فدا محمد ناشاد اور مرثیہ نگاری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

” متاع فکر“ میرے ہاتھوں میں ہے اور میں اس میں گم ہوں۔ مرثیہ ہے ”مدینہ سے کربلا تک“ مسدس کا وھی کرافٹ، الفاظ کے چناؤ میں وھی شائستگی اور احتیاط، عقیدت کا وھی انداز، وھی حفظ مراتب کا خیال جو کلاسیکل شعراء کے ہاں مستعمل ہیں اور پھر کربلا کی وھی دردناک داستان جس کے پڑھنے سے جگر لخت لخت ہو جاتا ہے۔ اردو میں لکھے گئے اس مرثیے میں سلاست، طرزبیاں اور فکری روایت مجھے میر ببر علی انیس اور مرزا سلامت علی دبیر کے عہد میں لے جا رہی ہے جن کی چہار دانگ شہرت اسی مرثیہ نگاری کے فن سے ہے۔ میر انیس نے کیا خوب کہا ہے کہ

” پانچویں پشت ہے شبیر کی مداحی میں“

”متاع فکر“ کے شاعر ہیں فدا محمد ناشاد اور ان کا یہ مجموعہ کلام جو کہ تمام کا تمام عقیدت و محبت سے مملو ہے صرف حمد، نعت، منقبت اور مرثیہ پر مشتمل ہے۔ ان کی محبت ہے کہ اس کی ایک کاپی ازراہ عنایت مجھے بھی دی ہے۔

فدا محمد ناشاد کو لوگوں کی اکثریت ایک متحرک سیاستدان کے طور پر جانتی ہیں اور کیوں نہ جانے وہ طویل عرصے سے اقتدار کی غلام گردشوں میں اپنی وضع داری کے ساتھ محو سفر ہیں۔ چیرمین ضلع کونسل، متعدد بار رکن ناردرن ایریاز کونسل، ڈپٹی چیف ایگزیکٹو اور اب سپیکر گلگت بلتستان اسمبلی۔ ان کی سیاسی فکر سے اختلاف کرنے والے بھی ان کی شائستگی، علمی و ادبی حیثیت اور رواداری کے معترف ہیں۔ ناشاد صاحب اچھا لکھتے ہیں، ان کی تحریریں اخبارات و جرائد میں شائع ہوتی رہیں ہیں۔

مختلف سیاسی، سماجی ثقافتی اور علاقائی موضوعات پر ان کی گرفت بہت مضبوط ہے اور ان کا کمال یہ ہے کہ وہ ہر موضوع پر up to date رہتے ہیں۔ ان کی کتابیں ”سیاچین“ انگریزی میں اور ایک سفرنامہ ”جادہ نور“ چھپ کر منصہ شہود پر آئے ہوئے ہیں۔ ناشاد صاحب کتابوں کے بے حد شوقین ہیں اور ان کے گھر کی الماریاں اخباری تراشوں، رسائل اور کتابوں سے اٹی پڑی ہیں اور یہ آج کی بات نہی بقول شاعر ”یہ قصہ ہے کئی برسوں کا“ ۔ ان کے علمی اور ادبی شوق کو دو آتشہ کرنے میں صحبت یار کا بڑا حصہ ہے اور ان کے یار رہے ہیں گلگت بلتستان کے علمی ادبی اور صاحب حال مذہبی شخصیات۔

اپنی علمی قدوقامت کے باوجود ناشاد صاحب بے چین آبجو کی طرح ہر اچھا لکھنے والے کی تلاش اور ان سے صحبت کے لئے سرگرداں رہتے ہیں۔ یہ سب کمالات تو ان کی ذات کے تھے ہی مگر مجھے حد درجہ حیرت ان کی شاعری پڑھ کر ہوئی کیونکہ مجھے یاد نہیں پڑتا ہے کہ گلگت بلتستان کے کسی مشاعرے میں انھیں کبھی سنا ہو۔ اتنا علم ضرور تھا کہ تقیہ کیے درون خانہ لفظوں سے ضرور کھیلتے ہیں مگر اتنی توانا اور مرصع شاعری واقعاً حیرت میں مبتلا کر دیتی ہے۔

بلتستان میں اشاعت اسلام چودھویں صدی عیسوی میں ہوا اور اس کے سرخیل تھے امیر کبیر سید علی ہمدانی اور ان کے بعد سید میر نور بخش، میر شمس الدین عراقی، سید محمد طوسی ان کے بھائی اور ملا محمد پشاوری آئے اور اسلامی تعلیمات پھیلائی جو کہ سراسر محبت، انسانیت اور صوفیانہ طرز فکر پر مشتمل تھیں۔ انہی اولیائے کرام کے توسط سے مذہبی رواداری اور برداشت کی روایت چل پڑی جو اب تک بلتستان کا خاصہ ہے۔ گو فارسی یہاں کے مقامی درباروں کی سرکاری زبان تھی تاہم ان متذکرہ بالا اولیاء کرام نے بھی اپنے درس و تدریس کے لئے فارسی کو ہی اختیار کیا اس طرح مذہبی علوم اور عقیدت و مودت کے سرچشمے ہر طرف پھوٹ پڑے اور ادبی اصطلاحات یہاں کی بلتی شاعری میں بھی در ائی۔ مختصر پس منظر بتانے کا مقصد یہ ہے کہ ہم یوں بہ آسانی سے بلتی شاعری اور بعد ازاں یہاں کی اردو شاعری میں مذہبی رحجانات کی تاویل کر سکتے ہیں۔

بلتستان کی قدیمی رزمیہ نظموں سے قطع نظر کرتے ہوئے جب ہم مذہبی شاعری جسے دراصل عقیدت کی شاعری کہنا مناسب ہوگا پر نظر ڈالتے ہیں تو اس کے سب سے بڑے شہ سوار ہیں سید شاہ عباس جو کہ

” بوا عباس“ کے نام سے معروف ہیں۔ ان کے اشعار میں چہاردہ معصومین اور خاص طور پر امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام سے والہانہ عشق اپنے عروج میں دکھائی دیتا ہے۔ جوھر علی جوھر ”بوا جوھر“ کے نام سے مشہور ہیں انھوں نے بحر طویل کی صنف میں کمال پایا اور بے ثباتی دنیا کو موضوع سخن بنایا۔ اس سلسلے کے

آ خری نمائندہ شعراء راجہ حسین خان محب اور راجہ ذاکر علی خان ذاکر ہیں جنھوں نے مدح و منقبت اور مرثیہ کو دوام بخشا۔ ان دونوں کی اسیری اور ڈوگرہ فوج کے ذریعے تخت وتاج کی پامالی ایک الگ داستان ہے۔ بلتستان میں اردو شاعری میں منقبت، مدح و سلام اور مرثیہ لکھنے کا رواج تو کافی عرصے سے چلا آ رہا ہے جن میں شمیم بلتستانی، راجہ محمد علی شاہ صبا، پروفیسر حشمت کمال الہامی اور غلام حسن حسنی شامل ہیں۔ غلام حسن حسنی کی مرثیہ اور نوحوں پر ایک کتاب ”۔ دیکھ اے علقمہ“ منظر عام پر آئی ہوئی ہے۔ تاہم درویشی اور فقر کی مسند پر فائز شیخ غلام حسین سحر کا مجموعہ کلام

”پیام سحر“ سب کا سب صوفیانہ شاعری پر مشتمل ہے جہاں اردو اور بلتی حمد اپنے معراج پرنظر آتی ہے۔ بلتی کلاسیکی روایت کے امین اور یکتا غزل گو شاعر غلام حسین بلغاری کی ایک حمد ”گیود لوکھ“ بھی ایک کمال شہکار ہے۔ ان سب کا تذکرہ اس لئے کہ ہم دیکھ سکیں کہ فدا محمد ناشاد کی شاعری نے کس ماحول میں پروان پائی اور سانس لیتی رہی ہے۔

”متاع فکر“ 2019 ء کے اواخر میں چھپ چکی ہے اور اس پر نقد و نظر کیا ہے ڈاکٹر تقی عابدی، ڈاکٹر فتح محمد ملک، ڈاکٹر ہلال نقوی اور پروفیسر حشمت کمال الہامی نے اب ان سکہ بند شاعروں اور محققین کے بعد کسی اور کے کہنے لکھنے کی کہاں گنجائش بنتی ہے اور اوپر سے طرفہ تماشا کہ مجھ جیسے کم علم اور کم فہم شخص جس کا ادب سے دور کا بھی واسطہ نہیں پڑتا اپنے تئیں کچھ لکھنے کی جسارت کر رہا ہوں۔

ناشاد صاحب کا یہ تمام مجموعہ حمد، نعت، منقبت اور سلام پر مشتمل ہے نیز تقریباً تمام کلام غزل کے ہیت میں لکھا گیا ہے لیکن ایک مرثیہ ”مدینہ سے کربلا تک۔ ۔ ۔ سفر امام حسین علیہ السلام“ مسدس کی شکل میں ہے اور یہی میرا آج کا موضوع سخن ہے۔

کلاسیکی اور جدید مرثیہ برصغیر میں تواتر کے ساتھ لکھا جا رہا ہے، میر انیس اور مرزا دبیر تو خیر اس فن کے آفتاب ٹھہرے لیکن میر انس، میر مونس، مرزا اوج، نسیم امروہوی، جوش ملیح آبادی، آل رضا، ڈاکٹر ہلال نقوی نے بھی مرثیہ کو بام عروج تک پہنچایا اور فیض احمد فیض کی جدید مرثیہ بھی حد درجہ کمال کی منزل پر ہے۔

عزیزم بشارت ساقی کو رثائی ادب سے خاص شغف ہے لہذا انھوں نے اپنی ذاتی لائبریری میں برصغیر پاک و ہند کے تقریباً تمام مستند مرثیہ گو شعرا کا کلام اکٹھا کیا ہے وہیں دیکھ کر حیرت ہوئی کہ مرثیہ گوئی پر کتنا بڑا کام ہوا ہے۔ ان سب پر ایک سرسری نظر ڈالی تو پتہ چلا کہ زیادہ تر بلکہ دراصل تمام تر مرثیہ مسدس کی شکل میں لکھا گیا ہے۔ فدا محمد ناشاد نے بھی مسدس کو ہی ذوق طبع کے لئے چنا ہے اور روایت کی پیروی کی۔ محققین کا کہنا ہے کہ مسدس کی شکل کو میرزا سودا نے متعارف کرایا ہے جو ابھی تک مقبول عام ہے۔

”مدینہ سے کربلا تک“ مرثیہ میں بھی آغاز مدینہ سے روانگی اور جدائی کی پرہول کیفیت سے ہوتا ہے اور قبر مطہر رسول پاک سے وداع اور مظلومیت کی کیفیت کیا بیان ہوئی ہے ملاحظہ فرمائیں۔

غوغائے الوداع، زمیں و زماں میں ہے
افسردگی کا کیف مکین و مکاں میں ہے
سبط رسول کشمکش این و آں میں ہے
ماحول سوگ کا ہے جو سارے جہاں میں ہے

غرض مدینہ سے لے کر کربلا تک کے تمام واقعات ایک تسلسل کے ساتھ مربوط انداز میں بیاں کیے گئے ہیں اور کمال یہ ہے کہ کہیں پر بھی نہ تو اردو ڈگمگائی ہے اور نہ ہی حرف و خیال لڑکھڑا رہے ہیں بلکہ مسدس کا پورا حسن جلوہ گر ہے۔ اکتالیس بند پر مشتمل یہ مسدس کربلا کی زمین پر آل رسول کی آمد کے ساتھ ختم ہو جاتی ہے اس سے آگے ”رجز“ اور ”شہادت“ کا مقام باقی ہے جو سرخ ہے اور پھر ”بین“ شاید ناشاد صاحب کو حوصلہ نہی پڑا کہ ان دل خراش مناظر کو بیان کر پائے جس پر صدیوں سے آنسوؤں کے سمندر بہہ رہے ہیں مگر درد ہے کہ تھمتا نہی۔

فیض احمد فیض نے کیا خوب کہا ہے۔
پھر صبح کی لو آئی رخ پاک پہ چمکی
اور ایک کرن مقتل خونناک پہ چمکی
نیزے کی انی تھی خس وخاشاک پہ چمکی
شمشیر برہنہ تھی کہ افلاک پہ چمکی
دم بھر کے لیے آئینہ رو ہوگیا صحرا
خورشید جو ابھرا تو لہو ہوگیا صحرا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply