یہ سب مغرب کی سازش ہے
پچھلے دنوں ایک تقریب میں کچھ لوگوں سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ ان میں سے ایک صاحب نے بطور پروفیسر، دوسرے نے وکیل اور تیسرے نے کاروباری شخصیت متعارف کروایا۔ ایک اور صاحب جو پچھلے بیس سال سے انگلینڈ میں مقیم ہے، وہیں پر موجود تھے۔ تھوڑی دیر بعد گفتگو کا محور کرونا کی طرف منتقل ہو گیا۔ پروفیسر صاحب جو پچھلے بیس سال سے ایک سرکاری کالج میں پڑھا رہے ہیں، کورونا کو ایک وبائی مرض تسلیم کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔ وہ اسے بین الاقوامی سازش کا حصہ قرار دے رہے تھے اور اس کے تانے بانے بل گیٹس اور ٹرمپ سے جوڑ رہے تھے۔ ساتھ ہی ساتھ اس بات پر زور دے رہے تھے کہ جو شخص پانچ مرتبہ وضو کرتا ہے اور پانچ مرتبہ نماز پڑھتا ہے، اسے کرونا نہیں ہو سکتا۔
وکیل صاحب جو پچھلے پچیس سال سے وکالت سے شعبہ سے منسلک ہے، کرونا کو نہ صرف افواہ کے طور پر لے رہے تھے بلکہ جن لوگوں نے ماسک پہنے ہوئے تھے ان کو طنزیہ نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ وکیل صاحب نے کرونا کے خلاف دلائل دے کر کچھ بچوں اور کچھ جوانوں کے ماسک بھی اتروائے۔ اس کے بعد فاتحانہ نظروں سے لوگوں کو دیکھتے رہے۔
انگلینڈ پلٹ صاحب جو پچھلے چھ ماہ سے پاکستان میں مقیم ہے کرونا کے وجود سے بالکل انکاری تھے ان صاحب کا نقطہ نظر یہ تھا کہ جو رات قبر میں ہے وہ قبر کے باہر نہیں ہو سکتی، لہذا احتیاطی تدابیر کا کوئی فائدہ نہیں۔
کاروباری صاحب نے تھوڑی سی مزاحمت کی اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔ لیکن جب بحث میں مذہبی رنگ غالب آیا تو انہوں نے خاموشی میں عافیت سمجھی۔
یہ چار مثالیں ہماری معاشرتی سوچ اور طرز فکر کی عکاسی کر تی ہیں۔ ان سے پتہ چلتا ہے کہ ہماری قومی اور انفرادی سوچ کا معیار کتنا پست ہے، ہماری فکر کے عدسوں میں تعصب کی دھند چھائی ہوئی ہے۔ اس تعصب کی بنیاد رنگ، نسل، زبان، قوم، مذہب اور صنف پر قائم ہے۔ ہمارا قومی مشغلہ اپنے آپ کو مظلوم ثابت کرنا اور اپنے ملک میں موجود ہر خرابی کو بین الاقوامی سازش سے جوڑنا ہے۔ جب دنیا میں لاکھوں افراد کرونا سے مر رہے ہیں اس وقت بھی ہمارے ملک کا ایک بڑا حصہ اسے مذاق سمجھ رہا ہے۔ یہ ذہنی پستی نہیں تو اور کیا ہے۔
ایک طرف تو ہم اس بات کا رونا روتے ہیں کہ ہمارے ملک میں تعلیم کی شرح صرف 58 %ہے جو کہ جنوبی ایشیاء میں سب سے کم ہے لیکن دیکھنے کی بات یہ ہے کہ جو افراد پڑھے لکھے ہیں یا جن کو پڑھا لکھا سمجھا جا تا ہے انہوں نے تعلیمی اداروں میں کیا پڑھا ہے؟ ان کی سوچنے، سمجھنے کی صلاحیتوں میں کس قدر نکھار آیا ہے؟ جو لوگ صرف ایک خاص سطح تک سوچ سکتے ہوں یا دوسرے کے دلائل کی صحت سے بالکل انکاری ہوں اور اس بات پر یقین رکھتے ہوں کہ۔ ”مستند ہے میرا فرمایا ہوا“ تو ایسے میں کیا انہیں پڑھا لکھا کہا جا سکتا ہے؟
تعلیم حقائق کو جاننے، پرکھنے اور سوالات اٹھانے کا نام ہے، آج کے نئے مسائل حل کرنے کے لئے نئی سوچ کی ضرورت ہے، پرانی سوچ سے نئے مسئلے حل نہیں ہو سکتے۔ پاکستان میں سوچ کا جمود 80 کی دہائی سے شروع ہوا جو تاحال جاری ہے اور خدشہ ہے یہ ایسے ہی جاری رہے گا۔ جسے پروفیسر صاحب، وکیل صاحب اور ان جیسے دوسرے صاحبان کئی نسلوں تک منتقل کر چکے ہیں اور آج بھی کر رہے ہیں۔ مرد مومن ضیاء الحق نے قومی بیانیے کا جو بیچ بویا تھا آج وہ تن اور درخت بن چکا ہے، جس کی چھاؤں میں بھی دم گھٹتا ہے اور جس کے پتے بھی زہریلے ہیں۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے داخلی، خارجی اور دوسرے قومی اور بین الاقوامی امور اسی بیانیے کے تحت چلتے ہیں۔
لہذا ہمیں اپنا قومی بیانیہ 360 ڈگری سے بدلنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اپنے تعلیمی اداروں میں تنقیدی سوچ ابھارنے کی ضرورت ہے، ہر وقت اپنے آپ کو مظلوم ثابت کر کے ہم اپنے آپ کو تو شاید مطمئن کر لیں لیکن ایسا کرنے سے حقائق نہیں بدلتے۔ اس روایتی سوچ سے ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔ ہمیں ایسا تعلیمی نظام چاہیے جہاں نئی فکر کے چشمے بہتے ہوں، جہاں عقل و دانش کی لہریں اٹکھیلیاں کرتی ہوں، جہاں الفاظ انسان دوستی اور محبت کے گیت گاتے ہوں، جہاں علم کے سورج سے دل منور ہوں، جہاں مکالمے کی بنیاد صرف اور صرف دلیل ہوں، شخصیت سے نہ ہوں۔ ایسے نظام سے نہ صرف ہم کرونا جیسے مسائل سے بخوبی نبردآزما ہو سکتے ہیں بلکہ حقیقی انسانی ترقی کی طرف گامزن ہو سکتے ہیں۔


