تارکین وطن کے لئے ایک مثبت پالیسی کی ضرورت۔ وقت کا ایک اہم تقاضا


1940 سے بہت پہلے کشمیر سے لوگ برطانیہ جانا شروع ہو گئے تھے کیونکہ برطانوی مرچنٹ نیوی کو اپنے جہازوں میں کوئلہ ڈالنے کے لئے مزدورں کی ضرورت تھی۔ ان وقتوں میں کشمیر سے نزدیک کراچی اور بمبئی کی ہی بندر گاہیں تھیں۔ اس لئے لوگ ان بندرگاہوں پر پہنچتے اور جہازوں میں سوار ہو کر برطانیہ پہنچ جاتے۔ 1940 میں ہی برطانیہ کو اپنی بڑھتی ہوئی معیشت اور صنعتی ترقی کے لئے سستے مزدوروں کی ضرورت تھی جو اس وقت متحدہ ہندوستان میں میسر تھے۔

اس لئے بہت سے ہندوستانی پارٹیشن سے پہلے مزدوری کے لئے برطانیہ گئے۔ پاکستان بننے کے بعد 1950 سے 1955 تک کشمیر سے بہت سے افراد برطانیہ پہنچے جو وہاں پہلے سے موجود اپنے بھائیوں کی وجہ سے فیکٹریوں میں ملازم ہو گئے۔ یہاں لوگوں میں ایک غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ منگلا ڈیم بننے کی وجہ سے میر پور کے لوگوں کو برطانیہ میں امیگریشن دی گئی۔ ایسی بات نہیں ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ منگلا ڈیم کی تعمیر کا آغاز 1958 میں ہوا، اس کی تکمیل 1967 میں ہوئی۔

جبکہ میر پور سے 1950 سے 1960 کے دوران ہزاروں افراد اپنے طور پر برطانیہ پہنچ چکے تھے۔ منگلا ڈیم سے بے گھر ہونے والے صرف پانچ فیصد لوگ برطانیہ گئے وہ بھی اپنے رشتہ داروں کی مدد سے۔ پاکستان گورنمنٹ نے تو حکومت برطانیہ کی طرف سے ملنے والے ویزہ واؤچرز اپنے عزیز و اقارب میں بانٹ دیے تھے۔ پاکستان چونکہ دولت مشترکہ کا رکن ملک تھا۔ اس وقت صنعتی ترقی میں تیزی کی وجہ سے برطانیہ میں ٹیکسٹائل ملز اور فونڈریز میں کام کرنے کے لئے مزدوروں کی ضرورت تھی۔ برطانیہ میں جو پہلے کشمیری میر پوری آباد تھے انہوں نے اس صورت حال کا فائدہ اٹھایا اور اپنے عزیز و اقارب اور دوستوں کو وہاں بلایا اور فیکٹریوں میں کام دلایا۔ 1965 کے بعد جب برطانیہ نے فیملی امیگریشن کا نیا قانون بنایا تو انگلینڈ میں آباد لوگوں نے اپنے بیوی بچوں کو بھی برطانیہ بلانا شروع کر دیا تھا۔ غیر تربیت یافتہ اور انگریزی زبان سے نابلد ان لوگوں نے کم سہولتوں کے باوجود برطانیہ کو ایک صنعتی ملک بنانے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔

اس وقت برطانیہ کے شہروں لیڈز۔ برمنگھم۔ مانچسٹر اور بریڈ فورڈ میں بہت سی فیکٹریاں تھیں جہاں پر ان لوگوں نے دن رات محنت سے کام کیا۔ ان لوگوں نے نہ صرف انگلینڈ میں اپنی جائیدادیں بنائیں، اپنے کاروبار سیٹ کیے بلکہ پاکستان میں بھی اپنے آبائی علاقوں میں مکان تعمیر کیے اور اپنی آمدنی کا زیادہ حصہ بھی یہاں منتقل کیا۔ اس وقت برطانیہ میں پندرہ لاکھ سے زیادہ پاکستانی بستے ہیں جن میں ستر فیصد کا تعلق آزاد کشمیر سے ہے۔

1883 سے 1917 تک متحدہ ہندوستان سے بہت سے لوگ امریکہ اور کینیڈا میں منتقل ہوئے۔ پاکستان بننے کے بعد بھی 1947 سے لے کر 1965 تک 2500 لوگ امریکہ گئے جن میں زیادہ تر تعداد طالب علموں کی تھی۔ ضیا الحق کے مارشل لا کے ابتدائی سالوں میں بہت سے تعلیم یافتہ لوگ ملک چھوڑ گئے۔ اس کے بعد کے ادوار میں بھی میرٹ کی پامالی۔ سفارشی کلچر۔ اعلی تعلیم یافتہ افراد کی بے قدری اور سیاست دانوں کی دھونس دھاندلی کی وجہ سے اکثر اعلی تعلیم یافتہ اور ہنر مند لوگ خاموشی سے ملک چھوڑتے رہے۔

1990 میں امریکہ کی امیگریشن پالیسیاں نرم ہونے پر بڑی تعداد میں لوگ امریکہ گئے اور وہاں سیٹل ہو گئے۔ اس وقت پانچ لاکھ سے زیادہ پاکستانی امریکہ میں اور اڑھائی لاکھ کینیڈا میں آباد ہیں۔ ان میں تیس فیصد لوگ پنجاب، پچاس فیصد پاکستانی مہاجر اور بیس فیصد دوسرے علاقوں سے ہیں۔ امریکہ میں آباد ہونے والوں میں ایک لاکھ چالیس ہزار سے زیادہ افراد اعلی تعلیم یافتہ ہیں۔ ان کا ترک سکونت کر کے امریکہ آباد ہو نے کی بڑی وجہ رشوت۔ اقربا پروری اور میرٹ کا پامال ہے۔ وڈیروں اور فیوڈل سے تنگ آئے ہوئے لوگ بھی بڑی تعداد میں امریکہ منتقل ہوئے۔ اس وقت بہت سے پاکستانی وہاں اعلی انتظامی عہدوں۔ آئی ٹی اور میڈیکل کے شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔

یورپ میں پاکستانی تارکین وطن 1979 میں جانا شروع ہوئے۔ یورپ میں امیگریشن کے سخت قوانین اور مشکل زبانوں کی وجہ سے وہاں جانے کا رجحان کم ہی تھا۔ ضیا الحق کے مارشل لا کے دور میں کافی لوگوں نے یورپ میں سیاسی پناہ لی جو زیادہ تر جرمنی۔ فرانس۔ اٹلی اور سپین میں سیٹل ہوئے۔ کچھ لوگ سمگل ہو کر بھی یورپ پہنچے۔ مارشل لا کے خاتمے پر جب وہ افراد پاکستان واپس آئے۔ ان سے وہاں کی زندگی کی رنگینیوں اور سہولیات کا ذکر سن سن کر نوجوان طبقہ بڑا متاثر ہوا اور غیر قانونی طور پر مختلف راستوں سے یورپ سمگل ہونے لگا۔

ایران اور ترکی کے راستے ہزاروں نوجوان یورپ منتقل ہوئے۔ نوے کی دہائی میں اولمپک کھیلوں کی وجہ سے امیگریشن میں نرمی کے تحت یہاں غیر قانونی مقیم لوگوں کو سیٹل ہو نے کا موقع ملا۔ شمالی پنجاب کے گوجرانوالہ اور راولپنڈی ڈویژن کے زیادہ لوگ یورپ میں آباد ہیں۔ اس وقت فرانس۔ سپین۔ اٹلی اور دوسرے یورپین ممالک میں پانچ لاکھ سے زیادہ پاکستانی رہ رہے ہیں۔ ان میں زیادہ تر افراد اکیلے رہ رہے ہیں جب کہ ان کے خاندان پاکستان میں ہی رہتے ہیں۔ پاکستانی تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد یہاں غیرقانونی طور پربھی رہ رہی ہیں۔

مڈل ایسٹ میں 1970 کے بعد تیل کی وجہ سے ترقی کا آغاز ہوا تو پاکستان سے مزدوروں اور ہنرمندوں کی ایک بڑی تعداد مڈل ایسٹ جانا شروع ہوئی۔ دوبئی۔ قطر۔ بحرین۔ کویت۔ مسقط اور سعودی عرب میں لاکھوں پاکستانیوں کو روزگار ملا۔ ان ممالک نے بھی ایک برادر اسلامی ملک ہونے کی وجہ سے پاکستان کو ترجیح دی۔ ذوالفقار علی بھٹو کا ان ممالک کو پاکستانی افرادی قوت فراہم کرنے میں ایک بہت بڑا رول رہا ہے۔ عرب ممالک میں سخت پالیسیوں کی وجہ سے بہت کم لوگ اپنے خاندان کو اپنے ساتھ لے جاسکے۔

شہریت کے سخت قوانین کی وجہ سے کسی کو بھی یہاں کی شہریت نہیں مل سکی۔ یہ لوگ اپنی زندگی کا زیادہ عرصہ وہاں ملازمت میں گزارنے کے بعد پاکستان واپس آ جاتے ہیں۔ برطانیہ۔ امریکہ اور یورپ کی نسبت مڈل ایسٹ میں رہنے والے پاکستانی بہت زیادہ مشکل زندگی گزار رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ساؤتھ افریقہ میں بھی کافی تعداد میں پاکستانی تارکین وطن کسی ذریعہ سے گئے اور وہاں آباد ہو گئے۔

ان سب تارکین وطن کو پاکستان سے بہت محبت ہے۔ اتنا عرصہ دیار غیر میں رہنے کے باوجود ان کے دل پاکستان کے لئے دھڑکتے ہیں۔ برطانیہ میں رہنے والے اور وہاں پیدا ہونے والے بچے ابھی تک سال میں ایک دفعہ پاکستان کا چکر ضرور لگاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنی دھرتی ماں سے زیادہ عرصہ دور نہیں رہ سکتے۔ اپنے آبا و اجداد کے ملک کو کبھی نہیں بھول سکتے۔

میرے خیال میں تارکین وطن ہم سے زیادہ محب وطن اور ملک اور قوم کا خیال رکھنے والے ہیں۔ یہ تارکین وطن عرصہ دراز سے اربوں ڈالر کا زرمبادلہ سالانہ اپنے وطن میں بھیجتے رہے ہیں۔ ایکسپریس ٹریبیون کی ایک رپورٹ کے مطابق 2019 کے ایک سال میں تارکین وطن نے بائیس ارب ڈالر سے زیادہ فارن ریمیٹینس اپنے ملک بھیجی ہیں۔ ایسے وقت میں جب پاکستان کی برامدات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ تارکین وطن کی بھیجی ہوئی یہ رقوم پاکستان کے غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر بڑھانے میں بہت ہی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

ملک پاکستان کو جب بھی ضرورت پڑی، ہمیشہ تارکین وطن ملک کی مدد کو آگے آئے، وہ قرض اتارو مہم ہو یا ملک کو فارن ایکسچینج کی ضرورت ہو یا ڈیم کے لئے فنڈ اکٹھا کرنا ہو۔ اس کے علاوہ زلزلہ ہو یا ملک میں سیلاب آئے بیرون ممالک میں رہنے والے ہمارے یہ پاکستانی بھائی ہر مصیبت کی گھڑی میں پاکستانی عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں۔ ۔ پاکستان اور آزاد کشمیر میں چلنے والے بہت سے خیراتی ادارے۔ ہسپتال۔ ٹرسٹ۔ ڈائیلاسز سینٹر اور بہت سے تعلیمی ادارے ان کی امداد سے چل رہے ہیں۔

تارکین وطن کی اس محبت کا کبھی کوئی مثبت جواب ہم نے نہیں دیا۔ پچھلے ستر سالوں میں آج تک کسی بھی حکومت نے تارکین وطن کے لئے کوئی بھی ایسی پالیسی نہیں بنائی جو ان کے لئے بہتر اور مدد گار ہو۔ آج تک ہماری حکومتوں اور ہم لوگوں نے ہمیشہ ہی ان تارکین وطن کو لوٹا ہی ہے۔ سب سے بڑا دھچکہ تارکین وطن کو اس وقت لگا جب بیرون ملک سے بھیجی گئی تارکین وطن کے اکاؤنٹس میں پڑی فارن کرنسی کو حکومت نے ضبط کر لیا۔ بیرون ممالک سے بھیجی ہوئی قرض اتارو، ملک سنوارو میں جمع شدہ رقم اور حالیہ ڈیم جمع شدہ فنڈ کا کوئی حساب کتاب نہیں رکھا گیا۔

ہمارے عمومی رویے ان تارکین وطن کے خلاف ہیں۔ جب بھی بیرون ملک بسنے والے یہ لوگ اپنے ملک اور اپنے آبائی علاقوں کی محبت میں پاکستان آتے ہیں تو سب سے پہلے ہماری قومی ائرلائن ان کو مہنگے ترین ٹکٹ دے کر لوٹتی ہے۔ ائرپورٹ پر امیگریشن اور کسٹمز والے ان کی کھال ادھیڑتے ہیں۔ ائرپورٹ سے گھر جاتے ہوئے ان کی گاڑیوں کو پولیس والے اور ڈاکو لوٹ لیتے ہیں۔ رہی سہی کسر قریبی رشتے دار اور دکاندار مہنگی اشیا دے کر پوری کر دیتے ہیں۔

ان کی انتہائی محنت کی کمائی سے خریدے ہوئے قیمتی گھروں اور پلاٹوں پر قبضہ کر لیا جاتا ہے۔ اور انھیں یہ جائیدادیں سستے داموں فروخت کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ 1985 کے بعد انگلینڈ سے تارکین وطن کی کشمیر میں آمدورفت میں اضافہ ہوا جس کی وجہ سے یہاں مقامی لوگوں کے بزنس میں اضافہ ہوا تھا۔ لیکن جب لوکل دکانداروں۔ رینٹ اے کار والوں نے ان کو لوٹنا شروع کیا تو ان لوگوں نے بھی چھٹیاں گزارنے کے لئے ترکی اور یورپ کا رخ اختیار کر لیا۔

پاکستان میں ان تارکین وطن کو پاسپورٹ۔ پولیس۔ نادرہ۔ محکمہ مال۔ شہروں کی ڈویلپمنٹ اتھارٹیاں غرض کوئی محکمہ ایسا نہیں ہے جو ان تارکین وطن کو کسی نہ کسی بہانے نہ لوٹتا ہو۔ اس سلسلے میں ہزاروں مثالیں دی جا سکتی ہیں جن میں سے درجنوں کا راقم عینی شاید ہے۔ بہت سے لوگ اپنا سب کچھ لٹا کر مایوس ہو کر کبھی واپس نہ آنے کے لئے بیرون ملک لوٹ جاتے ہیں۔ ان تارکین وطن کی جو نئی نسل اب جوان ہوئی ہے وہ بہت سمجھ دار اور پڑھی لکھی ہے۔

اس لئے وہ اپنا برا بھلا اب اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ ان کا بانڈ بھی اپنے والدین کی نسبت پاکستان سے اتنا زیادہ مضبوط نہیں ہے اس لئے ان کی زیادہ تر تعداد اب پاکستان آنے کی بجائے دوبئی۔ ترکی۔ تھائی لینڈ اور یورپ میں اپنی چھٹیاں گزارنا پسند کرتے ہیں۔ یہ صورت حال آنے والے وقتوں میں پاکستان آنے والی فارن ریمیٹینس میں بہت زیادہ کمی کا باعث بننے والی ہے۔ حکومت پاکستان کو اس پر ایک مربوط حکمت عملی بنا کر تارکین وطن کے لئے ایک اچھی پالیسی بنانی چاہیے۔

ان کو اپنے ملک میں ہر ممکن تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں بھی اپنے عمومی رویوں میں مثبت تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں حکومت کو ایک تھنک ٹینک بنانے کی ضرورت ہے جو اس پر ایک ریسرچ کر کے ایک قابل عمل پالیسی تیار کرے۔ جس پر جتنا جلدی ہو سکے تارکین وطن کی بہتری کے لئے عمل درآمد کروایا جائے۔

Facebook Comments HS