مراجعت اور پیش قدمی کا موقع

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تب وہ تیس سال کا کم عمر اور خوبرو نوجوان تھا وہ گیند کو اپنی پینٹ پر مسلنے کے بعد مڑ کر دوڑ لگاتا تو اس کے لمبے لمبے بال ایک انداز دلربائی کے ساتھ ہوا سے جھولتے رہتے وہ کسی صحرائی ہرن کی مانند دوڑتا اور وکٹوں کے پاس پہنچ کر چیتے کی طرح جمپ لگا کر برق رفتار گیند مخالف بیٹسمین کی طرف اچھال دیتا جس کی نہ سمجھ آنے والی سوئنگ سے دنیائے کرکٹ کے خوفناک بلے بازوں گواسکر سے گریگ چیپل اور رچرڈ سے بوتھم تک ایک بے بسی کے ساتھ اپنی وکٹیں اڑتے دیکھتے۔

اسی منظر نامے سے عمران خان شہرت اور رومانویت کی ایک دیوتائی حیثیت لے کر ابھرے۔
بعد میں اسی شہرت کو مد نظر رکھ کر عمران خان کا رخ سیاست کی طرف موڑ دیا گیا۔

تو بحیثیت کرکٹر اس کی رومانویت میں مد ہوش الہڑ جوانیاں اور بے بصیرت جذباتیت اس کے تعاقب میں حقائق سے بے خبر ہو کر چل پڑے۔

اور یہاں سے ایک تباہ کن بیانیہ عملیت کی طرف بڑھنے لگا جو اس وقت تمام تر بربادیوں اور حشر سامانیوں کے ساتھ ہمارے سامنے ہے لیکن دانشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ ایک بے ثمر سیاست اور بد رنگ منظرنامے سے چمٹے رہنے اور اس سے طعنہ و طنز کشید کرنے کی بجائے مستقبل کے امکانات اور غلطیوں کے ازالے کی تلاش میں نکلا جائے۔

لمحہ موجود میں ہمیں اس حقیقت کو کھلے دل کے ساتھ تسلیم کرنا پڑے گا کہ بحیثیت کھلاڑی اور کپتان عمران خان کامیابیوں کے جس بلند و بالا زینے پر پہنچے تھے، بحیثیت سیاستدان اور وزیراعظم ناکامیوں کا زینہ اس سے کئی گنا بلند ہے۔

ڈھونڈے سے بھی کوئی مثال تلاش نہیں کی جا سکتی کہ کسی معاشی انتظامی، سفارتی یا جمہوری حوالے سے کوئی کامیابی زیر بحث لائی جائے تاہم نقصانات کا ایک منہ زور دریا درو بام اجاڑنے پر تلا ہوا ہے۔

لیکن سر پیٹنے اور رونے دھونے کی بجائے آگے بڑھا جائے۔

اس وقت عمران خان کے پیروکاروں کو ایک بے رحم طنز اور طعنوں کا نشانہ تو بنایا جا رہا ہے لیکن کس سفاکی کے ساتھ یہ بھول دیا جاتا ہے کہ جس کارواں کو سالار قافلہ کی بے بصیرتی اور کم ہمتی ویران صحراؤں اور بے اماں موسموں کے رحم و کرم پر چھوڑ گئی ان کا طنز اڑانے اور بے سمت وحشتوں میں دھکیلنے کی بجائے انہیں سکون اور محبت کے ساتھ تھام لیا جائے تاکہ بھٹکنے کی بجائے حقائق کی سمت مراجعت کرنے میں ان کی مدد کی جاسکے، اور ویسے بھی آئیڈیل ازم کا عذاب اترتے اترتے شب و روز کی کثرت اور مہ و سال کی فراوانی مانگتا ہے۔ جس میں بے سمت راہوں اور بے درک سنگ میلوں کی طویل لیکن بے ثمر مسافت سے واسطہ پڑتا رہتا ہے۔

سو کہنے کا مطلب یہ ہے کہ بحیثیت وزیراعظم عمران خان کی شدید ناکامیوں کا ملبہ اس کے پیروکاروں پر گرانے سے گریز ہی دانائی کا راستہ ہے کیونکہ ایک طرف ان کی امیدوں کا محور عمران خان بد ترین سیاسی ناکامی سے دوچار ہوا اور ان سیاسی کارکنوں ( پی ٹی آئی ) کے خواب چکنا چور ہو چکے لیکن اگر ان حالات میں انہیں طنز اور طعنوں کا مسلسل نشانہ بنایا جائے تو سنبھلنے اور سوچنے کی بجائے وہ خدانخواستہ حواس باختہ اشتعال کا راستہ بھی لے سکتے ہیں جو معاشرے میں مزید بے چینی اور اضطراب کا مؤجب بن سکتی ہے۔

اس وقت ملک نہ صرف خون آشام کورونا کی لپیٹ میں ہے بلکہ معاشی تباہی، سفارتی تنہائی اور سیاسی انارکی ہمارے اجتماعی جسم پر اپنے جبڑے گاڑ چکی ہے، جس سے یہ جسم دن بدن کمزور اور لاغر ہوتا جا رہا ہے۔ اور شکاری گدھ ایک غول کی شکل میں آس پاس منڈلانے لگے ہیں۔

اس لئے درد دل کے ساتھ گزارش ہے کہ ان دگرگوں صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک نئے بیانیے کی طرف بڑھنا ہوگا۔ انتقام اور اشتعال کے سیاہ دائروں سے نکل کر روشن رتوں اور تازہ ہواؤں میں سانس لینے کی ضرورت ہے۔ مقتدر اداروں، سے سیاسی جماعتوں اور پارلیمان سے عوام تک کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا، ماضی کی تلخیوں کو اجتماعی طور پر فراموش کر کے واضح اور دوٹوک ذہن کے ساتھ پیش رفت کرنی ہوگی۔

سیاسی جماعتوں، لیڈروں اور کارکنوں کو دشمنی کی پست سطح سے اوپر اٹھنا ہوگا، ( عمران خان کے کارکنوں کو بھی جھڑکنے اور طنز کا نشانہ بنانے کی بجائے سنجیدہ سیاسی عمل میں شامل کرنے کے لئے موافق اور سازگار حالات پیدا کرنے ہوں گے )

پکڑو اور چھوڑو کے فلاپ ڈرامے سکرین سے ہٹانے ہوں گے، سیاسی قیادتوں کا بھی ایک میز پر آنا لازم ہے۔
میڈیا کی زنجیریں اتارنا بھی وقت کی ضرورت ہے۔

مقتدر اداروں کو بھی فاصلے پاٹنے ہوں گے اور عوام (خصوصاً سوشل میڈیا) کو بھی ذمہ داریوں کا احساس اور اخلاقی حدود و قیود خود پر لاگو کرنے ہوں گے۔

ہم بے شک اس وقت انتہائی مشکلات اور بد ترین صورتحال سے دوچار ہیں لیکن تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ بہت سی قومیں ایسے حالات سے گزریں لیکن یہ دانشمندی برداشت اور مضبوط فیصلے ہی تھے جو انہیں خوفناک منجدھار سے نکال کر کامیابیوں کے درو بام تک لے گئیں۔

کہنے کا مطلب ہے کہ وقت خشک ریت کی مانند تیزی کے ساتھ ہماری مٹھی سے پھسلتا جا رہا ہے اس لئے بے خبری کی نیند میں گھومنے اور ایک دوسرے کو روندنے کی بجائے جاگنے اور باہم گلے ملنے کا وقت ہے جس سے ایک خیرہ کن ترقی اور دانائی ہاتھ آنے کا قوی امکان ہے یہی وہ نسخہ کیمیا ہے جو کامیابی کی سمت پیش رفت کا سندیسہ بھی ہے اور بقاء کا ضامن بھی۔
اور ویسے بھی بہت ہو گیا کیونکہ موجودہ منظر نامے کو کوئی ہزار بار بھی قند کہہ کر پکارتا رہے لیکن اس کی حیثیت زہر ہلاہل سے آگے کچھ نہیں!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply