پھر ایک نئی تہذیب سر اٹھاتی ہے۔
ان تہذیبوں میں جینے کے لیے ’ہم اپنی آسانی اور سہولت کے حساب سے اپنے مذہب چن لیتے ہیں۔ اصول اور قوانین بنا لیتے ہیں۔ یہ سب اپنی سہولت کے حساب سے۔ انسانی رشتے بھی اسی سہولت کی دین ہیں۔ جنہیں بے حد مہذب ہوتی دنیا میں ہم اپنے حساب سے بناتے اور توڑتے رہتے ہیں۔ ایک مہذب دنیا، اور اسی دنیا میں سوشانت جیسے لاکھوں کروڑوں بچے، نوجوان خودکشی کر رہے ہیں۔ ان کے پاس فطرت نہیں، ایک کمرے کی گھٹن ہے، خودکشی کرنے والوں کی پوری تاریخ دیکھ لیجیے۔
کوئی ایک بند ڈراونا کمرہ۔ جہاں کھڑکی اور روزن سے فطرت بھی خوفزدہ لگتی ہے۔ اکیلاپن اور اداسی کو بانٹنے کے لئے ان لمحوں میں ان کے پاس کوئی نہیں ہوتا۔ جس رات سوشانت نے خودکشی کی، اس رات اس کے کچھ دوست بھی اس کے ساتھ تھے۔ دوست چلے گئے۔ آخر وہ کیسا بھیانک لمحۂ تھا، جب اس نے زندگی نہ جینے کا فیصلہ کیا، ایک تابناک مستقبل کے ہوتے ہوئے؟ جب ہم زندگی کی نعمتوں سے فرار حاصل کرتے ہوئے اداس لمحوں کو لافانی سمجھ بیٹھتے ہیں اور ایک خوفناک لمحہ ہمیں اچانک زندگی کے صفحہ سے غائب کر دیتا ہے۔ خودکشی کا ایک منظر میں نے اپنے ناول مرگ انبوہ میں دکھایا ہے جب کالج میں پڑھنے والا ایک نوجوان ریمنڈ خود کشی کی ریہرسل کرتا ہے۔
ریمنڈ کو یقین تھا، اس کے پاس ابھی وقت ہے۔ اور وہ جانتا تھا، یہ کھیل آسان نہیں۔ اس کھیل میں جس نے بھی ہاتھ ڈالا موت اسے اپنے ساتھ لے گئی۔ موت کیا ہے؟ ایک خوبصورت فنٹاسی۔ موت کے بعد کوئی زندگی ہے یا نہیں۔ موت کے بعد کیا سب کچھ نظر آنا بند ہو جائے گا۔ مثال کے لیے وہ کھڑکی کھولتا ہے۔ سامنے چاند ہے۔ نیلا آسمان ہے۔ پرچھائیاں ہیں۔ رات کی چادر اوڑھے ہوئے عمارتیں ہیں، سڑک ہے۔ وہ اپنے کمرے میں دیکھ سکتا ہے، ایک بکھرا ہوا کمرہ، ایک میز، ایک کرسی، میز پر رکھا ہوا لیپ ٹاپ۔
وہ کالج جاتا ہے تو موت کے خیال سے بے نیاز ادھر ادھر گھومتے نوجوان لڑکے لڑکیاں، ماڈرن لباس میں۔ پھر گریسی ہے، نشا ہے، نیتی ہے۔ آنکھیں بند اور تمام مناظر سے رشتہ منقطع۔ یا موت کے بعد کوئی زندگی ہے؟ پہلے جسم ٹھنڈا ہوتا ہے۔ پھر دماغ کام کرنا بند کرتا ہے۔ ایک چلتا پھرتا جسم بے جان ہوجاتا ہے۔ بے حس و حرکت۔ کچھ دیر کے لیے اس مردے کو زندہ کر دیجیے تو اس کے پاس ایک ماضی ہوتا ہے۔ ریمنڈ نے ایک تجربہ کیا۔ اس تجربے کے لیے بھی خاص طور پر اس نے خود کو تیار کیا تھا۔
وہ کچھ دیر کے لیے باہر نکلا۔ اور اس نے خود کشی کے لیے مضبوط رسی اور کیلوں کا انتظام کیا۔ وہ کنویں کے قریب گیا۔ اندر جھانکا۔ کنویں گہرا تھا۔ مگر سوکھ چکا تھا۔ ریمنڈ نے ادھر ادھر دیکھا کہ کہیں کوئی اسے دیکھ تو نہیں رہا ہے۔ آس پاس کے گھروں کی کھڑکیاں بند تھیں۔ چار بج رہے تھے۔ دھوپ میں شدت تھی۔ پارک ابھی بھی سوکھے پتوں سے بھرا ہوا تھا۔ اس نے چاروں طرف کا جائزہ لیا۔ پھر کنویں کو دیر تک دیکھتا رہا۔ ریمنڈ کے ذہن میں ایک ہی خیال رقص کر رہا تھا۔
کیا وہ کنویں میں چھلانگ لگا سکتا ہے۔ ؟ ادھر ادھر دیکھ کر وہ کنویں کی اوپری سطح پر آکر کھڑا ہوگیا۔ ہزاروں بارش اور طوفان سہنے کے باوجود کنویں کی دیواریں سخت تھیں۔ ریمنڈ نے قہقہہ لگایا۔ اسے یقین تھا، وہ ایسا کر سکتا ہے۔ اور یہ کوئی مشکل کام نہیں۔ اگر وہ یہ فیصلہ کرے کہ اسے زندگی ہر قیمت پر ختم کرنی ہے تو کنویں میں چھلانگ لگانے کے لیے اسے ایک سیکنڈ بھی سوچنا نہیں پڑے گا۔ اسی لمحہ اس کا داہنا پاؤں ذرا سا لڑکھڑایا۔
ریمنڈ نے خود کو سنبھالا۔ جسم میں توازن قائم کیا۔ اس کے چہرے پر اب بھی مسکراہٹ تھی۔ کنویں سے اتر کر وہ کچھ دیر تک ادھر ادھر دیکھتا رہا۔ ابھی کچھ دیر پہلے اس کے پاؤں میں ذرا سی لڑکھڑاہٹ آئی تھی، ریمنڈ نے سوچا، کیا وہ گرنے کے تصور سے خوفزدہ تھا؟ کچھ دیر کے لیے ڈر کا احساس ضرور ہوا تھا۔ ممکن ہے، خود کشی کرنے والوں میں بھی یہ احساس ہوتا ہو۔ کیونکہ فیصلے کے لیے ایک لمحہ ہوتا ہے۔ اس طرف زندگی، اس طرف موت۔
ایک لمحے میں، زندگی اور موت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ کچھ لوگ ڈر جاتے ہیں اور کچھ زندگی سے کھیل جاتے ہیں۔ ایک لمحہ اس کے لیے بھی بھاری تھا جب اس کے پاؤں لڑکھڑائے تھے۔ ریمنڈ کو احساس ہوا کہ اچانک دل اچھل کر باہر آ گیا ہو۔ ایک لمحے کے لیے سناٹا چھا گیا تھا۔ یہ لامتناہی، نہ ختم ہونے والا سناٹا زندگی اور موت کے درمیان حائل ہے۔ کھیل کے درمیان ریمنڈ کو اسی سناٹے پر فتح حاصل کرنی ہے۔ کیا یہ مشکل کام ہے۔ ؟
ایک لمحے کی فتح اور موت۔
ہم نئی نسل کو اس ایک خوفناک لمحہ سے دور رکھیں جب وہ اپنے لئے موت کا انتخاب کر لیتے ہیں۔ اور ہماری حسین دنیا سے دور نکل جاتے ہیں۔


