یونیورسٹی ڈگری اور قرآن کی شرط : ایک سیاسی فیصلہ


”اب کسی بھی طالب علم کو اس وقت تک یونیورسٹی کی ڈگری تفویض نہیں کی جائے گی، جب تک وہ قرآن کو ترجمہ کے ساتھ یونیورسٹی میں ہی مکمل نہیں پڑھ لے گا“
حکومتی اعلامیہ، پنجاب حکومت۔

ایک سوال جو کہ صدیوں سے دماغ میں اٹھ رہا تھا مگر اس کا کوئی مستند جواب نہ مل پاتا تھا، وہ یہ تھا کہ آخر ہم مسلمانوں کے زوال کی اصل وجہ کیا ہے؟ واللہ آج یہ خبر پڑھ کر اور اپنے کانوں سے سن کر مکمل یقین آ گیا کہ ہم مسلمانوں کے اس دنیا میں ذلیل و خوار ہونے کے اصل عوامل ہیں کیا۔

ایک طرف ہے دنیاوی علم اور دوسری طرف ہے اس کائنات کی سب سے عظیم کتاب ”قرآن مجید“ ۔ درحقیقت ان دونوں کا تقابل کرنا نہ صرف احمقانہ سوچ ہے بلکہ انتہائی بیوقوفانہ عمل۔

زرا اک لمحے کو سوچئے کہ ہمارے ملک پاکستان میں کتنی مساجد ہیں، کتنے حافظ قرآن ہیں، کتنے خطیب ہیں، اس ارض پاک کا ہر مسلمان بچہ دینی تعلیم چاہے وہ ناظرہ ہی کیوں نہ ہو اسے حاصل کرنے کے لئے مسجد کا رخ ضرور کرتا ہے۔ آخر پھر بھی ہمارے معاشرے میں اتنی بے چینی کیوں ہے؟ ہم اتنے بے حس کیوں ہیں؟ ہماری اخلاقیات روبہ زوال کیوں ہیں؟ ہماری مادہ پرستی اور جنسی بے راہ روی دنیاء مغرب کے بہت سے ممالک سے زیادہ کیوں ہے آخر؟ ہمارے ہاں لوٹ مار، زر، زن، اور زمین کے فسادات بے تحاشا کیوں ہیں؟ پم عورت کی عزت اور توقیر کے معاملے میں اتنے گھٹیا کیوں واقع ہوئے ہیں؟

ایک نہ ختم ہونے والی طویل فہرست ہے ہمارے روزمرہ کے اعمال کی۔ جنہیں دیکھ کر شیطان بھی یقیناً اگر شرماتا نہیں تو فخر ضرور محسوس کرتا ہوگا۔ ذرا سوچئے!

کبھی آپ نے سوچا کہ آخر کیوں۔ پنج وقت اذانیں جو ایک ہی علاقے کے مختلف مکتبہ فکر اور فقہ سے تعلق رکھنے والی سوچ کے ساتھ بیک وقت مختلف مساجد کے میناروں سے بلند ہوتی ہوئی عوام کے کانوں تک پہنچتی ہیں وہ اپنا اثر کیوں کھو چکی ہیں؟

اذان کا دائمی مقصد خیر و بھلائی ہے جو کہ ہمیشہ سے مسلمانوں کا شیوہ اور دین اسلام کا خاصہ رہا ہے، آخر کیوں آج یہ پس پشت ڈل چکا ہے؟ ذرا سوچئے!

آخر ہماری مساجد میں صرف عمر رسیدہ افراد ہی زیادہ تعداد میں کیوں نظر آتے ہیں؟ ہمارے وہ سارے جوان جو انہی مساجد سے قرآن مجید پڑھ کر یا حفظ کر چکے ہوتے ہیں، وہ آخر کیوں نہیں جوق در جوق مساجد کی طرف کھنچے چلے جاتے؟ ہماری صفیں خالی کیوں ہوتی ہیں؟ ذرا سوچئے!

حضور والا، اگر تو آپ کا خیال ہے کہ اس طرح کے فیصلے نافذالعمل کرنے سے آپ کوئی دین کی خدمت کر رہے ہیں، تو ایسا کچھ نہیں ہے یہ صرف آپ کی خام خیالی ہے۔ اس طرح سے تو آپ نہ ہی ریاست مدینہ بنا سکتے ہیں اور نہ ہی ایسے مسلمان جو کہ دین پر مکمل طور پر عمل پیرا ہوں۔ اس طرح کرنے سے آپ مسلمانوں کی ایک ایسی کھیپ ضرور تیار کردیں گے کہ جو نہ ہی دینی امور اور نہ ہی دنیاوی امور پر اپنا خاصہ رکھتی ہوگی، بلکہ شاید دینی تعلیمات کو بھی دنیاوی طرز پر حاصل کرنے میں ضرور کامیاب ہو جائے گی۔ جس کا مقصد قرآن کی تعلیمات سے فیض حاصل کرنا نہیں ہوگا، بلکہ اسے ایک اضافی بوجھ سمجھ کر اپنے اوپر لادا جائے گا، جس طرح کہ ہم دنیاوی تعلیم کے ساتھ کرتے چلے آرہے ہیں۔ ذرا سوچئے!

دنیاوی تعلیم 2 سے 4 سال میں مکمل کرلی جاتی ہے، جبکہ قرآن کی تدریس کا عمل سالوں جاری رہتا ہے اور انسان صرف اسی صورت اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے جب اس کے ہر عمل کا عکس صرف قرآن کی تعلیمات ہوں۔

حضور اگر آپ کو نہیں معلوم تو یہ بندۂ ناچیز آپ کو بتا دیتا ہے کہ ہمارے ارض پاک کے تعلیمی اداروں میں تعلیم دی نہیں جاتی بلکہ بیچی جاتی ہے۔ کیا آپ اس بیوپار میں اب قرآن مجید کو بھی شامل کرنا چاہیں گے؟ کیا آپ چاہیں گے کہ ہر یونیورسٹی قرآن مجید کو بھی اپنی پسند کے ترجمے والی پبلشنگ گھر سے یونیورسٹی میں رائج کروائے؟ اور پھر اس کے لئے رشوت خوری کا اک بازار گرم کیا جائے، جیسا کہ دنیاوی علوم کی کتب کے لئے کیا جاتا ہے۔

پھر اس طرح کا فیصلہ بظاہر جس کا نفاذ صرف ایک صوبے کی حد تک ہے، وہ کس طرح سے انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتا نظر آتا ہے۔ کیا آپ کے خیال سے صرف صوبہ پنجاب ہی میں قرآن مجید کو بمع ترجمہ پڑھنا لازم ہے، باقی تمام صوبوں میں قرآن کو ترجمہ کے ساتھ پڑھنے کی کوئی ضرورت نہیں؟ ذرا سوچئے!

زرا سمجھئے اور غور فرمائیے، قرآن مجید صرف ایک کتاب ہی نہیں جسے پڑھنا لازم قرار دے کر ہم کامیاب ہوجائیں گے اور ہمارے تمام سماجی، معاشی اور معاشرتی مسائل خود بخود حل ہوجائیں گے۔ بلکہ یہ قرآن مجید تو وہ کتاب ہے کہ جسے پڑھنے سے زیادہ عمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ قرآن مجید کے اصل فضائل تو اس کی تعلیمات پر عمل کرنے میں ہیں۔ اور پھر اس الہامی اور بابرکت کتاب کا صرف ترجمہ ہی نہیں، بلکہ حقیقتاً اس کی تفسیر کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔

اور بات جب تفسیر کی ہوگی تو مختلف تفاسیر آپ کے سامنے ہوں گی، کبھی آپ نے سوچا کہ آپ کا یہ قدم قوم کو کن انتہائی مشکلات میں دھکیل دینے کا سبب بنے گا۔ آج تو آپ کی مساجد ہی صرف ”برینڈڈ“ ہیں جیسے کہ سنی، شیعہ، اہل سنت و الجماعت، بریلوی، حنفی، اہل حدیث، دیوبندی۔ اگر آپ نے اپنی روش نہ بدلی تو کل کو آپ کے تعلیمی ادارے بھی انہی ناموں کے ساتھ لکھے اور پکارے جائیں گے۔ ذرا سوچئے!
خدارا رحم کریں اور رب العزت کی اس عظیم کتاب کو ذریعہ رہنمائی رہنے دیں نہ کہ اسے سیاسی اور دنیاوی عزائم کے لئے استعمال کر کے اس کی تضحیک کریں۔

Facebook Comments HS