یہ سب مغرب کی سازش ہے
پچھلے دنوں ایک تقریب میں کچھ لوگوں سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ ان میں سے ایک صاحب نے بطور پروفیسر، دوسرے نے وکیل اور تیسرے نے کاروباری شخصیت متعارف کروایا۔ ایک اور صاحب جو پچھلے بیس سال سے انگلینڈ میں مقیم ہے، وہیں پر موجود تھے۔ تھوڑی دیر بعد گفتگو کا محور کرونا کی طرف منتقل ہو گیا۔ پروفیسر صاحب جو پچھلے بیس سال سے ایک سرکاری کالج میں پڑھا رہے ہیں، کورونا کو ایک وبائی مرض تسلیم کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔ وہ اسے بین الاقوامی سازش کا حصہ قرار دے رہے تھے اور اس کے تانے بانے بل گیٹس اور ٹرمپ سے جوڑ رہے تھے۔ ساتھ ہی ساتھ اس بات پر زور دے رہے تھے کہ جو شخص پانچ مرتبہ وضو کرتا ہے اور پانچ مرتبہ نماز پڑھتا ہے، اسے کرونا نہیں ہو سکتا۔
وکیل صاحب جو پچھلے پچیس سال سے وکالت سے شعبہ سے منسلک ہے، کرونا کو نہ صرف افواہ کے طور پر لے رہے تھے بلکہ جن لوگوں نے ماسک پہنے ہوئے تھے ان کو طنزیہ نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ وکیل صاحب نے کرونا کے خلاف دلائل دے کر کچھ بچوں اور کچھ جوانوں کے ماسک بھی اتروائے۔ اس کے بعد فاتحانہ نظروں سے لوگوں کو دیکھتے رہے۔
Read more


