کورونا وائرس، مغرب کی سازش!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بہت سارے سادہ دل اور سادہ عقل پاکستانی مسلمان ابھی بھی یہ سمجھتے ہیں کہ کورونا وائرس مغربی ممالک کی طرف سے مسلمانوں کی خلاف ایک سازش کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس کی ایک مثال وہ اس طرح دیتے یہ ہیں کہ سیاہ فام نسل کے جارج فلائیڈ نامی ایک شخص کے قتل کے بعد، امریکہ کی کم از کم 14 ریاستوں میں ہزاروں افراد احتجاج کرنے کے لئے گھروں سے باہر نکلے لیکن وہاں کورونا کے کیسز کیوں نہیں بڑھے؟ روز مرہ کی خبروں سے بے خبر رہنے والے لوگوں کے لئے یہ خبر کسی بے مثال اور لاجواب معلومات سے کم نہیں۔ ایک تو اس قسم کے لوگ اعداد و شمار دیکھے بغیر صرف ہوا میں تیر چلاتے ہیں، دوسرا یہ کہ اس طرح کی افواھیں سادہ مسلمانوں کو یہ بات ماننے پہ مجبور کر دیتی ہیں کہ کورونا کوئی وبا نہیں ہے اور یہ اسلام کے خلاف، مغرب کی سازش ہو سکتی ہے، اس لئے وہ اپنی معمول کی زندگی گزارتے رہیں۔

حقیقت میں اعداد و شمار بتائے بغیر ایسی غیر سائنسی بات کرنا خودفریبی اور دھوکہ دھی کے علاوہ کچھ نہیں۔ ویسے بھی عمومی طور پہ ہم مسلمان خودفریبی اور ماضی پرستی کا شکار ہیں، ہمارا حال برا ہے اور مستقبل کا پتہ ہی نہیں۔ جارج فلائیڈ کا 25 مئی کو قتل ہوا، اس دن امریکہ میں کورونا کیسز کی کل تعداد تھی 16 لاکھ 55 ہزار اور اموات 98 ہزار تھیں۔ تمام معاملات میں بتدریج اضافہ ہوا اور 12 جون تک کورونا کے مریضوں اور اموات کی تعداد بالترتیب 21 لاکھ 17 ہزار اور ایک لاکھ 17 ہزار ہو چکی۔ مطلب صرف ان 17 دنوں میں کورونا کے مریضوں میں 4 لاکھ 62 ہزار اور اموات میں 19 ہزار کا اضافہ ہوا، تو پھر یہ دعوی کرنا کہ جارج فلائیڈ کے قتل کے بعد امریکہ میں کورونا کیسز میں اضافہ نہیں ہوا، کیا پیغام دیتا ہے! یہ کہ آپ کی عقل کا جنازہ اٹھ چکا۔

دوسری طرف 12 جون تک، ڈبلیو ایچ او کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں کورونا کیسز کی کل تعداد 77 لاکھ 41 ہزار اور اموات کی تعداد 4 لاکھ 28 ہزار تھی، جس میں سے تمام مسلمان ممالک میں کورونا متاثرین کی تعداد 11 لاکھ 40 ہزار اور شہداء کی تعداد 27 ہزار ہے۔ اب آپ خود ہی فیصلہ کریں کہ کافروں کی مسلمانوں کے خلاف بنائی گئی سازش، خود ان کے گلے میں کیسے فٹ ہوئی کہ ان کے کیسز، مسلم ممالک کے مقابلے میں 66 لاکھ ایک ہزار اور اموات 4 لاکھ ایک ہزار زیادہ ہیں! ان فگرز سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جیسے ہم نے ہی مغرب کے خلاف کوئی سازش کی ہے یا کورونا کو غیر مسلم قوتوں کے خلاف جہاد پہ لگا دیا ہے!

دراصل 15 ویں عیسوی صدی کے بعد، جب سے مذہب اسلام، وقت کے حکمرانوں کی لونڈی بن چکا اور اس پہ ملایت کا غلبہ چھا گیا تب سے نہ صرف ریسرچ کے دروازے بند ہو چکے بلکہ سائنس کو اسلام دشمن علم ثابت کرنے کی کوشش بھی جاری رہیں اور ابھی تک جاری ہیں۔ اب تو حال یہ ہے کہ ہر نئی سائنسی ایجاد کی مخالفت کرنا ثواب کے زمرے میں شامل ہے۔ جب ضرورت کے تحت اس نئی ایجاد کا استعمال ناگزیر ہو جاتا ہے، اس کے حصول کے لئے ہم مغرب کی طرف دیکھتے ہیں۔ کورونا وبا کی ویکسین کے لئے اب بھی ہم یورپ کے سائنسدانوں، حتی کہ اسرائیل سے امید لگا کے بیٹھے ہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ عام زندگی سے لے کر حکومتی لیول تک ہر سائنسی سوچ کو اسلام دشمن قرار دینا اور کفر کے فتوے لگانا ملاؤں اور مذہبی انتہا پسندوں کا شیوہ بن گیا ہے۔

اسلام جیسے آفاقی دین کو ہم نے صرف رسومات، روایات اور روایتی عبادات تک محدود کر رکھا ہے اور شرک و بدعت کو ہی عبادت سمجھنے لگے ہیں۔ حقوق العباد کے احکامات کو ہم نے کب سے سائیڈ لائن کر رکھا ہے، جس کی وجہ سے کئی فرقے وجود میں آ چکے ہیں۔ ہر فرقہ دوسرے فرقے کو کافر قرار دینے سے گریز نہیں کرتا اور موقع ملتے ہی مخالف کو قتل کرنا عین ثواب سمجہتا ہے۔

غریب مسلم ممالک، امریکا کی کالونی بن چکے لیکن حکمران طبقے کی عیاشیاں اور لوٹ مار دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہیں۔ امیر ترین مسلم ممالک بھی بہت سارے معاملات میں مغرب کے محتاج ہیں، لیکن ان کا طرز زندگی اور عیاشیاں اس بات کی واضح نشاندہی کر رہیں کہ دیر یا سویر ان کے اقتدار کا سورج بھی غروب ہونے والا ہے۔

عوام کو جہالت کے سمندر میں ڈبو کر خود عیاشی کرنے والے مسلم حکمرانوں کے لئے امریکا یا مغرب کو کیا پڑی ہے کہ آپ کے خلاف سازش کر کے اپنا وقت برباد کریں۔ ان کو آپ سے بھلا کیا خطرہ لاحق ہے؟ اسرائیل ایک چھوٹا سا ملک، جو عرب مسلم ممالک کے بیچوں بیچ بیٹھا ہے اس کا تو آپ بال بیکا نہیں سکتے، تو امریکا آپ سے کیوں ڈرنے والا؟

حالت تو یہ ہے کہ کورونا وائرس کے شروع کے دنوں میں ہم نے یہ تھیوری قائم کر لی کہ کورونا مسمانوں کو کچھ نہیں کرے گا، کیونکہ یہ صرف حرام کھانے والے چینیوں کو قدرت کی طرف سے سزا ملی ہے۔ (ہم کتنا حرام کھاتے ہیں اس کا ذکر نہیں! ) بعد میں جب یہ وبا پاکستان سمیت دنیا کے دیگر ممالک میں پھیلنے لگی، ہمارے حاکم ٹولے نے اس کو سیریس نہیں لیا۔ آپ مارچ کے مہینے سے لے کر آج تک محترم وزیر اعظم اور ان کی ٹیم کے بیانات ملاحظہ فرما لیں۔

اس سلسلے میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ملک کے طبی ماہروں کی ٹیم سے ہی مشاورت کی جاتی مگر ہوا یہ کہ ملک کے نامور مولوی صاحبان سے مشورہ لیا گیا اور دعائے مغفرت بھى منگوائی گئی۔ قوم سے اللہ پاک کے حضور، صدق دل سے توبہ کرنے کی اپیل کی گئی۔ اچھی بات ہے، کیونکہ ہمیں احساس دلایا گیا کہ یہ وبا اللہ پاک کی طرف سے انسانی بد اعمالی کی سزا ہے۔ لیکن ہوا کیا، ہم نام کے مسلمانوں نے دعائے توبہ بھی مانگی اور گھروں کی چھتوں پہ چڑھ کر اذانیں بھی دیں، لیکن موت کے آنکہوں دیکھے رقص میں، قوم کو بچانے کے لئے، جن چیزوں مثلاً فیس ماسک، سینیٹائیزر، ڈٹول اور دوائیوں کی اشد ضرورت تھی، یا تو غائب کردیں یا ان کے ریٹ 10۔ 20 گنا بڑھا دیے اور یہ رویہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں بھی جاری رکھا۔ خودساختہ مہنگائی، ذخیرہ اندوزی، بی ایمانی اور جہوٹ ہمارے قومی نشاں بن چکے۔

اس وقت بھی جب کورونا سے شاید ہی کوئی گھر محفوظ ہو، میڈیکل اسٹور والے 12 ہزار والا Actemra انجیکشن تین سے چھ لاکھ میں بلیک میں بیچ رہے ہیں، تو توبہ کا یہ طریقہ سوائے منافقت اور (نعوذبا اللہ) اللہ پاک کو دھوکہ دینے کے سوا کچھ نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply